انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرو، پھر جو اس سے قریب ہو، اور اگر کچھ کمی رہے تو پچھلی صف میں رہے ۔
It was narrated from Anas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Complete the first row, then the one behind it, and if any row is to be left incomplete let it be the last row".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 818
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو صف کو جوڑے گا اللہ تعالیٰ اسے جوڑے گا، اور جو صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹے گا ١ ؎۔
It was narrated from Abdullih bin Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺsaid: "Whoever completes a row, may Allah be generous to him, and whoever cuts a row, may Allah cut him off".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 819
Notes · وضاحت
١ ؎: صف کو جوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خلاء اور شگاف باقی نہ رہنے دیا جائے، اسی طرح اگلی صف مکمل کئے بغیر دوسری صف شروع نہ کی جائے، اور صف کو کاٹنا یہ ہے کہ صف میں خلاء چھوڑ دیا جائے یا اگلی صف میں جگہ ہوتے ہوئے دوسری صف شروع کردی جائے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے ١ ؎، اور بدتر صف آخری صف ہے ٢ ؎، اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ہے ٣ ؎، اور ان کی سب سے بدتر صف پہلی صف ہے ٤ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The best rows for men are the front rows and the worst are the last, and the best rows for women are the back rows and the worst are those in the front".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 820
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلی صف سے مراد وہ صف ہے جو امام سے متصل ہوتی ہے سب سے بہتر صف پہلی صف ہے کا مطلب ہے کہ دوسری صفوں کی بہ نسبت اس میں خیر و بھلائی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ جو صف امام سے قریب ہوتی ہے تو جو لوگ اس میں ہوتے ہیں وہ امام سے براہ راست فائدہ اٹھاتے ہیں، تلاوت قرآن اور تکبیرات سنتے ہیں، اور عورتوں سے دور رہنے سے نماز میں خلل انداز ہونے والے وسوسوں، اور برے خیالات سے محفوظ رہتے ہیں، اور آخری صف سب سے بری صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خیر و بھلائی دوسری صفوں کی بہ نسبت کم ہے یہ مطلب نہیں کہ اس میں جو لوگ ہوں گے وہ برے ہوں گے۔ ٢ ؎: کیونکہ عورتوں سے قریب ہوتی ہے۔ ٣ ؎: عورتوں کے حق میں آخری صف اس لیے بہتر ہے کہ یہ مردوں سے دور ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس صف میں شریک عورتیں شیطان کے وسوسوں اور فتنوں سے محفوظ رہتی ہیں۔ ٤ ؎: عورتوں کے حق میں پہلی صف اس لیے بدتر ہے کہ یہ مردوں سے قریب ہوتی ہے۔
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ہم انس ؓ کے ساتھ تھے کہ ہم نے حکام میں سے ایک حاکم کے ساتھ نماز پڑھی، لوگوں نے ہمیں (بھیڑ کی وجہ سے) دھکیلا یہاں تک کہ ہم نے دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھی، تو انس ؓ پیچھے ہٹ گئے اور کہنے لگے: ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اس سے بچتے تھے۔
It was narrated that Abdul Hamid bin Mahmud said: "We were with Anas (RA) and we prayed with one of the Amirs. They pushed us until we stood and prayed between two rows, and Anas started moving backward and said: We used to avoid this at the time of the Messenger of Allah ﷺ".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 821
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے، کیونکہ ان میں بیمار، کمزور اور بوڑھے لوگ بھی ہوتے ہیں، اور جب کوئی تنہا نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When any one of you leads the people in prayer, let him make it short, for among them are the sick, the weak and the elderly. And when any one of you prays by himself, let him make it as long as he wishes".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 823
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٦٢ (٧٠٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٢٧ (٧٩٤)، موطا امام مالک/الجماعة ٤ (١٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٨١٥)، مسند احمد ٢/٢٥٦، ٢٧١، ٣١٧، ٣٩٣، ٤٨٦، ٥٠٢، ٥٣٧ (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ لوگوں میں سب سے ہلکی اور کامل نماز پڑھتے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Anas (RA) that the Prophet ﷺ used to make his prayer very brief but still complete when leading people.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 824
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسی ہلکی نہیں ہوتی تھی جس سے نماز کے ارکان کی ادائیگی میں کوئی خلل اور نقص واقع ہو، قیام و قعود اور رکوع و سجود وغیرہ ارکان میں اتمام فرماتے تھے۔
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور بچوں کا رونا سنتا ہوں تو اپنی نماز ہلکی کردیتا ہوں، اس ڈر سے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں نہ ڈال دوں ۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Qatadah(RA) , from his father that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I stand in prayer, then I hear a child crying, so I make my prayer brief, because I do not want to cause hardship for his mother".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 825
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہلکی نماز پڑھانے کا حکم دیتے، اور آپ ہماری امامت سورة الصافات سے کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Umar (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to enjoin upon us to make the prayer short, but he would lead us in prayer and recite As-Saffat".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 826
Notes · وضاحت
١ ؎: جس میں ایک سو اسی آیتیں ہیں، اور عمومی طور پر آپ ساٹھ سے سو آیتیں پڑھا کرتے تھے۔
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو لوگوں کی امامت کرتے ہوئے دیکھا، آپ (اپنی نواسی) امامہ بنت ابی العاص ؓ کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ رکوع میں جاتے تو اسے اتار دیتے، اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اسے دوبارہ اٹھا لیتے۔
It was narrated that Abu Qatadah (RA) said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ leading the people in prayer, carrying Umamah bint Abi Al-As on his shoulder. When he bowed he put her down and when he stood up from prostration he picked her up again".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 827
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنا سر امام سے پہلے اٹھا لیتا ہے کیا وہ (اس بات سے) نہیں ڈرتا کہ ١ ؎ اللہ اس کا سر گدھے کے سر میں تبدیل نہ کر دے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "Muhammad ﷺ said: Does the one who raises his head before the Imam not fear that Allah may turn his head into the head of a donkey"?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 828
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ اس سزا کا مستحق ہے اس لیے اسے اس کا ڈر اور خدشہ لگا رہنا چاہیئے۔
براء ؓ (جو جھوٹے نہ تھے ١ ؎) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے، اور آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو وہ سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ وہ دیکھ لیتے کہ آپ سجدہ میں جا چکے ہیں، پھر وہ سجدہ میں جاتے۔
It was narrated that Abu Ishaq said: "I heard Abdullah bin Yazid delivering a Khutbah. He said: Al-Bara (RA), who was no liar,told us that when they prayed with the Messenger of Allah ﷺ would raise his head from bowing and they would remain standing until they saw him prostrate, then they would prostrate."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 829
حطان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ قعدہ میں گئے تو قوم کا ایک آدمی اندر آیا اور کہنے لگا کہ نماز نیکی اور زکاۃ کے ساتھ ملا دی گئی ہے ١ ؎، تو جب ابوموسیٰ اشعری ؓ سلام پھیر کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے یہ بات کہی ہے؟ تو سبھی لوگ خاموش رہے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، تو انہوں نے کہا: اے حطان! شاید تم نے ہی یہ بات کہی ہے! تو انہوں نے کہا: نہیں میں نے نہیں کہی ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ مجھ ہی کو اس پر سرزنش نہ کرنے لگ جائیں، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہمیں ہماری نماز اور ہمارے طریقے سکھاتے تھے، تو آپ فرماتے: امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہے تو تم لوگ آمین کہو، تو اللہ تعالیٰ تمہاری (دعا) قبول فرمائے گا، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ (رکوع) سے سر اٹھائے اور سمع اللہ لمن حمده کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو، تو اللہ تعالیٰ تمہاری سنے گا، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب وہ سجدہ سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے، اور تم سے پہلے سر بھی اٹھاتا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ادھر کی کسر ادھر پوری ہوجائے گی ۔
It was narrated that Hittan bin Abdullah said: "Abu Musa led us in prayer and when he was sitting, a man from among the people entered and said: Prayer is based on righteousness and is always mentioned alongside Zakah (in the Quran). When Abu Musa had said the Salam, he turned to the people and said: Which of you spoke these words? The people kept quiet. Then he said: O Hittan, perhaps you said it? He said: No, but I was afraid that you would rebuke me for it. He said: The Messenger of Allah ﷺ taught us our prayer and Sunnah prayers, and he said: The Imam is appointed to be followed, so when he says the Takbir, say the Takbir; when he says "Not (the way) of those who earned Your Anger, nor of those who went astray" say Amin, and Allah will respond to you; when he rises up from bowing and says, Sami Allalhu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), say Rabbana lakal-hamd (Our Lord, to You be praise), and Allah will hear you; when he prostrates, prostrate, and when he sits up, sit up. The Imam should prostrate before you do and sit up before you do. The Messenger of Allah ﷺ said: This makes up for that".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 830
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: نماز کا نیکی اور زکاۃ کے ساتھ قرآن میں ذکر کیا گیا ہے، اور تینوں کا ایک ساتھ حکم دیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٤)، سنن ابی داود/الصلاة ١٨٢ (٩٧٢، ٩٧٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٤ (٩٠١)، (تحفة الأشراف: ٨٩٨٧)، مسند احمد ٤/٣٩٣، ٣٩٤، ٤٠١، ٤٠٥، ٤٠٩، ٤١٥، سنن الدارمی/الصلاة ٧١ (١٣٥١)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ١٠٦٥، ١١٧٣، ١٢٨١ (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک شخص آیا اور نماز کھڑی ہوچکی تھی تو وہ مسجد میں داخل ہوا، اور جا کر معاذ ؓ کے پیچھے نماز پڑھنے لگا، انہوں نے رکعت لمبی کردی، تو وہ شخص (نماز توڑ کر) الگ ہوگیا، اور مسجد کے ایک گوشے میں جا کر (تنہا) نماز پڑھ لی، پھر چلا گیا، جب معاذ ؓ نے نماز پوری کرلی تو ان سے کہا گیا کہ فلاں شخص نے ایسا ایسا کیا ہے، تو معاذ ؓ نے کہا: اگر میں نے صبح کرلی تو اسے رسول اللہ ﷺ سے ضرور بیان کروں گا ؛ چناچہ معاذ ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو بلا بھیجا، وہ آیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے ایسا کرنے پر ابھارا؟ تو اس نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے دن بھر (کھیت کی) سینچائی کی تھی، میں آیا، تو جماعت کھڑی ہوچکی تھی، تو میں مسجد میں داخل ہوا، اور ان کے ساتھ نماز میں شامل ہوگیا، انہوں نے فلاں فلاں سورت پڑھنی شروع کردی، اور (قرآت) لمبی کردی، تو میں نے نماز توڑ کر جا کر الگ ایک کونے میں نماز پڑھ لی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ ١ ؎۔
It was narrated that Jabir (RA) said: "A man from the Ansar came when the Iqamah for prayer had been said. He entered the Masjid and prayed behind Muadh, and he(Muadh) made the prayer lengthy. The man went away and prayed in a comer of the Masjid, then he left. When Muadh finished praying, it was said to him that so-and-so had done such and such. Muadh said: Tomorrow I will mention that to the Messenger of Allah ﷺ. So Muadh came to the Messenger of Allah ﷺ and told him about that. The Messenger of Allah ﷺ sent for him and asked him: What made you do what you did? He said: O Messenger of Allah ﷺ, I had been working with my camel to bring water all day, and when I came the Iqamah for prayer had already been said, so I entered the Masjid and joined him in the prayer, then he recited such and such a Surah and made it lengthy, so I went away and prayed in a comer of the Masjid. The Messenger of Allah ﷺ said: Do you want to cause hardship to the people, 0 Muadh do you want to cause hardship to the people, O Muadh do you want to cause hardship to the people, 0 Muadh"?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 831
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی لوگوں کو پریشان کرتے ہو کہ وہ مجبور ہو کر نماز توڑ دیں۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ اس سے گرگئے اور آپ کے داہنے پہلو میں خراش آگئی، تو آپ نے کچھ نمازیں بیٹھ کر پڑھیں، ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ سلام پھیر کر پلٹے تو فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سمع اللہ لمن حمده کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ rode a horse and fell from it, and sustained an injury on his right side. He led one of the prayers sitting, and we prayed behind him sitting. When he had finished he said: "The Imam is appointed to be followed. If he prays standing then pray standing; when he bows, bow; when he says, Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), say Rabbana lakalhamd (Our Lord, to You be praise); and if he prays sitting then pray sitting, all of you".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 832
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری بڑھ گئی، بلال ؓ آپ کو نماز کی خبر دینے آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوبکر نرم دل آدمی ہیں، وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو (قرآن) نہیں سنا سکیں گے ١ ؎ اگر آپ عمر کو حکم دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو صلاۃ پڑھائیں ، تو میں نے ام المؤمنین حفصہ ؓ سے کہا تم نبی اکرم ﷺ سے کہو، تو حفصہ نے (بھی) آپ سے کہا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم یوسف (علیہ السلام) کی ساتھ والیاں ہو ٢ ؎، ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، (بالآخر) لوگوں نے ابوبکر ؓ کو حکم دیا، تو جب انہوں نے نماز شروع کی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو آپ اٹھے اور دو آدمیوں کے سہارے چل کر نماز میں آئے، آپ کے دونوں پاؤں زمین سے گھسٹ رہے تھے، جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ابوبکر ؓ نے آپ کے آنے کی آہٹ محسوس کی، اور وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ جس طرح ہو اسی طرح کھڑے رہو ، ام المؤمنین کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آ کر ابوبکر ؓ کے بائیں بیٹھ گئے، آپ ﷺ لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے، اور ابوبکر ؓ کھڑے تھے، ابوبکر رسول اللہ ﷺ کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر ؓ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ became seriously ill, Bilal came to tell him it was time to pray and he said: Tell Abu Bakr to lead the people in prayer". She said: "I said: O Messenger of Allah ﷺ, Abu Bakr is a tender-hearted man, and when he stands in your place he will not be able to make the people hear his voice; why dont you tell Umar (to do it)? He said: Tell Abu Bakr to lead the people in the prayer. I said to Hafsah: Tell him. So she told him. He said: You are (like) the female companions of Yosuf. Tell Abu Bakr lead the people in prayer". She said: "So they told Abu Bakr. When he started to pray, the Messenger of Allah ﷺ began to feel better, so he got up and came with the help of two men, with his feet dragging along the ground. (When) He entered the Masjid, Abu Bakr (RA) heard him coming and he wanted to step back, but the Messenger of Allah ﷺ gestured to him: Stay where you are. Then the Messenger of Allah ﷺ came and sat on Abu Bakrs left, so the Messenger of Allah ﷺ was leading the people in prayer sitting, and Abu Bakr (RA) was standing and following the Messenger of Allah ﷺ and the people were following the prayer of Abu Bakr (RA)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 833
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر ایسی رقت طاری ہوجائے گی کہ وہ رونے لگیں گے، اور قرأت نہیں کرسکیں گے۔ ٢ ؎: اس سے مراد صرف عائشہ ؓ ہیں، جیسے قرآن میں صرف امرأ ۃ العزیز مراد ہے، اور مطلب یہ ہے کہ عائشہ امرأ ۃ العزیز کی طرح دل میں کچھ اور چھپائے ہوئے تھیں، اور اظہار کسی اور بات کا کر رہی تھیں، وہ یہ کہتی تھیں کہ اگر ابوبکر ؓ آپ کی جگہ امامت کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ کی وفات ہوگئی تو لوگ ابوبکر ؓ کو منحوس سمجھیں گے، اس لیے بہانہ بنا رہی تھیں رقیق القلبی کا، ایک موقع پر انہوں نے یہ بات ظاہر بھی کردی۔
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گیا، اور میں نے ان سے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کے مرض الموت کا حال نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری کی شدت بڑھ گئی، تو آپ نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ تو ہم نے عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے ٹب میں پانی رکھو ؛ چناچہ ہم نے رکھا، تو آپ نے غسل کیا، پھر اٹھنے چلے تو آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی، پھر افاقہ ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ تو ہم نے عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے ٹب میں پانی رکھو ؛ چناچہ ہم نے رکھا، تو آپ نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے چلے تو پھر بیہوش ہوگئے، پھر تیسری بار بھی آپ نے ایسا ہی فرمایا، لوگ مسجد میں جمع تھے، اور عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کر رہے تھے، بالآخر رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو کہلوا بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو قاصد ان کے پاس آیا، اور اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ابوبکر ؓ نرم دل آدمی تھے، تو انہوں نے (عمر ؓ سے) کہا: عمر! تم لوگوں کو نماز پڑھا دو، تو انہوں نے کہا: آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں؛ چناچہ ان ایام میں ابوبکر ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے اندر ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے (ان دونوں میں سے ایک عباس ؓ تھے) نماز ظہر کے لیے آئے، تو جب ابوبکر ؓ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں، اور ان دونوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ان کے بغل میں بٹھا دیں، ابوبکر ؓ کھڑے ہو کر نماز پڑھا رہے تھے، لوگ ابوبکر ؓ کی صلاۃ کی اقتداء کر رہے تھے، اور رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے۔ (عبیداللہ کہتے ہیں) میں ابن عباس ؓ کے پاس آیا، اور میں نے ان سے کہا: کیا میں آپ سے وہ چیزیں بیان نہ کر دوں جو مجھ سے ام المؤمنین عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی بیماری کے متعلق بیان کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں! ضرور بیان کرو، تو میں نے ان سے سارا واقعہ بیان کیا، تو انہوں نے اس میں سے کسی بھی چیز کا انکار نہیں کیا، البتہ اتنا پوچھا: کیا انہوں نے اس شخص کا نام لیا جو عباس ؓ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: وہ علی (کرم اللہ وجہہ) تھے۔
It was narrated that Ubaidullah bin Abdullah (RA) said: "I entered upon Aishah and said: Will you not tell me about the sickness of the Messenger of Allah ﷺ? She said: When the Messenger of Allah ﷺ, became seriously ill, he said: "Have the people prayed"? We said: "No, they are waiting for you, O Messenger of Allah ﷺ" He said: "Put some water in a tub for me." We did that and he performed Ghusl, then he tried to get up but he fainted. Then he came to us and said: "Have the people prayed"? We said: "No, they are waiting for you, O Messenger of Allah ﷺ". He said: "Put some water in a tub for me". We did that and he performed Ghusl, then he tried to get up but he fainted. Then for the third time he said the same thing. She said: The people were in the Masjid, waiting for the Messenger of Allah ﷺ to lead the prayer. The Messenger of Allah ﷺ sent word to Abu Bakr, telling him to lead the people in prayer, so the messenger came to him and said: "The Messenger of Allah ﷺ is telling you to lead the people in prayer". Abu Bakr (RA) was a tenderhearted man, he said: "O Umar, lead the in prayer". But (Umar) said: "You have more right to that". So Abu Bakr (RA) led them in prayer during those days. When the Messenger of Allah ﷺ felt a little better, he came with the help of two men, one of whom was Al-Abbas (RA), to pray Zuhr. When Abu Bakr (RA) saw him, he wanted to step back, but the Messenger of Allah ﷺ gestured to him not to step back. He told them (the two men) to seat him beside Abu Bakr, and Abu Bakr started to pray standing. The people were following the prayer of Abu Bakr and the Messenger of Allah ﷺ was praying sitting". "I (Abaidullah) entered upon Ibn Abbas and said Shall I not tell you what Aisha narrated to me about the sickness of the Messenger of Allah ﷺ? He said: Yes. So I told him and he did not deny any of it, but he said: Did she tell you the name of the man who was with Al-Abbas? I said: No. He said: That was Ali, may Allah honor his face".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 834
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ معاذ ؓ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں واپس جا کر ان کی امامت کرتے، ایک رات انہوں نے نماز لمبی کردی، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ انہوں نے نماز پڑھی، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آ کر ان کی امامت کرنے لگے، تو انہوں نے سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی، جب مقتدیوں میں سے ایک شخص نے قرآت سنی تو نماز توڑ کر پیچھے جا کر الگ سے نماز پڑھ لی، پھر وہ (مسجد سے) نکل گیا، تو لوگوں نے پوچھا، فلاں! تو منافق ہوگیا ہے؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم میں نے منافقت نہیں کی ہے، اور میں نبی اکرم ﷺ کے پاس جاؤں گا، اور آپ کو اس سے باخبر کروں گا ؛ چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، پھر ہمارے پاس آتے ہیں، اور ہماری امامت کرتے ہیں، پچھلی رات انہوں نے نماز بڑی لمبی کردی، انہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر واپس آ کر انہوں نے ہماری امامت کی، تو سورة البقرہ پڑھنا شروع کردی، جب میں نے ان کی قرآت سنی تو پیچھے جا کر میں نے (تنہا) نماز پڑھ لی، ہم پانی ڈھونے والے لوگ ہیں، دن بھر اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے ان سے کہا: معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو تم (نماز میں) فلاں، فلاں سورت پڑھا کرو ١ ؎۔
It was narrated that Amr (RA) said: "I heard Jabir bin Abdullah (RA) say: Muadh (RA) used to pray with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) then he would go back to his people to lead them in a prayer. He stayed late one night and prayed with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) then he went back to his people to lead them in prayer, and he recited Surat Al-Baqarah. When a man from his people heard that, he stepped aside and prayed (on his own), then he left. They said: You have become a hypocrite, O so and-so! He said: By Allah, I have not become a hypocrite, and I will go to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and tell him (about that), So he went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah ﷺ, Muadh prays with you, then he comes to lead us in prayer. You delayed the prayer, and he prayed with you then he came back to lead us in prayer, and he started to recite Sura Al-Baqarah. When I heard that, I stepped aside and prayed by myself, because we are people who bring water with the camels and we work hard. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: 0 Muadh, do you want to cause hardship to the people? Recite such and such a Surah, and such and such a Surah".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 835
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنے والے کی نماز صحیح ہے۔
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خوف کی نماز پڑھائی، تو اپنے پیچھے والوں کو دو رکعت پڑھائی، (پھر وہ چلے گئے) اور جو ان کی جگہ آئے انہیں بھی دو رکعت پڑھائی، تو اس طرح نبی کریم ﷺ کی چار رکعتیں ہوئیں، اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Bakr (RA) that the Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) offered the fear prayer (Salat Al-Khauf). He led those who were behind him in two Rakah and those who came (after them) in two Rakah, so the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed four Rakahs and each group prayed two two.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 836
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی چار رکعتوں میں سے پچھلی دو رکعتیں نفل ہوئیں، جب کہ ان دو رکعتوں میں آپ کے جو مقتدی تھے انہوں نے اپنی فرض پڑھی تھی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٨٨ (١٢٤٨) مطولاً، (تحفة الأشراف: ١١٦٦٣)، مسند احمد ٥/٣٩، ٤٩، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٥٥٢ (صحیح )