ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جماعت کی نماز تم میں سے کسی کی تنہا نماز سے پچیس گنا افضل ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Praying in congregation is twenty-five portions better than one of you praying alone".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 838
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلے والی حدیث میں ٢٧ گنا، اور اس میں ٢٥ گنا زیادہ فضیلت بتائی گئی ہے، اس کی توجیہ بعض علماء نے یہ کی ہے کہ یہ فضیلت رسول اللہ ﷺ کو پہلے ٢٥ گنا بتلائی گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس میں مزید اضافہ فرما کر اسے ٢٧ گنا کردیا، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ کمی بیشی نماز میں خشوع و خضوع اور اس کے سنن و آداب کی حفاظت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٤٢ (٦٤٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٤٧ (٢١٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٣٩)، موطا امام مالک/الجماعة ١ (٢)، مسند احمد ٢/٢٥٢، ٢٦٤، ٢٦٦، ٢٧٣، ٣٢٨ (بلفظ: سبع وعشرون) ٣٩٦، ٤٥٤، ٤٧٣، ٤٧٥، ٤٨٥، ٤٨٦، ٥٢٠، ٥٢٥، ٥٢٩ (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جماعت کی نماز تنہا نماز سے پچیس درجہ بڑھی ہوتی ہے ۔
It was narrated from that the Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Prayer in congregation is twenty-five levels better than a prayer offered on ones own".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 839
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرے، اور امامت کا زیادہ حقدار ان میں وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ۔
It was narrated that Abu Saeed (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺsaid: If there are three people, let one of them lead the others in prayer, and the one who has the most right to lead the prayer is the one who recites (knows) the most (Quran)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 840
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے بغل میں نماز پڑھی، ام المؤمنین عائشہ ؓ ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہیں تھیں، اور میں نبی اکرم ﷺ کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔
Ibn Abbas (RA) said: "I prayed beside the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and Aisha was behind us praying with us, and I was beside the Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)praying with him".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 841
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو میں آپ کے بائیں کھڑا ہوا، تو آپ نے مجھے اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑا، اور (پیچھے سے لا کر) اپنے دائیں کھڑا کرلیا۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "I prayed with the Messenger of Allah ﷺand I stood on his left. He took hold of me with his left hand and made me stand on his right".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 842
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا فلاں نماز میں موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اور فلاں؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں نمازیں (عشاء اور فجر) منافقین پر سب سے بھاری ہیں، اگر لوگ جان لیں کہ ان دونوں نمازوں میں کیا اجر و ثواب ہے، تو وہ ان دونوں میں ضرور آئیں خواہ چوتڑوں کے بل انہیں گھسٹ کر آنا پڑے، اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے، اگر تم اس کی فضیلت جان لو تو تم اس میں شرکت کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے، کسی آدمی کا کسی آدمی کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے ١ ؎، اور ایک شخص کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور لوگ جتنا زیادہ ہوں گے اتنا ہی وہ نماز اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہوگی ۔
Ubay bin Kab (RA) said: "One day the Messenger of Allah ﷺ prayed Fajr, then he said: Did so-and-so attend the prayer? They said: No. He said: (What about) so-and-so? They said: No He said: These two prayers. Are the most burdensome for the hypocrites. If they knew what (virtue) there is in them, they would come, even if they had to crawl. And the virtue of the first row is like that of the row of the angels. If you knew its virtue, you would compete for it. A mans prayer with another man is greater in reward than his prayer alone. And a mans prayer with two other men is greater in reward than his prayer with one other man; the more people there are, the more beloved that is to Allah, the Mighty and Sublime".
عتبان بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے اور میرے قبیلہ کی مسجد کے درمیان (برسات میں) سیلاب حائل ہوجاتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر تشریف لاتے، اور میرے گھر میں ایک جگہ نماز پڑھ دیتے جسے میں مصلیٰ بنا لیتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اچھا ہم آئیں گے ، جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ نے پوچھا: تم کہاں چاہتے ہو؟ تو میں نے گھر کے ایک گوشہ کی جانب اشارہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ١ ؎۔
It was narrated from Itban bin Malik that he said: "O Messenger of Allah ﷺ the floods keep me from coming to the Masjid of my people. I would like you to come and pray in a place in my house so that I can take it as a Masjid". The Messenger of Allah ﷺ said: "We shall do that". "When the Messenger of Allah ﷺ entered he said: Where do you want (me to pray). I showed him a comer of the house, and the Messenger of Allah ﷺ stood there, and we formed rows behind him, and he led us in praying two Rakahs".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 844
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے جماعت کے ساتھ نفل پڑھنے کا جواز ثابت ہوا۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہنے سے پہلے آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنی صفوں کو درست کرلیا کرو، اور باہم مل کر کھڑے ہوا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ١ ؎۔
It was narrated that Anas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ turned to face us when he stood up to pray, before he said Takbir, and said: Make your rows straight and fill the gaps, for I can see you from behind my back".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 845
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ہمیشہ اپنی پیٹھ کے پیچھے دیکھنے پر قادر تھے بلکہ یہ ایک معجزہ تھا جس کا ظہور جماعت کے وقت اللہ کی مشیئت سے ہوتا تھا، یہ حدیث نُسّاخ کی غلطی سے یہاں درج ہوگئی ہے، باب سے اس کو کوئی مناسبت نہیں ہے، اور بقول علامہ پنجابی: یہ بعض نسخوں کے اندر ہے بھی نہیں۔
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم (سفر میں) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! کاش آپ آرام کے لیے پڑاؤ ڈالتے، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ تم کہیں نماز سے سو نہ جاؤ، اس پر بلال ؓ نے کہا: میں آپ سب کی نگرانی کروں گا، چناچہ سب لوگ لیٹے، اور سب سو گئے، بلال ؓ نے اپنی پیٹھ اپنی سواری سے ٹیک لی، (اور وہ بھی سو گئے) رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے تو سورج نکل چکا تھا، آپ ﷺ نے بلال ؓ سے فرمایا: بلال! کہاں گئی وہ بات جو تم نے کہی تھی؟ بلال ؓ نے عرض کیا: مجھ پر ایسی نیند جیسی اس بار ہوئی کبھی طاری نہیں ہوئی تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے، اور جب چاہتا ہے اسے لوٹا دیتا ہے، بلال اٹھو! اور لوگوں میں نماز کا اعلان کرو ؛ چناچہ بلال کھڑے ہوئے، اور انہوں نے اذان دی، پھر لوگوں نے وضو کیا، اس وقت سورج بلند ہوچکا تھا، تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Qatadah (RA) that his father said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ when some of the people said: Why do you not stop with us to rest awhile, O Messenger of Allah ﷺ? He said: I am afraid that you will sleep and miss the prayer. Bilal said:I will wake you up. So they lay down and slept, and Bilal leaned back on his mount. Then the Messenger of Allah ﷺ woke up when the sun had already started to rise, and he said: O Bilal, what about what you told us? He said: I have never slept like that before. The Messenger of Allah ﷺ said: Allah, the Mighty and Sublime, takes your souls when He wills and sends them back when He wills. Stand up O Bilal and call the people to prayer. Then Bilal stood up and called the Adhan, and they performed Wudu - that is, when the sun had risen (fully) - "then he stood and lead them in prayer".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 846
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٣٥ (٥٩٥)، التوحید ٣١ (٧٤٧١) (مختصراً علي قولہ: إن اللہ إذا الخ)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١١ (٤٣٩، ٤٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٩٦)، مسند احمد ٥/٣٠٧ (صحیح )
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ مجھ سے ابودرداء ؓ نے پوچھا: تمہارا گھر کہاں ہے؟ میں نے کہا: حمص کے دُوَین نامی بستی میں، اس پر ابودرداء ؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جب کسی بستی یا بادیہ میں تین افراد موجود ہوں، اور اس میں نماز نہ قائم کی جاتی ہوتی ہو تو ان پر شیطان مسلط ہوجاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑ یا ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری ہی کو کھاتا ہے ۔ سائب کہتے ہیں: جماعت سے مراد نماز کی جماعت ہے۔
It was narrated that Madin bin Abi Talhah Al-Yamuri said: "Abu Ad-Darda said to me: Where do you live? I said: In a town near Hims. Abu Ad-Darda said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "There are no three people in a town or encampment among whom prayer is not established, but the Shaitan takes control of them. Therefore, stick to the congregation, for the wolf eats the sheep that strays off on its own". (One of the narrators (As Saib) said: "The congregation means the congregational prayer".
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 847
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٤٧ (٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٦٧)، مسند احمد ٥/١٩٦ و ٦/٤٤٦ (حسن )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، تو وہ جمع کی جائے، پھر میں حکم دوں کہ نماز کے لیے اذان کہی جائے، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے، پھر میں لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کے سمیت ان کے گھروں میں آگ لگا دوں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر ان میں سے کوئی یہ جانتا کہ اسے (مسجد میں) ایک موٹی ہڈی یا دو اچھے کھر ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "By the One in Whose Hand is my soul! I nearly ordered that firewood be gathered to be lit, then I would have ordered that the Adhan be called for prayer, and ordered a man to lead the people in prayer, then I would have gone from behind to those men and burned their houses down over them. By the One in Whose Hand is my soul! If any one of them knew that he would get a meaty bone or some meat in between two ribs, he would attend Isha.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 848
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٢٩ (٦٤٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان الأحکام ٥٢ (٧٢٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٣٢)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ١ (٣)، مسند احمد ٢/٢٤٤، ٣٧٦، ٤٧٩، ٤٨٠، ٥٣١، سنن الدارمی/الصلاة ٥٤ (١٣١٠) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے تھے کہ جس شخص کو اس بات کی خوشی ہو کہ وہ کل قیامت کے دن اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے کہ وہ مسلمان ہو، تو وہ ان پانچوں نمازوں کی محافظت کرے ١ ؎، جب ان کی اذان دی جائے، کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ کے لیے ہدایت کے راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور یہ نمازیں ہدایت کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ تم میں کوئی بھی ایسا نہ ہوگا جس کی ایک مسجد اس کے گھر میں نہ ہو جس میں وہ نماز پڑھتا ہو، اگر تم اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھو گے اور اپنی مسجدوں کو چھوڑ دو گے تو تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے، اور اگر تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے، اور جو مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر نماز کے لیے (اپنے گھر سے) چلتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ہر قدم کے عوض جسے وہ اٹھاتا ہے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، یا اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے، یا اس کے عوض اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے، میں نے اپنے لوگوں (صحابہ کرام) کو دیکھا ہے جب ہم نماز کو جاتے تو قریب قریب قدم رکھتے، (تاکہ نیکیاں زیادہ ملیں) اور میں نے دیکھا کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا جو منافق ہوتا، اور جس کا منافق ہونا لوگوں کو معلوم ہوتا، اور میں نے (عہدرسالت میں) دیکھا کہ آدمی کو دو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر (مسجد) لایا جاتا یہاں تک کہ لا کر صف میں کھڑا کردیا جاتا۔
It was narrated that Abdullah (RA) said: "Whoever would like to meet Allah tomorrow as a Muslim, let him regularly attend these five (daily) prayers whenever the call for them is given (that in the mosques), for Allah prescribed for His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) the ways of guidance, and they (the prayers) are part of those ways of guidance. I do not think that there is anyone among you who does not have a place where he prays in his house. But if you were to pray in your houses and forsake the Masjids, you would be forsaking the Sunnah of your Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and if you were to forsake the Sunnah of your Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) you would go astray. There is no Muslim slave who performs Wudu and does it well, then walks to the prayer, but Allah will record one Hasanah (good deed) for each step he takes, or raise him one level by it or erase one sin from him. I remember how we used to take short steps, and I remember (a time) when no one stayed behind from the prayer except a hypocrite whose hypocrisy was well known. And I have seen a man coming Supported by two others until he would be made to stand in the row".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 849
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ١ ؎، اور اس نے عرض کیا: میرا کوئی راہبر (گائیڈ) نہیں ہے جو مجھے مسجد تک لائے، اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے اس کے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں، آپ ﷺ نے اسے اجازت دے دی، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا، تو آپ ﷺ نے اسے بلایا، اور اس سے پوچھا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، (سنتا ہوں) تو آپ ﷺ نے فرمایا: تو (مؤذن کی پکار پر) لبیک کہو ٢ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A blind man came to the Messenger of Allah ﷺand said: I do not have a guide to bring me to the prayer. And he asked him to grant him a dispensation allowing him to pray in his house, and he gave him permission. Then when he turned away he said to him: Can you hear the call to prayer? He said: Yes. He said: Then respond to it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 850
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھے۔ ٢ ؎: یعنی مسجد میں آ کر جماعت ہی سے نماز پڑھو۔
عبداللہ بن ام مکتوم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مدینہ میں کیڑے مکوڑے (سانپ بچھو وغیرہ) اور درندے بہت ہیں، (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں) آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم حى على الصلاة، اور حى على الفلاح کی آواز سنتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، (سنتا ہوں) تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو آؤ، اور آپ نے انہیں جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں دی۔
It was narrated from Ibn Umm Maktum (RA) that he said: "O Messenger of Allah ﷺ, there are many (dangerous) pests and wild animals in Al-Madinah". He said: "Can you hear (the words) Come prayer, come to prosperity"? He said "Yes." He said: "Then be quick to respond", and he did not grant him a dispensation.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 851
عروہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ارقم ؓ اپنے لوگوں کی امامت کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت آیا، تو وہ اپنی حاجت کے لیے چلے گئے، پھر واپس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی حاجت محسوس کرے، تو نماز سے پہلے اس سے فارغ ہو لے ۔
It was narrated from Hisham bin Urwah from his father that Abdullih bin Arqam used to lead his companions in prayer. The time for prayer came one day and he went to relieve himself then he came back and said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If any one of you feels the need to defecate, let him do that first, before he prays".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 852
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ٤٣ (٨٨) مطولاً، سنن الترمذی/الطھارة ١٠٨ (١٤٢) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٤ (٦١٦)، (تحفة الأشراف: ٥١٤١)، (بدون ذکر القصة)، موطا امام مالک/قصرالصلاة في السفر ١٧ (٤٩)، مسند احمد ٣/٤٨٣، ٤/٣٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٧ (١٤٦٧) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب شام کا کھانا حاضر ہو، اور نماز (جماعت) کھڑی کردی گئی ہو، تو پہلے کھانا کھاؤ۔
It was narrated that Anas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If dinner is ready and the Iqamah for prayer is said, then start with dinner first"۔
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 853
اسامہ بن عمیر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی، تو رسول اللہ ﷺ کے مؤذن نے آواز لگائی: (لوگو! ) اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔
It was narrated from Abu Al Malih that his father said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ in Hunain and it rained. The caller of the Messenger of Allah ﷺ called out, telling us: Pray where you are"۔
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 854
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر وہ مسجد کا ارادہ کر کے نکلا، (اور مسجد آیا) تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس شخص کو ملا ہے جو جماعت میں موجود تھا، اور یہ ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever performs wudu and does it well, then sets out for the Masjid and finds that the people have already prayed, Allah will decree for him a reward like that of those who attended (the prayer), without reducing the slightest from their reward".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 855
عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے نماز کے لیے وضو کیا، اور کامل وضو کیا، پھر فرض نماز کے لیے چلا، اور آ کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی یا جماعت کے ساتھ، یا مسجد میں (تنہا) نماز پڑھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں ١ ؎ کو بخش دے گا ۔
It was narrated that Uthman bin Affan (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever does wudu properly, then walks to (attend) the prescribed prayer, and prays with the people or with the congregation or in the Masjid, Allah will forgive him his sins".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 856