نمازی شخص کے سترہ سے متعلق
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَيَرْكُزُ الْحَرْبَةَ ثُمَّ يُصَلِّي إِلَيْهَا.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (اپنے سامنے) نیزہ گاڑتے تھے، پھر اس کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھتے تھے۔
Narrated Ibn Umar (RA): It was narrated from Ibn Umar concerning the Messenger of Allah ﷺ he said: "He used to set up a short spear then pray facing toward it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 747
Notes · وضاحت
١ ؎: کھلا میدان ہو یا بند مکان، حتیٰ کہ مسجد میں بھی امام اور منفرد سب کے لیے سترہ فرض ہے، مساجد میں دیوار، کھمبا یا کسی آدمی ہی کو سہی سترہ بنا لے، تو وہ آدمی اس کی نماز ختم ہونے تک اس کے سامنے بیٹھا رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٩٢ (٤٩٨)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ٨١٧٢)، مسند احمد ٢/١٣، ١٨، ١٤٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٤ (١٤٥٠) (صحیح )