Sunan An Nasai 756

قبلہ کے متعلق احادیث

756Sunan An Nasai

بحالت نماز کونسی شے کے سامنے سے گزرنے سے نماز فاسد ہوتی ہے اور کونسی شے سے نہیں

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كُنْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ كَرِهْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ انْسَلَلْتُ انْسِلَالًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے تھی، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو جب میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے یہ بات ناگوار لگی کہ میں اٹھ کر آپ کے سامنے سے گزروں تو میں دھیرے سے سرک گئی ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "I was in front of the Messenger of Allah ﷺ when he was praying, and when I wanted to leave I did not want to get up and pass in front of him, so I just slipped away slowly and quietly".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 755
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک تو عائشہ ؓ چارپائی پر سوئی ہوئی تھیں (جس کو آپ نے سترہ بنایا ہوا تھا) دوسرے وہ آپ کے آگے گزری نہیں بلکہ سرک گئی تھیں، مرور کہتے ہیں ایک جانب سے دوسری جانب تک یعنی ادھر سے ادھر تک گزرنا، اور السلال کہتے ہیں کہ ایک ہی جانب سے سرک جانا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٩٩ (٥٠٨)، ١٠٢ (٥١١)، ١٠٥ (٥١٤)، الاستئذان ٣٧ (٦٢٧٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٨٧)، مسند احمد ٦/١٧٤، ٢٦٦ (صحیح )