زید بن ثابت رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رقبیٰ لاگو ہوگا ١ ؎۔
Hilal bin Al-Ala informed us: "My father narrated to us: Ubaidullah -he is, Ibn Amr- narrated to us, from Sufyan, from Ibn Abi Najih, from Tawus, from Zaid bin Thabit, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Ar-Ruqba is permissible.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3706
Notes · وضاحت
١ ؎: ایام جاہلیت کا رقبیٰ یہ تھا کہ آدمی اپنا گھر یا زمین کسی کو یہ کہہ کردیتا تھا کہ اگر میں پہلے مرگیا تو یہ تمہارا ہوجائے گا اور اگر تم مرگئے تو میں اسے واپس لے لوں گا، اس طرح ہر ایک کو دوسرے کی موت کا انتظار رہتا تھا، لیکن شریعت اسلامیہ نے اس دو طرفہ شرط کو باطل کر کے اس طرح کے ہبہ وغیرہ کو صرف اس شخص کے لیے خاص کردیا جس کو کسی نے ہبہ کیا تھا، وہ ہبہ کرنے والے سے پہلے مرے یا بعد میں، ہر حال میں ہبہ موہوب لہ ( جس کے لیے ہبہ کیا گیا ہے ) ہی کا ہوگا، اور موہوب لہ کی موت کے بعد اس کے وارثین میں منتقل ہوجائے گا، رقبیٰ اور عمریٰ جاہلی رواج کے مطابق تقریباً ہم معنی ہیں۔
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے رقبیٰ کو اسی کا حق قرار دیا ہے جسے رقبیٰ کیا گیا ہے ١ ؎۔
Muhammad bin Ali bin Maimun informed us, he said: "Muhammad -he is, Ibn Yusuf- narrated to us, he said: Sufyan narrated to us from Ibn Abi Najih, from Tawus, from a man, from Zaid bin Thabit that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) ruled that the Ruqba belongs to the one to whom it is given.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3707
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا کہ یہ ایک عطیہ ہے اور عطیہ دے کر واپس لینا صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٧٠١)، مسند احمد (٥/١٨٦، ١٨٩) (صحیح) (اس سند میں ایک راوی مبہم ہے، لیکن اوپر اور نیچے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رقبیٰ (مصلحتاً جائز) نہیں ہے (لیکن اگر کسی نے کردیا ہے) تو جسے رقبیٰ کیا گیا ہے اس کے ورثاء کو میراث میں ملے گا، دینے والے کو واپس نہ ہوگا۔
Zakariyya bin Yahya informed us, he said: "Abdul Jabbar bin Al-Ala narrated to us, he said: Sufyan narrated to us from Ibn Abi Najih, from Tawus, and perhaps it is from Ibn Abbas, who said: There is no Ruqba, and whoever gives a gift on the basis of Ruqba, it is part of his estate.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3708
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے مال کا رقبیٰ نہ کرو، اور جس نے کسی چیز کا رقبیٰ کیا تو وہ چیز اسی کی ہوگی جس کو وہ بطور رقبیٰ دی گئی ۔
Zaid narrated from Abu Az-Zubair, from Tawus, from Ibn Abbas that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Do not give away your property on the basis of Ruqba, for whoever gives a gift on that basis, it belongs to the one to whom he gave it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3709
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٧٥٦)، مسند احمد (١/٢٥٠) و یأتي عند المؤلف بأرقام: ٣٧١٢، ٣٧١٣، ٣٧١٤، ٣٧١٥، ٣٧١٦) (صحیح )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ ١ ؎ لاگو ہوگا، اور وہ اسی کا حق ہوگا جسے وہ عمریٰ کیا گیا ہے، اور رقبیٰ لاگو ہوگا، اور یہ اسی کا ہوگا جسے وہ رقبیٰ کیا گیا ہو اور اپنا ہبہ کر کے واپس لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کی طرح ہے ۔
Hajjaj narrated from Abu Az-Zubair, from Tawus, from Ibn Abbas, who said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Umra (life-long gift) is permissible for the one to whom it is given, and Ruqba is permissible to the one to whom it is given, and the one who takes back his gift is like the one who goes back to his vomit.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3710
Notes · وضاحت
١ ؎: زمانۂ جاہلیت کا عمریٰ یہ تھا کہ گھر یا زمین کسی کو صرف زندگی بھر کے لیے دی جاتی تھی، لیکن اسلام میں اب وہ اس کی موت کے بعد اس کے وارثین کے اندر منتقل ہوجائے گی، ہبہ کرنے والے کو واپس نہ ہوگی۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رقبیٰ اور عمریٰ جائز نہیں ہیں ١ ؎ لیکن اگر کسی نے کوئی چیز عمریٰ کسی کو دی تو وہ اسی کی ہوجائے گی جسے عمریٰ میں دی گئی ہے، اور جس نے کسی کو کوئی چیز رقبیٰ کی تو وہ چیز اس کی ہوجائے گی جسے اس نے رقبیٰ کی ہے۔
(A different chain) from Sufyan, from Abu Az-Zubair, from Tawus, from Ibn Abbas (RA), who said: "Ruqba and Umra are not permissible; whoever is given something on the basis of Umra, it is his, and whoever is given something on the basis of Ruqba, it is his.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3712
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسا کرنا مصلحتا کسی کے لیے مناسب نہیں ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمریٰ اور رقبیٰ کرنا جائز نہیں، لیکن جس کسی نے کسی کو کوئی چیز عمریٰ یا رقبیٰ میں دی تو جس کو دی ہے وہ چیز اسی کی ہوجائے گی، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی (یعنی مرنے کے بعد اس کے ورثہ کو ملے گی) ۔ حنظلہ نے اس حدیث کو مرسلاً بیان کیا ہے۔
(A different chain) from Hajjaj, from Abu Az-Zubair, from Tawus, from Ibn Abbas (RA), who said: "Umra and Ruqba are not proper. Whoever gives something on the basis of Umra or Ruqba, it belongs to the one to whom he gave it on that basis, both during his lifetime and after his death." Hanzalah narrated it in Mursal form.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3713
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رقبیٰ کرنا جائز نہیں، لیکن جس کسی کو رقبیٰ میں کوئی چیز دی گئی تو (وہ چیز اسی کی ہوگی اور) اس میں میراث نافذ ہوگی ۔
Hanzalah narrated that he heard Tawus say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Ruqba is not permissible. Whoever is given something on the basis of Ruqba, it is part of his estate.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3714
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٧٣٩ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، لیکن مرفوع روایات سے تقویت پاکر صحیح ہے )
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ میراث ہے ١ ؎۔
Sufyan narrated from Ibn Abi Najih, from Tawus, from Zaid bin Thabit, who said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Umra (a gift given for life) is part of the estate.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3715
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گھر یا زمین جس کو بطور عمریٰ دی گئی ہے اس کے مرنے پر اس کے وارثین میں بطور وراثت منتقل ہوگی۔
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ وارث کا حق ہے ١ ؎۔
Sufyan narrated from Ibn Tawus, from his father, from Hujr Al-Madari, from Zaid, who said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Umra (a gift given for life) is for the heir.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3716
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو چیز کسی کو صرف اس کی زندگی بھر کے لیے دے دی گئی تو اس کے مرنے کے بعد وہ چیز اس کے ورثاء میں منتقل ہوجائے گی دینے والے کو واپس نہ ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٨٩ (٣٥٥٩)، سنن ابن ماجہ/الہبات ٤ (٢٣٨١)، (تحفة الأشراف: ٣٧٠٠)، مسند احمد (٥/١٨٢، ١٨٩) ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٣٧٤٧، ٣٧٤٩) (صحیح الإسناد )
زید بن ثابت رضی الله عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ لاگو ہوگا ۔
Mamar narrated from Ibn Tawus, from his father, from Hujr Al-Madari, from Zaid bin Thabit, from Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), who said: "Umra (a gift given for life) is permissible.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3717
زید بن ثابت رضی الله عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ وارث کا حق ہے ۔
Mamar narrated from Amr bin Dinar, from Tawus, from Zaid bin Thabit, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Umra (a gift given for life) belongs to the heir.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3718
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ وارث کا حق ہے ، واللہ اعلم (اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے) ۔
(A different chain) from Mamar who said: "I heard Amr bin Dinar, narrating from Tawus, from Hujr Al-Madari, from Zaid bin Thabit, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Umra (a gift given for life) belongs to the heir." And Allah knows best.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3719