انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا کی چیزوں میں سے عورتیں اور خوشبو میرے لیے محبوب بنادی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے ۔
It was narrated that Anas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: In this world, women and perfume have been made dear to me, and my comfort has been provided in prayer.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3939
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتیں اور خوشبو میرے لیے محبوب بنادی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے ۔
It was narrated that Anas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Women and perfume have been made dear to me, but my comfort has been provided in prayer.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3940
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کے مقابلے دوسری طرف زیادہ میلان رکھے تو قیامت کے دن وہ اس طرح آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever has two wives and is inclined to favor one of them over the other, he will come on the Day of Resurrection with half of his body leaning.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3942
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان کچھ تقسیم کرتے تو برابر برابر کرتے، پھر فرماتے: اللہ! میرا یہ کام تو میرے دائرہ اختیار میں ہے، لہٰذا تو مجھے ملامت نہ کر ایسے کام کے سلسلے میں جو تیرے اختیار کا ہے اور مجھے اس میں کوئی اختیار نہیں۔ حماد بن زید نے یہ حدیث مرسل روایت کی ہے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to divide his time equally among his wives then he would say: O Allah, this is what I have done with regard to that over which I have control, so do not blame me for that over which You have control and I do not." Hammad bin Zaid narrated it in Mursal form.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3943
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٩ (٢١٣٤)، سنن الترمذی/النکاح ٤١ (١١٤٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٧ (١٩٧١)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٩٠)، مسند احمد (٦/١٤٤)، سنن الدارمی/النکاح ٢٥ (٢٢٥٣) (ضعیف) (پہلا جملہ حسن ہے، تراجع الالبانی ٣٤٦ )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بیویوں نے فاطمہ بنت رسول ﷺ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا، انہوں نے آپ سے اجازت طلب کی، آپ میرے ساتھ چادر میں لیٹے ہوئے تھے، آپ نے انہیں اجازت دی، وہ بولیں: اللہ کے رسول! آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ ابوقحافہ کی بیٹی (عائشہ) کے سلسلے میں آپ سے ١ ؎ عدل کا مطالبہ کر رہی ہیں، اور میں خاموش ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ ؓ سے فرمایا: اے میری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کرتیں جس سے مجھے محبت ہے؟ وہ بولیں: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: تو تم بھی ان سے محبت کرو، فاطمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے جب یہ بات سنی تو اٹھیں اور نبی اکرم ﷺ کی بیویوں کے پاس واپس آ کر انہیں وہ ساری بات بتائی جو انہوں نے آپ ﷺ سے کہی اور جو آپ نے ان (فاطمہ) سے کہی۔ وہ سب بولیں: ہم نہیں سمجھتے کہ تم نے ہمارا کام کردیا، تم پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو: آپ کی بیویاں آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے عدل کی اپیل کرتی ہیں۔ فاطمہ ؓ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں ان کے سلسلے میں آپ سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گی۔ عائشہ ؓ کہتی ہیں: اب نبی اکرم ﷺ کی ازواج نے رسول اللہ ﷺ کے پاس زینب بنت جحش کو بھیجا اور زینب ہی ایسی تھیں جو نبی اکرم ﷺ کی بیویوں میں رسول اللہ ﷺ کے نزدیک میرے برابر کا درجہ رکھتی تھیں۔ میں نے کبھی بھی دین کے معاملے میں بہتر، اللہ سے ڈرنے والی، سچ بات کہنے والی، صلہ رحمی کرنے والی، بڑے بڑے صدقات کرنے والی، صدقہ و خیرات اور قرب الٰہی کے کاموں میں خود کو سب سے زیادہ کمتر کرنے والی زینب سے بڑھ کر کوئی عورت نہیں دیکھی سوائے اس کے کہ وہ مزاج کی تیز طرار تھیں لیکن ان کا غصہ بہت جلد رفع ہوجاتا تھا۔ چناچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی، رسول اللہ ﷺ عائشہ ؓ کے ساتھ چادر میں اسی طرح تھے کہ جب فاطمہ ؓ آپ کے پاس آئی تھیں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی، وہ بولیں: اللہ کے رسول! آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ وہ سب ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے عدل و انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں اور وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں اور خوب زبان درازی کی، میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہی تھی اور آپ کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ آیا آپ مجھے بھی ان کا جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں، زینب ؓ ابھی وہیں پر تھیں کہ میں نے اندازہ کرلیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو رسول اللہ ﷺ کو برا نہیں لگے گا۔ چناچہ جب میں نے انہیں برا بھلا کہا تو میں نے انہیں ذرا بھی ٹکنے نہیں دیا یہاں تک کہ میں ان سے آگے نکل گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ ابوبکر کی بیٹی ہے ۔
Aishah (RA) said: "The wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent Fatimah, the daughter of the Messenger of Allah ﷺ, to the Messenger of Allah. She asked permission to enter when he was lying with me under my cover. He gave her permission to enter, and she said: O Messenger of Allah, your wives have sent me to you to ask you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah. I (Aishah) kept quiet and the Messenger of Allah ﷺ said to her: O my daughter! Do you not love the one whom I love? She said: Yes. He said: Then love this one. Fatimah (RA) stood up when she heard this and left the Messenger of Allah, and went back to the wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). She told them what she had said, and what he had said to her. They said to her: We do not think that you have been of any avail to us. Go back to the Messenger of Allah and say to him: Your wives are urging you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah. Fatimah (RA) said: No, by Allah; I will never speak to him about her again." Aishah said: "So the wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent Zainab bint Jahsh to the Messenger of Allah; she was one who was somewhat equal to me in rank in the eyes of the Messenger of Allah. And I have never seen a woman who was better in religious commitment than Zainab, more fearing of Allah, more honest in speech, more dutiful in upholding the ties of kinship, more generous in giving charity, and devoted in giving of herself in acts of charity, by means of which she sought to draw closer to Allah. But she was quick-tempered; however, she was also quick to calm down. She asked permission to enter upon the Messenger of Allah ﷺ when he was with Aishah under her cover, in the same situation as when Fatimah (RA) had entered. The Messenger of Allah gave her permission to enter and she said: O Messenger of Allah, your wives have sent me to ask you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah. Then she verbally abused me at length, and I was watching the Messenger of Allah to see if he would allow me to respond. Zainab went on until I realized that the Messenger of Allah would not disapprove if I responded. Then I spoke back to her in such a way, until I silenced her. Then the Messenger of Allah ﷺ said: She is the daughter of Abu Bakr.
صحيح
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3944
اس سند سے بھی ہے کہ عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ پھر انہوں نے اسی طرح بیان کیا اور وہ اس میں (صرف اتنا) کہتی ہیں: نبی اکرم ﷺ کی بیویوں نے زینب کو بھیجا تو انہوں نے اجازت طلب کی، آپ نے انہیں اجازت دی، پھر وہ اسی طرح آگے کہتی ہیں، معمر نے اس کے برعکس عن الزہری، عن عروۃ، عن عائشہ کہہ کر روایت کی ہے۔
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3945
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قلبی محبت میں تمام ازواج مطہرات برابر ہوں یا لوگ اپنے ہدایا بھیجنے میں ساری ازواج مطہرات کا خیال رکھیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور انہوں نے فاطمہ ؓ کو نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا اور ان سے کہا: آپ کی بیویاں - اور ایسا کلمہ کہا جس کا مفہوم یہ ہے - ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے مطالبہ کرتی ہیں کہ انصاف سے کام لیجئیے۔ چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئیں، آپ عائشہ ؓ کے ساتھ ان کی چادر میں تھے۔ انہوں نے آپ سے کہا: (اللہ کے رسول! ) آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ ابوقحافہ کی بیٹی (عائشہ) کے سلسلے میں آپ سے عدل کا مطالبہ کر رہی ہیں، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟ کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: تو تم بھی ان (عائشہ) سے محبت کرو ، عائشہ ؓ کہتی ہیں: فاطمہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کی بیویوں کے پاس واپس آ کر انہیں وہ ساری بات بتائی جو آپ نے (فاطمہ سے) کہی، وہ سب بولیں: تم نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا، تم پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ۔ فاطمہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں ان کے سلسلے میں آپ کے پاس کبھی نہیں جاؤں گی اور درحقیقت وہ اللہ کے رسول ﷺ کی بیٹی تھیں ١ ؎، اب نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات نے (رسول اللہ ﷺ کے پاس) زینب بنت جحش ؓ کو بھیجا۔ اور زینب ہی ایسی تھیں جو نبی اکرم ﷺ کی بیویوں میں (رسول اللہ ﷺ کے نزدیک) میرے برابر کا درجہ رکھتی تھیں۔ وہ بولیں: (اللہ کے رسول! ) آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ وہ سب ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے عدل و انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں اور وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں۔ میں نبی اکرم ﷺ کو دیکھ رہی تھی اور آپ کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ آیا آپ مجھے بھی ان کا جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ زینب ؓ ابھی وہیں پر تھیں کہ میں نے اندازہ کرلیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو رسول اللہ ﷺ کو برا نہیں لگے گا۔ چناچہ (جب) میں نے انہیں برا بھلا کہا (تو میں نے انہیں ذرا بھی ٹکنے نہیں دیا) یہاں تک کہ میں ان سے آگے نکل گئی، نبی اکرم ﷺ نے زینب ؓ سے فرمایا: یہ ابوبکر کی بیٹی ہے ۔ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں نے کبھی بھی دین کے معاملے میں بہتر، اللہ سے ڈرنے والی، سچ بات کہنے والی اور صلہ رحمی کرنے والی، بڑے بڑے صدقات کرنے والی، صدقہ و خیرات اور قرب الٰہی کے کاموں میں خود کو سب سے زیادہ کمتر کرنے والی زینب ؓ سے بڑھ کر کوئی عورت نہیں دیکھا سوائے اس کے کہ وہ مزاج کی تیز طرار تھیں لیکن ان کا غصہ بہت جلد رفع ہوجاتا تھا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس (روایت) میں غلطی ہے صحیح وہی ہے جو اس سے پہلے گزری۔
It was narrated that Aishah said: "The wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) got together and sent Fatimah (RA) to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). They told her to say: Your wives" and he (the narrator) said something to the effect that they are urging you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah. She said: "So she entered upon the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was with Aishah under her cover. She said to him: Your wives have sent me and they are urging you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to her: Do you love me? She said: Yes. He said: Then love her. So she went back to them and told them what he said. They said to her: You did not do anything; go back to him. She said: By Allah, I will never go back (and speak to him) about her again. She was truly the daughter of the Messenger of Allah. So they sent Zainab bint Jahsh." Aishah said: "She was somewhat my equal among the wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). She said: Your wives have sent me to urge you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafa. Then she swooped on me and abused me, and I started watching the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to see if he would give me permission to respond to her. She insulted me and I started to think that he would not disapprove if I responded to her. So I insulted her and I soon silenced her. Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to her: She is the daughter of Abu Bakr." Aishah said: "And I never saw any woman who was better, more generous in giving charity, more keen to uphold the ties of kinship, and more generous in giving of herself in everything by means of which she could draw closer to Allah than Zainab. But she had a quick temper; however, she was also quick to calm down.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3946
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ آپ ﷺ کے فرمان کی خلاف ورزی کرتیں جب کی آپ نے ان سے فرمایا تھا تو بھی عائشہ رضی الله عنہا سے محبت کر۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی تمام کھانوں پر ١ ؎۔
It was narrated from Abu Musa that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The superiority of Aishah to other women is like the superiority of Tharid to other kinds of food.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3947
Notes · وضاحت
١ ؎: ثرید : عربوں کا سب سے اعلیٰ درجے کا کھانا ہے یہ گوشت کا ہوتا ہے، اس میں لذت اور ذائقہ بھی ہے اور قوت و غذائیت بھی۔ کھانے میں بہت آسان ہوتا ہے اور اسے چبانے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ یہ خوبصورتی بڑھانے اور آواز میں حسن پیدا کرنے میں معاون ہوتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی سارے کھانوں پر ۔
It was narrated from Aishah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The superiority of Aishah to other women is like the superiority of Tharid to other kinds of food.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3948
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ام سلمہ! مجھے عائشہ کے تعلق سے ایذا نہ دو، اس لیے کہ اللہ کی قسم! اس کے علاوہ کوئی عورت تم میں سے ایسی نہیں ہے جس کے لحاف میں میرے پاس وحی آئی ہو ۔
It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah said: O Umm Salamah, do not bother me about Aishah, for by Allah, the Revelation has never come to me under the blanket of any of you apart from her.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3949
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی بیویوں نے ان سے بات کی کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے بات کریں کہ لوگ عائشہ کی باری کے دن ہدیے اور تحفے بھیجتے ہیں اور آپ سے کہیں کہ ہمیں بھی خیر سے اسی طرح محبت ہے جیسے آپ کو عائشہ سے ہے، چناچہ انہوں نے آپ سے گفتگو کی لیکن آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا، جب ان کی باری کا دن آیا تو انہوں نے پھر بات کی، آپ نے انہیں جواب نہیں دیا۔ انہوں (بیویوں) نے کہا: آپ ﷺ نے تمہیں کوئی جواب دیا؟ وہ بولیں: کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا: تم چھوڑنا مت، جب تک کوئی جواب نہ دے دیں۔ (یا یوں کہا:) جب تک تم دیکھ نہ لو کہ آپ کیا جواب دیتے ہیں۔ جب پھر ان کی باری آئی تو انہوں نے آپ سے گفتگو کی، آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ کے تعلق سے مجھے اذیت نہ دو، اس لیے کہ عائشہ کے لحاف کے علاوہ تم میں سے کسی عورت کے لحاف میں ہوتے ہوئے میرے پاس وحی نہیں آئی ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: عبدہ سے مروی یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔
It was narrated from Umm Salamah that the wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) asked her to speak to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and tell him, that the people were trying to bring their gifts to him when it was Aishahs day, and to say to him: "We love good things as much as Aishah does." So she spoke to him, but he did not reply her. When her turn came again, she spoke to him again, but he did not reply her. They said to her: "How did he respond?" She said: "He did not answer me." They said: "Do not leave him alone until he answers you or you comprehend what he says." When her turn came again, she spoke to him and he said: Do not bother me about Aishah, for the Revelation has never come to me under the blanket of any of you apart from the blanket of Aishah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3950
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ ہدیے اور تحفے بھیجتے جس دن عائشہ کی باری ہوتی، وہ اس طرح رسول اللہ ﷺ کی خوشی چاہتے تھے۔
It was narrated that Aishah said: "The people used to try to bring their gifts (to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) on Aishahs day, hoping thereby to earn the pleasure of the Messenger of Allah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3951
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل کی، میں آپ کے ساتھ تھی، میں اٹھی اور اپنے اور آپ کے درمیان دروازہ بند کردیا، جب وحی ختم ہوگئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا: عائشہ! جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "Allah sent Revelation to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when I was with him, so I got up and closed the door between him and I. When it was taken off him, he said to me: O Aishah, Jibril sends greetings of Salam to you.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3952
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں ، انہوں نے کہا:وعلیکم السلام ورحم ۃ اللہ وبرکاتہ (جبرائیل کو عائشہ نے سلام کا جواب دیا اور کہا:) آپ تو وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھتے ١ ؎۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to her: "Jibril sends greetings of Salam to you." She said: "And upon him be peace and the mercy of Allah and His blessings; you see what we do not.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3953
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ جبرائیل کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی باتیں سن رہے ہیں حالانکہ ہم نہیں دیکھ رہے ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ اور آگے ویسے ہی ہے جیسے اوپر گزرا ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ روایت ٹھیک ہے، پہلی والی غلط ہے ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Aishah (RA) , this is Jibril and he is sending greetings of Salam to you.” The same. (Sahih). Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: This is correct, and the one that is before it is a mistake.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3954
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شعیب عن الزہری عن أبی سلم ۃ عن عائش ۃ کی سند ٹھیک ہے جب کہ معمر عن الزہری عن عرو ۃ عن عائش ۃ کی سند میں غلطی ہے، کیونکہ عن عرو ۃ عن عائش ۃ کی جگہ عن أبی سلم ۃ عن عائش ۃ ہونا چاہیئے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ امہات المؤمنین میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک پیالہ کھانا بھیجا، پہلی بیوی نے (غصہ سے کھانا لانے والے) کے ہاتھ پر مارا اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے برتن کے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آگئی ہے (کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا) ، تم لوگ کھانا کھاؤ۔ لوگوں نے کھایا، پھر قاصد کو آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ جن کے گھر میں آپ تھے اپنا پیالہ لائیں تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کردیا ١ ؎ اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا۔
Anas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was with one of the Mothers of the Believers when another one sent a wooden bowl in which was some food. She struck the hand of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and the bowl fell and broke. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) picked up the two pieces and put them together, then he started to gather up the food and said: Your mother got jealous; eat. So they ate. He waited until she brought the wooden bowl that was in her house, then he gave the sound bowl to the messenger and left the broken bowl in the house of the one who had broken it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3955
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں پیالے آپ کی ذاتی ملکیت تھے، ورنہ کسی ضائع اور برباد چیز کا بدلہ اسی کے مثل قیمت ہوا کرتا ہے، یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ دونوں پیالے قیمت میں برابر رہے ہوں گے۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک پیالے میں کھانا لے کر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کے پاس آئیں۔ اتنے میں عائشہ ؓ ایک چادر پہنے ہوئے آئیں، ان کے پاس ایک پتھر تھا، جس سے انہوں نے وہ پیالا مار کر دو ٹکرے کردیا۔ نبی اکرم ﷺ پیالے کے دونوں ٹکڑے جوڑنے لگے اور کہہ رہے تھے: تم لوگ کھاؤ، تمہاری ماں کو غیرت آگئی، آپ نے دو بار کہا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے عائشہ ؓ کا پیالا لیا اور وہ ام سلمہ ؓ کو بھجوا دیا اور ام سلمہ ؓ کا پیالا عائشہ ؓ کو دے دیا۔
It was narrated from Umm Salamah that she brought some food in a dish of hers to the essenger of Allah ﷺ and his Companions, then Aishah (RA) came, wrapped up in a garment, with a stone pestle and broke the dish. The Prophet ﷺ gathered the broken pieces of the dish and said: “Eat; your mother got jealous,” twice. Then the Messenger of Allah ﷺ took the dish of Aishah (RA) and sent it to Umm Salamah and he gave the dish of Umm Salamah to Aishah (RA) . (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3956
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین صفیہ ؓ کے جیسی کھانا بنانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا، میں اپنے کو قابو میں نہ رکھ سکی اور میں نے برتن توڑ دیا پھر میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے کفارے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: برتن کے جیسا برتن اور کھانے کے جیسا کھانا ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I never saw any woman who made food like Safiyyah. She sent a dish to the Prophet ﷺ in which was some food, and I could not keep myself from breaking it. I asked the Prophet ﷺ what the expiation was for that, and he said: ‘A dish like that dish, and food like that food.” (Hasan)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3957
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام المؤمنین زینب بنت جحش ؓ کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے ہاں شہد پی رہے تھے، میں نے اور حفصہ ؓ نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم ﷺ آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ١ ؎ کی بو آرہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی کہا، آپ نے فرمایا: نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب آئندہ نہیں پیوں گا ۔ تو عائشہ اور حفصہ ؓ کی وجہ سے یہ آیت يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك اے نبی! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کردیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں ۔ (التحریم: ١) اور إن تتوبا إلى اللہ (اے نبی کی دونوں بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو (تو بہت بہتر ہے) ۔ (التحریم: ٤) نازل ہوئی اور آپ ﷺ کے اس قول: میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت: وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی (التحریم: ٣) نازل ہوئی ہے۔
Aishah said that the Messenger of Allah used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) entered upon either of us, she would say: "I perceive the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?" He came in to one of them, and she said that to him. He said: "No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again." Then the following was revealed: O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you. If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you) about Aishah and Hafsah, And (remember) when the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) disclosed a matter in confidence to one of his wives refers to him saying: "No, rather I drank honey.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3958
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک قسم کا گوند ہے جو بعض درختوں سے نکلتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة التحریم ١ (٤٩١٢) مختصراً، الطلاق ٨ (٥٢٦٧)، والأیمان والنذور ٢٥ (٦٦٩١)، الحیل ١٢ (٦٩٧٢)، صحیح مسلم/الطلاق ٣ (١٤٧٤)، سنن ابی داود/الأشربة ١١ (٣٧١٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٢٢)، مسند احمد (٦/٢٢١)، ویأتي عند المؤلف في الطلاق ١٧ (برقم: ٣٤٥٠) وفي الأیمان والنذور ٢٠ برقم: ٣٨٢٦ (صحیح )
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک لونڈی تھی، آپ اس سے مجامعت فرماتے تھے۔ عائشہ اور حفصہ ؓ ایک دن آپ کے پاس بیٹھی رہیں یہاں تک کہ آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کرلی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك إِلَى آخِرِ الآيَةِ اے نبی! آپ اس چیز کو اپنے لیے کیوں حرام قرار دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال رکھا ہے ۔ (التحریم: ١) مکمل آیت نازل فرمائی ١ ؎۔
It was narrated from Anas, that the Messenger of Allah had a female slave with whom he had intercourse, but Aishah and Hafsah would not leave him alone until he said that she was forbidden for him. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: "O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you. until the end of the Verse.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3959
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلے والی حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ آپ نے اپنے اوپر شہد کو حرام کرلیا تھا۔ اس سلسلہ میں حافظ ابن حجر کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ دونوں واقعے آیت کے نزول کا سبب بنے ہوں۔