Sunan An Nasai 3412

عورتوں کے ساتھ حسن سلوک

3412Sunan An Nasai

رشک اور حسد

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَرَمِيٌّ هُوَ لَقَبُهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْأَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ يَطَؤُهَا، فَلَمْ تَزَلْ بِهِ عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ حَتَّى حَرَّمَهَا عَلَى نَفْسِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک لونڈی تھی، آپ اس سے مجامعت فرماتے تھے۔ عائشہ اور حفصہ ؓ ایک دن آپ کے پاس بیٹھی رہیں یہاں تک کہ آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کرلی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك إِلَى آخِرِ الآيَةِ اے نبی! آپ اس چیز کو اپنے لیے کیوں حرام قرار دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال رکھا ہے ۔ (التحریم: ١) مکمل آیت نازل فرمائی ١ ؎۔

It was narrated from Anas, that the Messenger of Allah had a female slave with whom he had intercourse, but Aishah and Hafsah would not leave him alone until he said that she was forbidden for him. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: "O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you. until the end of the Verse.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3959
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلے والی حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ آپ نے اپنے اوپر شہد کو حرام کرلیا تھا۔ اس سلسلہ میں حافظ ابن حجر کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ دونوں واقعے آیت کے نزول کا سبب بنے ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٨٢) (صحیح الإسناد )