عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب علی ؓ نے فاطمہ ؓ سے شادی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا کہ اسے (عطیہ) دو ، انہوں نے کہا: میرے پاس نہیں ہے، آپ نے فرمایا: تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے (وہی دے دو ) ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "When Ali (RA) married Fatimah (RA) the Messenger of Allah ﷺ said to him: Give her something. He said: I do not have anything. He said: Where is your Hutamyyah armor?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3376
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شوال کے مہینے میں شادی کی اور شوال کے مہینے ہی میں میری رخصتی ہوئی، (لوگ اس مہینے میں شادی بیاہ کو برا سمجھتے ہیں) لیکن میں پوچھتی ہوں کہ آپ ﷺ کی بیویوں میں مجھ سے زیادہ کون بیوی آپ کو محبوب اور پسندیدہ تھی۔
It was narrated that Aishah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) married me in Shawwal, and he consummated the marriage with me in Shawwal, and which of his wives find more favor with him than me?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3377
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی اس وقت میں چھ برس کی تھی اور جب میری رخصتی ہوئی تو اس وقت میں نو برس کی ہوچکی تھی اور بچیوں (گڑیوں) کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔
It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah ﷺ married me when I was six, and consummated the marriage with me when I was nine, and I used to play with dolls.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3378
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چھ سال کی عمر میں مجھ سے شادی کی اور رسول اللہ ﷺ کے یہاں ان کی رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی۔
It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah married me when I was six, and consummated the marriage with me when I was nine.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3379
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خیبر فتح کرنے کے ارادے سے نکلے، ہم نے نماز فجر خیبر کے قریب اندھیرے ہی میں پڑھی پھر نبی اکرم ﷺ سوار ہوئے اور ابوطلحہ ؓ بھی سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا، جب نبی اکرم ﷺ خیبر کے تنگ راستے سے گزرنے لگے تو میرا گھٹنا آپ ﷺ کی ران سے چھونے اور ٹکرانے لگا، (اور یہ واقعہ میری نظروں میں اس طرح تازہ ہے گویا کہ) میں آپ ﷺ کی ران کی سفیدی (و چمک) دیکھ رہا ہوں، جب آپ بستی میں داخل ہوئے تو تین بار کہا: اللہ أكبر خربت خيبر إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين اللہ بہت بڑا ہے، خیبر کی بربادی آئی، جب ہم کسی قوم کی آبادی (و حدود) میں داخل ہوجاتے ہیں تو اس پر ڈرائی گئی قوم کی بدبختی کی صبح نمودار ہوجاتی ہے ١ ؎۔ انس ؓ کہتے ہیں: (جب ہم خیبر میں داخل ہوئے) لوگ اپنے کاموں پر جانے کے لیے نکل رہے تھے۔ (عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں:) لوگ کہنے لگے: محمد (آگئے) ہیں (اور بعض کی روایت میں الخمیس ٢ ؎ کا لفظ آیا ہے) یعنی لشکر آگیا ہے۔ (بہرحال) ہم نے خیبر طاقت کے زور پر فتح کرلیا، قیدی اکٹھا کئے گئے، دحیہ کلبی نے آ کر کہا: اللہ کے نبی! ایک قیدی لونڈی مجھے دے دیجئیے؟ آپ نے فرمایا: جاؤ ایک لونڈی لے لو، تو انہوں نے صفیہ بنت حیی ؓ کو لے لیا۔ (ان کے لے لینے کے بعد) ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ نے دحیہ کو صفیہ بنت حیی کو دے دیا، وہ بنو قریظہ اور بنو نضیر گھرانے کی سیدہ (شہزادی) ہے، وہ تو صرف آپ کے لیے موزوں و مناسب ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے (دحیہ کو) بلاؤ، اسے (صفیہ کو) لے کر آئیں ، جب وہ انہیں لے کر آئے اور نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک نظر دیکھا تو فرمایا: تم انہیں چھوڑ کر کوئی دوسری باندی لے لو ۔ انس ؓ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے انہیں آزاد کر کے ان سے شادی کرلی، ثابت نے ان سے (یعنی انس سے) پوچھا: اے ابوحمزہ! آپ ﷺ نے انہیں کتنا مہر دیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ نے انہیں آزاد کردیا اور ان سے شادی کرلی (یہی آزادی ان کا مہر تھا) ۔ انس ؓ کہتے ہیں: آپ راستے ہی میں تھے کہ ام سلیم ؓ نے صفیہ کو آراستہ و پیراستہ کر کے رات میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا دیا۔ آپ نے صبح ایک دول ہے کی حیثیت سے کی اور فرمایا: جس کے پاس جو کچھ (کھانے کی چیز) ہو وہ لے آئے ، چمڑا (دستر خوان) بچھا یا گیا۔ کوئی پنیر لایا، کوئی کھجور اور کوئی گھی لایا اور لوگوں نے سب کو ملا کر ایک کردیا (اور سب نے مل کر کھایا) یہی رسول اللہ ﷺ کا ولیمہ تھا۔
It was narrated from Anas (RA): "The Messenger of Allah ﷺinvaded Khaibar and we prayed Al-Ghadah (Fajr) there (early in the morning) when it was still dark. Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) rode and Abu Talha rode, and I was riding behind Abu Talha. The Prophet of Allah passed through the lane of Khaibar quickly, and my knee was touching the thigh of the Messenger of Allah, and I could see the whiteness of the thigh of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). When he entered the town he said: Allahu Akbar, Khaibar is destroyed! Whenever we approach a (hostile) nation to fight, evil will be the morning for those who have been warned. He said this three times. The people came out for their work." (One of the narrators) Abdul Aziz said: "They said: Muhammad (has come)!" Abdul-Aziz said: "Some of our companions said: With his army." "We conquered Khaibar and gathered the captives. Dihyah came and said: O Prophet of Allah, give me a slave girl from among the captives. He said: Go and take a slave girl. He took Safiyyah bint Huyayy. Then a man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah, you gave Dihyah Safiyyah bint Huyayy, and she is the chief mistress of Quraizah and An-Nadir, and she is fit for no one but you. He said: Call him to bring her. When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw her, he said: Take any other slave girl from among the captives." He said: "The Prophet (صلی اللہ علیProphet of d married her." (One of the narrators) Thabit said to him: "O Abu Hamzah, what dowry did he give her?" He (Anas) said: "Herself; he set her free and married her." He said: "While on the road, Umm Sulaim fitted her out and presented her to him in the night, and the following morning he was a bridegroom. He said: Whoever has anything, let him bring it. He spread out a leather cloth and men came with cottage cheese, dates, and ghee, and they made Hais, and that was the Walimah (wedding feast) of the Messenger of Allah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3380
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ اپنی پہلی حالت پر برقرار نہیں رہ سکتی وہاں اسلامی انقلاب آ کر رہے گا اور ہم محمد اور محمد کے شیدائی جیسا چاہیں گے ویسا ہی ہوگا۔ ٢ ؎: چونکہ لشکر کے پانچ حصے مقدمہ، ساقہ، میمنہ، میسرہ، قلب ہوتے ہیں اس لیے اسے الخمیس کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٢ ال صلاة ١٢ (٣١٧)، صحیح مسلم/النکاح ١٤ (١٣٦٥)، الجہاد ٤٣ (١٣٦٥) (مختصر)، سنن ابی داود/الخراج ٢٤ (٣٠٠٩)، (تحفة الأشراف: ٩٩٠)، مسند احمد (٣/١٠١، ١٨٦) (صحیح )
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیہ بنت حیی بن اخطب ؓ کے ساتھ خیبر کے راستے میں تین دن گزارے، پھر ان کا شمار ان عورتوں میں ہوگیا جن پر پردہ فرض ہوگیا یعنی صفیہ آپ کی ازواج مطہرات میں ہوگئیں۔
It was narrated from Humaid that he heard Anas (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ stayed with Safiyyah bint Huyayy bin Akhtab on the way (back from) Khaibar for three days when he married her, then she was among those who were commanded to observe Hijab.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3381
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خیبر اور مدینہ طیبہ کے درمیان صفیہ بنت حی ؓ کے ساتھ تین (عروسی) دن گزارے، میں نے لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے ولیمے کے لیے بلایا، اس ولیمے میں روٹی گوشت نہیں تھا، آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس (چمڑے کے) دستر خوان پر کھجوریں، پنیر اور گھی ڈالے گئے (اور انہیں ملا کر پیش کردیا گیا) یہی آپ کا ولیمہ تھا۔ لوگوں نے کہا: صفیہ امہات المؤمنین میں سے ایک ہوگئیں یا ابھی آپ کی لونڈی ہی رہیں؟ پھر لوگ کہنے لگے: اگر آپ نے انہیں پردے میں رکھا تو سمجھو کہ یہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ نے انہیں پردے میں نہ بٹھایا تو سمجھو کہ یہ آپ کی باندی ہیں۔ پھر جب آپ نے کوچ فرمایا تو ان کے لیے کجاوے پر آپ کے پیچھے بچھونا بچھایا گیا اور ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ تان دیا گیا (کہ دوسرے لوگ انہیں نہ دیکھ سکیں) ۔
It was narrated that Anas (RA) said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) stayed between Khaibar and Al-Madinah for three days when he consummated his marriage to Safiyyah bint Huyayy, and I invited the Muslims to his Walimah, in which there was no bread or meat. He commanded that a leather cloth (be spread) and dates, cottage cheese and ghee were placed on it, and that was his Walimah. The Muslims said: (Will she be) one of the Mothers of the Believers, or a female slave whom his right hand possesses? They said: If he has a Hijab for her, then she will be one of the Mothers of the Believers and if she does not have a Hijab then she will be a female slave whom his right hand possesses. When he rode on, he set aside a plate for her behind him and extended a Hijab between her and the people.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3382
عامر بن سعد ابی وقاص کہتے ہیں کہ میں ایک شادی میں قرظہ بن کعب اور ابومسعود انصاری ؓ کے پاس پہنچا، اتفاق سے وہاں لڑکیاں گا رہی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: آپ دونوں رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں اور بدری بھی ہیں، آپ کے سامنے یہ سب کیا جا رہا ہے (اور آپ لوگ روکتے نہیں ہیں) ؟ انہوں نے (جواب میں) کہا: آپ چاہیں تو بیٹھیں جیسے ہم سن رہے ہیں آپ بھی سنیں اور چاہیں تو یہاں سے ڈول جائیں، شادی کے موقع پر ہمیں گانے بجانے کی اجازت دی گئی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Amir bin Sad said: "I entered upon Qurazah bin Kab and Abu Masud Al-Ansari during a wedding and there were some young girls singing. I said: You are two of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ who were present at Badr, and this is being done in your presence! They said: Sit down if you want and listen with us, or if you want you can go away. We were granted a concession allowing entertainment at weddings.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3383
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ شادی خوشی کا موقع ہے اور گانا اگر حرام چیزوں سے خالی ہو تو منع نہیں ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک بچھونا مرد کے لیے ہو، ایک بیوی کے لیے ہو اور تیسرا مہمان کے لیے اور (اگر چوتھا ہوگا تو) چوتھا شیطان کے لیے ہوگا ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "A bed for a man, a bed for his wife, a third for his guest and the fourth is for the Shaitan.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3385
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے شادی کی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: کیا تم نے گدے و غالیچے بھی بنائے ہیں؟ میں نے کہا: ہمیں کہاں یہ گدے اور غالیچے میسر ہیں؟ آپ نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس یہ ہوں گے ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ said to me: Have you got married? I said: Yes. He said: Have you got any Anmat? I said: How can we afford Anmat? He said: You will be able to.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3386
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مسلمان مالدار ہوجائیں گے اور عیش و عشرت کی ساری چیزیں انہیں میسر ہوں گی۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح کیا اور اپنی بیوی کے پاس گئے اور میری ماں ام سلیم ؓ نے حیس بنایا، میں اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اور آپ سے عرض کیا: میری والدہ ماجدہ آپ کو سلام پیش کرتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا تحفہ ہے، آپ نے فرمایا: اسے رکھ دو اور جاؤ فلاں فلاں کو بلا لاؤ، آپ نے ان کے نام لیے اور (راستے میں) جو بھی ملے اسے بھی بلا لو ۔ راوی جعد کہتے ہیں: میں نے انس ؓ سے پوچھا: وہ لوگ کتنے رہے ہوں گے؟ کہا: تقریباً تین سو۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دس آدمیوں کا حلقہ (دائرہ) بنا کر کھاؤ، اور ہر شخص اپنے قریب (یعنی سامنے) سے کھائے ، تو ان لوگوں نے (ایسے ہی کر کے) کھایا اور سب آسودہ ہوگئے، (دس آدمیوں کی) ایک جماعت کھا کر نکلی تو (دس آدمیوں کی) دوسری جماعت آئی (اور اس نے کھایا اور وہ آسودہ ہوئی، اس طرح لوگ آتے گئے اور پیٹ بھر کر کھاتے اور نکلتے گئے، جب سب کھاچکے تو) مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انس! اٹھا لو (وہ کھانا جو لائے تھے) تو میں نے اٹھا لیا۔ مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ جب میں نے لا کر رکھا تھا تب زیادہ تھا یا جب اٹھایا تب (زیادہ تھا) ۔
It was narrated from Al-Jad bin Abi Uthman, that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ got married and consummated the marriage with his wife." He said: "My mother Umm Sulaim made some Hais, and I brought it to the Messenger of Allah ﷺ and said: My mother sends you greetings of Salam, and says to you: This is a little from us. He said: Put it down. Then he said: Go and call so-and-so, and so-and-so, and whoever you meet, and he named some men. So I called those whom he named and those whom I met." I said to Anas: "How many were they?" He said: "About three hundred. Then the Messenger of Allah ﷺ said: Let them sit around the dish of food in groups of ten, one after the other, and let each person eat from what is closest to him. They ate until they were full, then one group went out and another group came in. He said to me: O Anas, clear it away. So I cleared it away, and I do not know whether there was more when I cleared it away, or when I put it down.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3387
Notes · وضاحت
١ ؎: حیس یعنی مالیدہ، حیس گھی، پنیر اور کھجور سے بنایا جاتا ہے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش اور انصار کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارہ قائم کردیا، تو سعد بن ربیع اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو ایک دوسرے کا بھائی بنادیا۔ سعد (انصاری) ؓ نے ان سے کہا: میرے پاس مال ہے اس کا آدھا تمہارا ہے اور آدھا میرا اور میری دو بیویاں ہیں تو دیکھو ان میں سے جو تمہیں زیادہ اچھی لگے اسے میں طلاق دے دیتا ہوں، جب وہ عدت گزار کر پاک و صاف ہوجائے تو تم اس سے شادی کرلو۔ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے جواب دیا: اللہ تمہاری بیویوں اور تمہارے مال میں تمہیں برکت عطا کرے۔ مجھے تو تم بازار کی راہ دکھا دو، (پھر وہ بازار گئے) اور گھی اور پنیر نفع میں کما کر لائے بغیر نہ لوٹے۔ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ پر زردی کا نشان دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں نے ایک انصاری لڑکی سے شادی کی ہے تو آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا سہی ۔
It was narrated from Humaid At-Tawil that he heard Anas (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ established the bond of brotherhood between (some of) the Quraish and (some of) the Ansar, and he established the bond of brotherhood between Sad bin Ar-Rabi and Abdur-Rahman bin Awf. Sad said to him: I have wealth, which I will share equally between you and me. And I have two wives, so look and see which one you like better, and I will divorce her, and when her Iddah is over you can marry her. He said: May Allah bless your family and your wealth for you. Show me i.e., where the market is. And he did not come back until he brought some ghee, and cottage cheese that he had left over. He said: The Messenger of Allah ﷺ saw traces of yellow perfume on me and he said: What is this for? I said: I have married a woman from among the Ansar. He said: Give a Walimah (wedding feast) even if it is with one sheep.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3388