عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے ایک عورت سے شادی کی پھر مرگیا نہ اس سے خلوت کی تھی اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا تھا۔ تو اس کے بارے میں انہوں نے فرمایا: اس عورت کا مہر (مہر مثل) ہوگا۔ اسے عدت گزارنی ہوگی اور اسے میراث ملے گی۔ (یہ سن کر) معقل بن سنان نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو بروع بنت واشق کے معاملہ میں ایسا ہی فیصلہ کرتے سنا ہے۔
It was narrated that Abdullah said, concerning a man who married a woman, then died before consummating the marriage with her, and without naming a dowry: "She should have the dowry, and she has to observe the Iddah, and she may inherit." Maqil bin Sinan said: "I heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) pass the same judgment concerning Birwa bint Washiq.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3356
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس کچھ لوگ آئے اور انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے شادی کی، نہ اس کا مہر مقرر کیا، نہ اس سے خلوت کی اور مرگیا (اس معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ ) ، عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑا ہے (یعنی آپ کے انتقال کے بعد) اس سے زیادہ ٹیڑھا اور مشکل سوال مجھ سے نہیں کیا گیا ہے۔ تو تم لوگ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ (اور اس سے فتویٰ پوچھ لو) ، لیکن وہ لوگ اس مسئلہ کے سلسلے میں مہینہ بھر ان کا پیچھا کرتے رہے بالآخر انہوں نے ان سے کہا: اگر آپ سے نہ پوچھیں تو پھر کس سے پوچھیں! آپ اس شہر میں محمد ﷺ کے بڑے اور جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں، آپ کے سوا ہم کسی اور کو نہیں پاتے۔ انہوں نے کہا: (جب ایسی بات ہے) تو میں اپنی عقل و رائے سے اس بارے میں بتاتا ہوں، اگر میری بات درست ہو تو سمجھو یہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہو تو سمجھو کہ وہ میری اور شیطان کی جانب سے ہے، اللہ اور اس کے رسول اس سے بری ہیں، میں اس کے لیے مہر مثل کا فتویٰ دیتا ہوں نہ کم اور نہ زیادہ، اسے میراث ملے گی اور وہ چار مہینہ دس دن کی عدت گزارے گی۔ یہ مسئلہ اشجع قبیلہ کے چند لوگوں نے سنا تو کھڑے ہو کر کہنے لگے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے ویسا ہی فیصلہ کیا ہے جیسا رسول اللہ ﷺ نے ہماری قوم کی ایک عورت بروع بنت واشق ؓ کے معاملے میں کیا تھا۔ (یہ سن کر) عبداللہ بن مسعود ؓ (اپنا فیصلہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے موافق ہوجانے کے باعث) اتنا زیادہ خوش ہوئے کہ اسلام لانے کے وقت کی خوشی کے سوا اس سے زیادہ خوش کبھی نہ دیکھے گئے تھے۔
It was narrated from Abdullah that some people came to him and said: "A man among us married a woman, but he did not name a dowry for her, and he did not have intercourse with her before he died." Abdullah said: Since I left the Messenger of Allah ﷺ I have never been asked a more difficult question than this. Go to someone else. They kept coming to him for a month, then at the end of that they said: Who shall we ask if we do not ask you? You are one of the most prominent Companions of Muhammad ﷺ in this land and we cannot find anyone else. He said: I will say what I think, and if it is correct then it is from Allah alone, with no partner, and if it is wrong then it is from me and from the Shaitan, and Allah and His Messenger have nothing to do with it. I think she should be given a dowry like that of her peers and no less, with no injustice, and she may inherit from him, and she has to observe the Iddah, four months and ten days." He said: "And that was heard by some people from Ashja, who stood up and said: We bear witness that you have passed the same judgment as the Messenger of Allah ﷺ did concerning a woman from among us who was called Birwa bint Washiq." He said: "Abdullah was never seen looking so happy as he did on that day, except with having accepted Islam.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3358
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ سے کہنے لگی: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ذات کو آپ کے لیے ہبہ کردیا ہے (یہ کہہ کر) وہ کافی دیر کھڑی رہی تو ایک شخص اٹھا اور آپ سے عرض کیا (اللہ کے رسول! ) اگر آپ کو اسے رکھنے کی ضرورت نہ ہو تو آپ میری شادی اس سے کرا دیجئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تیرے پاس (بطور مہر دینے کے لیے) کچھ ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے، آپ نے فرمایا: جاؤ ڈھونڈو اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو (پاؤ تو اسے لے آؤ) ، اس نے (جا کر) ڈھونڈا، اسے کچھ بھی نہ ملا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا: کیا تمہارے پاس قرآن کا بھی کچھ علم ہے؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، اس نے ان سورتوں کا نام لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جاؤ) میں نے تمہارا نکاح اس عورت کے ساتھ اس قرآن کے عوض کردیا جو تمہیں یاد ہے (تم اسے قرآن پڑھا دو اور یاد کرا دو ) ۔
It was narrated from Sahl bin Sad that a woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: "O Messenger of Allah, I give myself in marriage to you." She stood for a long time, then a man stood up and said: "Marry her to me if you do not want to marry her." The Messenger of Allah said: "Do you have anything?" He said: "I cannot find anything." He said: "Look (for something), even if it is only an iron ring." So he looked but he could not find anything. The Messenger of Allah ﷺ said to him: "Have you (memorized) anything of the Quran?" He said: "Yes, Surah such and such and Surah such and such," naming them. The Messenger of Allah ﷺ said: "I marry her to you for what you know of the Quran.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3359
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا فرمایا: اگر اس کی بیوی نے لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے (آدمی کو) سو کوڑے ماروں گا ١ ؎، اور اگر اس (کی بیوی) نے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے سنگسار کر دوں گا ٢ ؎۔
It was narrated from An-Numan bin Bashir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said, concerning a man who had intercourse with his wifes slave woman: "If she let him do that, I will flog him with one hundred stripes, and if she did not let him, I will stone him (to death).
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3360
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ بغیر جائز صورت کے کسی کے لیے کسی کی شرمگاہ حلال نہیں ہوتی، اس لیے بطور تأدیب اسے سو کوڑے لگیں گے۔ ٢ ؎: اس لیے کہ اس نے شادی شدہ ہوتے ہوئے جرم زنا کا ارتکاب کیا۔ اکثر اہل علم کا عمل اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ آدمی بیوی کی لونڈی سے اگر جماع کرے تو اس پر حد نہیں پڑے گی۔ ان کا خیال ہے کہ نعمان بن بشیر کو اس مسئلہ میں دھوکا ہوگیا ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢٨ (٤٤٥٨)، سنن الترمذی/الحدود ٢١ (١٤٥٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٨ (٢٥٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٦١٣)، مسند احمد (٤/٢٧٢، ٢٧٣، ٢٧٥، ٢٧٦، ٢٧٧)، سنن الدارمی/الحدود ٢٠ (٢٣٧٥) (ضعیف) (اس کے راوی ” حبیب بن سالم “ میں بہت کلام ہے، نیز خطابی کے بقول: نعمان رضی الله عنہ سے ان کا سماع نہیں ہے )
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر ؓ کے سامنے ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس کا نام عبدالرحمٰن بن حنین تھا اور لوگ اسے (برے لقب) قرقور ١ ؎ کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت (زنا) کر بیٹھا، یہ معاملہ نعمان بن بشیر ؓ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: میں اس معاملے میں ویسا ہی فیصلہ دوں گا جیسا رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ دیا تھا، اگر بیوی نے اپنی باندی کو تیرے لیے حلال کردیا تھا تب تو (تعزیراً ) تجھے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اسے تیرے لیے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے سنگسار کر دوں گا۔ (پوچھنے پر پتہ لگا کہ) بیوی نے وہ لونڈی اس کے لیے حلال کردی تھی تو اسے سو کوڑے مارے گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے حبیب بن سالم کو (خط) لکھا تو انہوں نے مجھے یہی حدیث لکھ کر بھیجی۔
It was narrated from An-Numan bin Bashir that a man called Abdur-Rahman bin Hunain or Yunbaz Qurqura had intercourse with his wifes slave woman, and it was brought to An-Numan bin Bashir. He said: "I will pass the same judgment concerning her as the Messenger of Allah ﷺ did. If she let you do that, I will flog you, but if she did not let you do that, I will stone you (to death)." She had let him do that so he flogged him with one hundred stripes. (One of the narrators) Qatadah said: "I wrote to Habib bin Salim and he wrote back to me with this information.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3361
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ نعمان بن بشیر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا فرمایا: اگر اس کی بیوی نے اسے اس کی اجازت دے دی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اس نے اس کے لیے اسے حلال نہ کیا ہوگا تو میں اسے (یعنی شوہر کو) سنگسار کر دوں گا ۔
It was narrated from An-Numan bin Bashir that the Messenger of Allah ﷺsaid, concerning a man who had intercourse with his wifes slave woman: "If she let him do that, I will flog him with one hundred stripes, and if she did not let him do that, I will stone him (to death).
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3362
سلمہ بن محبق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کا فیصلہ جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا (اس طرح) فرمایا: اگر اس نے اس کے ساتھ زبردستی زنا کی ہے تو وہ لونڈی آزاد ہوجائے گی اور اس شخص کو اس لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہوگی اور اگر (مرد نے زبردستی نہیں کی بلکہ) لونڈی کی رضا مندی سے یہ کام ہوا تو یہ لونڈی اس (مرد) کی ہوجائے گی اور اس مرد کو لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہوگی۔
It was narrated that Salamah bin Al-Muhabbaq said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed judgment concerning a man who had intercourse with his wifes slave woman: If he forced her, then she is free, and he has to give her mistress a similar slave as a replacement; if she obeyed him in that, then she belongs to him, and he has to give her mistress a similar slave as a replacement.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3363
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢٨ (٤٤٦٠)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٨ (٢٥٥٢) مختصراً، (تحفة الأشراف: ٤٥٥٩)، مسند احمد (٣/٤٧٦ و ٥/٦) (ضعیف )
سلمہ بن محبق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا، یہ قضیہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر اس نے اس لونڈی کے ساتھ زنا بالجبر (زبردستی زنا) کیا ہے تو یہ لونڈی اس کے مال سے آزاد ہوگی اور اسے اس جیسی دوسری لونڈی اس کی مالکہ کو دینی ہوگی اور اگر لونڈی نے اس کام میں مرد کا ساتھ دیا ہے (اور اس کی خوشی و رضا مندی سے یہ کام ہوا ہے) تو یہ لونڈی اپنی مالکہ (یعنی بیوی) ہی کی رہے گی اور اس (شوہر) کے مال سے اس جیسی دوسری لونڈی (خرید کر) اس کی مالکہ کو ملے گی (گویا یہ پرائی عورت سے جماع کرنے کا جرمانہ ہے) ۔
It was narrated from Salamah bin Al-Muhabbaq that a man had intercourse with a slave woman belonging to his wife, and was brought to the Messenger of Allah ﷺ. He said: "If he forced her, then she is free at his expense and he has to give her mistress a similar slave as a replacement. If she obeyed him in that, then she belongs to her mistress, and he has to give her mistress a similar slave as well.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3364
علی رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کو اطلاع ملی کہ ایک شخص ١ ؎ ہے جو متعہ میں کچھ حرج اور قباحت نہیں سمجھتا۔ علی ؓ نے (اس سے) کہا تم گمراہ ہو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے۔
It was narrated from Al-Hasan and Abdullah, the sons of Muhammad, from their father, that Ali heard that a man did not see anything wrong with Mutah (temporary marriage). He said: "You are confused, the Messenger of Allah forbade it, and the meat of domestic donkeys on the day of Khaibar.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3365
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک شخص سے مراد ابن عباس رضی الله عنہما ہیں، ممکن ہے متعہ سے متعلق ممانعت کی انہوں نے کوئی تأویل کی ہو یا اس ممانعت سے وہ باخبر نہ رہے ہوں کیونکہ ابن قدامہ نے اپنی کتاب مغنی ( ٧ ؍ ٥٧٢ ) میں لکھا ہے : بیان کیا جاتا ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے اپنے قول سے رجوع کرلیا تھا۔ ( واللہ اعلم )
علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے روک دیا ہے۔
It was narrated from Abdullah and Al-Hasan, the sons of Muhammad bin Ali, from their father, from Ali (RA) bin Abi Talib, that the Messenger of Allah ﷺ on the Day of Khaibar forbade temporary marriage to women, and (he also forbade) the meat of tame donkeys.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3366
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن عورتوں سے متعہ کرنے سے روک دیا ہے، ابن المثنی کہتے ہیں: حنین کے دن منع کیا ہے اور کہتے ہیں: عبدالوہاب نے اپنی کتاب سے ایسا ہی مجھ سے بیان کیا ہے۔
Malik bin Anas narrated that Ibn Shihab told him that Abdullah and Al-Hasan, the sons of Muhammad bin Ali, told him, that their father Muhammad bin Ali told them, that Ali (RA) bin Abi Talib said: "The Messenger of Allah ﷺ on the Day of Khaibar forbade temporary marriage to women." (One of the narrators) Ibn Al-Muthanna said: "The Day of Hunain." He said: "This is what Abdul-Wahhab narrated to us from his book.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3367
سبرہ جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے متعہ کرنے کی اجازت دی تو میں اور ایک اور شخص (دونوں) بنی عامر قبیلے کی ایک عورت کے پاس گئے اور ہم اپنے آپ کو اس پر پیش کیا اس نے کہا: تم مجھے کیا دو گے؟ میں نے کہا: میں تم کو اپنی چادر دے دوں گا، میرے ساتھی نے بھی یہی کہا اور میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے اچھی تھی، (لیکن) میں اس سے زیادہ جوان (تگڑا) تھا، وہ جب میرے ساتھی کی چادر دیکھتی تو وہ اسے بڑی اچھی لگتی (اس کی طرف لپکتی) اور جب مجھے دیکھتی تو میں اسے بہت پسند آتا تھا۔ پھر اس نے (مجھ سے) کہا: تم اور تمہاری چادر میرے لیے کافی ہے۔ تو میں اس کے ساتھ تین دن رہا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے چھوڑ دے ۔
It was narrated from Ar-Rabi bin Sabrah Al-Juhani that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ gave permission for Mutah, so I and another man went to a woman from Bani Amir and offered ourselves to her (for Mutah). She said: What will you give me? I said: My Rida (upper garment). My companion also said: My Rida. My companions Rida was finer than mine, but I was younger than him. When she looked at my companions Rida she liked it, but when she looked at me, she liked me. Then she said: You and your Rida are sufficient for me. I stayed with her for three (days), then the Messenger of Allah said: Whoever has any of these women whom he married temporarily should let them go.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3368
محمد بن حاطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے اور اس کا اعلان کیا جائے ١ ؎۔
It was narrated that Muhammad bin Hatib said: "The Messenger of Allah ﷺ said: What differentiates between the lawful and the unlawful is the Duff, and the voice (singing) for the wedding.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3369
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی زنا چوری چھپے ہوتا ہے اور نکاح لوگوں کو بتا کر اور اعلان کر کے کیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٦ (١٠٨٨)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٠ (١٨٩٦)، (تحفة الأشراف: ١١٢٢١)، مسند احمد (٣/٤١٨ و ٤/٢٥٩) (حسن )
حسن رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عقیل بن ابی طالب نے بنو جثم کی ایک عورت سے شادی کی تو انہیں بالرفاء والبنين میل ملاپ سے رہنے اور صاحب اولاد ہونے کی دعا دی گئی۔ تو انہوں نے کہا: جس طرح رسول اللہ ﷺ نے (اس موقع پر) کہا ہے اسی طرح تم بھی کہو، (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) بارک اللہ فيكم و بارک لكم اللہ تعالیٰ تمہاری ہر چیز میں برکت دے اور تمہیں برکت والا کرے ۔
It was narrated that Al-Hasan said: "Aqil bin Abi Talib married a woman from Banu Jutham, and it was said to him: May you live in harmony and have many sons. He said: Say what the Messenger of Allah ﷺ said: Barak Allahu fikum, wa baraka lakum. (May Allah bless you and bestow blessings upon you.)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3371
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٣ (١٩٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٤)، مسند احمد (١/٢٠١ و ٣/٤٥١)، سنن الدارمی/النکاح ٦ (٢٢١٩) (صحیح )
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن (عبدالرحمٰن بن عوف ؓ) کے کپڑے پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کھجور کی گٹھلی کے وزن برابر سونا دے کر میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ آپ نے فرمایا: بارک اللہ لك اللہ تمہیں اس نکاح میں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ saw traces of yellow perfume on Abdur-Rahman and said: What is this? He said: I married a woman for a Nawah (five Dirhams) of gold. He said: May Allah bless you. Give a Walimah (wedding feast) even if it is with one sheep.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3372
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ آئے اور ان پر زعفران کے رنگ کا اثر تھا تو رسول اللہ ﷺ نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے (یہ اسی کا اثر و نشان ہے) ۔ آپ نے پوچھا؟ مہر کتنا دیا؟ کہا: کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونا، آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔
It was narrated from Anas that Abdur-Rahman bin Awf came with a trace of saffron on him, and the Messenger of Allah ﷺ said: "Whats this for?" He said: "I have married a woman." He said: "What dowry did you give?" He said: "The weight of a Nawah (five Dirhams) of gold." He said: "Give a Walimah (wedding feast) even if it is with one sheep.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3373
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ پر زردی کا اثر دیکھا (مجھ سے مراد عبدالرحمٰن بن عوف ہیں) پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے (یہ اسی کا نشان ہے) ، آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہو ۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah saw a trace of yellow perfume on me" -as if he meant Abdur-Rahman bin Awf- "and said: Whats this for? He said: I have married a woman from among the Ansar. He said: Give a Walimah (wedding feast) even if it is with one sheep.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3374
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ علی ؓ نے کہا: میں نے فاطمہ ؓ سے شادی کی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: مجھے ملنے کا موقع عنایت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: اسے کچھ (تحفہ) دو ، میں نے کہا: میرے پاس تو کچھ ہے نہیں، آپ نے فرمایا: تیری حطمی زرہ کہاں ہے؟ میں نے کہا: یہ تو میرے پاس ہے، آپ نے فرمایا: وہی اسے دے دو ۔
It was narrated from Ibn Abbas that Ali said: "I got married to Fatimah (RA) and I said: O Messenger of Allah, let me consummate the marriage. He said: Give her something. I said: I do not have anything. He said: Where is your Hutamyyah armor? I said: It is with me. He said: Give it to her.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3375