عقیقہ سے متعلق احادیث مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 40 · 10 hadiths

4217Sunan An Nasai

عقیقہ کے آداب و احکام

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ ؟، فَقَالَ: لَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْعُقُوقَ، وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا نَسْأَلُكَ أَحَدُنَا يُولَدُ لَهُ، قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَنْسُكْ عَنْهُ عَنَ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ. قَالَ دَاوُدُ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ عَنِ الْمُكَافَأَتَانِ ؟، قَالَ: الشَّاتَانِ الْمُشَبَّهَتَانِ، تُذْبَحَانِ جَمِيعًا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے سلسلے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ عقوق کو پسند نہیں کرتا ۔ گویا کہ آپ کو یہ نام ناپسند تھا۔ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ہم تو آپ سے صرف یہ پوچھ رہے ہیں کہ جب ایک شخص کے یہاں اولاد پیدا ہو تو کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: جو اپنی اولاد کی طرف سے قربانی کرنا چاہے ١ ؎ کرے، لڑکے کی طرف سے ایک ہی عمر کی دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ۔ داود بن قیس کہتے ہیں: میں نے زید بن اسلم سے مكافئتان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: دو مشابہ بکریاں جو ایک ساتھ ذبح کی جائیں ٢ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his fahther, that his grandfather said: "The Messenger of Allah was asked about the Aqiqah and he said: "Allah, the mighty and sublime, does not like Al-Uquq as if he disliked the word (Al-Aqiqah). He said to the Messenger of Allah ﷺ: But one of us may offer a sacrifice when a child is born to him. He said: Whoever wants to offer a sacrifice for his child, let him do so, for a boy; two sheep, Mukafaatan, (of equal age), and for a girl, one. (One of the narrators) Dawud said: I asked Ziad bin Aslam about the word Mukafaatan and he said: Two similar sheep that are slaughtered together.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4212
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی جملے سے استدلال کرتے ہوئے بعض ائمہ کہتے ہیں کہ عقیقہ فرض نہیں مندوب و مستحب ہے، جب کہ فرض قرار دینے والے حدیث نمبر ٤٢١٩ سے استدلال کرتے ہیں جس میں حکم ہے کہ بچے کی طرف سے خون بہاؤ نیز اور بھی کچھ الفاظ ایسے وارد ہیں جن سے عقیقہ کی فرضیت معلوم ہوتی ہے، إلا یہ کہ کسی کو عقیقہ کے وقت استطاعت نہ ہو تو بعد میں استطاعت ہونے پر قضاء کرلے۔ ٢ ؎: عمر میں برابر ہوں یا وصف میں ایک دوسرے سے قریب تر ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الضحایا ٢١ (٢٨٤٢)، (تحفة الأشراف: ٨٧٠٠)، مسند احمد (٢/١٨٢، ١٨٣، ١٨٧، ١٩٣، ١٩٤) (حسن صحیح )
4218Sunan An Nasai

عقیقہ کے آداب و احکام

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ.

بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین ؓ کی طرف سے عقیقہ کیا۔

It was narrated from Abdullah bin Buraidah, from his father, that: the Messenger of Allah ﷺ offered the Aqiqah for Al-Hasan and Al-Husain.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4213
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٩٧١)، مسند احمد (٥/٣٥٥، ٣٦١) (صحیح )
4219Sunan An Nasai

لڑکے کی جانب سے عقیقہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَحَبِيبٌ، وَيُونُسُ، وَقَتَادَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى.

سلمان بن عامر ضبی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لڑکے کی پیدائش پر ١ ؎ اس کا عقیقہ ہے، تو اس کی جانب سے خون بہاؤ ٢ ؎ اور اس سے تکلیف دہ چیز کو دور کرو ٣ ؎۔

It was narrated from Salman bin Amir Ad-Dabbi that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "For a boy there shoud be an Aqiqah, so shed blood for him, and remove the harm from him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4214
Notes · وضاحت
١ ؎: اس جملہ سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ عقیقہ صرف لڑکے کی پیدائش پر ہے۔ لڑکی کی پیدائش پر نہیں، لیکن یہ استدلال صرف ایک حدیث پر نظر رکھنے کا نتیجہ ہے جو اصول استدلال کے خلاف ہے، متعدد دیگر احادیث وارد ہیں جن میں لڑکی کی طرف سے بھی خون بہا نے کا حکم دیا گیا ہے۔ (دیکھئیے اگلی حدیث) ٢ ؎: اسی جملہ سے (نیز حدیث نمبر ٤٢٢٥ کے مفہوم) سے عقیقہ کے واجب ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے، جب کہ بعض لوگ حدیث نمبر ٤٢١٨ کے جملہ جو چاہے وہ عقیقہ کرے سے استحباب پر استدلال کرتے ہیں، سلمان ؓ کی حدیث صحیح بخاری کی ہے جب کہ عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث صرف سنن کی ہے، نیز سلمان ؓ کی حدیث کے معنی کی تائید حدیث نمبر ٤٢٢٥ کے اس مفہوم سے بھی ہوتی ہے جو امام احمد بن حنبل نے بیان کیا ہے، نیز ام کرز ؓ کی حدیث سے بھی وجوب ہی کی تائید ہوتی ہے، ہاں جس کو عقیقہ کرنے کی استطاعت ہی نہ ہو تو اس سے معاف ہے، اگر ماں باپ کو اکیسوئیں دن بھی عقیقہ کرنے کی استطاعت ہوجائے تو کر دے، اس کے بعد وجوب ساقط ہوجائے گا۔ ٣ ؎: یعنی سر کے بال مونڈو اور غسل دو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العقیقة ٢ (٥٤٧١)، سنن ابی داود/الضحایا ٢١ (٢٨٣٩)، سنن الترمذی/الضحایا ١٧ (١٥١٥)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١ (٣١٦٤)، (تحفة الأشراف: ٤٤٨٥)، مسند احمد (٤/١٧، ١٨، ٢١٤)، سنن الدارمی/الأضاحي ٩ (٢٠١٠) (صحیح )
4220Sunan An Nasai

لڑکے کی جانب سے عقیقہ

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَفِي الْجَارِيَةِ شَاةٌ.

ام کرز ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (عقیقہ کے لیے) لڑکے میں دو ہم عمر بکریاں اور لڑکی میں ایک بکری (کافی) ہے ١ ؎۔

It was narrated from Umm Kurz that the Messenger of Allah ﷺ said: "for a boy two sheep, Mukafatan (of equal age), and for a girl, one sheep.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4215
Notes · وضاحت
١ ؎: لڑکے کی طرف سے دو جانور اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور ذبح کرنے کی حکمت یہ ہے کہ بچے کی طرف سے خون بہانا اس کی جان کی بقاء کی خاطر ہے، تو یہ گویا دیت کی طرح ہوا، اور دیت میں نر جان کی دیت مادہ جان سے دگنی ہوتی ہے (کما فی المغنی مسألۃ نمبر ١٤٧٢ ) نیز ایک حدیث میں ہے جس نے ایک نر جان کو آزاد کیا اس کا ہر عضو جہنم سے آزاد کیا جائے گا، اور جس نے دو ماہ جان کو آزاد کیا اس کو بھی یہی اجر ملے گا۔ (فتح الباری تحت ٥٤٧١ من کتاب العقیقۃ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٩) (صحیح )
4221Sunan An Nasai

لڑکی کی جانب سے عقیقہ کرنا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ.

ام کرز ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (عقیقے کے لیے) لڑکے کی طرف سے دو ہم عمر بکریاں ہوں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ۔

It was narrated from Umm Kurz that the Messenger of Allah ﷺ said: "For a boy two sheep, Mukafaatan (of equal age), and for a girl, one sheep.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4216
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الضحایا ٢١ (٢٨٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٥٢)، مسند احمد (٦/٣٢٢) (صحیح )
4222Sunan An Nasai

لڑکی کی جانب سے کس قدر بکریاں ہونا چاہئیں؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ أَسْأَلُهُ عَنْ لُحُومِ الْهَدْيِ ؟ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: عَلَى الْغُلَامِ شَاتَانِ، وَعَلَى الْجَارِيَةِ شَاةٌ لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا.

ام کرز ؓ کہتی ہیں کہ میں حدیبیہ میں ہدی کے گوشت کے بارے میں پوچھنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، تو میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: لڑکا ہونے پر دو بکریاں ہیں اور لڑکی پر ایک بکری، نر ہوں یا مادہ اس سے تم کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔

It was narrated that umm Kurz said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and asked him about the sacrificial meat. I heard him say: For a boy, two sheep, and for a girl, one sheep, and it does not matter if they are male or female.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4217
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الضحایا ٢١ (٢٨٣٥، ٢٨٣٦)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١ (٣١٦٢ مختصراً )، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٧)، سنن الدارمی/الأضاحي ٩ (٢٠١١) (صحیح )
4223Sunan An Nasai

لڑکی کی جانب سے کس قدر بکریاں ہونا چاہئیں؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ، وَعَنَ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا.

ام کرز ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ہوں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری، نر ہوں یا مادہ اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ۔

It was narrated from Umma Kurz that the Messenger of Allah ﷺ said: "For a boy, two sheep, and for a girl, one sheep, and it does not matter if they are male or female

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4218
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4224Sunan An Nasai

لڑکی کی جانب سے کس قدر بکریاں ہونا چاہئیں؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ طَهْمَانَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِكَبْشَيْنِ كَبْشَيْنِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین ؓ کی طرف سے دو دو مینڈھے ذبح کیے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ offered an Aqiqah for Al-Hasan and Al-Husain (RA), two rams for each.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4219
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٦٢٠١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الضحایا ٢١ (٢٨٤١)، مسند احمد ٥/٧، ٨، ١٢، ١٧، ١٨، ٢٢) (صحیح )
4225Sunan An Nasai

عقیقہ کون سے دن کرنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ، عَنْالْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ غُلَامٍ رَهِينٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے ١ ؎ اس کی طرف سے ساتویں روز ذبح کیا جائے ٢ ؎، اس کا سر مونڈا جائے، اور اس کا نام رکھا جائے ۔

It was narrated from Qatadah, from Al-Hasan, from Samurh bin Jundab that the Messenger of Allah ﷺ said: "Every boy is in pledge for his Aqiqah, so slaughter (the animal) for him on the seventh day, and shave his head, and a name.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4220
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء عقیقہ کے فرض ہونے کے قائل ہیں، کیونکہ اس میں بچے کے عقیقہ کے بدلے گروی باقی رہ جانے کی بات ہے، اور گروی رہنے کا مطلب علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ جس لڑکے کا عقیقہ نہ کیا جائے اور وہ بلوغت سے پہلے مرجائے تو وہ قیامت کے دن اپنے ماں باپ کی سفارش (شفاعت) نہیں کرے گا، بعض علماء نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جس طرح رہن رکھی ہوئی چیز کے بدلے کی ادائیگی ضروری ہے اسی طرح ذبح (عقیقہ) ضروری ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ٢ ؎: اگر ساتویں دن عقیقہ کی استطاعت نہیں ہوسکی تو چودہویں دن کرے، اور اگر اس دن میں نہ ہو سکے تو اکیسویں دن کرے، جیسا کہ عائشہ ؓ سے مستدرک حاکم میں ( ٤/٢٣٨ ) صحیح سند سے مروی ہے، اگر اکیسویں دن بھی نہ ہو سکے تو جو لوگ واجب قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک زندگی میں کسی دن بھی قضاء کرنا ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الضحایا ٢١ (٢٨٣٧، ٢٨٣٨)، سنن الترمذی/الأضاحی ٢٣ (١٥٢٢ م)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١(٣١٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨١)، مسند احمد (٥/٧، ٨، ١٢، ١٧، ١٨، ٢٢)، سنن الدارمی/الأضاحي ٩ (٢٠١٢) (صحیح )
4226Sunan An Nasai

عقیقہ کون سے دن کرنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: سَلْالْحَسَنَ مِمَّنْ سَمِعَ حَدِيثَهُ فِي الْعَقِيقَةِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ؟، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ سَمُرَةَ.

حبیب بن شہید کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے کہا: حسن (حسن بصری) سے پوچھو، انہوں نے عقیقہ کے سلسلے میں اپنی حدیث کس سے سنی ہے؟ چناچہ میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث میں نے سمرہ ؓ سے سنی ہے۔

It was narrated from Habib bin Ash-Shahid: "Muhammad bin Sirin said to me: Ask Al-Hasan (Al-Basri) from whom he heard this Hadith about the Aqiqah. I asked him about that and he said: I heard it from Samurh.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4221
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العقیقة ٢ (٥٤٧٢ م)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٣ (١٨٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥٧٩) (صحیح )