فرع اور عتیرہ سے متعلق احادیث مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 41 · 41 hadiths · Page 1 of 3

4227Sunan An Nasai

فرع اور عتیرہ کے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرع اور عتیرہ واجب نہیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no fara and no Atirah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4222
Notes · وضاحت
١ ؎: فرع: زمانہ جاہلیت میں جانور کے پہلوٹے کو بتوں کے واسطے ذبح کرنے کو فرع کہتے ہیں، ابتدائے اسلام میں مسلمان بھی ایسا اللہ تعالیٰ کے واسطے کرتے تھے پھر کفار سے مشابہت کی بنا پر اسے منسوخ کردیا گیا اور اس سے منع کردیا گیا۔ اور عتیرہ: زمانہ جاہلیت میں رجب کے پہلے عشرہ میں تقرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کرتے تھے، اور اسلام کی ابتداء میں مسلمان بھی ایسا کرتے تھے۔ کافر اپنے بتوں سے تقرب کے لیے اور مسلمان اللہ تعالیٰ سے تقرب کے لیے ذبح کرتے تھے، پھر یہ دونوں منسوخ ہوگئے اب نہ فرع ہے اور نہ عتیرہ بلکہ مسلمانوں کے لیے عید الاضحی کے روز قربانی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العقیقة ٤ (٥٤٧٣)، الأضاحي ٦ (١٩٧٦)، سنن ابی داود/الأضاحي ٢٠ (٢٨٣١)، سنن الترمذی/الضحایا ١٥ (١٥١٢)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٢(٣١٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٧، ١٣٢٦٩)، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٣٩، ٢٧٩، ٤٩٠)، سنن الدارمی/الأضاحي ٨ (٢٠٠٧) (صحیح )
4228Sunan An Nasai

فرع اور عتیرہ کے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثْتُ أَبَا إِسْحَاق، عَنْ مَعْمَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَحَدُهُمَا: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ. وَقَالَ الْآخَرُ: لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرع اور عتیرہ سے منع فرمایا (دوسری روایت میں ہے کہ) آپ نے فرمایا: فرع اور عتیرہ واجب نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) that: the Messenger of Allah ﷺ forbade Fara and Atirah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4223
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ دونوں اب واجب نہیں رہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ١٣١٢٧، ١٣٢٦٩) (صحیح )
4229Sunan An Nasai

فرع اور عتیرہ کے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَمْلَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَامِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً. قَالَ مُعَاذٌ: كَانَ ابْنُ عَوْنٍ يَعْتِرُ أَبْصَرَتْهُ عَيْنِي فِي رَجَبٍ.

مخنف بن سلیم ؓ کہتے ہیں کہ ہم عرفہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا: لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال قربانی اور عتیرہ ہے ١ ؎۔ معاذ کہتے ہیں: ابن عون رجب میں عتیرہ کرتے تھے، ایسا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

Mikhnaf bin Sulaim said: "While we were standing with the Messenger of Allah ﷺ at Arafat, he said: O people, it is upon each family to offer a sacrifice (Udhiyah) and an Atirah each year." (One of the narrators) Muadh said: "Ibn Awn used to offer slaughter the Atirah, and I saw that with my own eyes during Rajab." (Daif)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4224
Notes · وضاحت
١ ؎: فرع اور عتیرہ کے سلسلے میں مروی تمام احادیث کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ دونوں ایام جاہلیت میں جاہلی انداز میں انجام دیئے جاتے تھے جس میں شرک کی ملاوٹ ہوتی تھی، رسول اللہ ﷺ نے اسلام میں ان کو جائز قرار تو دیا، مگر وہ شرک و کفر سے خالی اور جاہلی عادات کی مشابہت سے دور ہو، اور اگر نہ انجام دیئے جائیں تو بہتر ہے، خاص طور پر فرع کو اگر چھوڑ رکھا جائے تو یہ جانور بڑا ہو کر زیادہ مفید ثابت ہوسکتا ہے، واللہ اعلم (دیکھئیے اگلی روایات) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الضحایا ١(٢٧٨٨)، سنن الترمذی/الضحایا ١٩ (١٥١٨)، سنن ابن ماجہ/الضحایا ٢ (٣١٢٥)، (تحفة الأشراف: ١١٢٤٤)، مسند احمد (٤/٢١٥، ٥/٧٦) (حسن )
4230Sunan An Nasai

فرع اور عتیرہ کے متعلق

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْفَرَعَ، قَالَ: حَقٌّ، فَإِنْ تَرَكْتَهُ حَتَّى يَكُونَ بَكْرًا فَتَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ تُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ فَيَلْصَقَ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ فَتُكْفِئَ إِنَاءَكَ، وَتُولِهُ نَاقَتَكَ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالْعَتِيرَةُ. قَالَ: الْعَتِيرَةُ حَقٌّ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ: هُمْ أَرْبَعَةُ إِخْوَةٍ أَحَدُهُمْ أَبُو بَكْرٍ، وَبِشْرٌ، وَشَرِيكٌ، وَآخَرُ.

محمد بن عبداللہ بن عمرو اور زید بن اسلم سے روایت ہے لوگوں (صحابہ) نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فرع کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: حق ہے، البتہ اگر تم اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ جوان ہوجائے اور تم اسے اللہ کی راہ میں دو، یا اسے کسی مسکین، بیوہ کو دے دو تو یہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم اسے (بچہ کی شکل میں) ذبح کرو اور (اس کے کاٹے جانے کی وجہ سے) اس کا گوشت چمڑے سے لگ جائے ۔ (یعنی دبلی ہوجائے گی) پھر تم اپنا برتن اوندھا کر کے رکھو گے (کہ وہ دودھ دینے کے لائق ہی نہ ہوگی) اور تمہاری اونٹنی تکلیف میں رہے گی ۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور عتیرہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: عتیرہ بھی حق ہے ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابوعلی حنفی چار بھائی ہیں: ابوبکر، بشر، شریک اور ایک اور ہیں۔

Amr bin Shuaib bin Muhammad bin Abdullah bin Amr (narrated) that his father and Zaid bin Aslam said: "O Messenger of Allah! (What about) the Fara?" He said: "It is a duty, but if you leave it (the animal) until it becomes half-grown and you load upon it (in Jihad) in the cause of Allah or give it to a widow, that is better than if you slaughter it (when it is just born) and its flesh is difficult to separate from its skin, then you turn your vessel upside down (because you will no longer be able to get milk from the mother) and you cause your she-camel to grieve (at the loss of its young)." They said: "O Messenger of Allah, (what about) the Atirah?" He said: "The Atirah is a duty." (Hasan) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: Abu Ali Al-Hanafi (one of the narrators); they are four brothers: One of them is Abu Bakr, and Bishr, and Sharik, and the other.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4225
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی باطل اور حرام نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٧٠١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأضحایا ٢١(٢٨٤٢)، مسند احمد ٢/١٨٢ -١٨٣ (حسن )
4231Sunan An Nasai

فرع اور عتیرہ کے متعلق

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ زُرَارَةَ بْنِ كُرَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ، فَأَتَيْتُهُ مِنْ أَحَدِ شِقَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، اسْتَغْفِرْ لِي ؟، فَقَالَ: غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ، أَرْجُو أَنْ يَخُصَّنِي دُونَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، فَقَالَ: بِيَدِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْعَتَائِرُ وَالْفَرَائِعُ، قَالَ: مَنْ شَاءَ عَتَرَ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَعْتِرْ، وَمَنْ شَاءَ فَرَّعَ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُفَرِّعْ فِي الْغَنَمِ أُضْحِيَّتُهَاوَقَبَضَ أَصَابِعَهُ إِلَّا وَاحِدَةً.

حارث بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ سے ملا، آپ اپنی اونٹنی عضباء، پر سوار تھے۔ میں آپ کی ایک جانب گیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے، آپ نے فرمایا: اللہ تم لوگوں کی مغفرت فرمائے ۔ پھر میں آپ کی دوسری جانب گیا، مجھے امید تھی کہ آپ خاص طور پر میرے لیے دعا کریں گے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے۔ آپ نے اپنے ہاتھوں (کو اٹھا کر) فرمایا: اللہ تعالیٰ تم سب کو معاف کرے ۔ پھر لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! عتیرہ اور فرع کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: جو چاہے عتیرہ ذبح کرے اور جو چاہے نہ کرے اور جو چاہے فرع کرے اور جو چاہے نہ کرے، بکریوں میں صرف قربانی ہے ، اور آپ نے اپنی سب انگلیاں بند کرلیں سوائے ایک کے (یعنی: سالانہ صرف ایک قربانی ہے) ۔

It was narrated that Yahya bin Zurarah bin Karim bin Al-Harith bin Amr Al-Bahili said: "I heard my father say, that he heard his grandfather Al-Harith bin Amr, that he met the Messenger of Allah ﷺ during the Farewell Pilgrimage, when he was atop his slit-eared camel. (He said): I said: O Messenger of Allah, May my father and mother be ransomed for you; pray for forgiveness for me. He said: May Allah forgive you (plural). Then I came to him from the other side, hoping that he would supplicate just for me alone, and not them. I said: O Messenger of Allah, pray for forgiveness for me. He said: May Allah forgive you (plural). Then a man among the people said: O Messenger of Allah, (what about) the Atirah and Fara? He said: Whoever wishes to offer and Atirah may do so, and whoever does not wish to, may not. Whoever wishes to offer a Fara may do so, and whoever does not wish to, may not. And with regard to sheep, a sacrifice should be offered. And he clasped between his fingers except for one.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4226
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٢٧٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک ٩ (١٧٤٢)، مسند احمد (٣/٤٨٥) (ضعیف) (اس کے راوی ” یحییٰ بن زرارہ “ لین الحدیث ہیں، مگر اس حدیث کے مضامین دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہیں )
4232Sunan An Nasai

فرع اور عتیرہ کے متعلق

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السَّهْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِالْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو. ح وَأَنْبَأَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السَّهْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأُمِّي اسْتَغْفِرْ لِي، فَقَالَ: غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ، وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ، ثُمَّ اسْتَدَرْتُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

حارث بن عمرو ؓ کہتے ہیں ہیں کہ میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ سے ملا۔ اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم سب کو معاف فرمائے ، آپ ﷺ اپنی اونٹنی عضباء پر سوار تھے، پھر میں مڑا اور دوسری جانب گیا۔ اور پھر آگے پوری حدیث بیان کی۔

Yahya bin Zurarah As-Sahmi said: "My father narrated to me from his grandfather, Al-Harith bin Amr that he met the Messenger of Allah ﷺ during the Farewell Pilgrimage and said: May my father and mother be sacrificed for you! O Messenger of Allah; pray for forgiveness for me. He said: May Allah forgive you (plural). He was atop his slit-eared camel and I came around to the other side" and he quoted the Hadith.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4227
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ما قبلہ (ضعیف )
4233Sunan An Nasai

عتیرہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَمِيلٌ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ: ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنَّا نَعْتِرُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ، وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَطْعِمُوا.

نبیشہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے بتایا گیا کہ ہم لوگ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔

It was narrated that Nubaishah said: "It was said to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): During the Jahiliyyah we used to offer the Atirah. He said: Slaughter for the sake of Allah, the Mighty and sublime, no matter what month it is; do good for the sake of Allah, the Mighty and sublime, and feed the poor.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4228
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الضحایا ٢ (٢٨٣٠)، سنن ابن ماجہ/الضحایا ١٦ (٣١٦٠)، الذبائح ٢ (٣١٦٧)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٦)، مسند احمد (٥/٧٥، ٧٦)، ویأتي فیما یلي: ٤٢٣٤، ٢٢٣٦، ٤٢٣٧ (صحیح )
4234Sunan An Nasai

عتیرہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ، وَرُبَّمَا قَالَ: عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، وَرُبَّمَا ذَكَرَ أَبَا قِلَابَةَ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ: نَادَى رَجُلٌ وَهُوَ بِمِنًى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ، فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: اذْبَحُوا فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ، وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَطْعِمُوا، قَالَ: إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فَمَا تَأْمُرُنَا ؟، قَالَ: فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ.

نبیشہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے منیٰ میں پکار کر کہا: اللہ کے رسول! ہم لوگ جاہلیت میں رجب میں عتیرہ کرتے تھے۔ تو اللہ کے رسول! ہمارے لیے آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ذبح کرو جس مہینے میں چاہو اور اللہ کی اطاعت کرو اور لوگوں کو کھلاؤ، اس نے کہا: ہم فرع ذبح کرتے تھے، تو آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ہر چرنے والے جانور میں ایک فرع ہے، جسے تم چراتے ہو، جب وہ مکمل اونٹ ہوجائے تو اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو ۔

It was narrated that Nubaishah said: "A man called out while he was in Mina and said: O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Atirah during the Jahiliyyah in Rajab; what do you command us to do? He said: Sacrifice during whatever month it is, do good for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and feed (the poor). They said: O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Fara during the Jahiliyyah; what do you command us to do? He said: For every flock of grazing animals, feed the firstborn as you feed the rest of you flock until it reaches an age where it could be used carry loads, then sacrifice it, and give its meat in charity.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4229
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4235Sunan An Nasai

عتیرہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ. وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ كَيْمَا تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْخَيْرِ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا، وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟، قَالَ: اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كُلِّ سَائِمَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَرَعٌ، تَغْذُوهُ غَنَمُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ.

بنی ہذیل کے ایک شخص نبیشہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے روکا تھا تاکہ وہ تم سب تک پہنچ جائے۔ اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور اٹھا (بھی) رکھو اور (صدقہ دے کر) ثواب (بھی) کماؤ۔ سن لو، یہ دن کھانے، پینے اور اللہ تعالیٰ کی یاد (شکر ادا کرنے) کے ہیں۔ ایک شخص نے کہا: ہم لوگ رجب کے مہینہ میں زمانہ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں فرع ذبح کرتے تھے، تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہر چرنے والی بکری میں ایک فرع ہے، جسے تم چراتے ہو، جب وہ مکمل اونٹ ہوجائے تو اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو، یہی چیز بہتر ہے ۔

It was narrated from Nubaishah, a man of Hudhail, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I used to forbid you to store the meat of the sacrifices for more than three days so that there would be enough for everyone. But now Allah, the mighty and sublime, has bestowed plenty upon us, so eat some, give some in charity and store some, For these days are the days of eating, drinking and remembering Allah." A man said: "O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Atirah during the Jahiliyyah in Rajab; what do you command us to do?" He said: "Sacrifice to Allah, the Mighty and Sublime, whatever month it is, do good for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and feed (the poor)." He said: "O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Fara during the Jahiliyyah; what do you command us to do?" He said: "For every flock of grazing animals, feed the firstborn as you feed the rest of your flock, until it reaches an age where it could be used to carry loads, then sacrifice it, and give its meat in charity to the wayfarer, for that is good.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4230
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الضحایا ١٠(٢٨١٣)، سنن ابن ماجہ/الضحایا ١٦ (٣١٦٠)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٥) (صحیح )
4236Sunan An Nasai

فرع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْنُبَيْشَةَ، قَالَ: نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً يَعْنِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ: اذْبَحُوهَا فِي أَيِّ شَهْرٍ كَانَ، وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا. قَالَ: إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ.

نبیشہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو پکار کر کہا: ہم لوگ عتیرہ ذبح کرتے تھے۔ یعنی زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینے میں، تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جس مہینہ میں چاہو اسے ذبح کرو، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور لوگوں کو کھلاؤ، اس نے کہا: ہم لوگ عہد جاہلیت میں فرع ذبح کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا: ہر چرنے والے جانور میں فرع ہے یہاں تک کہ جب وہ مکمل (جانور) ہوجائے تو تم اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو، یہی چیز بہتر ہے ۔

It was narrated that Nubaishah said: "A man called out to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: We used to sacrifice the Atirah - i.e., during the Jahiliyyah - in Rajab; what do you command us to do? He said: Sacrifice, whatever month it is, do good for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and feed (the poor). He said: We used to sacrifice the Fara during the Jahiliyyah; what do you command us to do? He said: For every flock of grazing animals, feed the firstborn as you feed the rest of your flock until it reaches an age where it could be used to carry loads, then sacrifice it, and give its meat in charity, for that is good.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4231
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٢٣٣ (صحیح )
4237Sunan An Nasai

فرع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، فَلَقِيتُ: أَبَا الْمَلِيحِ، فَسَأَلْتُهُ ؟ فَحَدَّثَنِي عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ: اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ، وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا.

نبیشہ ہذلی ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے، تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جس مہینے میں چاہو ذبح کرو، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔

It was narrated that Nubaishah Al-Hudhali said: "A man said: O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Atirah during the Jahiliyyah in Rajab; what do you command us to do? He said: Sacrifice to Allah, the Mighty and Sublime, whatever month it is, do good for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and feed (the poor).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4232
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٢٣٣ (صحیح )
4238Sunan An Nasai

فرع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ لَقِيطِ بْنِ عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَذْبَحُ ذَبَائِحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَنَأْكُلُ وَنُطْعِمُ مَنْ جَاءَنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا بَأْسَ بِهِ. قَالَ وَكِيعُ بْنُ عُدُسٍ: فَلَا أَدَعُهُ.

ابورزین لقیط بن عامر عقیلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ جاہلیت میں رجب کے مہینے میں کچھ جانور ذبح کیا کرتے تھے، ہم خود کھاتے تھے اور جو ہمارے پاس آتا اسے بھی کھلاتے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ۔ وکیع بن عدس کہتے ہیں: چناچہ میں اسے نہیں چھوڑتا۔

It was narrated that Abu Razin Laqit bin Amir Al-Uqaili said: "I said: O Messenger of Allah, we used to offer sacrifices during the Jahiliyyah in Rajab, and eat of (their meat) and offer some to those who came to us. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There is nothing wrong with that." (One of the narrators) Waki bin Udus said: "I will not leave it.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4233
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١١٧٨)، مسند احمد (٤/١٣)، سنن الدارمی/الأضاحي ٨ (٢٠٠٨) (صحیح لغیرہ )
4239Sunan An Nasai

مردار کی کھال سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى شَاةٍ مَيِّتَةٍ مُلْقَاةٍ، فَقَالَ: لِمَنْ هَذِهِ ؟، فَقَالُوا لِمَيْمُونَةَ: فَقَالَ: مَا عَلَيْهَا لَوِ انْتَفَعَتْ بِإِهَابِهَا، قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: إِنَّمَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَكْلَهَا.

ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک پڑی ہوئی مردار بکری کے پاس سے ہوا، آپ نے فرمایا: یہ کس کی ہے؟ لوگوں نے کہا: میمونہ کی۔ آپ نے فرمایا: ان پر کوئی گناہ نہ ہوتا اگر وہ اس کی کھال سے فائدہ اٹھاتیں ، لوگوں نے عرض کیا: وہ مردار ہے۔ تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے (صرف) اس کا کھانا حرام کیا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA), from Maimunah (RA), that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by a dead sheep that had been thrown aside. He said: "Who does this belong to?" They said: "Maimunah." He said: "Why did she not make use of its skin?" They said: "It is dead meat (i.e., it was not slaughtered properly)." He said: "Allah, the Mighty and Sublime, has only forbidden us to eat it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4234
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے جسم کے دیگر اعضاء مثلاً بال، دانت، سینگ وغیرہ سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٧ (٣٦٤)، سنن ابی داود/اللباس ٤١ (٤١٢٠)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٥ (٣٦١٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٦)، مسند احمد (٦/٣٢٩، ٣٣٦)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٢٤٢ (صحیح )
4240Sunan An Nasai

مردار کی کھال سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ كَانَ أَعْطَاهَا مَوْلَاةً لِمَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک مردار بکری کے پاس سے ہوا جو آپ نے ام المؤمنین میمونہ ؓ کی لونڈی کو دی تھی، آپ نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے کیوں فائدہ نہیں اٹھایا؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ مردار ہے۔ تو آپ نے فرمایا: اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے ۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by a dead sheep that he had given to a freed slave woman of Maimunah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He said: Why dont you make use of its hide? They said: O Messenger of Allah, it is dead meat. The Messenger of Allah ﷺ said: It is only forbidden to eat it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4235
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٦١ (١٤٩٢)، البیوع ١٠١ (٢٢٢١)، الذبائح ٣٠ (٥٥٣١)، صحیح مسلم/الحیض ٢٧(٣٦٤)، سنن ابی داود/اللباس ٤١ (٤١٢٠)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٩)، موطا امام مالک/الصید ٦ (١١٦)، مسند احمد ١/٣٦٥)، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٠ (٢٠٣١، ٢٠٣٢)، ویأتي بأرقام: ٤٢٤٣، ٤٢٤٤ (صحیح )
4241Sunan An Nasai

مردار کی کھال سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ يَعْنِي يَزِيدَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَيِّتَةً لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ وَكَانَتْ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ: لَوْ نَزَعُوا جِلْدَهَا فَانْتَفَعُوا بِهِ، قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، قَالَ: إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مردار بکری کو دیکھا جو ام المؤمنین میمونہ کی لونڈی کی تھی اور وہ بکری صدقے کی تھی، آپ نے فرمایا: اگر لوگوں نے اس کی کھال اتار لی ہوتی اور اس سے فائدہ اٹھایا ہوتا (تو اچھا ہوتا) ۔ لوگوں نے عرض کیا: وہ مردار ہے، آپ نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے ۔

IbnAbbas said: "The Messenger of Allah ﷺ saw a dead sheep that belonged to the freed slave woman of Maimunah, and had come from the Sadaqah." He said: "Why dont you take off its hide and make use of it?" They said: "It is dead meat." He said: "It is only unlawful to eat it.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4236
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4242Sunan An Nasai

مردار کی کھال سے متعلق

أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الْقَطَّانُ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ مُنْذُ حِينٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، أَنَّ شَاةً مَاتَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَّا دَفَعْتُمْ إِهَابَهَا، فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک بکری مرگئی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے اس کی کھال نہیں اتاری کہ اس سے فائدہ اٹھاتے ۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA): "Maimunah told me that a sheep died, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Why dont you tan its skin and make use of it?

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4237
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٢٣٩ (صحیح )
4243Sunan An Nasai

مردار کی کھال سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: أَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمْ فَانْتَفَعْتُمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ام المؤمنین میمونہ ؓ کی ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے، تو آپ نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے اس کی کھال نہیں اتاری کہ اسے دباغت دے کر فائدہ اٹھا لیتے ۔

Ibn Abbas (RA) said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by a sheep belonging to Maimunah that had died and said: Why dont you take its skin and tan it and make use of it?

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4238
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٧ (٣٦٣١)، (تحفة الأشراف: ٥٩٤٧)، مسند احمد (١/٢٧٧) (صحیح )
4244Sunan An Nasai

مردار کی کھال سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَاةٍ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے اور فرمایا: کیا تم لوگوں نے اس کی کھال سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔

Ibn Abbas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by a dead sheep and said: Why dont you make use of its skin?

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4239
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٧٧٤) (صحیح )
4245Sunan An Nasai

مردار کی کھال سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَوْدَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَاتَتْ شَاةٌ لَنَا، فَدَبَغْنَا مَسْكَهَا فَمَا زِلْنَا نَنْبِذُ فِيهَا حَتَّى صَارَتْ شَنًّا.

ام المؤمنین سودہ ؓ کہتی ہیں کہ ہماری ایک بکری مرگئی تو ہم نے اس کی کھال کو دباغت دی، پھر ہم اس میں ہمیشہ نبیذ بناتے رہے یہاں تک کہ وہ پرانی ہوگئی۔

It was narrated that Sawdah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "A sheep of ours died, and we tanned its skin, and continued to make Nabidh in it until it wore out.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4240
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان والنذور ٢١ (٦٦٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٦)، مسند احمد (٦/٤٢٩) (صحیح )
4246Sunan An Nasai

مردار کی کھال سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ ابْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کھال کو دباغت دے دی جائے وہ پاک ہوگئی ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Any skin that is tanned has been purified.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4241
Notes · وضاحت
١ ؎: حلال جانور کی کھال دباغت کے بعد پاک ہوگی، اور اس کا استعمال جائز ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٧ (٣٦٦)، سنن ابی داود/اللباس ٤١ (٤١٢٣)، سنن الترمذی/اللباس ٧ (١٧٢٨)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٥ (٣٦٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٦)، موطا امام مالک/الصید ٦ (١٧)، مسند احمد ١/٢١٩، ٢٣٧، ٢٧٠، ٢٧٩، ٢٨٠، ٣٤٣، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٠ (٢٠٢٨) (صحیح )