عبدالرحمٰن بن وعلہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: ہم لوگ مغرب کے علاقہ میں جہاد کو جا رہے ہیں، وہاں کے لوگ بت پرست ہیں، ان کے پاس مشکیں ہیں جن میں دودھ اور پانی ہوتا ہے؟ ابن عباس ؓ نے کہا: دباغت کی ہوئی کھالیں پاک ہوتی ہیں۔ عبدالرحمٰن بن وعلہ نے کہا: یہ آپ کا خیال ہے یا کوئی بات آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔ انہوں نے کہا: بلکہ رسول اللہ ﷺ سے (سنی) ہے۔
It was narrated from Ibn Walah that he asked Ibn Abbas: "We are attacking the Maghrib, and they are people who worship idols, and they have waterskins in which they keep milk and water." Ibn Abbas said: "Tanning is purification." Ibn Walah said: "Is this your own opinion, or something that you heard from the Messenger of Allah ﷺ?" He said: "No, (I heard it) from the Messneger of Allah صلى الله عليه وسلم.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4242
سلمہ بن محبق ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ تبوک میں ایک عورت کے پاس سے پانی منگوایا۔ اس نے کہا: میرے پاس تو ایک ایسی مشک کا پانی ہے جو مردار کی کھال کی ہے، آپ نے فرمایا: تم نے اسے دباغت نہیں دی تھی؟ وہ بولی: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی دباغت ہی اس کی پاکی ہے ۔
It was narrated from Salamah bin Al-Muhabbaq that: during the campaign of Tabuk, the Prophet of Allah called for water from a woman. She said: "I only have a waterskin of mine made from a dead animal." He said: "Didnt you tan it?" She said: "Of course." He said: "Tanning it purifies it." (Daif)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4243
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤١ (٤١٢٥)، (تحفة الأشراف: ٤٥٦٠)، مسند احمد (٣/٤٧٦ و ٥/٦، ٧) (صحیح )
ام المؤمنین میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے قریش کے کچھ لوگ گزرے، وہ اپنی ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ رہے تھے، ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم لوگ اس کی کھال رکھ لیتے (تو بہتر ہوتا) ، انہوں نے کہا: وہ مردار ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور سلم درخت کا پتا (جس سے دباغت دی جاتی ہے) پاک کردیتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Maimunah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), that: some men of Quraish passed by the Messenger of Allah ﷺ dragging a sheep the size of a donkey. He said to them: "Why dont you take its skin? They said: "It is dead meat." The Messenger of Allah ﷺ said: "Purify it with water and Qaraz.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4248
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ضروری نہیں کہ ہمارے زمانہ میں بھی دباغت کے لیے پانی کے ساتھ ساتھ اس دور کے کانٹے دار درخت ہی کا استعمال کیا جائے، موجودہ ترقی یافتہ زمانہ میں جس پاک چیز سے بھی دباغت دی جائے مقصد حاصل ہوگا لیکن اس کے ساتھ پانی کا استعمال ضروری ہے (قرظ: ایک سلم نامی کانٹے دار درخت کے پتے) ۔
عبداللہ بن عکیم جہنی کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کا مکتوب گرامی پڑھ کر سنایا گیا (اس وقت میں ایک نوخیز لڑکا تھا) کہ تم لوگ مردے کی بغیر دباغت کی ہوئی کھال یا پٹھے سے فائدہ مت اٹھاؤ ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Ukaim said: "The letter of the Messenger of Allah ﷺ was read to us when I was a young boy: Do not make use of the skins and sinew of dead animals.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4249
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے اس حدیث کو ناسخ، اور ابن عباس اور میمونہ ؓ کی حدیثوں کو منسوخ قرار دیا ہے کیونکہ یہ مکتوب آپ کی وفات سے چھ ماہ پہلے کا ہے، لیکن جمہور محدثین نے اس کے برخلاف پچھلی حدیثوں کو ہی سند کے لحاظ سے زیادہ صحیح ہونے کی بنیاد پر راجح قرار دیا ہے، صحیح بات یہ ہے کہ دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد نہیں، پچھلی حدیثوں میں جو مردار کے چمڑے سے نفع اٹھانے کی اجازت ہے وہ دباغت کے بعد ہے، اور (مخضرم راوی) عبداللہ بن عکیم کی حدیث میں جو ممانعت ہے وہ دباغت سے پہلے کی ہے (دیکھئیے اگلی حدیث) امام ابوداؤد (رح) نے اس حدیث کے بعد نضر بن سہیل سے نقل کیا ہے کہ إہاب دباغت سے پہلے والے چمڑے کو کہتے ہیں، اور دباغت کے بعد چمڑے کو شف یا قرب ۃ کہتے ہیں۔
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ جہینہ کے لوگوں کو لکھا: مردار کی غیر مدبوغ کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: اس باب میں مردار کی کھال جبکہ اسے دباغت دی گئی ہو سب سے صحیح حدیث زہری کی حدیث ہے جسے عبیداللہ بن عبداللہ، ابن عباس سے اور وہ ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت کرتے ہیں (نمبر ٤٢٣٩) ، واللہ اعلم۔
It was narrated that Abdullah bin Ukaim said: "The Messenger of Allah ﷺ wrote to Juhainah: Do not make use of the skin and sinew of dead animals." (Hasan) Abu Abdur-Rahman An-Nasai) said: The most correct about this topic, regarding the skins of the dead animal when it is tanned, is the narration of Az-Zuhri, from Ubaidullah bin Abdullah, from Ibn Abbas, from Maimunah, and Allah knows best.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4251
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ مردار جانور کی کھال سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جب کہ وہ دباغت دی گئی ہو۔
It was narrated from Aishah (RA) that: the Messenger of Allah ﷺ ordered that the hides of dead animals be made use of if they had been tanned. (Daif)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4252
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤١ (٤١٢٤)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٥ (٣٦١٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٩١)، مسند احمد ٧٣٦، ١٠٤، ١٤٨، ١٥٣ (ضعیف) (اس کی راویہ ” ام محمد “ لین الحدیث ہیں لیکن اس کا مضمون دیگر احادیث سے ثابت ہے )
خالد بن معدان کہتے ہیں کہ مقدام بن معد یکرب ؓ معاویہ ؓ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے درندوں کی کھالوں کے لباس پہننے اور ان پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں۔
It was narrated that Khalid said: "Al-Miqdam bin Madi Karib came to visit Muawiyah and said to him: I adjure you by Allah, do you know that the Messenger of Allah forbade wearing the Hides of predators and riding on them? He said: yes.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4255
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خریدو فروخت حرام کردی ہے۔ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اسے کشتیوں پر لگایا جاتا اور کھالوں پر ملا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ نے فرمایا: نہیں، وہ حرام ہے ، پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو تباہ کرے، اللہ تعالیٰ نے جب ان پر چربی حرام کردی تو انہوں نے اسے گلایا، پھر بیچا، پھر اس کی قیمت کھائی ١ ؎۔
It was narraterd from Jabir bin Abdullah that, during the year of the Conquest, while he was in Makkah, he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Allah, the Mighty and Sublime, and His Messenger have forbidden the sale of alcohol, dead meat, pigs and idols." It was said to him: "O Messenger of Allah, what do you think of their fat of dead animals, for it is used to caulk ships, it is daubed on animal skins, and people use it to light their lamps?" He said: "No, it is unlawful." Then the Messenger of Allah ﷺ said: "May Allah, the Mighty and Sublime, curse the Jews, for Allah forbade them the fat (of dead animals) but they rendered it, sold it, and consumed its price.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4256
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے حیلہ کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، یہ ایسی ہی ہے جیسے یہودیوں نے سنیچر کے دن شکار کی ممانعت پر حیلہ کیا تھا کہ جمعہ کے دن پانی میں جال پھیلا دیتے تاکہ مچھلیاں پھنس جائیں اور سنیچر کی مدت ختم ہونے کے بعد آسانی سے شکار ہاتھ میں آجائے، کسی بھی حرام چیز سے کسی طرح بھی فائدہ اٹھانا حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١١٢ (٢٢٣٦)، المغازي ٥١ (٤٢٩٦)، تفسیر سورة الأنعام ٦ (٤٦٣٣)، صحیح مسلم/المساقاة ١٣ (البیوع ٣٤) (١٥٨١)، سنن ابی داود/البیوع ٦٦ (٣٤٨٦)، سنن الترمذی/البیوع ٦١ (١٢٩٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١١ (٢١٦٧)، (تحفة الأشراف: ٢٤٩٤)، مسند احمد (٣/٣٢٤، ٣٢٦، ٣٧٠)، ویأتي عند المؤلف في البیوع ٩٣ (برقم: ٤٦٧٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ کو خبر پہنچی کہ سمرہ ؓ نے شراب بیچی ہے تو انہوں نے کہا: اللہ سمرہ کو ہلاک و برباد کرے، کیا اسے نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک و برباد کرے، ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے گلایا۔ سفیان کہتے ہیں: یعنی اسے پگھلایا ١ ؎۔
It was narrated that IbnAbbas said: "It reached Umar that Samurah had sold some wine, and he said: May Allah ruin Samurah! Does he not know that the Messenger of Allah ﷺ said: May Allah curse the Jews, for animal fat was forbidden to them, but they rendered it. Sufyan (one of the narrators) said: "Meaning: They melted it down.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4257
ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گر کر مرگئی تو نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا؟ آپ نے فرمایا: اسے اور اس کے اردگرد گھی کو نکال کر پھینک دو اور پھر اسے کھاؤ۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA), form Maimunah, that: a mouse fell into some cooking fat and died. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked (about that) and he said: "Throw it away, and whatever is around it, and eat (the rest).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4258
ام المؤمنین میمونہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے اس چوہیا کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی جمے ہوئے گھی میں گرجائے تو آپ نے فرمایا: اسے اور اس کے اردگرد کے گھی کو لے کر پھینک دو ۔
It was narrated from Ibn Abbas, from Maimunah, that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked about a mouse that had fallen into some solid cooking fat. He said. "Take it, and whatever is around it, and throw it away.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4259
ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے اس چوہیا کے متعلق پوچھا گیا جو گھی میں گرجائے؟ تو آپ نے فرمایا: اگر گھی جما ہوا ہو تو اسے اور اس کے اردگرد کے گھی کو نکال پھینکو اور اگر جما ہوا نہ ہو تو تم اس کے قریب نہ جاؤ۔
It was narrated from Ibn Abbas, from Maimunah, that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked about a mouse that fell into the cooking fat. He said: "If it (the fat) is solid, then throw it away, and whatever is around it. If it is liquid then do not use it at all."(Daif)
شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4260
Notes · وضاحت
١ ؎: سند اور علم حدیث کے قواعد کے لحاظ سے یہ حدیث درجہ میں پہلی حدیث سے کم تر ہے، اور اس کے مخالف ہونے کی وجہ سے شاذ ہے، لیکن پہلی حدیث کے مضمون ہی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسی قسم کے گھی کا اردگرد ہوسکتا ہے جو جامد ہو، اور اگر سیال (بہنے والا) ہو تو اس کا اردگرد کیسے ہوسکتا ہے؟ اسی لیے بہت سے علماء اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (شاذ) (معمر کے سوا زہری کے اکثر تلامذہ اس کو بغیر تفصیل کے روایت کرتے ہیں جیسے پچھلی دونوں روایتوں میں ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اس بکری والوں پر کوئی حرج نہ ہوتا اگر وہ اس کی کھال (دباغت دے کر) سے فائدہ اٹھا لیتے ۔
Ibn Abbas said: " I heard Saeed bin Jubair say: The Messenger of Allah ﷺ passed by a dead goat and said: "Why didnt the owners of this sheep makes use of its skin?
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4261