Sunan An Nasai 4254

فرع اور عتیرہ سے متعلق احادیث مبارکہ

4254Sunan An Nasai

مردار کی کھال کس چیز سے دباغت دی جائے؟

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ: أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ.

عبداللہ بن عکیم جہنی کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کا مکتوب گرامی پڑھ کر سنایا گیا (اس وقت میں ایک نوخیز لڑکا تھا) کہ تم لوگ مردے کی بغیر دباغت کی ہوئی کھال یا پٹھے سے فائدہ مت اٹھاؤ ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Ukaim said: "The letter of the Messenger of Allah ﷺ was read to us when I was a young boy: Do not make use of the skins and sinew of dead animals.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4249
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے اس حدیث کو ناسخ، اور ابن عباس اور میمونہ ؓ کی حدیثوں کو منسوخ قرار دیا ہے کیونکہ یہ مکتوب آپ کی وفات سے چھ ماہ پہلے کا ہے، لیکن جمہور محدثین نے اس کے برخلاف پچھلی حدیثوں کو ہی سند کے لحاظ سے زیادہ صحیح ہونے کی بنیاد پر راجح قرار دیا ہے، صحیح بات یہ ہے کہ دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد نہیں، پچھلی حدیثوں میں جو مردار کے چمڑے سے نفع اٹھانے کی اجازت ہے وہ دباغت کے بعد ہے، اور (مخضرم راوی) عبداللہ بن عکیم کی حدیث میں جو ممانعت ہے وہ دباغت سے پہلے کی ہے (دیکھئیے اگلی حدیث) امام ابوداؤد (رح) نے اس حدیث کے بعد نضر بن سہیل سے نقل کیا ہے کہ إہاب دباغت سے پہلے والے چمڑے کو کہتے ہیں، اور دباغت کے بعد چمڑے کو شف یا قرب ۃ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٢ (٤١٢٧)، سنن الترمذی/اللباس ٧ (١٧٢٧)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٦ (٣٦١٣)، (تحفة الأشراف: ٦٦٤٢)، مسند احمد (٤/٣١٠، ٣١١)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٢٥٥، ٤٢٥٦) (صحیح) (الإرواء ٣٨، وتراجع الالبانی ٤٧٠ )