بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 39 · 63 hadiths · Page 4 of 4

4214Sunan An Nasai

جو شخص ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہے اس کی فضیلت

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟، قَالَ: كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ.

طارق بن شہاب ؓ ١ ؎ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا اور وہ یا آپ اپنا پیر رکاب میں رکھے ہوئے تھے، کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ظالم حکمراں کے پاس حق اور سچ کہنا ۔

It was narrated from Tariq bin Shihab that: a man asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), when he had put his leg in the stirrup: "Which kind of Jihad is best?" He said: " a word of truth spoken before an unjust rulers.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4209
Notes · وضاحت
١ ؎: طارق بن شہاب ؓ کو نبی اکرم ﷺ کو دیکھنے کا شرف تو حاصل ہے مگر آپ سے خود کوئی حدیث نہیں سنی تھی، آپ کی روایت کسی اور صحابی کے واسطہ سے ہوتی ہے، اور اس صحابی کا نام نہ معلوم ہونے سے حدیث کی صحت میں فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ سارے صحابہ کرام ثقہ ہیں اور سند سے معلوم ثقہ، بالخصوص صحابی کا ساقط ہونا حدیث کی صحت میں موثر نہیں، اس لیے کہ سارے صحابہ ثقہ اور عدول ہیں، اس طرح کی حدیث جس میں حدیث نقل کرنے میں صحابی واسطہ صحابی کا ذکر کئے بغیر حدیث کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کر دے، علمائے حدیث کی اصطلاح میں مرسل صحابی کہتے ہیں، اور مرسل صحابی مقبول و مستفید ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٤٩٨٣)، مسند احمد (٤/٣١٤، ٣١٥) (صحیح )
4215Sunan An Nasai

جو کوئی اپنی بیعت کو مکمل کرے اس کا اجر

أخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ: بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْآيَةَ، فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَهُوَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا: تم لوگ مجھ سے بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ گے، نہ چوری کرو گے، نہ زنا کرو گے، پھر آپ نے لوگوں کو (سورۃ الممتحنہ کی) آیت پڑھ کر سنائی ١ ؎، پھر فرمایا: تم میں سے جس نے بیعت کو پورا کیا تو اس کا اجر اللہ پر ہے، اور جس نے اس میں سے کسی غلط کام کو انجام دیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے چھپائے رکھا تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے چاہے تو اسے سزا دے، اور چاہے تو اسے معاف کر دے ۔

It was narrated that Ubadah bin As-Samit said: "We were with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in a gathering and he said: Pledge to me that you will not associate anything with Allah, you will not steal, and you will not have unlawful sexual relations. He recited the Verse to them (and said) Whoever does any of these things, and Allah conceals him then it is up to Allah, the mighty and Sublime: If He wills, He will punish him, and if He wills, He will forgive him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4210
Notes · وضاحت
١ ؎: اس آیت سے مراد سورة الممتحنہ کی یہ آیت ہے: يا أيها النبي إذا جائك المؤمنات يبايعنک على أن لايشرکن بالله شيئا … (سورة الممتحنة: 12 )
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٦٦ (صحیح )
4216Sunan An Nasai

حکومت کی بری خواہش سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آَدَمَ بْنِ سُلَيْمَانِ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الإِمارَةِ، وَإنَّهَا سَتَكُونُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً، فَنَعِمَتِ المُرْضِعَةُ، وَبَئِسَتِ الْفَاطِمَةُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عنقریب تم لوگ امارت و سرداری کی خواہش کرو گے لیکن وہ باعث ندامت و حسرت ہوگی، اس لیے کہ دودھ پلانے والی کتنی اچھی ہوتی ہے، اور دودھ چھڑانے والی کتنی بری ہوتی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "You will become keen for positions of authority, but that will become a regret and loss. What a good life they will live, but how hard it will be for them when they die.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4211
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حکومت ملتے وقت وہ بھلی لگتی ہے اور جاتے وقت بری لگتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأحکام ٧ (٧١٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٠١٧)، مسند احمد (٢/٤٤٨، ٤٧٦) ویأتي عند المؤلف في القضاء (برقم ٥٣٨٧) (صحیح )