بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 39 · 63 hadiths · Page 3 of 4

4194Sunan An Nasai

اپنی قوت کے مطابق بیعت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فَلَقَّنَنِي: فِيمَا اسْتَطَعْتَ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.

جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے سمع و طاعت (حکم سننے اور اس پر عمل کرنے) پر بیعت کی تو آپ نے مجھے جتنی میری طاقت ہے کہنے کی تلقین کی، نیز میں نے ہر مسلمان کی خیر خواہی پر بیعت کی۔

It was narrated that Jarir bin Abdullah said: "I gave my pledge to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to hear and obey, and he told me to add the words. In as much as you can, and to be since toward every Muslim". (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4189
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٧٩ (صحیح )
4195Sunan An Nasai

اپنی قوت کے مطابق بیعت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، قَالَتْ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَنَا: فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ.

امیمہ بنت رقیقہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم نے عورتوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تو آپ نے ہم سے فرمایا: جتنی تم استطاعت اور قدرت رکھتی ہو ۔

It was narrated that Umaimah bin Ruqaiqah said: "We gave pledge to the Messenger of Allah ﷺ among a group of women, and he said to us: In as much as you can and are able .

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4190
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٨٦ (صحیح )
4196Sunan An Nasai

جو شخص کسی امام کی بیعت کرے اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دے تو اس پر کیا واجب ہے؟

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، وَالنَّاسُ عَلَيْهِ مُجْتَمِعُونَ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ نَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ، وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشْرَتِهِ إِذْ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَاجْتَمَعْنَا، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنَا، فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ، أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ، وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ، وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا، وَإِنَّ آخِرَهَا سَيُصِيبُهُمْ بَلَاءٌ وَأُمُورٌ يُنْكِرُونَهَا تَجِيءُ فِتَنٌ، فَيُدَقِّقُ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ فَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، ثُمَّ تَجِيءُ، فَيَقُولُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ، أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ، وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ، فَلْتُدْرِكْهُ مَوْتَتُهُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ، فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُنَازِعُهُ، فَاضْرِبُوا رَقَبَةَ الْآخَرِ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

عبدالرحمٰن بن عبد رب الکعبہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس گیا، وہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، لوگ ان کے پاس اکٹھا تھے، میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا: اسی دوران جب کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا، تو ہم میں سے بعض لوگ خیمہ لگانے لگے، بعض نے تیر اندازی شروع کی، بعض جانور چرانے لگے، اتنے میں نبی اکرم ﷺ کے منادی نے پکارا: نماز کھڑی ہونے والی ہے، چناچہ ہم اکٹھا ہوئے، نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر ہمیں مخاطب کیا اور آپ نے فرمایا: مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہ تھا جس پر ضروری نہ رہا ہو کہ جس چیز میں وہ بھلائی دیکھے اس کو وہ اپنی امت کو بتائے، اور جس چیز میں برائی دیکھے، انہیں اس سے ڈرائے، اور تمہاری اس امت کی خیر و عافیت شروع (کے لوگوں) میں ہے، اور اس کے آخر کے لوگوں کو طرح طرح کی مصیبتیں اور ایسے مسائل گھیر لیں گے جن کو یہ ناپسند کریں گے، فتنے ظاہر ہوں گے جو ایک سے بڑھ کر ایک ہوں گے، پھر ایک ایسا فتنہ آئے گا کہ مومن کہے گا: یہی میری ہلاکت و بربادی ہے، پھر وہ فتنہ ٹل جائے گا، پھر دوبارہ فتنہ آئے گا، تو مومن کہے گا: یہی میری ہلاکت و بربادی ہے۔ پھر وہ فتنہ ٹل جائے گا۔ لہٰذا تم میں سے جس کو یہ پسند ہو کہ اسے جہنم سے دور رکھا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تو ضروری ہے کہ اسے موت ایسی حالت میں آئے جب وہ اللہ، اور آخرت (کے دن) پر ایمان رکھتا ہو اور چاہیئے کہ وہ لوگوں سے اس طرح پیش آئے جس طرح وہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ پیش آیا جائے۔ اور جو کسی امام سے بیعت کرے اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیدے اور اخلاص کے ساتھ دے تو طاقت بھر اس کی اطاعت کرے، اب اگر کوئی اس سے (اختیار چھیننے کے لیے) جھگڑا کرے تو اس کی گردن اڑا دو، یہ سن کر میں نے ان سے قریب ہو کر کہا: کیا یہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے؟ کہا: ہاں، پھر (پوری) حدیث ذکر کی ١ ؎۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Abd Rabb Al-Kabah said: " I came to Abdullah bin Amr bin while he was sitting in the shade of Kabah, and the people were gathered around him, and I heard him say: While we were with the Messenger of Allah on a journey, we stopped to camp, and some of us were pitching tents, some were competing in shooting arrows, and some were taking the animals out to race them. Then the caller of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) called out: As-Salatu Jamiah (prayer is about to begin). So we gathered, and the Messenger of Allah ﷺ stood up and addressed us. He said: There has a never been a Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) before me who was not obliged to tell his nation of what he knew was good for them, and to warn against that he knew was bad for them. With regard to Ummah of yours, soundness (of religious commitment) has been placed in its earlier generations, and the last of them will be afflicted with calamities and things that you dislike. Then there will come tribulations which will make the earlier ones pale into significances, and the believer will say: This will be then end of me, then relief will come. Then (more) tribulations will come and the believer will say: this will be the end of me, then relief will come. Whoever would like to be taken far away from the Fire and admitted to Paradise, let him die believing in Allah and the Last Day, and let him treat people as he would like to be treated. Whoever pledges to a ruler and gives him the grasp of his hand and the sincerity of his heart, the let him obey him as much as he can, and if another comes and challenges him, let them strike the neck of (i.e., kill) the second one." He said: " I drew near to him and said: Did you hear the Messenger of Allah say that? He Yes, and quoted the Hadith without interruption (in the chain)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4191
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا آخری حصہ مؤلف نے نہیں ذکر کیا، امام مسلم نے اس کو ذکر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ عبدالرحمٰن بن عبد رب کعبہ نے عرض کیا: معاویہ ؓ ایسا ویسا کر رہے ہیں، اس پر عبداللہ بن عمرو ؓ نے فرمایا: تم معروف (بھلی بات) میں ان کی اطاعت کرتے رہو، اگر کسی منکر (برے کام) کا حکم دیں تو تم انکار کر دو، لیکن ان کے خلاف بغاوت مت کرو (خلاصہ) یہ کہ یہ حدیث سلف صالحین کے اس منہج اور طریقے کی تائید کرتی ہے کہ کسی مسلمان حاکم کے بعض منکر کاموں کی وجہ سے ان کو اختیار سے بےدخل کردینے کے لیے ان کے خلاف تحریک نہیں چلائی جاسکتی، معروف کے سارے کام اس کی ماتحتی میں کئے جاتے رہیں گے۔ اور منکر کے سلسلے میں صرف زبانی نصیحت کی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة (١٨٤٤)، سنن ابی داود/الفتن ١(٤٢٤٨)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٩(٣٩٥٦)، (تحفة الأشراف: ٨٨٨١) مسند احمد (٢/١٦١، ١٩١، ١٩٢، ١٩٣) (صحیح )
4197Sunan An Nasai

امام کی فرماں برداری کا حکم

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدَّتِي، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا.

یحییٰ بن حصین کی دادی (ام الحصٰن الاحمسیۃ ؓ) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع میں فرماتے ہوئے سنا: اگر کوئی حبشی غلام بھی تم پر امیر بنادیا جائے جو تمہیں کتاب اللہ کے مطابق چلائے تو تم اس کی سنو اور اطاعت کرو۔

It was narrated that Yahya bin Husain said: "I heard my grandmother say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say, during the Farewell Pilgrimage: If an Ethiopian slave is appointed over you who rules according to the Book of Allah, then listen to him and obey.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4192
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٥١ (١٢٩٨)، والإمارة ٨ (١٨٣٨)، والجہاد ٣٩ (٢٨٦١) سنن ابن ماجہ/الجہاد ٣٩ (٢٨٦١)، (تحفة الأشراف: ١٨٣١١)، مسند احمد (٤/٦٩، ٥/٣٨١، ٦/٤٠٢، ٤٠٣) (صحیح )
4198Sunan An Nasai

امام کی فرماں برداری کرنے کی فضیلت سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّأَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی تو اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی ۔

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever obeys me, obeys Allah, and whoever disobeys me, disobeys Allah. Whoever obeys my governor (Amir), he has obeyed me, and whoever disobeys my governor, he has disobeyed me.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4193
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٨٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٥١٣٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٩ ١٠ (٢٩٥٧)، الأحکام ١ (٧١٣٧)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١(٣)، الجہاد ٣٩ (٢٨٥٩)، مسند احمد ٢/٥١١ (صحیح )
4199Sunan An Nasai

اولو الامر سے کیا مراد ہے؟

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ سورة النساء آية 59، قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ، بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ يا أيها الذين آمنوا أطيعوا اللہ وأطيعوا الرسول اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو (النساء: ٥٩) یہ آیت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی ؓ کے سلسلے میں اتری، انہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ میں بھیجا تھا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas (concerning the Verse): "O you who believe! Obey Allah and obey the Messenger (Muhammad). That he said: This was revealed concerning Abdullah bin Hudhaifah bin Qais bin Adiyy, whom the Messenger of Allah ﷺ appointed in charge of an expedition

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4194
Notes · وضاحت
١ ؎ عبداللہ بن حذافہ ؓ اس سریہ میں کسی بات پر اپنے ماتحتوں پر ناراض ہوگئے تو آگ جلانے کا حکم دیا، اور جب آگ جلا دی گئی تو سب کو حکم دیا کہ اس میں کود جائیں، اس پر بعض ماتحتوں نے کہا: ہم تو آگ ہی سے بچنے کے لیے اسلام میں داخل ہوئے ہیں تو پھر آگ میں کیوں داخل ہوں، پھر معاملہ رسول اللہ ﷺ پر پیش کرنے کی بات آئی، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اولیٰ الامر سے مراد امراء ہیں نہ کہ علماء اور اگر علماء بھی شامل ہیں تو مقصود یہ ہوگا کہ ایسے امور جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح تعلیمات موجود نہ ہوں ان میں ان کی طرف رجوع کیا جائے۔ ائمہ اربعہ کے بارے میں خاص طور پر اس آیت کے نازل ہونے کی بات تو قیاس سے بہت زیادہ بعید ہے کیونکہ اس وقت تو ان کا وجود ہی نہیں تھا۔ اور ان کی تقلید جامد تو بقول شاہ ولی اللہ دہلوی چوتھی صدی کی پیداوار ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیرسورة النساء ١١ (٤٥٨٤)، صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٨٣٤)، سنن ابی داود/الجہاد ٩٦ (٢٦٢٤)، سنن الترمذی/الجہاد ٣ (١٦٧٢)، تحفة الأشراف: ٥٦٥١)، مسند احمد ١/٣٣٧) (صحیح )
4200Sunan An Nasai

امام کی نا فرمانی کی مذمت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْغَزْوُ غَزْوَانِ: فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ، وَأَطَاعَ الْإِمَامَ، وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ، فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنُبْهَتَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ، وَأَمَّا مَنْ غَزَا رِيَاءً وَسُمْعَةً، وَعَصَى الْإِمَامَ، وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ، فَإِنَّهُ لَا يَرْجِعُ بِالْكَفَافِ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا: جہاد دو طرح کے ہیں: ایک تو یہ کہ کوئی خالص اللہ کی رضا کے لیے لڑے، امام کی اطاعت کرے، اپنے سب سے پسندیدہ مال کو خرچ کرے اور فساد سے دور رہے تو اس کا سونا جاگنا سب عبادت ہے، دوسرے یہ کہ کوئی شخص دکھاوے اور شہرت کے لیے جہاد کرے، امام کی نافرمانی کرے، اور زمین میں فساد برپا کرے، تو وہ برابر سراسر بھی نہ لوٹے گا (بلکہ عذاب کا مستحق ہوگا) ۔

It was narrated from Madah bin Jabal that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Military campaigns are of two types: as for the one who seeks the Face of Allah, obeys the imam, spends what is precious and avoids mischief, whether he is asleep or awake, he is earning reward. But as for the one who fights in order to show off and gain a reputation, and disobeys the imam and spreads mischief in the land, he comes back empty-handed." (Da if)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4195
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١٩٠ (صحیح )
4201Sunan An Nasai

امام کے واسطے کیا باتیں لازم ہیں؟

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ، يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ، وَيُتَّقَى بِهِ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَعَدَلَ، فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا، وَإِنْ أَمَرَ بِغَيْرِهِ، فَإِنَّ عَلَيْهِ وِزْرًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام ایک ڈھال ہے جس کے زیر سایہ ١ ؎ سے لڑا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے جان بچائی جاتی ہے۔ لہٰذا اگر وہ اللہ سے تقویٰ کا حکم دے اور انصاف کرے تو اسے اس کا اجر ملے گا، اور اگر وہ اس کے علاوہ کا حکم دے تو اس کا وبال اسی پر ہوگا ۔

Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Imam is like a shield whose orders should be obeyed when they (the Muslims) fight, and where they should seek protection. If he enjoins fear of Allah and behaves justly, then he will be rewarded, but if he enjoins otherwise, then it will be a burden (of sin) on him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4196
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی رائے سے اور اس کی قیادت میں جنگ لڑی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٠٩(٢٩٥٧)، (تحفة الأشراف: ٣٧٤١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة ٩ (١٨٤١)، سنن ابی داود/الجہاد ١٦٣ (٢٧٥٧) (صحیح )
4202Sunan An Nasai

امام سے اخلاص قائم رکھنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَأَلْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ، قُلْتُ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِيكَ، قَالَ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي حَدَّثَ أَبِي، حَدَّثَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ: عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ.

تمیم الداری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دین نصیحت خیر خواہی کا نام ہے ، آپ نے کہا: (نصیحت و خیر خواہی) کس کے لیے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے اماموں کے لیے اور عوام کے لیے ١ ؎۔

It was narrated that Tamim Ad-Dari said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Religion is sincerity (An-Nasihah). They said: To whom, O Messenger of Allah? he said: To Allah, to His Book, to His Messenger, to the Imams of the Muslims, and to their common folk.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4197
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کے لیے خیر خواہی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ کی وحدانیت کا قائل ہو اور اس کی ہر عبادت خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ کتاب اللہ (قرآن) کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ اس پر ایمان لائے اور عمل کرے۔ رسول کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ نبوت و رسالت محمدیہ کی تصدیق کرنے کے ساتھ رسول اللہ ﷺ جن چیزوں کا حکم دیں اسے بجا لائے اور جس چیز سے منع کریں اس سے باز رہے، اور آپ کی تعلیمات کو عام کرے، مسلمانوں کے حاکموں کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ حق بات میں ان کی تابعداری کی جائے اور کسی شرعی وجہ کے بغیر ان کے خلاف بغاوت کا راستہ نہ اپنایا جائے۔ اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ ان میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا جائے، اور ان کے مصالح کی طرف ان کی رہنمائی کی جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٢٣ (٥٥)، سنن ابی داود/الأدب ٦٧ (٤٩٤٤)، (تحفة الأشراف: ٢٠٥٣)، مسند احمد (٤/١٠٢) (صحیح )
4203Sunan An Nasai

امام سے اخلاص قائم رکھنا

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ.

تمیم داری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دین خیر خواہی کا نام ہے لوگوں نے عرض کیا: کس کے لیے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب (قرآن) کے لیے، اس کے رسول (محمد) کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ اور عوام کے لیے ۔

It was narrated that Tamim Ad-Dari said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Religion is sincerity (An-Nasihah). They said: To whom, O Messenger of Allah? He said: To Allah, to His Book, to His Messenger, to the imams of the Muslims and to their common folk.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4198
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4204Sunan An Nasai

امام سے اخلاص قائم رکھنا

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ.

ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا: بلاشبہ دین نصیحت اور خیر خواہی کا نام ہے، بلاشبہ دین خلوص اور خیر خواہی ہے، بلاشبہ دین خلوص اور خیر خواہی ہے ، لوگوں نے عرض کیا: کس کے لیے، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب (قرآن) کے لیے، اس کے رسول (محمد) کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں اور عوام کے لیے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Religion is sincerity, religion is sincerity (Al-Nasihah), religion is sincerity." They said; "To whom, O Messenger of Allah?" He said: "To Allah, to His Book, to His Messenger, to the Imams of the Muslims and to their common folk.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4199
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر ١٧ (١٩٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٦٣)، مسند احمد (٢/٦٩٧) (حسن صحیح )
4205Sunan An Nasai

امام سے اخلاص قائم رکھنا

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، وَعَنْ سُمَيٍّ، وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الدِّينُ النَّصِيحَةُ، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دین نصیحت اور خیر خواہی کا نام ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لیے۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب (قرآن) کے لیے، اس کے رسول (محمد) کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اور عوام کے لیے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Religion is sincerity (An-Nasihah)." The said: "To whom, O Messenger of Allah?" he said: "To Allah, to His Book, to His Messenger, to the imams of the Muslims and to their common folk.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4200
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن صحیح )
4206Sunan An Nasai

امام کی طاقت کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ يَعْمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيالزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ وَالٍ، إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ، بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا، فَمَنْ وُقِيَ شَرَّهَا فَقَدْ وُقِيَ، وَهُوَ مِنَ الَّتِي تَغْلِبُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسا کوئی حاکم نہیں جس کے دو قسم کے مشیر نہ ہوں، ایک مشیر اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، اور دوسرا اسے بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا۔ لہٰذا جو اس کے شر سے بچا وہ بچ گیا اور ان دونوں مشیروں میں سے جو اس پر غالب آجاتا ہے وہ اسی میں سے ہوجاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah said " The Messenger of Allah ﷺ said: No ruler is appointed but he has two groups of advisers: A group which urges him to do good and tells him not to do evil, and a group which does its best to corrupt him. Whoever is protected from their evil is indeed protected. And he (the ruler) belongs to the group that has the greater influence over him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4201
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے ہر صاحب اختیار (خواہ حاکم اعلی ہو یا ادنیٰ جیسے گورنر، تھا نے دار یا کسی تنظیم کا سربراہ) اسے چاہیئے کہ اپنا مشیر بہت چھان پھٹک کر اختیار کرے، اس کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کرتا رہے کہ اے اللہ! مجھے صالح مشیر کار عطا فرما۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأحکام ٤٢ (٧١٩٨ تعلیقًا)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٦٩)، مسند احمد (٢/٢٣٧، ٢٨٩) (صحیح )
4207Sunan An Nasai

امام کی طاقت کا بیان

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ، وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ، إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ، وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر (قریبی راز دار) نہ ہوں۔ ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہے، اور برائیوں سے معصوم محفوظ تو وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ معصوم محفوظ رکھے ۔

It was narrated from Abu Saeed tht the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah never sends a Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) or appoints a Khalifah but he has two groups of advisers: A group that tells him to do good and a group that tells him to do evil and urges him to do it. And the one who is truly protected is the one who is protected by Allah, the Mighty and Sublime.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4202
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/القدر ٨ (٦٦١١)، الأحکام ٤٢ (٧١٩٨)، مسند احمد (٣/٣٩، ٨٨) (صحیح )
4208Sunan An Nasai

امام کی طاقت کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا بُعِثَ مِنْ نَبِيٍّ، وَلَا كَانَ بَعْدَهُ مِنْ خَلِيفَةٍ، إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا، فَمَنْ وُقِيَ بِطَانَةَ السُّوءِ فَقَدْ وُقِيَ.

ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا گیا اور نہ اس کے بعد کوئی خلیفہ ایسا ہوا جس کے دو مشیر و راز دار نہ ہوں۔ ایک مشیر و راز دار اسے بھلائی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے اور دوسرا اسے بگاڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا۔ لہٰذا جو خراب مشیر سے بچ گیا وہ (برائی اور فساد سے) بچ گیا ۔

It was narrated that Abu Ayyub said; "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: No Prophet علیہ السلام has ever been sent, nor has there been any Khalifah after him, but he has two groups of advisers, a group that tells him to do good and a group that tells him to do evil. Whoever is protected from the evil group, then he is indeed protected.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4203
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأحکام ٤٢ (٧١٩٨ تعلیقا)، (تحفة الأشراف: ٣٤٩٤) (صحیح )
4209Sunan An Nasai

وزیر کی صفات

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِي، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ عَمَلًا، فَأَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا، جَعَلَ لَهُ وَزِيرًا صَالِحًا إِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ، وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی کسی کام کا ذمہ دار ہوجائے پھر اللہ اس سے خیر کا ارادہ کرے تو اس کے لیے ایسا صالح وزیر بنا دیتا ہے کہ اگر وہ بھول جائے تو وہ اسے یاد دلاتا ہے اور اگر اسے یاد ہو تو اس کی مدد کرتا ہے ۔

It was narrated that Al-Qasim bin Muhammad said: " I heard my paternal aunt say: The Messenger of Allah ﷺ said; "Whoever among you is appointed to a position of authority. If Allah wills good for him. He will give him a righteous minister who will remind him if he forgets and help him if he remembers.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4204
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٥٤٤)، مسند احمد (٦/٧٠) (صحیح )
4210Sunan An Nasai

اگر کسی شخص کو حکم ہو گناہ کے کام کرنے کا اور وہ شخص گناہ کا ارتکاب کرے تو اس کی کیا سزا ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَعَثَ جَيْشًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، فَأَوْقَدَ نَارًا، فَقَالَ: ادْخُلُوهَا، فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا: لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَقَالَ لِلْآخَرِينَ: خَيْرًا، وَقَالَ أَبُو مُوسَى فِي حَدِيثِهِ: قَوْلًا حَسَنًا، وَقَالَ: لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فوج بھیجی اور ایک شخص ١ ؎ کو اس کا امیر مقرر کیا، اس نے آگ جلائی اور کہا: تم لوگ اس میں داخل ہوجاؤ، تو کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونا چاہا اور دوسروں نے کہا: ہم تو (ایمان لا کر) آگ ہی سے بھاگے ہیں، پھر لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا۔ آپ نے ان لوگوں سے جنہوں نے اس میں داخل ہونا چاہا تھا فرمایا: اگر تم اس میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے، اور دوسروں سے اچھی بات کہی ۔ (ابوموسیٰ (محمد بن المثنیٰ ) نے اپنی حدیث میں (خیراً کے بجائے) قولاً حسناً (بہتر بات) کہا ہے) ۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں اطاعت نہیں ہوتی، اطاعت صرف نیک کاموں میں ہے ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Adur-Rahman from Ali (RA)that: the Messenger of Allah ﷺ sent an army and appointed a man in charge of them. He lit a fire and said: "Enter it." Some people wanted to enter it, and other said: "We are trying to keep away from it." They mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ, and he said to those who had wanted to enter if: "If you had entered it you would have stayed there until the Day of Resurrection." And he spoke good words to the others. And he said: "There is no obedience if it involves disobedience toward Allah. Rather obedience is only (required) in that which is good.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4205
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد وہی عبداللہ بن حذافہ ؓ ہیں جن کا تذکرہ حدیث نمبر ٤١٩٩ میں گزرا۔ ٢ ؎: صرف نیک کاموں میں اطاعت، اور نافرمانی کے کاموں میں اطاعت نہ کرنے کی بات ہر ایک اختیار والے کے ساتھ ہوگی: خواہ حکمران اعلی ہو یا ادنیٰ، یا والدین، یا اساتذہ، شوہر یا کسی تنظیم کا سربراہ۔ اگر کسی سربراہ کا اکثر حکم اللہ کی نافرمانی والا ہی ہو تو ایسے آدمی کو سارے ماتحت لوگ مشورہ کر کے اختیار سے بےدخل کردیں۔ لیکن ہتھیار سے نہیں، یا فتنہ و فساد برپا کر کے نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٥٩ (٤٣٤٠)، الأحکام ٤ (٧١٤٥)، أخبارالأحاد ١ (٧٢٥٧)، صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٨٤٠)، سنن ابی داود/الجہاد ٩٦ (٢٦٢٥)، سنن الترمذی/السیر ٨ (١٥٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٠١٦٨)، مسند احمد (١/٨٢، ٩٤، ١٢٤، ١٢٩) (صحیح )
4211Sunan An Nasai

اگر کسی شخص کو حکم ہو گناہ کے کام کرنے کا اور وہ شخص گناہ کا ارتکاب کرے تو اس کی کیا سزا ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان شخص پر (امام و حکمراں کی) ہر چیز میں سمع و طاعت (حکم سننا اور اس پر عمل کرنا) واجب ہے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند، سوائے اس کے کہ اسے گناہ کے کام کا حکم دیا جائے۔ لہٰذا جب اسے گناہ کے کام کا حکم دیا جائے تو کوئی سمع و طاعت نہیں ۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The Muslim must hear and obey whether he likes it or not, unless he is commanded to commit an act of disobedience. If he is commanded to commit an act of disobedience, then he is not required to hear and obey.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4206
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧٧٩٢) (صحیح )
4212Sunan An Nasai

جو کوئی کسی حاکم کی ظلم کرنے میں امداد کرے اس سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ تِسْعَةٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ، مَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَارِدٌ عَلَيَّ الْحَوْضَ.

کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، ہم نو لوگ تھے، آپ نے فرمایا: میرے بعد کچھ امراء ہوں گے، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ظلم میں ان کی مدد کرے گا وہ میرا نہیں اور نہ میں اس کا ہوں، اور نہ ہی وہ (قیامت کے دن) میرے پاس حوض پہ آسکے گا۔ اور جس نے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کی اور ظلم میں ان کی مدد نہیں کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور وہ میرے پاس حوض پر آئے گا ١ ؎۔

It was narrated that Kab bin Ujrah said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us, and there were nine of us. He said; After me there will be rulers, whoever believes in their lies and helps them in their wrongdoing is not of me, and I am not of him, and he will not come to me at the Cistern. Whoever does not believe their lies and does not help them in their wrongdoing, he is of me, and I am of him, and he will come to me at the Cistern.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4207
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی حکمران، امیر، صدر، ناظم، کسی ادارہ کے سربراہ کے حوالی موالی جو ہر نیک و بد میں اس کی خوشامد کرتے ہیں اس کی ہر ہاں میں ہاں ملاتے ہیں وہ اس حدیث میں بیان کردہ وعید شدید پر توجہ دیں، نیز یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آپ ﷺ نے ظالم امیر کے ظلم میں تعاون کرنے والے کے لیے اتنی سخت وعید تو سنائی مگر اس ظالم امیر کو ہٹا دینے کی کوئی بات نہیں کی، ایسے ظالم کو نصیحت کی جائے گی یا سارے مسلمانوں کے اصحاب رائے کے مشورہ سے علاحدہ کیا جائے گا (بغیر فتنہ و فساد برپا کئے) ۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٧٢ (٢٢٥٩)، (تحفة الأشراف: ١١١١٠) حم ٤/٢٤٣(صحیح )
4213Sunan An Nasai

جو شخص حاکم کی مدد نہ کرے ظلم و زیادتی کرنے میں اس کا اجر و ثواب

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِالشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ تِسْعَةٌ: خَمْسَةٌ وَأَرْبَعَةٌ، أَحَدُ الْعَدَدَيْنِ مِنَ الْعَرَبِ، وَالْآخَرُ مِنَ الْعَجَمِ، فَقَالَ: اسْمَعُوا، هَلْ سَمِعْتُمْ أَنَّهُ سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ، مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَيْسَ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ.

کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، ہم نو لوگ تھے، پانچ ایک طرح کے اور چار دوسری طرح کے، ان میں سے کچھ عرب تھے اور کچھ عجم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: سنو! کیا تم نے سنا؟ میرے بعد عنقریب کچھ امراء ہوں گے، جو ان کے یہاں جائے گا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ظلم میں ان کی مدد کرے گا تو وہ میرا نہیں اور نہ میں اس کا ہوں، اور نہ وہ میرے پاس (قیامت کے دن) حوض پر نہ آسکے گا، اور جو ان کے ہاں نہیں گیا، ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی، اور ظلم میں ان کی مدد نہیں کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور عنقریب وہ میرے پاس حوض پر آئے گا ۔

It was narrated that Kab bin Ujrah said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us and we were nine, fie and four, some Arabs and some non- Arabs. He said: Listen. Have you heard that after me there will be rulers, whoever enters upon them and believes their lies and help them in their wrongdoing is not of me, and I am not of him, and he will not come to me at the Cistern? Whoever does not enter upon them or belive their lies or help them in their wrongdoing is of me and I am of him, and he will come to me at the Cistern.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4208
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )