صفوان بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! لوگ کہتے ہیں کہ جنت میں مہاجر کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوگا، آپ نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد اب ہجرت نہیں ہے ١ ؎، البتہ جہاد ٢ ؎ اور نیت ہے، لہٰذا جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل پڑو ۔
It was narrated that Safwan bin Umayyah said: "I said: O Messenger of Allah, they are saying that no one will enter Paradise except a Muhajir." He said: "There is no more emigration (Hijrah) after the Conquest of Makkah, rather there is Jihad and intention. When you are called to moblize (for Jihad) then do so.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4169
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کے عہد مبارک میں یہ حکم اہل مکہ کے لیے خاص تھا کہ اب مکہ سے مدینہ ہجرت کی ضرورت باقی نہیں رہی، ورنہ اس کے علاوہ جہاں بھی ایسی ہی صورت پیش آئے گی ہجرت واجب ہوگی (دیکھئیے حدیث نمبر ٤١٧٧ ) إلا یہ کہ وہاں کے ملکی حالات و قوانین اجازت نہ دیتے ہوں، جیسے اس زمانہ میں اب یہ ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے کہ ایک ملک کے شہری کو کوئی دوسرا ملک قبول کرلے تو ہجرت واجب ہوتے ہوئے بھی آدمی اپنے وطن میں رہنے پر مجبور ہے، یہ مجبوری کی حالت ہے۔ ٢ ؎: یعنی جہاد کی خاطر گھر بار چھوڑنا یہ بھی ایک طرح کی ہجرت ہے، اسی طرح خلوص نیت سے محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جیسے دینی تعلیم وغیرہ کے لیے گھر سے دور جانا یہ بھی ایک طرح کی ہجرت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٤٩٤٩)، مسند احمد (٣/٤٠١ و ٦/٤٦٥) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روز فرمایا: ہجرت تو (باقی) نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت ہے، لہٰذا جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل پڑو ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah said on the Day of the Conquest (of Makkah): "There is no more emigration (Hijrah), rather there is Jihad and intention. When you are called to moblize (for Jihad) then do so.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4170
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی موت کے بعد کوئی ہجرت نہیں۔
It was narrated that Nuaim bin Dijajah said: "I heard Umar (RA) bin Al-Khattab say: There is no more emigration (Hijrah) after the death of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4171
عبداللہ بن وقدان سعدی ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ ہم میں سے ہر ایک کی کچھ غرض تھی، میں سب سے آخر میں آپ کے پاس داخل ہوا اور عرض کیا کہ اللہ کے رسول! میں اپنے پیچھے کچھ ایسے لوگوں کو چھوڑ کر آ رہا ہوں جو کہتے ہیں کہ ہجرت ختم ہوگئی تو آپ نے فرمایا: ہجرت اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک کفار و مشرکین سے جنگ ہوتی رہے گی ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Waqdan As-Sadi said: "We came in a delegation to the Messenger of Allah, each of us with a question to ask him. I was the last of them to come in to the Messenger of Allah, and I said: O Messenger of Allah, I have left people behind me, and they are saying that emigration (Hijrah) has ceased. He said: Emigration will not cease so long as the disbelievers are being fought.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4172
Notes · وضاحت
١ ؎: پچھلی حدیث میں ہے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہوگئی، اور اس حدیث میں ہے کہ جب تک دنیا میں اسلام اور کفر کی لڑائی جاری رہے گی تب تک ہجرت جاری رہے گی، دونوں میں کوئی تضاد و اختلاف اور تعارض نہیں ہے، وہاں مراد ہے کہ مکہ سے مدینہ ہجرت کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی کیونکہ مکہ فتح ہو کر، اسلامی حکومت میں شامل ہوچکا ہے، رہی دارالحرب سے ہجرت کی بات تو جس طرح فتح مکہ سے پہلے مکہ کے دارالحرب ہونے کی وجہ سے وہاں سے ہجرت ضروری تھی، یہاں بھی ضروری رہے گی، اس بابت اور بھی واضح احادیث مروی ہیں۔
عبداللہ بن سعدی ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ میرے ساتھی آپ کے پاس داخل ہوئے تو آپ نے ان کی ضرورت پوری کی، میں سب سے آخر میں داخل ہوا تو آپ نے فرمایا: تمہاری کیا ضرورت ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہجرت کب ختم ہوگی؟ فرمایا: جب تک کفار سے جنگ ہوتی رہے گی ہجرت ختم نہ ہوگی ۔
It was narrated that Abdullah bin As-Sadi said: "We came in a delegation to the Messenger of Allah and my companions entered and asked their questions. I was the last of them to enter, and he said: What is you question? I said: O Messenger of Allah, when will emigration end? The Messenger of Allah said: Emigration will not cease so long as the disbelievers are being fought.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4173
جریر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: میں آپ سے ہر اس چیز میں جو مجھے پسند ہو اور اس میں جو ناپسند ہو سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: جریر! کیا تم اس کی استطاعت رکھتے ہو، یا طاقت رکھتے ہو؟ آپ نے فرمایا: کہو ان چیزوں میں جن کو میں کرسکتا ہوں، چناچہ آپ نے مجھ سے بیعت لی، نیز ہر مسلمان کی خیر خواہی پر بیعت لی ۔
Jarir said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said to him: I pledge to you to hear and obey in what I like and what I dislike. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Can you do that, O Jarir, or, Are you able for that? He said: Say: As much as I can. So he accepted my pledge (for that), and that I be sincere toward every Muslim.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4174
جریر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز قائم کرنے، زکاۃ ادا کرنے، ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے اور کفار و مشرکین سے الگ تھلگ رہنے پر بیعت کی ١ ؎۔
It was narrated that Jarir said: I pledged to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) to perform Salah, pay the Zakah, be sincere toward every Muslim and forsake the idolaters.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4175
Notes · وضاحت
١ ؎: مسلمانوں کے کفار و مشرکین سے الگ تھلگ رہنے کی بابت اور بھی احادیث مروی ہیں مگر ان کا مصداق اسی طرح کے حالات ہیں جو اس وقت تھے، شریعت نے آدمی کو اس کی طاقت سے زیادہ پابند نہیں کیا ہے، آج کل بہت سے ممالک میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ مسلمان مشرکین و کفار سے الگ رہیں، حد تو یہ ہے کہ اسلامی ممالک بھی دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کو اپنے ملکوں میں آنے نہیں دیتے، صرف چند دنوں کے ویزہ کے مطابق رہنے دیتے ہیں، پھر وقت پر نکل جانے پر مجبور کرتے ہیں۔
جریر ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ بیعت لے رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں بیعت کروں، اور آپ شرط بتائیے کیونکہ آپ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، نماز قائم کرو گے، زکاۃ ادا کرو گے، مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی اور بھلائی کرو گے اور کفار و مشرکین سے الگ تھلگ رہو گے ۔
Jarir said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was accepting (the peoples) pledge, and said: O Messenger of Allah, extend you hand so that I may give you my pledge, and state your terms, for you know best. He said: I accept you pledge that you will worship Allah, establish Salah, pay the Zakah, be sincere toward the Muslims, and forsake the idolaters.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4177
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، آپ نے فرمایا: میں تم لوگوں سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، نہ چوری کرو گے، نہ زنا کرو گے، اور نہ اپنے بال بچوں کو قتل کرو گے، نہ ہی من گھڑت کسی طرح کا بہتان لگاؤ گے، کسی بھی نیک کام میں میری خلاف ورزی نہیں کرو گے، تم میں سے جس نے یہ باتیں پوری کیں تو اس کا اجر و ثواب اللہ کے ذمہ ہے اور جس نے اس میں سے کسی چیز میں غلطی کی ١ ؎ پھر اسے اس کی سزا دی گئی تو وہی اس کے لیے کفارہ (پاکیزگی) ہے اور جسے اللہ نے چھپالیا تو اب اس کا معاملہ اللہ کے پاس ہوگا۔ چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو معاف کر دے ۔
It was narrated that Abu Idris Al-Khawlani said: "I heard Ubadah bin As-Samit say: I pledged to the Messenger of Allah among a group of people, and he said: I accept your pledge that you will not associate anything with Allah, you will not steal, you will not have unlawful sexual relations, you will not kill you children, you will not utter slander, fabricating from between your hands and feet, and you will not disobey me when commanded with goodness. Whoever fulfills (this pledge), his reward will be with Allah, and whoever commits any of these actions and is punished for it, it will be purification for him. Whoever (commits any of these action then) Allah conceals him, it is up to Allah; if He wills He will forgive him, and if He wills, He will punish him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4178
Notes · وضاحت
١ ؎: شرک کے سوا، اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوگا۔
ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ جب میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنی چاہی تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک عورت نے زمانہ جاہلیت میں نوحہ (سوگ منانے) میں میری مدد کی تھی تو مجھے اس کے یہاں جا کر نوحہ میں اس کی مدد کرنی چاہیئے، پھر میں آ کر آپ سے بیعت کرلوں گی۔ آپ نے فرمایا: جاؤ اس کی مدد کرو ، چناچہ میں نے جا کر اس کی مدد کی، پھر آ کر رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی ١ ؎۔
It was narrated that Umm Atiyyah said: "When I wanted to give pledge to the Messenger of Allah, I said: O Messenger of Allah, women helped me (in wailing for the dead) during the Jahiliyyah; shall I go and help her (in wailing) and then come to you and give you my oath of allegiance? He said: Go and help her. So I went and helped her, then I came, and gave my pledge to the Messenger of Allah.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4179
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ بیعت کے بعد وہ نوحہ میں مدد نہیں کرسکتی تھیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں اس کی صراحت آرہی ہے، یہ اجازت صرف ام عطیہ ؓ کے ساتھ خاص تھی اب نبی اکرم ﷺ کے سوا کسی کو یہ حق نہیں کہ شریعت کے کسی حکم کو کسی کے لیے خاص کرے۔
امیمہ بنت رقیقہ ؓ کہتی ہیں کہ میں انصار کی چند عورتوں کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی تاکہ ہم بیعت کریں، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے، نہ چوری کریں گے، نہ زنا کریں گے، اور نہ ایسی کوئی الزام تراشی کریں گے جسے ہم خود اپنے سے گھڑیں، نہ کسی معروف (بھلے کام) میں ہم آپ کی نافرمانی کریں گے، آپ نے فرمایا: اس میں جس کی تمہیں استطاعت ہو یا قدرت ہو ، ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہم پر زیادہ مہربان ہیں، آئیے ہم آپ سے بیعت کریں، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، میرا سو عورتوں سے کہنا ایک عورت سے کہنے کی طرح ہے یا ایک ایک عورت سے کہنے کے مانند ہے ۔
It was narrated that Umaimah bint Ruqaiqah said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) with some other Ansari women to give our pledge. We said: O Messenger of Allah, we give you our pledge that we will not associate anything with Allah, we will not steal, we will not have unlawful sexual relations, we will not utter slander, fabricating from between our hands and feet, and we will not disobey you in goodness. He said: As much as you can and are able. We said: Allah and His Messenger are more merciful toward us. Com, let us give you our pledge, O Messenger of Allah! The Messenger of Allah said: I do not shake hands with women. Rather my word to a hundred women is like my word to one woman.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4181
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ٣٧ (١٥٩٧)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢ (٢٨٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨١)، موطا امام مالک/البیعة ١(٢)، مسند احمد (٦/٣٥٧)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤١٩٥ (صحیح )
شرید ؓ کہتے ہیں کہ ثقیف کے وفد میں ایک کوڑھی تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے کہلا بھیجا کہ لوٹ جاؤ، میں نے تمہاری بیعت لے لی ١ ؎۔
It was narrted from a man from Al Ash-Sharid, who was called Amr, that his father said: "Among the delegation of Thaqif there was a man who suffered from leprosy. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent word to him saying: Go back, for I have accepted your pledge.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4182
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ نبی اکرم ﷺ اچھی طرح سے یہ جانتے تھے کہ اس کے آنے سے لوگ گھن محسوس کریں گے اور ممکن ہے کہ بعض کمزور ایمان والے وہم میں بھی مبتلا ہوجائیں، اس لیے آپ ﷺ نے اسے کہلا بھیجا کہ تمہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں میں نے تمہاری بیعت لے لی۔ خود آپ کو گھن نہیں آئی، نہ آپ کو کسی وہم میں مبتلا ہونے کا ڈر تھا، آپ سے بڑھ کر صاحب ایمان کون ہوسکتا ہے؟۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٦ (٢٢٣١)، سنن ابن ماجہ/الطب ٤٤ (٣٥٤٤)، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٧)، مسند احمد (٤/٣٨٩، ٣٩٠) (صحیح )
ہرماس بن زیاد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ہاتھ نبی اکرم ﷺ کی طرف بڑھایا تاکہ آپ مجھ سے بیعت لے لیں، میں ایک نابالغ لڑکا تھا تو آپ نے مجھ سے بیعت نہیں لی ١ ؎۔
It was narrated that Al-Hirmas bin Ziyad said: "I stretched forth my hand to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) for him to accept my pledge, when I was a child, but he did not accept my pledge.
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4183
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ بیعت میں کسی بات کا عہد و پیمان لیا جاتا ہے، جب کہ نابالغ پر کسی عہد و پیمان کی پابندی واجب نہیں ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک غلام نے آ کر نبی اکرم ﷺ سے ہجرت پر بیعت کی، آپ یہ نہیں سمجھ رہے تھے کہ یہ غلام ہے، پھر اس کا مالک اسے ڈھونڈتے ہوئے آیا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے میرے ہاتھ بیچ دو ، چناچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے بدلے خرید لیا، پھر آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی یہاں تک کہ آپ اس سے معلوم کرلیتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated that jabir said: "A slave came and pledged to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to emigrate, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) did not realize that he was a slave. Then his master came looking for him. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Sell him to me, and he bought him for two black slaves. Then he did not accept the pledge from anyone until he asked: Is he a slave?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4184
Notes · وضاحت
١ ؎: غلام اپنے مالک کا تابع ہے، تو وہ کیسے ہجرت کرسکتا ہے اس لیے آپ غلاموں سے بیعت نہیں لیتے تھے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام پر بیعت کی، پھر اس کو مدینے میں بخار آگیا، تو اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میری بیعت توڑ دیجئیے ١ ؎، آپ نے انکار کیا، اس نے پھر آپ کے پاس آ کر کہا: میری بیعت توڑ دیجئیے، آپ نے انکار کیا، تو اعرابی چلا گیا ٢ ؎، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ تو بھٹی کی طرح ہے جو اپنی گندگی کو نکال پھینکتا ہے اور پاکیزہ کو اور خالص بنا دیتا ہے ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that: a Bedouin pledged Islam to the Messenger of Allah, then the Bedouin was stricken with the fever in Al-Madinah. So he came to the Messenger of Allah and said: "O Messenger of Allah, cancel my pledge," but he refused. Then he came to him again and said: "Cancel my pledge," but he refused. Then he came to him again and said: "Cancel my pledge," but he refused. Then the Bedouin left (Al-Madinah) and the Messenger of Allah sadi: "Al-Madinah his like the bellows; it expels its dross and brightness its good.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4185
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ اس بیماری کو بیعت کی نحوست سمجھ بیٹھا تھا۔ ٢ ؎: یعنی مدینہ سے چلا گیا، تاکہ اپنے خیال میں اس نحوست سے نجات پا جائے، اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی خلیفہ (حکمراں) سے خلافت کی بیعت، یا کسی خاص بات کو توڑنا جائز نہیں ہے۔
سلمہ بن الاکوع ؓ سے روایت ہے کہ وہ حجاج کے پاس گئے تو اس نے کہا: ابن الاکوع! کیا آپ (ہجرت کی جگہ سے) ایڑیوں کے بل لوٹ گئے، اور ایک ایسا کلمہ کہا جس کے معنی ہیں کہ آپ بادیہ (دیہات) چلے گئے۔ انہوں نے کہا: نہیں، مجھے تو رسول اللہ ﷺ نے بادیہ (دیہات) میں رہنے کی اجازت دی تھی ١ ؎۔
It was narrated from Salamah bin Al-Akwa that he entered upon Al-Hajjaj who said: O son of Al-Akwa, you have turned on your heels (i.e., deserted Islam) by staying in the desert with the Bedouins." He said: "No; the Messenger of Allah gave me permission to stay in the desert with the Bedouins.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4186
Notes · وضاحت
١ ؎: گناہ کبیرہ میں سے ایک گناہ ہجرت کے بعد ہجرت والی جگہ کو چھوڑ دینا بھی ہے (اس سلسلے میں احادیث مروی ہیں) اسی کی طرف حجاج نے اشارہ کر کے سلمہ بن الاکوع ؓ سے یہ بات کہی، جب کہ بات یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے سلمہ کے قبیلہ والوں کو فتنہ سے بچنے کے لیے اس کی اجازت پہلے ہی دے دی تھی، اسی لیے امام بخاری نے اس حدیث پر التعرب فی الفتن ۃ فتنہ کے زمانہ میں دیہات میں چلا جانا کا باب باندھا ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ فرماتے تھے: جتنی تمہاری طاقت ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "We used to pledge to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) to hear and obey, the he said: In as much as you can.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4187
Notes · وضاحت
١ ؎: دین اسلام کی طبیعت ہی اللہ تعالیٰ نے یہی رکھی ہے کہ بن دوں پر ان کی طبعی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا ہے۔ قرآن میں ارشاد ربانی ہے: لا يكلف الله نفسا إلا وسعها اللہ تعالیٰ نے کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا ہے (البقرة: 286) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٢ (١٨٦٧)، سنن الترمذی/السیر ٣٤ (١٥٩٣)، (تحفة الأشراف: ٧١٢٧، ٧١٧٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأحکام ٤٣ (٧٢٠٢)، موطا امام مالک/البیعة ١(١)، مسند احمد (٢/٦٢، ٨١، ١٠١، ١٣٩) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جس وقت ہم رسول اللہ ﷺ سے سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کرتے تھے تو آپ ہم سے فرماتے تھے: جتنی تمہاری طاقت ہے ۔
Ibn Umar said: "When we gave our pledge to the Messenger of Allah ﷺ to hear and obey, he would say to us: In as much as you can.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4188