بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 39 · 63 hadiths · Page 1 of 4

4154Sunan An Nasai

تابعداری کرنے سے بیعت

أَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُ كُنَّا لَا نَخَافُ لَوْمَةَ لَائِمٍ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے خوشحالی و تنگی، خوشی و غمی ہر حالت میں سمع و طاعت پر بیعت کی، نیز اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکمرانوں سے حکومت کے لیے نہ جھگڑیں، اور جہاں بھی رہیں حق پر قائم رہیں، اور (اس سلسلے میں) ہم کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈریں ٢ ؎۔

It was narrated that Ubadah bin As-Samit said: "We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey, both in times of ease and hardship, when we felt energetic and when we felt tired, that we would not contend with the orders of whomever was entrusted with it, that we would was entrusted with it, that we would stand firm in the way of truth wherever we may be, and that we would not fear the blame of the blamers.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4149
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کتاب میں بیعت سے متعلق جو بھی احکام بیان ہوئے ہیں، یہ واضح رہے کہ ان کا تعلق صرف خلیفہ وقت یا مسلم حکمراں یا اس کے نائبین کے ذریعہ اس کے لیے بیعت لینے سے ہے۔ عہد نبوی سے لے کر زمانہ خیرالقرون بلکہ بہت بعد تک بیعت سے سیاسی بیعت ہی مراد لی جاتی رہی، بعد میں جب تصوف کا بدعی چلن ہوا تو شیخ طریقت یا پیر و مرشد قسم کے لوگ بیعت کے صحیح معنی و مراد کو اپنے بدعی اغراض و مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگے، یہ شرعی معنی کی تحریف ہے، نیز اسلامی فرقوں اور جماعتوں کے پیشواؤں نے بھی بیعت کے صحیح معنی کا غلط استعمال کیا ہے، فالحذر، الحذر۔ ٢ ؎: یعنی: ہم آپ کی اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء کی اگر ان کی بات بھلائی کی ہو اطاعت آسانی و پریشانی ہر حال میں کریں گے، خواہ وہ بات ہمارے موافق ہو یا مخالف، اور اس بات پر بیعت کرتے ہیں کہ جو آدمی بھی شرعی قانونی طور سے ولی الامر بنادیا جائے ہم اس سے اس کے عہدہ کو چھیننے کی کوشش نہیں کریں گے، وہ ولی الامر ہمارے فائدے کا معاملہ کرے یا اس کے کسی معاملہ میں ہمارا نقصان ہو، ہمارے غیروں کی ہم پر ترجیح ہو۔ اولیاء الأمور (اسلامی مملکت کے حکمرانوں) کے بارے میں سلف کا صحیح موقف اور منہج یہی ہے، اسی کی روشنی میں موجودہ اسلامی تنظیموں کو اپنے موقف ومنہج کا جائزہ لینا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٢ (٧٠٥٦)، الأحکام ٤٣ (٧١٩٩، ٧٢٠٠)، صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٧٠٩)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤١ (٢٨٦٦)، (تحفة الأشراف: ٥١١٨)، موطا امام مالک/الجھاد ١ (٥)، مسند احمد (٣/٤٤١، ٥/٣١٦، ٣١٨)، ویأتي فیما یلي: ٤١٥٥-٤١٥٩ (صحیح )
4155Sunan An Nasai

تابعداری کرنے سے بیعت

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْأَبِيهِ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَذَكَرَ مِثْلَهُ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے تنگی و خوشی کی حالت میں سمع و طاعت پر رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، پھر اسی طرح بیان کیا۔

It was narrated that Ubadah bin As-Samit said: "We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey, both in times of hardship and ease." And he mentioned similarly.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4150
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4156Sunan An Nasai

اس پر بیعت کرنا کہ جو بھی ہمارا امیر مقرر ہوگا ہم اس کی مخالفت نہیں کریں گے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَادَةَ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُولَ: أَوْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لَا نَخَافُ لَوْمَةَ لَائِمٍ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے تنگی و خوشحالی، خوشی و غمی ہر حال میں رسول اللہ ﷺ سے سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کی اور اس بات پر کہ ہم اپنے حکمرانوں سے حکومت کے لیے جھگڑا نہیں کریں گے، اور اس بات پر کہ ہم جہاں کہیں بھی رہیں حق کہیں گے یا حق پر قائم رہیں گے اور (اس بابت) ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔

It was narrated that Ubadah said: "We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey both in times of hardship and ease, when we felt energetic and when we felt tired, that we would not contend with the orders of whomever was entrusted with it, that we would speak the truth or stand firm in the way of truth wherever we may be, and that we would not fear the blame of the blamers.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4151
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٥٤ (صحیح )
4157Sunan An Nasai

سچ کہنے پر بیعت کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُ كُنَّا.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے تنگی و خوشحالی، خوشی و غمی ہر حالت میں سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لینے) پر بیعت کی، اور اس بات پر کہ ہم حکمرانوں سے حکومت کے لیے جھگڑ انہیں کریں گے، اور اس بات پر کہ جہاں کہیں بھی رہیں حق بات کہیں گے۔

It was narrated from Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah bin As-Samit, frim this father, that his grandfather said: "We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey both in times of hardship and ease, when we felt energetic and when we felt tired, and when others are preferred over us, that we would not contend with the orders of whomever was entrusted with it, and that we would speak the truth wherever we may be.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4152
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٥٤ (صحیح )
4158Sunan An Nasai

انصاف کی بات کہنے پر بیعت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَنَّ أَبَاهُ الْوَلِيدَ حَدَّثَهُ، عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَمَنْشَطِنَا وَمَكَارِهِنَا، وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَعَلَى أَنْ نَقُولَ: بِالْعَدْلِ أَيْنَ كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی تنگی و خوشحالی اور خوشی و غمی ہر حال میں سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لینے) پر بیعت کی، اور اس بات پر کہ حکمرانوں سے حکومت کے سلسلے میں جھگڑا نہیں کریں گے، نیز اس بات پر کہ جہاں کہیں بھی رہیں عدل و انصاف کی بات کہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔

It was narrated that Ubadah bin As-Samit said: "We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey during our hardship and our ease, when we felt energetic and when we felt tired, that we would not contend with the orders of whomever was entrusted with it, that we would stand for justice wherever we may be, and that we would not fear the blame of any blamer for the sake of Allah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4153
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٥٤ (صحیح )
4159Sunan An Nasai

کسی کی فضیلت پر صبر کرنے پر بیعت کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُبَادَةَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَمَّا سَيَّارٌ، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، وَأَمَّا يَحْيَى، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كَانَ لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، قَالَ شُعْبَةُ: سَيَّارٌ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ: حَيْثُمَا كَانَ، وَذَكَرَهُ يَحْيَى. قَالَ شُعْبَةُ: إِنْ كُنْتُ زِدْتُ فِيهِ شَيْئًا، فَهُوَ عَنْ سَيَّارٍ، أَوْ عَنْ يَحْيَى.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے تنگی و خوشحالی اور خوشی و غمی اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دئیے جانے کی حالت میں سمع و طاعت (حکم سننے اور اس پر عمل کرنے) پر بیعت کی اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکمرانوں سے حکومت کے سلسلے میں جھگڑا نہیں کریں گے اور یہ کہ ہم حق پر قائم رہیں گے جہاں بھی ہو۔ ہم اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ شعبہ کہتے ہیں کہ سیار نے حیث ما کان کا لفظ ذکر نہیں کیا اور یحییٰ نے ذکر کیا۔ شعبہ کہتے ہیں: اگر میں اس میں کوئی لفظ زائد کروں تو وہ سیار سے مروی ہوگا یا یحییٰ سے۔

It was narrated from Shubah, from Sayyar and Yahya bin Saeed that they heard Ubadah bin Al-Walid narrating from his father. Sayyar said: "From his father," and Yahya said: "From his father," from his grandfather, whom said: We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey during our hardship and our ease, when we felt energetic and when we felt tired, and when others are preferred over us, that we would not contend with the orders of whomever was entrusted with it, that we would stand firm for the truth wherever it may be, and that we would not fear the blame of any blamer for the sake of Allah." (Sahih) Shubah said: "Sayyar did not mention this statement: Wherever it may be while Yahya mentioned it." Shubah said: "If I have added anything to it, then it is from Sayyar or from Yahya.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4154
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٤٥ (صحیح )
4160Sunan An Nasai

کسی کی فضیلت پر صبر کرنے پر بیعت کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَيْكَ بِالطَّاعَةِ، فِي مَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَعُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم پر (امیر و حاکم کی) اطاعت لازم ہے۔ خوشی میں، غمی میں، تنگی میں، خوشحالی میں اور دوسروں کو تم پر ترجیح دئیے جانے کی حالت میں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "You have to obey when you feel energetic and when you feel tired, during your ease and your hardship, and when others are preferred over you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4155
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٨٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٣٠)، مسند احمد (٢/٣٨١) (صحیح )
4161Sunan An Nasai

اس بات پر بیعت کرنا کہ ہر ایک مسلمان کی بھلائی چاہیں گے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.

جریر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ١ ؎۔

It was narrated that Jarir (RA) said: "I pledged to the Messenger of Allah to be sincere toward ever Muslim.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4156
Notes · وضاحت
١ ؎: نصیحت کے معنی ہیں: خیر خواہی، کسی کا بھلا چاہنا، یوں تو اسلام کی طبیعت و مزاج میں ہر مسلمان بھائی کے ساتھ خیر خواہی و بھلائی داخل ہے، مگر آپ ﷺ کبھی کسی خاص بات پر بھی خصوصی بیعت لیا کرتے تھے، اسی طرح آپ کے بعد بھی کوئی مسلم حکمراں کسی مسلمان سے کسی خاص بات پر بیعت کرسکتا ہے، مقصود اس بات کی بوقت ضرورت و اہمیت اجاگر کرنی ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٤٢ (٥٨)، مواقیت الصلاة ٣ (٥٢٤)، الزکاة ٢ (١٤٠١)، البیوع ٦٨ (٢١٥٧)، الشروط ١ (٢٧١٤)، الأحکام ٤٣ (٧٢٠٤)، صحیح مسلم/الإیمان ٢٣ (٥٦)، (تحفة الأشراف: ٣٢١٠)، مسند احمد (٤/٣٥٧، ٣٦١) (صحیح )
4162Sunan An Nasai

اس بات پر بیعت کرنا کہ ہر ایک مسلمان کی بھلائی چاہیں گے

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ جَرِيرٌ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَأَنْ أَنْصَحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.

جریر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے بیعت کی سمع و طاعت (بات سننے اور اس پر عمل کرنے) پر اور اس بات پر کہ میں ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کروں گا۔

Jarir said: "I pledged to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to hear and obey and to be sincere toward every Muslim.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4157
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ٦٧ (٤٩٤٥)، (تحفة الأشراف: ٣٢٣٩)، مسند احمد (٤/٣٦٤) (صحیح )
4163Sunan An Nasai

جنگ سے نہ بھا گنے پر بیعت کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ، إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى، أَنْ لَا نَفِرَّ.

جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے موت پر نہیں بلکہ میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر بیعت کی ١ ؎۔

Jabir said: "We did not give our pledge to the Messenger of Allah for death, rather we pledged not to flee (from battle).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4158
Notes · وضاحت
١ ؎: موت پر بیعت کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ موت اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں ہے اور نہ ہی کسی مومن کے لیے جائز ہے کہ جان بوجھ کر اپنی جان دیدے۔ ہاں جنگ سے نہ بھاگنا ہر ایک کے اپنے اختیار کی بات ہے اس لیے آپ سے لوگوں نے میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر خاص طور سے بیعت کی (نیز دیکھئیے اگلی حدیث اور اس کا حاشیہ) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ١٨ (١٨٥٦)، سنن الترمذی/السیر ٣٤ (١٥٩١)، (تحفة الأشراف: ٢٧٦٣)، مسند احمد (٣/٣٨١) (صحیح )
4164Sunan An Nasai

مرنے پر بیعت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ.

یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع ؓ سے کہا: حدیبیہ کے دن نبی اکرم ﷺ سے آپ لوگوں نے کس چیز پر بیعت کی؟ انہوں نے کہا: موت پر ١ ؎۔

It was narrated that Yazid bin Abi Ubaid said: "I said to Salamah bin Al-Akwa: What pledge did you make to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Day of Al-Hudaibiyyah? He said: For death.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4159
Notes · وضاحت
١ ؎: موت کسی کے اختیار میں نہیں ہے، اس لیے موت پر بیعت کرنے کا مطلب میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر بیعت ہے، ہاں میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر کبھی موت بھی ہوسکتی ہے، اسی لیے بعض لوگوں نے کہا کہ موت پر بیعت کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١١٠ (٢٩٦٠)، المغازي ٣٥ (٤١٦٩)، الأحکام ٤٣ (٧٢٠٦)، ٤٤ (٧٢٠٨)، صحیح مسلم/الإمارة ١٨ (١٨٦٠)، سنن الترمذی/السیر ٣٤ (١٥٩٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥٣٦)، مسند احمد (٤/٤٧، ٥١، ٥٤) (صحیح )
4165Sunan An Nasai

جہاد پر بیعت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّعَمْرَو بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ ابْنَ أَخِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ، قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي أُمَيَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ، وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ.

یعلیٰ بن ابی امیہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس فتح مکہ کے دن ابوامیہ کو لے کر آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے باپ نے ہجرت پر بیعت کرلی ہے۔ تو آپ نے فرمایا: میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں اور ہجرت کا سلسلہ تو بند ہوگیا ١ ؎۔

It was narrated that Yala bin Umayyah said: "I came to the Messenger of Allah with my father Umayyah on the Day of the Conquest (of Makkah) and said: O Messenger of Allah, accept my fathers pledge for emigration (Al-Hijrah). The Messenger of Allah said: I will accept his pledge to fight in Jihad, for the emigration (Al-Hijrah) has ceased.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4160
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مکہ سے ہجرت کا سلسلہ بند ہوگیا کیونکہ مکہ تو دارالاسلام بن چکا ہے، البتہ دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١٨٤٣)، وأعادہ المؤلف برقم ٤١٧٣ (ضعیف) (اس کے راوی ” عمرو بن عبدالرحمن “ لین الحدیث ہیں )
4166Sunan An Nasai

جہاد پر بیعت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَّى فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللَّهُ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ، وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ. خَالَفَهُ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اور اس وقت آپ کے اردگرد صحابہ کی ایک جماعت تھی) : تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنے بچوں کو قتل نہیں کرو گے، اور اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر بہتان نہیں لگاؤ گے، کسی معروف (بھلی بات) میں میری نافرمانی نہیں کرو گے۔ (بیعت کے بعد) جو ان باتوں کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، تم میں سے کسی نے کوئی غلطی کی ١ ؎ اور اسے اس کی سزا مل گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہوگی اور جس نے غلطی کی اور اللہ نے اسے چھپائے رکھا تو اس کا معاملہ اللہ کے پاس ہوگا، اگر وہ چاہے تو معاف کر دے اور چاہے تو سزا دے۔ احمد بن سعید نے اسے کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ٢ ؎۔

It was narrated that Ubadah bin As-Samit said: "While there was a group of his companions around him, the Messenger of Allah said: Pledge to me, that you will not associate anything with Allah, nor steal, nor commit unlawful sexual relations, nor kill your children; you will not utter slander, fabricating from between your hands and feet, and you will not disobey me in goodness (Maruf). Whoever fulfills (this pledge), his reward will be with Allah, and whoever commits any of these actions and is punished for it, it will be an expiation for him. Whoever commits any of these actions then Allah conceals him, then his affair is up to Allah; if He wills He will forgive him, and if He wills punish him." (Sahih) Ahmed bin Saeed contradicted him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4161
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شرک کے علاوہ، کیونکہ توبہ کے سوا شرک کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ ٢ ؎: یہ اختلاف اس طرح ہے کہ احمد بن سعید کی روایت (جو آگے آرہی ہے) میں صالح بن کیسان اور زہری کے درمیان حارث بن فضیل کا اضافہ ہے، اور زہری اور عبادہ بن صامت کے درمیان ابوادریس خولانی کا اضافہ نہیں ہے، اس اختلاف سے اصل حدیث کی صحت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ١١ (١٨)، مناقب الأنصار ٤٣ (٣٨٩٢)، المغازي ١٢ (٣٩٩٩)، تفسیرالممتحنة ٣ (٤٨٩٤)، الحدود ٨ (٦٧٨٤)، ١٤ (٦٨٠١)، الدیات ٢ (٦٨٧٣)، الأحکام ٤٩ (٧٢١٣)، التوحید ٣١ (٧٤٦٨)، صحیح مسلم/الحدود ١٠ (١٧٠٩)، سنن الترمذی/الحدود ١٢ (١٤٣٩)، (تحفة الأشراف: ٥٠٩٤)، مسند احمد (٥/٣١٤)، سنن الدارمی/السیر ١٧ (٢٤٩٧)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ١٤٨٣، و ٤٢١٥، و ٥٠٠٥ (صحیح )
4167Sunan An Nasai

جہاد پر بیعت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ، أَنَّابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا تُبَايِعُونِي عَلَى مَا بَايَعَ عَلَيْهِ النِّسَاءُ، أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَمَنْ أَصَابَ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْئًا فَنَالَتْهُ عُقُوبَةٌ فَهُوَ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ لَمْ تَنَلْهُ عُقُوبَةٌ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ.

عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم مجھ سے ان باتوں پر بیعت نہیں کرو گے جن پر عورتوں نے بیعت کی ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرو گے، نہ چوری کرو گے، نہ زنا کرو گے، نہ اپنے بچوں کو قتل کرو گے اور نہ خود سے گھڑ کر بہتان لگاؤ گے، اور نہ کسی معروف (اچھے کام) میں میری نافرمانی کرو گے؟ ، ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! چناچہ ہم نے ان باتوں پر آپ سے بیعت کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے اس کے بعد کوئی گناہ کیا اور اسے اس کی سزا مل گئی تو وہی اس کا کفارہ ہے، اور جسے اس کی سزا نہیں ملی تو اس کا معاملہ اللہ کے پاس ہے، اگر چاہے گا تو اسے معاف کر دے گا اور چاہے گا تو سزا دے گا ۔

It was narrated from Ubadah bin As-Samit that the Messenger of Allah said: "Why dont you pledge to me upon that which the women have pledged: That you will not associate anything with Allah, that you will not steal, that you will not have unlawful sexual relations, that you will not utter slander, fabricating from between your hands and feet, and that you will not disobey me in goodness (Maruf)?" We said: "yes, O Messenger of Allah." So we gave him our pledge, on that basis. The Messenger of Allah said: "Whoever commits any of these actions after that, and is punished, that will be an expiation. Whoever is not punished, then his affair is up to Allah; if He wills, He will forgive him, and if He wills, He will punish him.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4162
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4168Sunan An Nasai

ہجرت پر بیعت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَقَدْ تَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ، قَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ سے ہجرت پر بیعت کروں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے چھوڑا ہے، آپ نے فرمایا: تم ان کے پاس واپس جاؤ اور انہیں جس طرح تم نے رلایا ہے اسی طرح ہنساؤ ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Amr that a man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "I have come pledging to emigrate (Hijrah), and I have left my parents weeping." He said: "Go back to them, and make them smile as you made them weep.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4163
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے ہجرت پر بیعت کرنے سے انکار نہیں کیا، صرف اس آدمی کے مخصوص حالات کی بنا پر ہجرت کی بجائے ماں باپ کی خدمت میں لگے رہنے کی ہدایت کی، اس لیے اس حدیث سے ہجرت پر بیعت لینے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٣٣ (٢٥٢٨)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٢ (٢٧٨٢)، (تحفة الأشراف: ٨٦٤٠)، مسند احمد (٢/١٦٠، ١٩٤، ١٩٧، ١٩٨، ٢٠٤) (صحیح )
4169Sunan An Nasai

ہجرت ایک دشوار کام ہے

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ ؟، فَقَالَ: وَيْحَكَ، إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ؟. قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: تمہارا برا ہو۔ ہجرت کا معاملہ تو سخت ہے۔ کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم ان کی زکاۃ نکالتے ہو؟ کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: جاؤ، پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Saeed that: a Bedouin asked the Messenger of Allah about emigration (Hijrah). He said: "Woe to you, emigration is very important. Do you have any camels?" He said: "Yes. He said: "Do you pay Sadaqah on them?" He said: "Yes." He said: "Do righteous deeds no matter how far away you are from the Muslims, for Allah, the Mighty and sublime, will never cause any of your deeds tobe lost.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4164
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ تمہاری جیسی نیت ہے اس کے مطابق تمہیں ہجرت کا ثواب ملے گا تم خواہ کہیں بھی رہو۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہجرت ان لوگوں پر واجب ہے جو اس کی طاقت رکھتے ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٣٦ (١٤٥٢)، الہبة ٣٥ (٢٦٣٣)، مناقب الأنصار ٤٥ (٣٩٢٣)، الأدب ٩٥ (٦١٦٥)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٠ (٨٧)، سنن ابی داود/الجہاد ١ (٢٤٧٤)، (تحفة الأشراف: ٤١٥٣)، مسند احمد (٣/١٤، ٦٤ (صحیح )
4170Sunan An Nasai

بادیہ نشین کی ہجرت سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟، قَالَ: أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ: هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، وَهِجْرَةُ الْبَادِي، فَأَمَّا الْبَادِي، فَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَأَمَّا الْحَاضِرُ فَهُوَ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! کون سی ہجرت زیادہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ وہ تمام چیزیں چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناپسند ہیں ، اور فرمایا: ہجرت دو قسم کی ہے: ایک شہری کی ہجرت اور ایک اعرابی (دیہاتی) کی ہجرت، رہا اعرابی تو وہ جب بلایا جاتا ہے آجاتا ہے اور اسے جو حکم دیا جاتا ہے مانتا ہے، لیکن شہری کی آزمائش زیادہ ہوتی ہے، اور اسی (حساب سے) اس کو بڑھ کر ثواب ملتا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Amr said: "A man said: O Messenger of Allah! Which emigration (Hijrah) is best? He said: To leave what your Lord, the Mighty and Sublime, dislikes. He said: There are two kinds of emigration, the emigration of the town dweller and the emigration of the Bedouin. As for the Bedouin, when he is called (to fight in Jihad) he must respond, and he must obey when he is commanded, and as for the town dweller, he is the one who is more severely tested and more greatly rewarded.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4165
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حقیقی ہجرت تو اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں سے روکا ہے اس کا چھوڑنا ہی ہے، خود ترک وطن بھی ممنوع چیزوں سے بچنے کا ایک ذریعہ ہے، اور شہر میں رہنے والے سے زیادہ اعرابی (دیہاتی) کے لیے وطن چھوڑنا آسان ہے، کیونکہ آبادی میں رہنے والوں کے معاشرتی مسائل بہت زیادہ ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے ترک وطن بڑا ہی تکلیف دہ معاملہ ہوتا ہے، اور اسی لیے ان کی ہجرت (ترک وطن) کا ثواب بھی زیادہ ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٦٣٠)، مسند احمد (٣/١٦٠، ١٩١، ١٩٣، ١٩٤، ١٩٥) (صحیح )
4171Sunan An Nasai

ہجرت کا مفہوم

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَانُوا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، لِأَنَّهُمْ هَجَرُوا الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ مِنَ الْأَنْصَارِ مُهَاجِرُونَ، لِأَنَّ الْمَدِينَةَ كَانَتْ دَارَ شِرْكٍ، فَجَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر مہاجرین میں سے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے مشرکین (ناطے داروں) کو چھوڑ دیا تھا۔ انصار میں سے (بھی) بعض مہاجرین تھے اس لیے کہ مدینہ کفار و مشرکین کا گڑھ تھا اور یہ لوگ (شرک کو چھوڑ کر) عقبہ کی رات رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Jabir bin Zaid said: "Ibn Abbas said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), Abu Bakr and Umar were among the Muhajirin (emigrants), because they forsook (hajaru) the idolators, and some of the Ansar were Muhajirun because Al-Madinah was a land of shirk, and they came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Night of Al-Aqabah.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4166
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: ہجرت کے اصل معنی کے لحاظ سے مہاجرین و انصار دونوں ہی مہاجرین تھے۔ ترک وطن کا مقصد اصلی شرک کی جگہ چھوڑنا ہی تو ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٣٩٠) (صحیح الإسناد )
4172Sunan An Nasai

ہجرت کی ترغیب سے متعلق

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ أَبَا فَاطِمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ ؟، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكَ بِالْهِجْرَةِ، فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهَا.

ابوفاطمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا کام بتائیے جس پر میں جما رہوں اور اس کو کرتا رہوں، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم پر ہجرت لازم ہے کیونکہ اس جیسا کوئی کام نہیں ١ ؎۔

It was narrated from Kathir bin Murrah that Abu Fatimah told him that he said: "O Messenger of Allah, tell me of an action that I may do and persist in it." The Messenger of Allah said to him: "You should emigrate, for there is nothing like it.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4167
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ فرمان ابوفاطمہ اور ان جیسے لوگوں کے حالات کے لحاظ سے انہیں کے ساتھ خاص تھا، آپ ﷺ بہت سے اعمال و افعال کو سائل کے حالات کے لحاظ سے زیادہ بہتر اور اچھا بتایا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٢٠٧٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٠١ (١٤٢٢)، مسند احمد (٣/٤٢٨) (حسن صحیح )
4173Sunan An Nasai

ہجرت منقطع ہونے کے سلسلہ میں اختلاف سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى، قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ، وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ.

یعلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے روز میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے والد کے ساتھ آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے باپ سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ان سے جہاد پر بیعت لوں گا، (کیونکہ) ہجرت تو ختم ہوچکی ہے ۔

It was narrated from Amr bin Abdur-Rahman bin Umayyah that his father told him that Yala said: "I came to the Messenger of Allah with my father on the day of the Conquest (of Makkah) and said: O Messenger of Allah, accept my fathers pledge to emigrate. The Messenger of Allah said: I will accept his pledge for Jihad, for the emigration (Hijrah) has ceased.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4168
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٦٥ (ضعیف) (اس کے راوی ” عمرو بن عبدالرحمن “ لین الحدیث ہیں )