مرنے پر بیعت کرنے سے متعلق
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ.
یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع ؓ سے کہا: حدیبیہ کے دن نبی اکرم ﷺ سے آپ لوگوں نے کس چیز پر بیعت کی؟ انہوں نے کہا: موت پر ١ ؎۔
It was narrated that Yazid bin Abi Ubaid said: "I said to Salamah bin Al-Akwa: What pledge did you make to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Day of Al-Hudaibiyyah? He said: For death.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4159
Notes · وضاحت
١ ؎: موت کسی کے اختیار میں نہیں ہے، اس لیے موت پر بیعت کرنے کا مطلب میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر بیعت ہے، ہاں میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر کبھی موت بھی ہوسکتی ہے، اسی لیے بعض لوگوں نے کہا کہ موت پر بیعت کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١١٠ (٢٩٦٠)، المغازي ٣٥ (٤١٦٩)، الأحکام ٤٣ (٧٢٠٦)، ٤٤ (٧٢٠٨)، صحیح مسلم/الإمارة ١٨ (١٨٦٠)، سنن الترمذی/السیر ٣٤ (١٥٩٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥٣٦)، مسند احمد (٤/٤٧، ٥١، ٥٤) (صحیح )