Sunan An Nasai 4156

بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ

4156Sunan An Nasai

اس پر بیعت کرنا کہ جو بھی ہمارا امیر مقرر ہوگا ہم اس کی مخالفت نہیں کریں گے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَادَةَ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُولَ: أَوْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لَا نَخَافُ لَوْمَةَ لَائِمٍ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے تنگی و خوشحالی، خوشی و غمی ہر حال میں رسول اللہ ﷺ سے سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کی اور اس بات پر کہ ہم اپنے حکمرانوں سے حکومت کے لیے جھگڑا نہیں کریں گے، اور اس بات پر کہ ہم جہاں کہیں بھی رہیں حق کہیں گے یا حق پر قائم رہیں گے اور (اس بابت) ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔

It was narrated that Ubadah said: "We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey both in times of hardship and ease, when we felt energetic and when we felt tired, that we would not contend with the orders of whomever was entrusted with it, that we would speak the truth or stand firm in the way of truth wherever we may be, and that we would not fear the blame of the blamers.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4151
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٥٤ (صحیح )