Sunan An Nasai 4190

بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ

4190Sunan An Nasai

بیعت فسخ کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَجَاءَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي ؟ فَأَبَى، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي ؟ فَأَبَى، فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا، وَتَنْصَعُ طِيبَهَا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام پر بیعت کی، پھر اس کو مدینے میں بخار آگیا، تو اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میری بیعت توڑ دیجئیے ١ ؎، آپ نے انکار کیا، اس نے پھر آپ کے پاس آ کر کہا: میری بیعت توڑ دیجئیے، آپ نے انکار کیا، تو اعرابی چلا گیا ٢ ؎، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ تو بھٹی کی طرح ہے جو اپنی گندگی کو نکال پھینکتا ہے اور پاکیزہ کو اور خالص بنا دیتا ہے ۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that: a Bedouin pledged Islam to the Messenger of Allah, then the Bedouin was stricken with the fever in Al-Madinah. So he came to the Messenger of Allah and said: "O Messenger of Allah, cancel my pledge," but he refused. Then he came to him again and said: "Cancel my pledge," but he refused. Then he came to him again and said: "Cancel my pledge," but he refused. Then the Bedouin left (Al-Madinah) and the Messenger of Allah sadi: "Al-Madinah his like the bellows; it expels its dross and brightness its good.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4185
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ اس بیماری کو بیعت کی نحوست سمجھ بیٹھا تھا۔ ٢ ؎: یعنی مدینہ سے چلا گیا، تاکہ اپنے خیال میں اس نحوست سے نجات پا جائے، اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی خلیفہ (حکمراں) سے خلافت کی بیعت، یا کسی خاص بات کو توڑنا جائز نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل المدینة ١٠ (١٨٨٣)، الأحکام ٤٥ (٧٢٠٩)، ٤٧ (٧٢١١)، ٥ (٧٢١٦)، الاعتصام ١٦ (٧٣٢٢)، صحیح مسلم/الحج ٨٨ (١٣٨١)، سنن الترمذی/المناقب ٦٨ (٣٩٢٠)، (تحفة الأشراف: ٣٠٧١)، موطا امام مالک/الجامع ٢ (٤)، مسند احمد (٣/٣٠٦، ٣٦٥، ٣٩٢) (صحیح )