سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے ١ ؎ اس کی طرف سے ساتویں روز ذبح کیا جائے ٢ ؎، اس کا سر مونڈا جائے، اور اس کا نام رکھا جائے ۔
It was narrated from Qatadah, from Al-Hasan, from Samurh bin Jundab that the Messenger of Allah ﷺ said: "Every boy is in pledge for his Aqiqah, so slaughter (the animal) for him on the seventh day, and shave his head, and a name.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4220
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء عقیقہ کے فرض ہونے کے قائل ہیں، کیونکہ اس میں بچے کے عقیقہ کے بدلے گروی باقی رہ جانے کی بات ہے، اور گروی رہنے کا مطلب علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ جس لڑکے کا عقیقہ نہ کیا جائے اور وہ بلوغت سے پہلے مرجائے تو وہ قیامت کے دن اپنے ماں باپ کی سفارش (شفاعت) نہیں کرے گا، بعض علماء نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جس طرح رہن رکھی ہوئی چیز کے بدلے کی ادائیگی ضروری ہے اسی طرح ذبح (عقیقہ) ضروری ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ٢ ؎: اگر ساتویں دن عقیقہ کی استطاعت نہیں ہوسکی تو چودہویں دن کرے، اور اگر اس دن میں نہ ہو سکے تو اکیسویں دن کرے، جیسا کہ عائشہ ؓ سے مستدرک حاکم میں ( ٤/٢٣٨ ) صحیح سند سے مروی ہے، اگر اکیسویں دن بھی نہ ہو سکے تو جو لوگ واجب قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک زندگی میں کسی دن بھی قضاء کرنا ہوگا۔