لڑکی کی جانب سے کس قدر بکریاں ہونا چاہئیں؟
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ، وَعَنَ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا.
ام کرز ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ہوں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری، نر ہوں یا مادہ اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ۔
It was narrated from Umma Kurz that the Messenger of Allah ﷺ said: "For a boy, two sheep, and for a girl, one sheep, and it does not matter if they are male or female
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4218
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )