میقاتوں سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 23 · 435 hadiths · Page 1 of 22

2653Sunan An Nasai

مدینہ منورہ کے لوگوں کا میقات

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینے والے ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں، اور اہل شام حجفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے ۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یمن والے یلملم سے تلبیہ پکاریں ۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “The people of Al-Madinah should enter into Ihram from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-Sham from Al Jubfah, the people of Najd from Qarn.” ‘Abdullah said: “And it was conveyed to me, that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘And the people of Yemen should enter into Ihram from Yalamlam.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2651
Notes · وضاحت
١ ؎: مواقیت: میقات کی جمع ہے میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا عمرہ کرنے والے کو تلبیہ پکارنا اور احرام باندھنا ضروری ہوجاتا ہے البتہ حاجی یا عمرہ کرنے والے مکہ میں ہوں یا میقات کے اندر رہتے ہوں تو ان کے لیے گھر سے نکلتے وقت احرام باندھ لینا اور تلبیہ پکارنا ہی کافی ہے میقات پر جانا ضروری نہیں۔ ٢ ؎: ذوالحلیفہ مدینہ مکہ روڈ پر مسجد نبوی سے ( ٩ ) کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے، افسوس ہے کہ شیعی روایات کی بنا پر یہ مشہور ہے کہ علی رضی الله عنہ کا جنوں سے مقابلہ ہوا اور آپ نے ان کو اس مقام کے کنوؤں میں بند کردیا، اور اس سے اس جگہ کو ابیار علی کہا جانے لگا، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنے منسک حج میں اس خرافات پر تنبیہ فرمائی ہے۔ ٣ ؎: مکہ مدینہ روڈ پر جُحفہ مکہ سے پانچ یا چھ مراحل کی دوری پر رابغ کے قریب ایک بستی کا نام ہے۔ ٤ ؎: قرن طائف کے قریب ایک بستی کا نام ہے یا پوری وادی کا نام ہے، اسے قرن المنازل اور قرن التعالب بھی کہا جاتا ہے۔ ٥ ؎: یلملم مکہ سے دو مرحلے کی دوری پر ایک جگہ کا نام ہے جس کے محاذاۃ میں مشرق جیسے ریاض، اور دمام نیز ہندوستان اور پاکستان وغیرہ سے آنے والے حجاج کرام کو جہاز میں باخبر کیا جاتا ہے کہ اب یلملم کی میقات کی محاذاۃ سے جہاز گزرنے والا ہے، حجاج احرام باندھنے اور تلبیہ پکارنے کے لیے تیار ہوجائیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٥٢ (١٣٣)، والحج ٥ (١٥٢٢)، ٨ (١٥٢٥)، ١٠ (١٥٢٨)، صحیح مسلم/الحج ٢ (١١٨٢)، سنن ابی داود/المناسک ٩ (١٧٣٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٣ (٢٩١٤)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢٦)، موطا امام مالک/االحج ٨ (٢٢)، مسند احمد ٢/٤٨، ٥٥، ٦٥، سنن الدارمی/المناسک ٥ (١٨٣١) (صحیح )
2654Sunan An Nasai

ملک شام کے لوگوں کا میقات

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَامَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَيْنَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُهِلَّ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَيَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَوَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: لَمْ أَفْقَهْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد (نبوی) میں کھڑا ہوا اور پوچھنے لگا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں کہاں سے تلبیہ پکارنے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں گے، اور اہل شام حجفہ سے اور اہل نجد قرن سے۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (یہ بھی) فرمایا: اہل یمن یلملم سے تلبیہ پکاریں گے ، ابن عمر ؓ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسے نہیں سنا ہے۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that a man stood up in the Masjid and said: “Messenger of Allah ﷺ, from where do you command us to enter Ihram?” The Messenger of Allah ﷺ said: “The people of Al-Madinah should enter Ihrarn from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-Sham should enter Ihram from Al-Juhfah, the people of Najd should enter Ihram from Qarn.” Ibn ‘Umar said: “And they say that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘The people of Yemen should enter into Ihram from Yalamlam.” And ‘Ibn ‘Umar used to say: “I did not hear this from the Messenger of Allah ﷺ .“ (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2652
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٥٢ (١٣٣)، (تحفة الأشراف: ٩٢٩١) (صحیح )
2655Sunan An Nasai

مصر کے لوگوں کا میقات

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ وَمِصْرَ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو۔ اہل شام و مصر کے لیے حجفہ کو، اہل عراق کے لیے ذات عرق کو، اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کی ہے۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ designated Dhul-Hulaifah as the Miqat for the people of Al Madinah, Al-Juhfah for the people of Ash-Sham and Egypt, Dhat ‘Irq for the people of Al-’Iraq, and Yalamlam for the people of Yemen. (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2653
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٩ (١٧٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٣٨)، ویأتی عند المؤلف فی ٢٢ (برقم ٢٦٥٧) (صحیح )
2656Sunan An Nasai

یمن والوں کے میقات

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ صَاحِبُ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَقَالَ: هُنَّ لَهُنَّ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ، فَمَنْ كَانَ أَهْلُهُ دُونَ الْمِيقَاتِ حَيْثُ يُنْشِئُ حَتَّى يَأْتِيَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو، اہل شام کے لیے جحفہ کو، اہل نجد کے لیے قرن کو اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کی اور فرمایا: یہ یہاں کے لوگوں کی میقات ہیں اور ان تمام لوگوں کی بھی جو یہاں سے ہو کر گزریں چاہے جہاں کہیں کے بھی رہنے والے ہوں۔ اور جو لوگ ان میقاتوں کے اندر کے رہنے والے ہیں تو ان کی میقات وہیں سے ہے جہاں سے وہ چلیں یہاں تک کہ مکہ والوں کی میقات مکہ ہے ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ designated Dhul-Hulaifah as the Miqat for the people of Al Madinah, Al-Juhfah for the people of Ash-Sham, Qarn for the people of Najd, and Yalamlam for the people of Yemen. He said: “They are for them, and for anyone who comes to them from elsewhere. If a person’s place of residence is within the boundary of the Miqat, then (he should enter into Ihram) from where he starts his journey, and this also applies to the people of Makkah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2654
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٧ (١٥٢٤)، ١٢ (١٥٣٠)، وجزاء الصید ١٨ (١٨٤٥)، صحیح مسلم/الحج ٢ (١١٨١)، (تحفة الأشراف: ٥٧١١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج ٩ (١٧٣٨)، مسند احمد (١/٢٣٨، ٢٤٩، ٢٥٢، ٢٣٢، ٣٣٩)، سنن الدارمی/المناسک ٥ (١٨٣٣)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٢٦٥٨ (صحیح )
2657Sunan An Nasai

نجد والوں کے میقات

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، وَذُكِرَ لِي وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّهُ قَالَ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ والے ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں گے، شام والے حجفہ سے، اور نجد والے قرن (المنازل) سے ، اور میں نے تو نہیں سنا ہے لیکن مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اور یمن والے یلملم سے تلبیہ پکاریں گے ۔

It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet ﷺ said: “The people of Al Madinah should enter into Ihram from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-Sham from Al-Juhfah, the people of Najd from Qarn.” And it was mentioned to me, although I did not hear him say it: “And the people of Yemen should enter into Ihram from Yalamlam.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2655
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩ (١٥٢٧)، صحیح مسلم/الحج ٢ (١١٨٢)، (تحفة الأشراف: ٦٨٢٢٤)، مسند احمد (٢/٩) (صحیح )
2658Sunan An Nasai

اہل عراق کا میقات

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ الْمُعَافَى، عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ وَمِصْرَ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، اور شام و مصر والوں کے لیے حجفہ کو، اور عراق والوں کے لیے ذات عرق کو، اور نجد والوں کے لیے قرن (المنازل) کو، اور یمن والوں کے لیے یلملم کو۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ designated Dhul-Hulaifah as the Miqat for the people of Al-Madinah, Al-Juhfah for the people of Ash Sham and Egypt, Dhat ‘Irq for the people of Al-’Iraq, Qarn for the people of Najd and Yalamlam for the people of Yemen.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2656
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٥٤ (صحیح )
2659Sunan An Nasai

میقات کے اند رجو لوگ رہتے ہوں ان سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، قَالَ: هُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِمَّنْ سِوَاهُنَّ لِمَنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ مِنْ حَيْثُ بَدَا حَتَّى يَبْلُغَ ذَلِكَ أَهْلَ مَكَّةَ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، اور شام والوں کے لیے جحفہ، اور نجد والوں کے لیے قرن (قرن المنازل) کو، اور یمن والوں کے لیے یلملم کو اور فرمایا: یہ سب یہاں کے رہنے والوں کے میقات ہیں، اور ان لوگوں کے میقات بھی جو حج کا ارادہ رکھتے ہوں اور ان پر سے ہو کر گزریں۔ اور جو لوگ اس میقات کے اندر رہتے ہوں تو وہ جہاں سے شروع کریں وہیں سے وہیں سے تلبیہ پکاریں یہاں تک کہ یہی حکم مکہ والوں کو بھی پہنچے گا ۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ designated Dhul-Hulaifah as the Miqat for the people of Al Madinah, Al-Juhfah for the people of Ash-Sham, Qarn for the people of Najd, and Yalamlam for the people of Yemen. He said: ‘They are for them, and for those who pass by them who are not of their people who intend to perform Hajj and ‘Umrah. If a person’s place of residence is within the boundary of the Miqat, then (he should enter into Ihram) from where he starts his journey, and this also applies to the people of Makkah.”(Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2657
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٥٥ (صحیح )
2660Sunan An Nasai

میقات کے اند رجو لوگ رہتے ہوں ان سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَة، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، فَهُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ حَتَّى أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، اور شام والوں کے لیے جحفہ کو اور یمن والوں کے لیے یلملم کو، اور نجد والوں کے لیے قرن المنازل کو۔ یہ جگہیں یہاں کے لوگوں کے لیے میقات ہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کے لیے بھی جو ان پر سے ہو کر گزریں، اور حج و عمرہ کا ارادہ رکھنے والوں میں سے ہوں اور جو لوگ ان جگہوں کے اندر رہتے ہوں تو وہ اپنے گھر ہی سے تلبیہ پکاریں یہاں تک کہ مکہ والے مکہ ہی سے تلبیہ پکاریں گے ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ designated Dhul-Hulaifah as the Miqat for the people of Al Madinah, Al-Juhfah for the people of Ash-Sham, Yalamlam for the people of Yemen, and Qarn for the people of Najd. They are for them and for those who pass by them who are not of their people, intending to perform Hajj or ‘Umrah. If a person’s place of residence is within the boundary of the Miqat, then (he should enter Ihram) from where he starts his journey, and this also applies to the people of Makkah. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2658
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩ (١٥٢٦)، ١١ (١٥٢٩)، صحیح مسلم/الحج ١٢ (١١٨١)، سنن ابی داود/الحج ٩ (١٧٣٨)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٨)، مسند احمد (١/٢٣٨) (صحیح )
2661Sunan An Nasai

مقام ذوالحلیفہ میں رات میں رہنا

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَثْرُودٍ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: بَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ بِبَيْدَاءَ، وَصَلَّى فِي مَسْجِدِهَا.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالحلیفہ کے شروع ہونے کی جگہ میں رات گزاری اور اس کی مسجد میں نماز پڑھی۔

‘Ubaidullah bin ‘Abdullah bin ‘Umar narrated that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ stayed overnight in Dhul-Hulaifah, where he started his Hajj with this action, and he prayed in the Masjid there.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2659
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦ (١١٨٨)، (تحفة الأشراف: ٧٣٠٨) (صحیح )
2662Sunan An Nasai

مقام ذوالحلیفہ میں رات میں رہنا

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُوَيْدٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ وَهُوَ فِي الْمُعَرَّسِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ أُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب میں آیا گیا اور آپ ذوالحلیفہ کے پڑاؤ کی جگہ میں تھے اور کہا گیا کہ آپ بابرکت بطحاء میں ہیں۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that when the Messenger of Allah ﷺ was in Dhul-Hulaifah someone came to him and he was told: “You are in a blessed valley.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2660
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٦ (١٥٣٥)، المزارعة ١٦ (٢٣٣٦)، مطولا، صحیح مسلم/الحج ٧٧ (١٣٤٦)، (تحفة الأشراف: ٧٠٢٥)، مسند احمد (٢/٨٧، ٩٠، ١٠٤، ١٣٦) (صحیح )
2663Sunan An Nasai

مقام ذوالحلیفہ میں رات میں رہنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَصَلَّى بِهَا.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بطحاء میں اپنا اونٹ بٹھایا جو ذوالحلیفہ میں ہے اور اسی جگہ آپ نے نماز پڑھی۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ stopped in the valley that is in Dhul-Hulaifah and prayed there. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2661
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٤ (١٥٣٢)، صحیح مسلم/الحج ٧٧ (١٢٥٧)، سنن ابی داود/المناسک ١٠٠ (٢٠٤٤)، (تحفة الأشراف: ٨٣٣٨)، موطا امام مالک/الحج ٦٩ (٢٠٦)، مسند احمد (٢/٢٨، ١١٢، ١٣٨) (صحیح )
2664Sunan An Nasai

بیداء کے متعلق حدیث رسول ﷺ

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْالْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الظُّهْرَ بِالْبَيْدَاءِ، ثُمَّ رَكِبَ وَصَعِدَ جَبَلَ الْبَيْدَاءِ، فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ.

انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز بیداء میں پڑھی، پھر سوار ہوئے اور بیداء پہاڑ پر چڑھے، اور ظہر کی نماز پڑھ کر حج و عمرے کا احرام باندھا۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ prayed Zuhr in Al-Baida’, then he rode up the mountain of Al-Baida’ and began the Talbiyah for Hajj and ‘Umrah, when he had prayed Zuhr. (Da‘If)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2662
Notes · وضاحت
١ ؎: بیداء چٹیل میدان کو کہتے ہیں اور یہاں ذوالحلیفہ کے قریب ایک مخصوص جگہ مراد ہے آگے بھی اس لفظ سے یہی جگہ مراد ہوگی، اور جہاں تک آپ کے بیداء میں ظہر کی نماز پڑھنے کا معاملہ ہے تو کسی راوی سے وہم ہوگیا ہے، انس رضی الله عنہ ہی سے بخاری (کتاب الحج، ٢٧ ) میں مروی ہے کہ آپ نے ظہر مدینہ میں چار پڑھی اور عصر ذوالحلیفہ میں دو پڑھی، اور نماز کے بعد ہی احرام باندھ لیا، یعنی حج و عمرہ کی نیت کر کے تلبیہ پکارنا شروع کردیا تھا، اور ہر جگہ پکارتے رہے، اب جس نے جہاں پہلی بار سنا اس نے وہیں سے تلبیہ پکارنے کی روایت کردی، سنن ابوداؤد (کتاب الحج، ٢١ ) میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی مفصل روایت ان تمام اختلافات و اشکالات کو دور کردیتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٢١ (١٧٧٤)، (تحفة الأشراف: ٥٢٤)، مسند احمد (٣/٢٠٧)، ویأتی عند المؤلف بأرقام ٢٧٥٦، ٢٩٣٤ (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” حسن بصری “ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، دیکھئے صحیح ابی داود ج ٦/ص ١٩، ٢٠ رقم ١٥٥٥، ١٥٥٦ )
2665Sunan An Nasai

احرام باندھنے کے واسطے غسل سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّهَا وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بِالْبَيْدَاءِ، فَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُهِلَّ.

اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے محمد بن ابی بکر صدیق کو بیداء میں جنا تو ابوبکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ان سے کہو کہ غسل کرلیں پھر لبیک پکاریں ۔

It was narrated from Asma’ bint ‘Umais that she gave birth to Muhammad bin Abi Bakr As Siddiq in Al-Baida’. Abu Bakr (RA) told the Messenger of Allah ﷺ about that, and he said: “Tell her to perform Ghusl then begin the Talbiyah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2663
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ غسل نظافت کے لیے ہے طہارت کے لیے نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٧٦١)، موطا امام مالک/الحج ١ (١)، مسند احمد (٦/٣٦٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الحج ١٦ (١٢٠٩)، سنن ابن ماجہ/ الحج ١٢ (٢٩١١) (صحیح )
2666Sunan An Nasai

احرام باندھنے کے واسطے غسل سے متعلق

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ النَّسَائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ الْخَثْعَمِيَّةُ، فَلَمَّا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَلَدَتْ أَسْمَاءُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، ثُمَّ تُهِلَّ بِالْحَجِّ، وَتَصْنَعَ مَا يَصْنَعُ النَّاسُ إِلَّا أَنَّهَا لَا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ.

ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کے لیے نکلے اور ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اسماء بنت عمیس خثعمیہ ؓ بھی تھیں۔ جب وہ لوگ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو وہاں اسماء نے محمد بن ابوبکر کو جنا۔ تو ابوبکر ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور آپ کو اس بات کی خبر دی، تو انہیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ وہ اسے حکم دیں کہ وہ غسل کرلیں پھر حج کا احرام باندھ لیں، اور وہ سب کام کریں جو دوسرے حاجی کرتے ہیں سوائے اس کے کہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کریں۔

It was narrated from Abu Bakr (RA) that he went out for Hajj with the Messenger of Allah ﷺ on the Farewell Pilgrimage, and his wife Asma’ bint ‘Umais Al-Khath’amiyyah was with him. When they were at Dhul-Hulaifah, Asma’ gave birth to Muhammad bin Abi Bakr. Abu Bakr (RA) came to the Prophet ﷺ and told him, and the Messenger of Allah ﷺ told him to tell her to perform Ghusl, then begin the Talbiyah for Hajj, and to do everything that the people do, except that she should not circumambulate the House. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2664
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ١٢ (٢٩١٢)، وانظر ماقبلہ (صحیح )
2667Sunan An Nasai

محرم کے غسل سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ، وَهُوَ مُسْتَتِرٌ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ؟ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا رَأْسُهُ، ثُمَّ قَالَ: لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ.

عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں کے درمیان مقام ابواء میں (محرم کے سر دھونے اور نہ دھونے کے بارے میں) اختلاف ہوگیا۔ ابن عباس ؓ نے کہا: محرم اپنا سر دھوئے گا اور مسور نے کہا: نہیں دھوئے گا۔ تو ابن عباس ؓ نے مجھے ابوایوب انصاری ؓ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے اس بارے میں سوال کروں، چناچہ میں گیا تو وہ مجھے کنویں کی دونوں لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے ہوئے ملے اور وہ کپڑے سے پردہ کئے ہوئے تھے، میں نے انہیں سلام کیا اور کہا: مجھے عبداللہ بن عباس ؓ نے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں آپ سے سوال کروں کہ رسول اللہ ﷺ حالت احرام میں اپنا سر کس طرح دھوتے تھے ١ ؎۔ (یہ سن کر) ابوایوب ؓ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا، اور اسے جھکایا یہاں تک کہ ان کا سر دکھائی دینے لگا، پھر ایک شخص سے جو پانی ڈالتا تھا کہا: سر پر پانی ڈالو، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو حرکت دی، (صورت یہ رہی کہ) کہ دونوں ہاتھ کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abbas and Al Miswar bin Makhramah that they had a difference of opinion in Al Abwa’. Ibn ‘Abbas said: “The Muhrim (pilgrim in Ihram) may wash his head.” Al-Miswar said: “He should not wash his head.” Ibn ‘Abbas sent me (the narrator) to Abu Ayyub Al-Ansari to ask him about that. I found him performing Ghusl in front of the well, screened with a cloth. I greeted him with Salam and said: “Abdullah bin ‘Abbas has sent me to you to ask you how the Messenger of Allah ﷺ used to wash his head when he was in Ihram.” Abu Ayyub put his hand on the cloth and lowered it, until his head appeared, then he told someone to pour water on his head. Then he rubbed his head with his hands, back and forth, and said: “This is what I saw the Messenger of Allah ﷺ do.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2665
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ دونوں میں اختلاف غسل کرنے یا نہ کرنے میں تھا نہ کہ کیفیت کے بارے میں پھر انہوں نے ابوایوب رضی الله عنہ سے جا کر غسل کی کیفیت کے بارے کیوں سوال کیا؟ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں نے انہیں دونوں باتیں پوچھنے کے لیے بھیجا تھا لیکن وہاں پہنچ کر جب انہوں نے خود انہی کو حالت احرام میں غسل کرتے دیکھا تو اس سے انہوں نے اس کے جواز کو خودبخود جان لیا اب بچا مسئلہ صرف کیفیت کا تو اس بارے میں انہوں نے پوچھ لیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٤ (١٨٤٠)، صحیح مسلم/الحج ١٣ (١٢٠٥)، سنن ابی داود/الحج ٣٨ (١٨٤٠)، سنن ابن ماجہ/الحج ٢٢ (٣٩٣٤)، (تحفة الأشراف: ٣٤٦٣)، مسند احمد ٥/٤١٦، ٤١٨، ٤٢١، سنن الدارمی/المناسک ٦ (١٨٣٤) (صحیح )
2668Sunan An Nasai

حالت احرام میں زعفران وغیرہ میں رنگا ہوا کپڑا پہننے کی ممانعت کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ بِوَرْسٍ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ محرم زعفران اور ورس میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade the Muhrim to wear clothes dyed with saffron or Wars.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2666
Notes · وضاحت
١ ؎: ورس ایک خوشبودار پیلی گھاس ہے جس سے کپڑے رنگے جاتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٣٤ (٥٨٤٧)، ٣٧ (٥٨٥٢)، صحیح مسلم/الحج ١ (١١٧٧)، سنن ابن ماجہ/الحج ٢٠ (٢٩٣٢)، (تحفة الأشراف: ٧٢٢٦)، موطا امام مالک/الحج ٣ (٨)، ٤ (٩)، مسند احمد (٢/٦٦) (صحیح )
2669Sunan An Nasai

حالت احرام میں زعفران وغیرہ میں رنگا ہوا کپڑا پہننے کی ممانعت کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ قَالَ: لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ، وَلَا زَعْفَرَانٌ، وَلَا خُفَّيْنِ، إِلَّا لِمَنْ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَقْطَعْهُمَا، حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ محرم کون سے کپڑے پہنے؟ آپ نے فرمایا: محرم قمیص (کرتا) ٹوپی، پائجامہ، عمامہ (پگڑی) اور ورس اور زعفران لگا کپڑا نہ پہنے ١ ؎، اور موزے نہ پہنے اور اگر جوتے میسر نہ ہوں تو چاہیئے کہ دونوں موزوں کو کاٹ ڈالے یہاں تک کہ انہیں ٹخنوں سے نیچے کرلے ٢ ؎۔

It was narrated from Salim that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ was asked what clothes the Muhrim may wear. He said: ‘He should not wear a shirt, or a burnous, or pants, or an ‘Imamah (turban), or any garment that has been touched by (dyed with) wars or saffron, or Khuffs — except for one who cannot find sandals. If he cannot find sandals, then let him cut them until they come lower than the ankles.”(Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2667
Notes · وضاحت
١ ؎: اس بات پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں عورت کے لیے وہ تمام کپڑے پہننے جائز ہیں جن کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے صرف ورس اور زعفران لگے ہوئے کپڑے نہ پہنے، نیز اس بات پر بھی اجماع ہے کہ حالت احرام میں مرد کے لیے حدیث میں مذکور یہ کپڑے پہننے جائز نہیں ہیں قمیص اور سراویل میں تمام سلے ہوئے کپڑے داخل ہیں اسی طرح عمامہ اور خفین سے ہر وہ چیز مراد ہے جو سر اور قدم کو ڈھانپ لے، البتہ پانی میں سر کو ڈبونے یا ہاتھ یا چھتری سے سر کو چھپانے میں کوئی حرج نہیں۔ ٢ ؎: جمہور نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے موزوں کے کاٹنے کی شرط لگائی ہے لیکن امام احمد نے بغیر کاٹے موزہ پہننے کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ ابن عباس کی روایت من لم یجدنعلین فلیلبس خفین جو بخاری میں آئی ہے مطلق ہے لیکن اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہاں مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا، حنابلہ نے اس روایت کے کئی جواب دیئے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ روایت منسوخ ہے کیونکہ یہ احرام سے قبل مدینہ کا واقعہ ہے اور ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت عرفات کی ہے اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت حجت کے اعتبار سے ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے بڑھی ہوئی ہے، کیونکہ وہ ایسی سند سے مروی ہے جو اصح الاسانید ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ١٥ (٥٨٠٦)، صحیح مسلم/الحج ١ (١١٧٧)، سنن ابی داود/المناسک ٣٢ (١٨٢٣)، (تحفة الأشراف: ٦٨١٧) (صحیح )
2670Sunan An Nasai

حالت احرام میں چوغہ استعمال کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَوْمَسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، فَبَيْنَا نَحْنُ بِالْجِعِرَّانَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ، فَأَتَاهُ الْوَحْيُ، فَأَشَارَ إِلَيَّ عُمَرُ أَنْ تَعَالَ، فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْقُبَّةَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ قَدْ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ بِعُمْرَةٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ قَدْ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ إِذْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغِطُّ لِذَلِكَ فَسُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَنِي آنِفًا ؟فَأُتِيَ بِالرَّجُلِ، فَقَالَ: أَمَّا الْجُبَّةُ فَاخْلَعْهَا، وَأَمَّا الطِّيبُ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًامَا أَعْلَمُ أَحَدًا قَالَهُ غَيْرَ نُوحِ بْنِ حَبِيبٍ وَلَا أَحْسِبُهُ مَحْفُوظًا وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.

یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: کاش میں رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوتے ہوئے دیکھتا، پھر اتفاق ایسا ہوا کہ ہم جعرانہ میں تھے، اور نبی اکرم ﷺ اپنے خیمے میں تھے کہ آپ پر وحی نازل ہونے لگی، تو عمر ؓ نے مجھے اشارہ کیا کہ آؤ دیکھ لو۔ میں نے اپنا سر خیمہ میں داخل کیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا ہوا ہے وہ جبہ میں عمرہ کا احرام باندھے ہوئے تھا، اور خوشبو سے لت پت تھا اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے جبہ پہنے ہوئے احرام باندھ رکھا ہے کہ یکایک آپ پر وحی اترنے لگی، اور نبی اکرم ﷺ خراٹے لینے لگے۔ پھر آپ کی یہ کیفیت جاتی رہی، تو آپ نے فرمایا: وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی مجھ سے (مسئلہ) پوچھا تھا تو وہ شخص حاضر کیا گیا، آپ نے (اس سے) فرمایا: رہا جبہ تو اسے اتار ڈالو، اور رہی خوشبو تو اسے دھو ڈالو پھر نئے سرے سے احرام باندھو۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں کہ نئے سرے سے احرام باندھ کا یہ فقرہ نوح بن حبیب کے سوا کسی اور نے روایت کیا ہو یہ میرے علم میں نہیں اور میں اسے محفوظ نہیں سمجھتا، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔

It was narrated from Safwan bin Umayyah, from his father, that he said: “I wished that I could see the Messenger of Allah ﷺ, when Revelation was coming down to him. While we were in Al-J’iranah and the Prophet ﷺ was in a tent, Revelation was coming down to him and ‘Umar gestured to me to come. So I put my head into the tent. A man had come to him who had entered Ihram wearing a Jubbah having applied perfume. He said: ‘Messenger of Allah ﷺ, what do you say concerning a man who entered ihram wearing a Jubbah?’ Then (because of this question) the Revelation came. The Prophet ﷺ started to breath deeply, and when it was over he said: ‘Where is the man who asked me just now?’ The man was brought to him, and he said: ‘As for the Jubbah, take it off, and as for the perfume, wash it off, then enter Ihram.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman said: “Then enter Ihram”, I do not know anyone who said it other than Nuh bin Habib and I do not consider it preserved, Allah Glory be to Him, the Most High - knows best.

صحيح دون قوله ثم أحدث إحراما فإنه شاذ والمحفوظ دونهاصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2668
Notes · وضاحت
١ ؎: جعرانہ مکہ کے قریب ایک جگہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٧ (١٥٣٦)، تعلیقا، العمرة ١٠ (١٧٨٩)، جزاء الصید ١٩ (١٨٤٧)، المغازی ٥٦ (٤٣٢٩)، فضائل القرآن ٢ (٤٩٨٥)، صحیح مسلم/الحج ١ (١١٨٠)، سنن ابی داود/الحج ٣١ (١٨١٩-١٨٢٢)، سنن الترمذی/الحج ٢٠ (٨٣٥) مختصرا، (تحفة الأشراف: ١١٨٣٦)، مسند احمد (٤/٢٢٤) ویأتی عند المؤلف فی ٤٤ (برقم ٢٧١٠، ٢٧١١) (صحیح )
2671Sunan An Nasai

محرم کے واسطے قمیض پہن لینا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نہ قمیص پہنو نہ عمامے نہ پائجامے، نہ ٹوپیاں اور نہ موزے البتہ اگر کسی کو جوتے نہ مل پائیں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے سے کرلے، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگی ہو ۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that a man asked the Messenger of Allah ﷺ “What clothes can the Muhrim wear?” The Messenger of Allah ﷺ said: “They should not wear shirts nor ‘Imamahs, or pants, or burnouses, or Khuffs - unless a person cannot find sandals, in which case he may wear Khuffs. But he should cut them to come lower than the ankles. And they should not wear anything that has been touched by (dyed with) saffron or Wars.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2669
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٢١ (١٥٤٢)، اللباس ١٣ (٥٨٠٣)، صحیح مسلم/الحج ١ (١١٧٧)، سنن ابی داود/المناسک ٣٢ (١٨٢٤)، سنن ابن ماجہ/الحج ٢٠ (٢٩٣٢)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢٥)، موطا امام مالک/الحج ٣ (٨)، ٤ (٩)، مسند احمد (٢/٦٣، سنن الدارمی/المناسک ٩ (١٨٤١)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٢٦٧٥) (صحیح )
2672Sunan An Nasai

حالت احرام میں پائجامہ پہننا منع ہے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ قَالَ: لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَقَالَ عَمْرٌو مَرَّةً أُخْرَى: الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْخُفَّيْنِ، إِلَّا أَنْ لَا يَكُونَ لِأَحَدِكُمْ نَعْلَانِ فَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم احرام باندھ لیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، (عمرو بن علی نے دوسری بار قمیص کے بجائے جمع کے صیغے کے ساتھ قمص کہا) نہ عمامے، نہ پائجامے اور نہ موزے، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو موزوں کو کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے، اور نہ ایسا کپڑا جس میں ورس اور زعفران لگی ہو ۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that a man said: “Messenger of Allah ﷺ, what clothes should we wear when we enter Ihram?” He said: “Do not wear a Shirt (or shirts), or ‘Imamahs, or pants, or Khuffs - unless someone cannot find sandals, in which case he should cut them (the Khuffs) so that they come beneath the ankles — or any garment that has been touched by (dyed with) wars or saffron.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2670
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨٢١٥)، مسند احمد (٢/٥٤) (صحیح )