عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ فرما رہے تھے: پائجامہ اس شخص کے لیے ہے جسے تہبند میسر نہ ہو، اور موزہ اس شخص کے لیے ہے جسے جوتے میسر نہ ہوں ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “I heard the Prophet ﷺ delivering a Khutbah and he said: ‘Pants (are allowed) for one who cannot find an Izar, and Khuffs for one who cannot find sandals to wear in Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2671
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص (احرام کے موقع پر) تہبند نہ پائے تو وہ پائجامہ پہن لے اور جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Whoever cannot find an Izar, let him wear pants, and whoever cannot find sandals, let him wear Khuffs.”
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2672
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں احرام میں کس طرح کے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامہ، نہ ٹوپیاں سوائے اس کے کہ کسی کے پاس جوتے موجود نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں، اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگے ہوں اور محرم عورت نہ نقاب پہنے اور نہ ہی دستانے ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “A man stood up and said: ‘Messenger of Allah ﷺ! What garments do you command us to wear in Ihram?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Do not wear shirts or pants, or ‘Imamahs, or burnouses, or Khuffs - except if someone does not have sandals, in which case let him wear Khuffs that come below the ankles. And do not wear any garment that has been touched by (dyed with) saffron or wars. And women should not cover their faces when in Ihram, or wear gloves.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2673
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ عمامہ، نہ پائجامے پہنو، نہ ٹوپیاں، اور نہ موزے پہنو، البتہ اگر کسی کو جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگی ہو ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that a man asked the Messenger of Allah ﷺ what clothes the Muhrim should wear? The Messenger of Allah ﷺ Said: “Do not wear shirts, or ‘Imamahs, or pants, or burnouses, Or khuffs — except if someone does not have sandals, in which case let him wear Khuffs, and cut them so that they come below the ankles. And do not wear any garment that has been touched by (dyed with) saffron or wars.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2674
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: جب ہم احرام باندھیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامے، نہ ٹوپیاں، نہ موزے، البتہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہو، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں ورس زعفران لگے ہوں۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that a man asked the Messenger of Allah ﷺ what garments we should wear when we enter Ihram. He said: “Do not wear shirts, or pants, or ‘Imamahs, or burnouses, or Khuffs — unless someone does not have any sandals, in which case he should wear Khuffs that come beneath the ankles. And do not wear any garment that has been touched by (dyed with) Wars or saffron.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2675
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو آواز دی اور پوچھا: ہم جب محرم ہوں تو کیا پہنیں؟ آپ نے فرمایا نہ قمیص پہنو، نہ عمامہ (پگڑی) ، نہ پائجامہ، نہ ٹوپی اور نہ موزے البتہ جس کو جوتے میسر نہ ہو تو وہ موزے ٹخنوں سے نیچے پہنے اور اسے نیچے کرلے ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “A man came to the Prophet ﷺ and said: ‘What should we wear when we enter Ihram?’ He said: ‘Do not wear a shirt, or an ‘Imamah, or pants, or a burnous, or Khuffs — unless you cannot find any sandals. If you cannot find any sandals, then wear something that comes beneath the ankles.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2676
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو آواز دی اور اس نے پوچھا: جب ہم محرم ہوں تو کیا پہنیں؟ تو آپ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ عمامے (پگڑیاں) ، نہ ٹوپیاں، نہ پائجامے، نہ موزے البتہ اگر جوتے نہ ہوں تو ایسے موزے پہنو جو ٹخنوں سے نیچے ہوں، اور نہ ورس اور زعفران لگے ہوئے کپڑے پہنو ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “A man came to the Prophet ﷺ and said: ‘What should we wear when we enter Ihram?’ He said: ‘Do not wear shirts, or ‘Imamahs, or burnouses, or pants, or Khuffs — unless there are no sandals; if there are no sandals, then wear Khuffs that come beneath the ankles. And (do not wear) any garment that has been dyed with Wars or saffron, or has been touched by Wars or saffron.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2677
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: احرام میں نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامے (پگڑیاں) نہ ٹوپیاں، نہ موزے ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “I heard the Prophet ﷺ say: ‘Do not wear shirts, or pants, or ‘Imamahs, or burnouses, or Khuffs while in Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2678
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ فرماتے سنا: جب کسی کو تہبند نہ ملے تو پائجامہ پہن لے، اور جب جوتیاں نہ پائے تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘If you cannot find an Izar then wear pants, and if you cannot find sandals then wear Khuffs, but cut them so that they come lower than the ankles.” (Sahih)
صحيح دون وليقطعهما فإنه شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2679
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٧٢ (صحیح) (حدیث میں ” ولیقطعہما “ ” ان چمڑے کے موزوں کو کاٹ دے “ کا لفظ شاذ ہے )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب محرم جوتے نہ پائے تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ said: “If a Muhrim cannot find sandals then let him wear Khuffs, and cut them, so that they come lower than the ankles.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2680
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! احرام میں آپ ہمیں کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ موزے، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہن لے جو ٹخنوں سے نیچے سے ہوں اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس لگا ہو، اور محرمہ عورت نہ نقاب پہنے، اور نہ دستانے ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that a man stood up and said: “Messenger of Allah ﷺ! What garments do you command us to wear in Ihram?” The Messenger of Allah ﷺ said: “Do not wear shirts, or pants, or Khuffs — unless a man does not have any sandals, in which case he may wear Khuffs that come lower than the ankles. And do not wear any garment that has been touched by (dyed with) saffron or Wars. And a woman in Ihram should not cover her face or wear gloves.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2681
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا؟ آپ نے فرمایا: میں نے اپنے سر کی تلبید ١ ؎، اور اپنے ہدی کی تقلید ٢ ؎ کر رکھی ہے، تو میں احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہوجاؤں ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that his sister, Hafsah, said: “I said to the Prophet ﷺ ‘Messenger of Allah ﷺ! Why is it that the people have exited Ihram and you have not exited Ihram following your ‘Umrah?’ He said: ‘I have matted my hair and garlanded my Hadi (sacrificial animal), so I will not exit Ihram until I exit Ihram after Hajj.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2682
Notes · وضاحت
١ ؎: تلبید: بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کو کہتے ہیں تاکہ وہ بکھریں نہیں اور گرد و غبار سے محفوظ رہیں۔ ٢ ؎: قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ یا اور کوئی چیز لٹکانے کو تقلید کہتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ یہ ہدی کا جانور ہے اس کا فائدہ یہ تھا کہ عرب ایسے جانور کو لوٹتے نہیں تھے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو احرام باندھنے کے وقت جس وقت آپ نے احرام باندھنے کا ارادہ کیا اور احرام کھولنے کے وقت اس سے پہلے کہ آپ احرام کھولیں اپنے دونوں ہاتھوں سے خوشبو لگائی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ when he decided to enter Ihram, and when he exited Ihram, before he exited Ihram, with my own hand.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2684
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگائی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ for his Ihram before he entered Ihram, and when he exited Ihram before he circumambulated the House.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2685
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے جس وقت آپ نے احرام کھولا خوشبو لگائی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ for his Ihram before he entered Ihram, and for his exiting Ihram when he exited Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2686
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام کے لیے خوشبو لگائی جس وقت آپ نے احرام باندھا، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی اس کے بعد کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی، اور اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف کریں۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ for his Ihram when he entered Ihram, and for his exiting I when he had stoned Jamrat Al- ‘Aqabah, before he circumambulated the House.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2687
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی، اور آپ کے احرام باندھنے کے لیے خوشبو لگائی جو تمہاری اس خوشبو کے مشابہ نہیں تھی، یعنی یہ خوشبو دیرپا نہ تھی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ for his exiting Ihram, and I put perfume on him for his Ihram, perfume which was not like this perfume of yours” - she meant that it does not last. (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2688
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو کون سی خوشبو لگائی تھی؟ تو انہوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو تھی جو آپ کے احرام باندھتے وقت اور احرام کھولتے وقت میں نے لگائی۔
‘Uthman bin ‘Urwah narrated that his father said: “I said to Aishah (RA): ‘What kind of perfume did you put on the Messenger of Allah ﷺ She said ‘The best kind of perfume, when he entered Ihram and when he exited Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2689
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے جو اچھی سے اچھی خوشبو مل سکتی تھی وہی میں آپ کو احرام باندھتے وقت لگاتی تھی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to put perfume on the Messenger of Allah ﷺ when he entered Ihram, using the best perfume I could find.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2690