میقاتوں سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 23 · 435 hadiths · Page 2 of 22

2673Sunan An Nasai

اگر تہ بند موجود نہ ہو تو اس کو پائجامہ پہن لینا درست ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَا يَجِدُ الْإِزَارَ، وَالْخُفَّيْنِ لِمَنْ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ لِلْمُحْرِمِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ فرما رہے تھے: پائجامہ اس شخص کے لیے ہے جسے تہبند میسر نہ ہو، اور موزہ اس شخص کے لیے ہے جسے جوتے میسر نہ ہوں ۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “I heard the Prophet ﷺ delivering a Khutbah and he said: ‘Pants (are allowed) for one who cannot find an Izar, and Khuffs for one who cannot find sandals to wear in Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2671
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٥ (١٨٤١)، ١٦ (١٨٤٣)، اللباس ١٤ (٥٨٠٤)، ٣٧ (٥٨٥٣)، صحیح مسلم/الحج ١ (١١٧٨)، سنن الترمذی/الحج ١٩ (٨٣٤)، سنن ابن ماجہ/الحج ٢٠ (٢٩٣١)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٥)، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢١، ٢٢٨، ٢٧٩، ٣٣٧)، سنن الدارمی/الحج ٩ (١٨٤٠)، ویأتی عند المؤلف فی ٣٧ (برقم ٢٦٨٠) وفی الزینة ١٠٠ (برقم ٥٣٢٧) (صحیح )
2674Sunan An Nasai

اگر تہ بند موجود نہ ہو تو اس کو پائجامہ پہن لینا درست ہے

أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص (احرام کے موقع پر) تہبند نہ پائے تو وہ پائجامہ پہن لے اور جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Whoever cannot find an Izar, let him wear pants, and whoever cannot find sandals, let him wear Khuffs.”

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2672
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٧٢ (صحیح )
2675Sunan An Nasai

عورت کے واسطے بحالت احرام (چہرہ پر) نقاب ڈالنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ، وَلَا الْوَرْسُ، وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ، وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں احرام میں کس طرح کے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامہ، نہ ٹوپیاں سوائے اس کے کہ کسی کے پاس جوتے موجود نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں، اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگے ہوں اور محرم عورت نہ نقاب پہنے اور نہ ہی دستانے ۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “A man stood up and said: ‘Messenger of Allah ﷺ! What garments do you command us to wear in Ihram?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Do not wear shirts or pants, or ‘Imamahs, or burnouses, or Khuffs - except if someone does not have sandals, in which case let him wear Khuffs that come below the ankles. And do not wear any garment that has been touched by (dyed with) saffron or wars. And women should not cover their faces when in Ihram, or wear gloves.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2673
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ١٣ (١٨٣٨)، سنن ابی داود/المناسک ٣٢ (١٨٢٥)، سنن الترمذی/الحج ١٨ (٨٣٣)، (تحفة الأشراف: ٨٢٧٥)، مسند احمد (٢/١١٩) (صحیح )
2676Sunan An Nasai

بحالت احرام ٹوپی پہننے کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ عمامہ، نہ پائجامے پہنو، نہ ٹوپیاں، اور نہ موزے پہنو، البتہ اگر کسی کو جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگی ہو ۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that a man asked the Messenger of Allah ﷺ what clothes the Muhrim should wear? The Messenger of Allah ﷺ Said: “Do not wear shirts, or ‘Imamahs, or pants, or burnouses, Or khuffs — except if someone does not have sandals, in which case let him wear Khuffs, and cut them so that they come below the ankles. And do not wear any garment that has been touched by (dyed with) saffron or wars.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2674
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٦٧ (صحیح )
2677Sunan An Nasai

بحالت احرام ٹوپی پہننے کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ قَالَ: لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ وَرْسٌ، وَلَا زَعْفَرَانٌ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: جب ہم احرام باندھیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامے، نہ ٹوپیاں، نہ موزے، البتہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہو، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں ورس زعفران لگے ہوں۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that a man asked the Messenger of Allah ﷺ what garments we should wear when we enter Ihram. He said: “Do not wear shirts, or pants, or ‘Imamahs, or burnouses, or Khuffs — unless someone does not have any sandals, in which case he should wear Khuffs that come beneath the ankles. And do not wear any garment that has been touched by (dyed with) Wars or saffron.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2675
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨٢٤٥)، مسند احمد (٢/٧٧)، سنن الدارمی/المناسک ٩ (١٨٣٩) (صحیح )
2678Sunan An Nasai

بحالت احرام پگڑی باندھنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا نَلْبَسُ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ قَالَ: لَا تَلْبَسْ الْقَمِيصَ، وَلَا الْعِمَامَةَ، وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدَ نَعْلَيْنِ فَإِنْ لَمْ تَجِدِ النَّعْلَيْنِ، فَمَا دُونَ الْكَعْبَيْنِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو آواز دی اور پوچھا: ہم جب محرم ہوں تو کیا پہنیں؟ آپ نے فرمایا نہ قمیص پہنو، نہ عمامہ (پگڑی) ، نہ پائجامہ، نہ ٹوپی اور نہ موزے البتہ جس کو جوتے میسر نہ ہو تو وہ موزے ٹخنوں سے نیچے پہنے اور اسے نیچے کرلے ۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “A man came to the Prophet ﷺ and said: ‘What should we wear when we enter Ihram?’ He said: ‘Do not wear a shirt, or an ‘Imamah, or pants, or a burnous, or Khuffs — unless you cannot find any sandals. If you cannot find any sandals, then wear something that comes beneath the ankles.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2676
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٨ (٥٧٩٤)، (تحفة الأشراف: ٧٥٣٥)، مسند احمد (٢/٤، ٦٥) (صحیح )
2679Sunan An Nasai

بحالت احرام پگڑی باندھنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَا نَلْبَسُ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ قَالَ: لَا تَلْبَسْ الْقَمِيصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَنْ لَا يَكُونَ نِعَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ نِعَالٌ، فَخُفَّيْنِ دُونَ الْكَعْبَيْنِ وَلَا ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِوَرْسٍ، أَوْ زَعْفَرَانٍ، أَوْ مَسَّهُ وَرْسٌ، أَوْ زَعْفَرَانٌ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو آواز دی اور اس نے پوچھا: جب ہم محرم ہوں تو کیا پہنیں؟ تو آپ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ عمامے (پگڑیاں) ، نہ ٹوپیاں، نہ پائجامے، نہ موزے البتہ اگر جوتے نہ ہوں تو ایسے موزے پہنو جو ٹخنوں سے نیچے ہوں، اور نہ ورس اور زعفران لگے ہوئے کپڑے پہنو ۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “A man came to the Prophet ﷺ and said: ‘What should we wear when we enter Ihram?’ He said: ‘Do not wear shirts, or ‘Imamahs, or burnouses, or pants, or Khuffs — unless there are no sandals; if there are no sandals, then wear Khuffs that come beneath the ankles. And (do not wear) any garment that has been dyed with Wars or saffron, or has been touched by Wars or saffron.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2677
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٧٤٩)، مسند احمد (٢/٣، ٢٩)، ویأتي برقم: ٢٦٨١ (صحیح )
2680Sunan An Nasai

بحالت احرام موزے پہن لینے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَلْبَسُوا فِي الْإِحْرَامِ الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: احرام میں نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامے (پگڑیاں) نہ ٹوپیاں، نہ موزے ۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “I heard the Prophet ﷺ say: ‘Do not wear shirts, or pants, or ‘Imamahs, or burnouses, or Khuffs while in Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2678
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨١٣٦) (صحیح )
2681Sunan An Nasai

(محرم کے پاس) اگر جوتے موجود نہ ہوں تو موزے پہننا درست ہے

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا لَمْ يَجِدْ إِزَارًا، فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ، وَإِذَا لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ فرماتے سنا: جب کسی کو تہبند نہ ملے تو پائجامہ پہن لے، اور جب جوتیاں نہ پائے تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے ۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘If you cannot find an Izar then wear pants, and if you cannot find sandals then wear Khuffs, but cut them so that they come lower than the ankles.” (Sahih)

صحيح دون وليقطعهما فإنه شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2679
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٧٢ (صحیح) (حدیث میں ” ولیقطعہما “ ” ان چمڑے کے موزوں کو کاٹ دے “ کا لفظ شاذ ہے )
2682Sunan An Nasai

موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹنا

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب محرم جوتے نہ پائے تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے ۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ said: “If a Muhrim cannot find sandals then let him wear Khuffs, and cut them, so that they come lower than the ankles.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2680
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٧٨ (صحیح )
2683Sunan An Nasai

عورت کے واسطے بحالت احرام دستانے پہن لینا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَامَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ لَهُ نَعْلَانِ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا يَلْبَسْ شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ، وَلَا الْوَرْسُ، وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ، وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! احرام میں آپ ہمیں کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ موزے، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہن لے جو ٹخنوں سے نیچے سے ہوں اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس لگا ہو، اور محرمہ عورت نہ نقاب پہنے، اور نہ دستانے ۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that a man stood up and said: “Messenger of Allah ﷺ! What garments do you command us to wear in Ihram?” The Messenger of Allah ﷺ said: “Do not wear shirts, or pants, or Khuffs — unless a man does not have any sandals, in which case he may wear Khuffs that come lower than the ankles. And do not wear any garment that has been touched by (dyed with) saffron or Wars. And a woman in Ihram should not cover her face or wear gloves.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2681
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ١٣ (١٨٣٨ م)، تعلیقًا، (تحفة الأشراف: ٧٤٧٠) (صحیح )
2684Sunan An Nasai

بحالت احرام بالوں کو جمانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أُخْتِهِ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ ؟ قَالَ: إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أُحِلَّ مِنَ الْحَجِّ.

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا؟ آپ نے فرمایا: میں نے اپنے سر کی تلبید ١ ؎، اور اپنے ہدی کی تقلید ٢ ؎ کر رکھی ہے، تو میں احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہوجاؤں ۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that his sister, Hafsah, said: “I said to the Prophet ﷺ ‘Messenger of Allah ﷺ! Why is it that the people have exited Ihram and you have not exited Ihram following your ‘Umrah?’ He said: ‘I have matted my hair and garlanded my Hadi (sacrificial animal), so I will not exit Ihram until I exit Ihram after Hajj.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2682
Notes · وضاحت
١ ؎: تلبید: بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کو کہتے ہیں تاکہ وہ بکھریں نہیں اور گرد و غبار سے محفوظ رہیں۔ ٢ ؎: قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ یا اور کوئی چیز لٹکانے کو تقلید کہتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ یہ ہدی کا جانور ہے اس کا فائدہ یہ تھا کہ عرب ایسے جانور کو لوٹتے نہیں تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٣٤ (١٥٦٦)، ١٠٧ (١٦٩٧)، ١٢٦ (١٧٢٥)، والمغازی ٧٧ (٤٣٩٨)، صحیح مسلم/الحج ٢٥ (١٢٢٩)، سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٨٠٦)، سنن ابن ماجہ/الحج ٧٢ (٣٠٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٠٠)، موطا امام مالک/الحج ٥٨ (١٨٠)، مسند احمد (٦/٢٨٣، ٢٨٤، ٢٨٥) ویأتی عند المؤلف برقم: ٢٧٨٣ (صحیح )
2685Sunan An Nasai

بحالت احرام بالوں کو جمانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِييُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ بالوں کو جمائے ہوئے لبیک پکار رہے تھے۔

It was narrated from Salim that his father said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ entering Ihram with his hair matted.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2683
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٩ (١٥٤٠)، اللباس ٦٩ (٥٩١٥)، صحیح مسلم/الحج ٣ (١١٨٤)، سنن ابی داود/الحج ١٢ (١٧٤٧)، سنن ابن ماجہ/الحج ٧٢ (٣٠٤٧) مختصراً، (تحفة الأشراف: ٦٩٧٦)، مسند احمد (٢/١٢١، ١٣١) ویأتي عند المؤلف ٢٧٤٨ (صحیح )
2686Sunan An Nasai

بوقت احرام خوشبو لگانے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ حِينَ أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ وَعِنْدَ إِحْلَالِهِ قَبْلَ أَنْ يُحِلَّ بِيَدَيَّ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو احرام باندھنے کے وقت جس وقت آپ نے احرام باندھنے کا ارادہ کیا اور احرام کھولنے کے وقت اس سے پہلے کہ آپ احرام کھولیں اپنے دونوں ہاتھوں سے خوشبو لگائی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ when he decided to enter Ihram, and when he exited Ihram, before he exited Ihram, with my own hand.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2684
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٠٩١)، مسند احمد (٦/١٠٦، ١٠٧) (صحیح )
2687Sunan An Nasai

بوقت احرام خوشبو لگانے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگائی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ for his Ihram before he entered Ihram, and when he exited Ihram before he circumambulated the House.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2685
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٨ (١٥٣٩)، صحیح مسلم/الحج ١١٨٩)، سنن ابی داود/المناسک ١١ (١٧٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٥١٨)، موطا امام مالک/الحج ٧ (١٧) (صحیح )
2688Sunan An Nasai

بوقت احرام خوشبو لگانے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے جس وقت آپ نے احرام کھولا خوشبو لگائی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ for his Ihram before he entered Ihram, and for his exiting Ihram when he exited Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2686
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٧٣ (٥٩٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٢٩)، مسند احمد (٦/٢٣٨)، سنن الدارمی/المناسک ١٠ (١٨٤٤) (صحیح )
2689Sunan An Nasai

بوقت احرام خوشبو لگانے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ بَعْدَ مَا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام کے لیے خوشبو لگائی جس وقت آپ نے احرام باندھا، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی اس کے بعد کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی، اور اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف کریں۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ for his Ihram when he entered Ihram, and for his exiting I when he had stoned Jamrat Al- ‘Aqabah, before he circumambulated the House.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2687
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٤٦) (صحیح )
2690Sunan An Nasai

بوقت احرام خوشبو لگانے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عُمَيْرٍ، عَنْ ضَمْرَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْلَالِهِ، وَطَيَّبْتُهُ لِإِحْرَامِهِ طِيبًا لَا يُشْبِهُ طِيبَكُمْ هَذَاتَعْنِي: لَيْسَ لَهُ بَقَاءٌ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی، اور آپ کے احرام باندھنے کے لیے خوشبو لگائی جو تمہاری اس خوشبو کے مشابہ نہیں تھی، یعنی یہ خوشبو دیرپا نہ تھی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ for his exiting Ihram, and I put perfume on him for his Ihram, perfume which was not like this perfume of yours” - she meant that it does not last. (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2688
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٥٢٣) (صحیح )
2691Sunan An Nasai

بوقت احرام خوشبو لگانے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: بِأَطْيَبِ الطِّيبِ عِنْدَ حُرْمِهِ وَحِلِّهِ.

عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو کون سی خوشبو لگائی تھی؟ تو انہوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو تھی جو آپ کے احرام باندھتے وقت اور احرام کھولتے وقت میں نے لگائی۔

‘Uthman bin ‘Urwah narrated that his father said: “I said to Aishah (RA): ‘What kind of perfume did you put on the Messenger of Allah ﷺ She said ‘The best kind of perfume, when he entered Ihram and when he exited Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2689
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٧٩ (٥٩٢٨)، صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٦٥)، مسند احمد (٦/٣٨، ١٣٠، ١٦١، سنن الدارمی/المناسک ١٠ (١٨٤٣) (صحیح )
2692Sunan An Nasai

بوقت احرام خوشبو لگانے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْعُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے جو اچھی سے اچھی خوشبو مل سکتی تھی وہی میں آپ کو احرام باندھتے وقت لگاتی تھی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to put perfume on the Messenger of Allah ﷺ when he entered Ihram, using the best perfume I could find.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2690
Takhrij · تخریج
انظر رقم: ٢٦٨٥ (صحیح )