انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام میں نہ جلب ہے، نہ جنب ہے، اور نہ شغار ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی فرماتے ہیں: اس روایت میں صریح غلطی موجود ہے اور بشر کی روایت صحیح ہے ١ ؎۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There is no bringing, no avoidance and no Shighar in Islam, and whoever robs, he is not one of us.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3336
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں حمید راوی انس رضی الله عنہ سے روایت کرتے، اس اعتبار سے حمید تابعی بن جاتے ہیں جبکہ یہ صحیح نہیں ہے، بشر کی روایت میں یہی حمید اپنے استاد حسن ( بصریٰ ) سے روایت کرتے ہیں اور وہ ( حسن بصری ) عمران بن حصین صحابی سے۔ اس اعتبار سے حمید تبع تابعی ٹھہرتے ہیں۔ امام نسائی کہتے ہیں : یہی صحیح ہے کیونکہ حمید تابعی نہیں بلکہ تبع تابعی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٦٦٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/النکاح ١٦ (١٨٨٥)، مسند احمد (٣/١٦٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے، اور شغار یہ ہے کہ آدمی دوسرے شخص سے اپنی بیٹی کی شادی اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس شخص کے ساتھ کرے۔ اور دونوں ہی بیٹیوں کا کوئی مہر مقرر نہ ہو۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah forbade Ash-Shighar. Ash-Shighar means when a man marries his daughter to another man, on the condition that that man marries his daughter to him, and no dowry is exchanged between them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3337
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شغار سے منع فرمایا ہے عبیداللہ (جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں) کہتے ہیں: شغار یہ تھا کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی دوسرے سے اس شرط پر کرتا تھا کہ دوسرا اپنی بہن کی شادی اس کے ساتھ کر دے (بغیر کسی مہر کے) ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ash-Shighar." (One of the narrators) Ubaidullah said: "Ash-Shighar means when a man gives his daughter in marriage on condition that (the other man) gives him his sister in marriage.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3338
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٧ (١٤١٦)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٦ (١٨٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٦)، مسند احمد (٢/٢٨٦، ٤٣٩، ٤٩٦) (صحیح )
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آئی ہوں کہ اپنے آپ کو آپ کے حوالے کر دوں، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا اور نیچے سے اوپر تک دھیان سے دیکھا۔ پھر آپ نے اپنا سر جھکا لیا (غور فرمانے لگے کہ کیا کریں) ، عورت نے جب دیکھا کہ آپ نے اس کے متعلق (بروقت) کچھ نہیں فیصلہ فرمایا تو وہ (انتظار میں) بیٹھ گئی، اتنے میں آپ کے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اپنے لیے اس عورت کی ضرورت نہیں پاتے تو آپ اس عورت سے میری شادی کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس (بطور مہر دینے کے لیے) کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا نہیں، قسم اللہ کی! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: دیکھو (تلاش کرو) لوہے کی انگوٹھی ١ ؎ ہی مل جائے تو لے کر آؤ، تو وہ آدمی (تلاش میں) نکلا، پھر لوٹ کر آیا اور کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! کوئی چیز نہیں ملی حتیٰ کہ لوہے کہ انگوٹھی بھی نہیں ملی، میرے پاس بس میرا یہی تہبند ہے، میں آدھی تہبند اس کو دے سکتا ہوں، سہل (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: اس کے پاس چادر نہیں تھی)، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے تہبند سے کیا کرسکتے ہو؟ تم پہنو گے تو وہ نہیں پہن سکتی اور وہ پہنے گی تو تم نہیں پہن سکتے ، وہ آدمی بیٹھ گیا اور دیر تک بیٹھا رہا، پھر (مایوس ہو کر) اٹھ کر چلا، رسول اللہ ﷺ نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھا تو اسے حکم دے کر بلا لیا، جب وہ آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے کہا: فلاں فلاں سورت، اس نے گن کر بتایا۔ آپ نے کہا: کیا تم اسے زبانی (روانی سے) پڑھ سکتے ہو ، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: (جاؤ) جو تمہیں قرآن یاد ہے اسے یاد کرا دو اس کے عوض میں نے تمہیں اس کا مالک بنادیا (یعنی میں نے اس سے تمہاری شادی کردی) ۔
It was narrated from Sahl bin Sad that a woman came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "O Messenger of Allah, I have come to offer myself to you (in marriage)." The Messenger of Allah looked her up and down then lowered his head. When the woman saw that he was not saying anything about her, she sat down. A man among his Companions stood up and said: "O Messenger of Allah, if you do not want to marry her, then marry me to her." He said: "Do you have anything?" He said: "No, by Allah, I do not have anything." He said: "Look, even if it is only an iron ring." He went, then he came back and said: "No, by Allah, O Messenger of Allah, not even an iron ring, but this is my Izar (lower garment)" - Sahl said: "He did not have a Rida (upper garment)" - "she can have half of it." The Messenger of Allah said: "What could she do with your Izar? If you wear it, she will not have any of it, and if she wears it, you will not have any of it." The man sat down for a long time, then he got up, and the Messenger of Allah saw him leaving, so he ordered that he be called back. When he came, he said: "What do you know of the Quran?" He said: "I know Surah such-and-such, and Surah such-and-such," and listed them. He said: "Can you recite them by heart?" He said: "Yes." He said: "Then I marry you to her on the basis of what you know of the Quran.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3339
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ ؓ نے ام سلیم ؓ سے نکاح کیا، تو ان کے درمیان مہر (ابوطلحہ کا) اسلام قبول کرلینا طے پایا تھا، ام سلیم ابوطلحہ سے پہلے ایمان لائیں، ابوطلحہ نے انہیں شادی کا پیغام دیا، تو انہوں نے کہا: میں اسلام لے آئی ہوں (میں غیر مسلم سے شادی نہیں کرسکتی) ، آپ اگر اسلام قبول کرلیں تو میں آپ سے شادی کرسکتی ہوں، تو انہوں نے اسلام قبول کرلیا، اور یہی اسلام ان دونوں کے درمیان مہر قرار پایا۔
It was narrated that Anas said: "Abu Talhah married Umm Sulaim and the dowry between them was Islam. Umm Sulaim became Muslim before Abu Talhah, and he proposed to her but she said: I have become Muslim; if you become Muslim I will marry you. So he became Muslim, and that was the dowry between them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3340
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ ؓ نے (ان کی والدہ) ام سلیم ؓ کو شادی کا پیغام دیا تو انہوں نے انہیں جواب دیا: قسم اللہ کی، ابوطلحہ! آپ جیسوں کا پیغام لوٹایا نہیں جاسکتا، لیکن آپ ایک کافر شخص ہیں اور میں ایک مسلمان عورت ہوں، میرے لیے حلال نہیں کہ میں آپ سے شادی کروں، لیکن اگر آپ اسلام قبول کرلیں، تو یہی آپ کا اسلام قبول کرلینا ہی میرا مہر ہوگا اس کے سوا مجھے کچھ اور نہیں چاہیئے ١ ؎ تو وہ اسلام لے آئے اور یہی چیز ان کی مہر قرار پائی۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے کسی عورت کے متعلق کبھی نہیں سنا جس کی مہر ام سلیم ؓ کی مہر اسلام سے بڑھ کر اور باعزت رہی ہو۔ ابوطلحہ ؓ نے ان سے صحبت و قربت اختیار کی اور انہوں نے ان سے بچے جنے۔
It was narrated that Anas said: "Abu Talhah proposed marriage to Umm Sulaim and she said: By Allah, a man like you is not to be rejected, O Abu Talhah, but you are a disbeliever and I am a Muslim, and it is not permissible for me to marry you. If you become Muslim, that will be my dowry, and I will not ask you for anything else. So he became Muslim and that was her dowry." (one of the narrators) Thabit said: "I have never heard of a woman whose dowry was more precious than Umm Sulaim (whose dowry was) Islam. And he consummated the marriage with her, and she bore him a child.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3341
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسلام لانے کے بعد مہر معجل کا مطالبہ نہیں کروں گی۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (غزوہ خیبر کے موقع پر قید ہو کر آنے والی یہودی سردار حي بن اخطب کی بیٹی) صفیہ ؓ کو آزاد کیا، اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا، حدیث کے الفاظ راوی حدیث محمد کے ہیں۔
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah manumitted Safiyyah and made her freedom her dowry.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3343
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین لوگ ایسے ہیں جنہیں دوہرا اجر و ثواب ملے گا ١ ؎، ایک وہ آدمی جس کے پاس لونڈی تھی اس نے اسے ادب وتمیز سکھائی اور بہترین طور و طریقہ بتایا، اسے تعلیم دی اور اچھی تعلیم دی پھر اسے آزاد کردیا، اور اس سے شادی کرلی۔ دوسرا وہ غلام جو اپنے آقاؤں کا صحیح صحیح حق الخدمت ادا کرے، اور تیسرا وہ جو اہل کتاب میں سے ہو اور ایمان لے آئے (ایسے لوگوں کو دوگنا ثواب ملے گا) ۔
It was narrated that Abu Musa said: "The Messenger of Allah said: There are three who will be given a twofold reward: A man who has a slave woman whom he disciplines and disciplines her well, and teaches and teaches her well, then he manumits her and marries her; a slave who fulfills his duty toward Allah and toward his masters; and a believer from among the People of the Book.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3344
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کی زندگی کے ہر عمل کا انہیں دوہرا اجر ملے گا یا ان حالات میں جو بھی عمل ان سے صادر ہوگا اس کا انہیں دوہرا اجر ملے گا۔
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے (ام المؤمنین) عائشہ ؓ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانکحواء ما طاب لکم من النساء اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے، تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کرلو (النساء: ٣) کے بارے میں سوال کیا تو عائشہ ؓ نے کہا: بھانجے! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ ساجھی ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو، اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہر ادا کیے نکاح کرنا چاہتا ہو یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو، چناچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا۔ اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کرسکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلیں۔ عروہ کہتے ہیں: عائشہ ؓ نے کہا: لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان یتیم بچیوں کے متعلق مسئلہ پوچھا تو اللہ نے آیت ويستفتونک في النساء قل اللہ يفتيكم فيهن سے لے کر وترغبون أن تنکحوهن آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئیے کہ خود اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے، اور قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق تم نہیں دیتے، اور انہیں اپنے نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو (النساء: ١٢٧) تک نازل فرمائی۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں: پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے وما يتلى عليك في الکتاب جو فرمایا ہے اس سے پہلی آیت: وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانکحواء ما طاب لکم من النساء مراد ہے۔ اور دوسری آیت میں فرمایا: وترغبون أن تنکحوهن تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو یتیم لڑکی تمہاری نگہداشت و پرورش میں ہوتی ہے اور کم مال والی اور کم خوبصورتی والی ہوتی ہے اسے تو تم نہیں چاہتے تو اس کی بنا پر تمہیں ان یتیم لڑکیوں سے بھی شادی کرنے سے روک دیا گیا ہے جن کا مال پانے کی خاطر تم ان سے شادی کرنے کی خواہش رکھتے ہو۔
Urwah bin Az-Zubair narrated that he asked Aishah about the saying of Allah, the Mighty and Sublime: "And if you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls then marry (other) women of your choice." She said: "O son of my sister, this refers to a female orphan who is in the care of her guardian, and her wealth is joined to his, and he is attracted to her wealth and her beauty. So her guardian wants to marry her without being fair with regard to her dowry, and without giving her what someone else would give her. So they were forbidden to marry them unless they were fair to them and gave them the highest possible dowry that is customarily given, and they were commanded to marry other women of their choice." Urwah said: "Aishah said: Then later on, Allah, the Mighty and Sublime, revealed concerning them: They ask your legal instruction concerning women, say: Allah instructs you about them, and about what is recited unto you in the Book concerning the orphan girls whom you give not the prescribed portions and yet whom you desire to marry. Aishah said: What Allah, Most High, mentioned here that is recited in the Book is the first Verse in which it says: And if you fear that you shall not be able to deal justly with orphan girls then marry (other) women of your choice. Aishah said: What is referred to in the other Verse -and yet whom you desire to marry- is the desire of one of you not to marry orphan girl who is under his care if she is lacking in wealth and beauty. So they were forbidden to marry those orphan women to whose wealth they were attracted unless they were fair, because of their desire not to marry (those who were lacking in wealth and beauty).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3346
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اس (یعنی مہر) کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بارہ اوقیہ اور ایک نش ١ ؎ کا مہر باندھا جس کے پانچ سو درہم ہوئے۔
It was narrated that Abu Salamah said: "I asked Aishah (RA) about that and she said: The Messenger of Allah got married (and married his daughters) for twelve Uqiyah and a Nashsh" which is five hundred Dirhams.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3347
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک نش بیس درہم کا ہوتا ہے، یا اس سے ہر چیز کا نصف مراد ہوتا ہے۔
ابوالعجفاء کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا: لوگو سن لو عورتوں کے مہروں میں غلو نہ کرو کیونکہ اگر یہ زیادتی دنیا میں عزت کا باعث اور اللہ کے نزدیک پرہیزگاری کا سبب ہوتی تو نبی اکرم ﷺ اس کے سب سے زیادہ حقدار تھے، رسول اللہ ﷺ نے نہ اپنی کسی بیوی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ رکھا اور نہ ہی آپ کی کسی بیٹی کا اس سے زیادہ رکھا گیا، آدمی اپنی بیوی کا مہر زیادہ ادا کرتا ہے جس سے اس کے دل میں نفرت و عداوت پیدا ہوجاتی ہے یہاں تک کہ وہ کہنے لگتا ہے کہ میں تو تمہاری وجہ سے مصیبت میں پھنس گیا۔ ابوالعجفاء کہتے ہیں میں خالص عربی النسل لڑکا نہ تھا اس لیے میں عرق القربہ کا محاورہ سمجھ نہ سکا۔ عمر ؓ نے دوسری بات یہ بتائی کہ جب کوئی شخص تمہاری لڑائیوں میں مارا جاتا ہے یا مرجاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں: وہ شہید کی حیثیت سے قتل ہوا یا شہادت کی موت مرا، جب کہ اس کا امکان موجود ہے کہ اس نے اپنی سواری کے پیچھے یا پہلو میں سونا چاندی لاد رکھا ہے اور مجاہدین کے ساتھ نکلنے سے اس کا مقصود تجارت ہو۔ تو تم ایسا نہ کہو بلکہ اس طرح کہو جس طرح کہ نبی کریم ﷺ نے کہا ہے: جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے یا مرجائے تو وہ جنت میں جائے گا۔
It was narrated that Abu Al-Ajfa said: "Umar bin Al-Khattab said: Do not go to extremes with regard to the dowries of women, for if that were a sign of honor and dignity in this world, or a sign of piety before Allah, the Mighty and Sublime, then Muhammad would have done that before you. But he did not give any of his wives, and none of his daughters were given, more than twelve Uqiyyah. A man may increase the dowry until he feels resentment against her and says: You cost me everything I own (Alaqul-Qirbah)" "And I was a man born among the Arabs, but I did not know the meaning of Alaqul-Qirbah and others of you are saying -about those killed in this or that battle of yours, or who died: So-and-so was martyred or so and so died as a martyr. While perhaps he merely overloaded the backside of his beast, or lined his saddle with gold or silver seeking trade. So do not say that, rather say as the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever is killed in the cause of Allah, or dies, then he is in Paradise.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3349
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس وقت نکاح کیا جب وہ سر زمین حبشہ میں تھیں، ان کی شادی نجاشی بادشاہ نے کرائی اور ان کا مہر چار ہزار (درہم) مقرر کیا۔ اور اپنے پاس سے تیار کر کے انہیں شرحبیل بن حسنہ ؓ کے ساتھ (رسول اللہ ﷺ کے پاس) بھیج دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس (حبشہ میں) کوئی چیز نہ بھیجی، رسول اللہ ﷺ کی (دوسری) بیویوں کا مہر چار سو درہم تھا۔
It was narrated from Umm Habibah that the Messenger of Allah married her when she was in Ethiopia. An-NajaShi performed the marriage for her and gave her a dowry of four thousand, and he fitted her out from his own wealth, and sent her with Shurahbil bin Hasanah. The Messenger of Allah did not send her anything, and the dowry of his wives was four hundred Dirhams.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3350
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو ان پر زردی کا اثر تھا، رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ انہوں نے ایک انصاری عورت سے شادی کرلی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کتنا مہر دیا ہے اسے؟ انہوں نے کہا: ایک نوا ۃ (کھجور کی گٹھلی) برابر سونا ١ ؎ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ولیمہ ٢ ؎ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that Abdur-Rahman bin Awf came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) with traces of yellow perfume on him. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) asked him (about that) and he told him that he had married a woman from among the Ansar. The Messenger of Allah said: "How much did you give her?" He said: "A Nawah (five Dirhams) of gold." The Messenger of Allah said: "Give a Walimah (wedding feast) even if it is with one sheep.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3351
Notes · وضاحت
١ ؎: اہل حساب کی اصطلاح میں نوا ۃ پانچ درہم کے وزن کو کہتے ہیں۔ ٢ ؎: یہ بات آپ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کی مالی حیثیت دیکھ کر کہی تھی کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ضرور ہو اس سے اس بات پر استدلال درست نہیں کہ ولیمہ میں گوشت ضروری ہے کیونکہ آپ ﷺ نے صفیہ رضی الله عنہا کے ولیمہ میں ستو اور کھجور ہی پر اکتفا کیا تھا۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا اس وقت میرے چہرے سے شادی کی بشاشت و خوشی ظاہر تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے، آپ نے پوچھا: اسے تم نے کتنا مہر دیا ہے؟ میں نے کہا نوا ۃ (کھجور کی گٹھلی) کے وزن برابر سونا۔
Abdur-Rahman bin Awf said: "The Messenger of Allah saw me looking cheerful as I had just got married." I said: "I have gotten married to a woman of the Ansar." He said: "How much did you give her as a dowry?" He said: "A Nawah (five Dirhams) of gold.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3352
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس عورت سے نکاح مہر پر کیا گیا ہو یا (مہر کے علاوہ) اسے عطیہ دیا گیا ہو یا نکاح سے پہلے عورت کو کسی چیز کے دینے کا وعدہ کیا گیا ہو تو یہ سب چیزیں عورت کا حق ہوں گی (اور وہ پائے گی) ۔ اور جو چیزیں نکاح منعقد ہوجانے کے بعد ہوں گی تو وہ جسے دے گا چیز اس کی ہوگی۔ اور آدمی اپنی بیٹی اور بہن کے سبب عزت و اکرام کا مستحق ہے ، (حدیث کے) الفاظ (راوی حدیث) عبداللہ بن محمد بن تمیم کے ہیں۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Amr: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whatever is given as a dowry, or gift or is promised her before the marriage belongs to her. Whatever is given after the marriage belongs to the one to whom it was given. And the most deserving for which a (man) is to be honored is (when marrying off) his daughter or sister." This is the wording of Abdullah (one of the narrators).
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3353
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٦ (٢١٢٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤١ (١٩٥٥)، (تحفة الأشراف: ٨٧٤٥)، مسند احمد (٢/١٨٢) حسن) (البانی نے ابن جریج کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، حالاں کہ نسائی کی ایک سند میں ابن جریج کی ” تحدیث “ موجود ہے )
علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے سامنے ایک ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا گیا جس نے ایک عورت سے شادی تو کی لیکن اس کا مہر متعین نہ کیا اور اس سے خلوت سے پہلے مرگیا؟ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: لوگوں سے پوچھو کہ کیا تم لوگوں کے سامنے (رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں) ایسا کوئی معاملہ پیش آیا ہے؟ لوگوں نے کہا: عبداللہ! ہم کوئی ایسی نظیر نہیں پاتے۔ تو انہوں نے کہا: میں اپنی عقل و رائے سے کہتا ہوں اگر درست ہو تو سمجھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ اسے مہر مثل دیا جائے گا ١ ؎، نہ کم اور نہ زیادہ، اسے میراث میں اس کا حق و حصہ دیا جائے گا اور اسے عدت بھی گزارنی ہوگی۔ (یہ سن کر) اشجع (قبیلے کا) ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ہمارے یہاں کی ایک عورت بروع بنت واشق ؓ کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا، اس عورت نے ایک شخص سے نکاح کیا، وہ شخص اس کے پاس (خلوت میں) جانے سے پہلے مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے خاندان کی عورتوں کی مہر کے مطابق اس کی مہر کا فیصلہ کیا اور (بتایا کہ) اسے میراث بھی ملے گی اور عدت بھی گزارے گی۔ (یہ سن کر) عبداللہ بن مسعود نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے (اور خوش ہو کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کا فیصلہ صحیح ہوا) اور اللہ اکبر کہا (یعنی اللہ کی بڑائی بیان کی) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اسود کا ذکر زائدہ کے سوا کسی نے نہیں کیا ہے۔
It was narrated that Alqamah and Al-Aswad said: "A man was brought to Abdullah who had married a woman without naming a dowry for her, then he died before consummating the marriage with her. Abdullah said: Ask whether they can find any report about that. They said: O Abu Abdur-Rahman, we cannot find any report about that. He said: I will say what I think, and if it is correct then it is from Allah. She should have a dowry like that of her peers and no less, with no injustice, and she may inherit from him, and she has to observe the Iddah. A man from Ashja stood up and said: "The Messenger of Allah passed a similar judgment among us concerning a woman called Birwa bint Washiq. She married a man who died before consummating the marriage with her, and the Messenger of Allah ruled that she should be given a dowry like that of her peers, and she could inherit, and she had to observe the Iddah. Abdullah raised his hands and said the Takbir.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3354
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے کنبے اور قبیلے کی عورتوں کا جو مہر ہوتا ہے اسی اعتبار سے اس کا مہر بھی مقرر کر کے دیا جائے گا۔
علقمہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے سامنے ایک ایسی عورت کا معاملہ پیش کیا گیا جس سے ایک شخص نے شادی کی اور اس سے خلوت سے پہلے مرگیا، اور اس کی مہر بھی متعین نہ کی تھی (تو اس کے بارے میں کیا فیصلہ ہوگا؟ ) لوگ ان کے پاس اس مسئلہ کو پوچھنے کے لیے تقریباً مہینہ بھر سے آتے جاتے رہے، مگر وہ انہیں فتویٰ نہ دیتے۔ پھر ایک دن فرمایا: میری سمجھ میں آتا ہے کہ اس عورت کا مہر اسی کے گھر و خاندان کی عورتوں جیسا ہوگا، نہ کم ہوگا، اور نہ ہی زیادہ، اسے میراث بھی ملے گی اور اسے عدت میں بھی بیٹھنا ہوگا، (یہ سن کر) معقل بن سنان اشجعی ؓ نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے بروع بنت واشق ؓ کے معاملے میں ایسا ہی فیصلہ دیا تھا جیسا آپ نے دیا ہے۔
It was narrated from Abdullah that a woman was brought to him who had married a man then he had died without naming any dowry for her and without consummating the marriage with her. They kept coming to him for nearly a month, and he did not issue any ruling to them. Then he said: "I think that she should have a dowry like that of her peers no less, with no injustice and she may inherit from him and she has to observe the Iddah." Maqil bin Sinan Al-Ashjai testified: "The Messenger of Allah passed a similar judgment concerning Birwa bint Washiq.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3355