آزاد کرنے کو مہر مقرر کر کے نکاح کرنے سے متعلق
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ، أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا مَهْرَهَا، وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (غزوہ خیبر کے موقع پر قید ہو کر آنے والی یہودی سردار حي بن اخطب کی بیٹی) صفیہ ؓ کو آزاد کیا، اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا، حدیث کے الفاظ راوی حدیث محمد کے ہیں۔
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah manumitted Safiyyah and made her freedom her dowry.