نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح سے متعلق فرمان اور ازواج مطہرات اور ان چیزوں کے بارے میں جو کہ اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حلال فرمائی لیکن لوگوں کے واسطے حلال نہیں کیا تاکہ یہ بات ظاہر ہو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساری مخلوق پر بزرگی و فضیلت ہے۔
عطا کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عباس ؓ کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ ؓ کے جنازے میں گئے، تو آپ نے کہا: یہ میمونہ ؓ ہیں، تم ان کا جنازہ نہایت سہولت کے ساتھ اٹھانا، اسے ہلانا نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس نو بیویاں تھیں۔ آپ ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر کرتے تھے، اور ایک کے لیے نہیں کرتے تھے ١ ؎۔
Narrated Ata: It was narrated that Ata said: "We attended the funeral of Maimunah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), with Ibn Abbas in Sarif. Ibn Abbas said: This is Maimunah; when you lift up her bier, do not rock it nor shake it. The Messenger of Allah had nine wives and he used to give a share of his time to eight of them and not to one.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3196
Notes · وضاحت
١ ؎: جن کے لیے باری مقرر نہیں کرتے تھے وہ سودہ رضی الله عنہا ہیں انہوں نے اپنی باری عائشہ رضی الله عنہا کو ہبہ کردی تھی۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح سے متعلق فرمان اور ازواج مطہرات اور ان چیزوں کے بارے میں جو کہ اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حلال فرمائی لیکن لوگوں کے واسطے حلال نہیں کیا تاکہ یہ بات ظاہر ہو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساری مخلوق پر بزرگی و فضیلت ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اس حال میں کہ آپ کے پاس نو بیویاں تھیں، آپ ان کے پاس ان کی باری کے موافق جایا کرتے تھے سوائے سودہ کے کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات عائشہ ؓ کے لیے وقف کردیا تھا۔
Narrated Ibn Abbas: It was narrated that Ibn Abbas said: "When the Messenger of Allah died he had nine wives; he used to be intimate with all of them except one, who had given her day and night to Aishah.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3197
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح سے متعلق فرمان اور ازواج مطہرات اور ان چیزوں کے بارے میں جو کہ اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حلال فرمائی لیکن لوگوں کے واسطے حلال نہیں کیا تاکہ یہ بات ظاہر ہو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساری مخلوق پر بزرگی و فضیلت ہے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نو بیویاں تھیں، آپ ﷺ ان کے پاس ایک ہی رات میں جایا کرتے تھے ١ ؎۔
Narrated Anas: Anas narrated that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to go around to his wives in a single night, and at that time he had nine wives.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3198
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس وقت کی بات ہے جب تقسیم واجب نہیں ہوئی تھی یا ایسا اس وقت ہوتا تھا جب آپ سفر سے واپس ہوتے، یہ بھی ممکن ہے کہ تقسیم کا دور ختم ہونے کے بعد دوسرا دور شروع ہونے سے قبل ایسا کرتے رہے ہوں یا جن کے یہاں باری رہتی تھی ان کی اجازت سے ایسا ہوتا رہا ہو۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح سے متعلق فرمان اور ازواج مطہرات اور ان چیزوں کے بارے میں جو کہ اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حلال فرمائی لیکن لوگوں کے واسطے حلال نہیں کیا تاکہ یہ بات ظاہر ہو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساری مخلوق پر بزرگی و فضیلت ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں ان عورتوں سے شرم کرتی تھی ١ ؎ جو اپنی جان نبی اکرم ﷺ کو ہبہ کردیتی تھیں چناچہ میں کہتی تھی: کیا آزاد عورت اپنی جان (مفت میں) ہبہ کردیتی ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے، اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے (الاحزاب: ٥١) اس وقت میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا رب آپ کی خواہش کو جلد پورا کرتا ہے۔
Narrated Aishah: It was narrated that Aishah (RA) said: "I used to feel jealous of those (women) who offered themselves (in marriage) to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and I said: Would a free woman offer herself? Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: You can postpone whom you will of them, and you may receive whom you will. I said: By Allah, I see that your Lord is quick to respond to your wishes.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3199
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کیلئے باعث عیب سمجھتی تھی کہ وہ اپنے آپ کو ہبہ کریں۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح سے متعلق فرمان اور ازواج مطہرات اور ان چیزوں کے بارے میں جو کہ اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حلال فرمائی لیکن لوگوں کے واسطے حلال نہیں کیا تاکہ یہ بات ظاہر ہو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساری مخلوق پر بزرگی و فضیلت ہے۔
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں قوم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کے لیے اپنے آپ کو ہبہ کرتی ہوں، میرے متعلق آپ کی جیسی رائے ہو کریں، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا (اللہ کے رسول! ) اس عورت سے میرا نکاح کرا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: جاؤ (بطور مہر) کوئی چیز ڈھونڈھ کرلے آؤ اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ، تو وہ گیا لیکن کوئی چیز نہ پایا حتیٰ کہ (معمولی چیز) لوہے کی انگوٹھی بھی اسے نہ ملی، آپ ﷺ نے کہا: کیا تمہیں قرآن کی سورتوں میں سے کچھ یا د ہے؟ اس نے کہا: ہاں، سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اس کا نکاح اس عورت سے قرآن کی ان سورتوں کے عوض کرا دی جو اسے یاد تھیں۔
It was narrated that Sahl bin Sad said: "I was among the people when a woman said: I offer myself (in marriage) to you, O Messenger of Allah, see what you think of me. A man stood up and said: Marry me to her. He said: Go and find (something), even if it is an iron ring. So he went, but he could not find anything, not even an iron ring. So the Messenger of Allah said: Do you have (memorized) any surahs of the Quran? He said: Yes. So he married him to her on the basis of what he knew of surahs of the Quran.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3200
جو کام خداوند قدوس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقام بلند فرمانے کے واسطے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فرض فرمائے اور عام لوگوں کے واسطے حرام فرمائے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اس وقت تشریف لائے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ آپ اپنی ازواج کو (دو بات میں سے ایک کو اپنا لینے کا) اختیار دیں۔ اس کی ابتداء رسول اللہ ﷺ نے (سب سے پہلے) میرے پاس آ کر کی۔ آپ نے فرمایا: میں تم سے ایک بات کا ذکر کرتا ہوں لیکن جب تک تم اپنے والدین سے مشورہ نہ کرلو جواب دینے میں جلدی نہ کرنا ۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: حالانکہ آپ کو معلوم تھا کہ میرے والدین آپ ﷺ سے علیحدگی اختیار کرلینے کا مشورہ اور حکم (کبھی بھی) نہ دیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا: (یعنی یہ آیت پڑھی ) يا أيها النبي قل لأزواجک إن کنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين أمتعکن اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیاوی زندگی، دنیاوی زیب و زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں، اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں (الاحزاب: ٢٨) میں نے کہا: اس سلسلہ میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ (مجھے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں) کیونکہ میں اللہ کو، اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر (جنت) کو چاہتی ہوں (یہی میرا فیصلہ ہے) ١ ؎۔
Narrated Aishah (RA): It was narrated from Aishah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), that the Messenger of Allah ﷺ came to her when Allah commanded him to give his wives the choice. Aishah said: "The Messenger of Allah ﷺ started with me and said: I am going to tell you something, but you do not have to rush until you consult your parents." She said: "He knew that my parents would not tell me to leave him." Then the Messenger of Allah ﷺ told what Allah said: O Prophet! Say to your wives: If you desire the life of this world, and its glitter, then come! I will make a provision for you and set you free in a handsome manner. "I said: Do I need to consult my parents about this? I choose Allah and His Messenger, and the abode of the Hereafter.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3201
جو کام خداوند قدوس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقام بلند فرمانے کے واسطے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فرض فرمائے اور عام لوگوں کے واسطے حرام فرمائے؟
جو کام خداوند قدوس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقام بلند فرمانے کے واسطے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فرض فرمائے اور عام لوگوں کے واسطے حرام فرمائے؟
جو کام خداوند قدوس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقام بلند فرمانے کے واسطے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فرض فرمائے اور عام لوگوں کے واسطے حرام فرمائے؟
جو کام خداوند قدوس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقام بلند فرمانے کے واسطے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فرض فرمائے اور عام لوگوں کے واسطے حرام فرمائے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ آپ کی وفات نہ ہوئی جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال نہ کردیا کہ آپ جتنی عورتوں سے چاہیں نکاح کرلیں ١ ؎۔
Narrated Aishah: It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ did not die until Allah permitted him to marry whatever women he wanted.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3205
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے یہ آیت نازل ہوئی لا يحل لک النسآئ من بعد مگر یہ حکم بعد میں انا أحللنا لك أزواجک والی آیت سے منسوخ ہوگئی۔
علقمہ کہتے ہیں کہ میں ابن مسعود ؓ کے ساتھ تھا اور وہ عثمان ؓ عنہ کے پاس تھے تو عثمان ؓ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نوجوانوں (کی ایک ٹولی) کے پاس پہنچے اور (ان سے) کہا: جو تم میں مالدار ہو ١ ؎ تو اسے چاہیئے کہ وہ شادی کرلے کیونکہ اس سے نگاہ نیچی رکھنے میں زیادہ مدد ملتی ہے ٢ ؎، اور نکاح کرلینے سے شرمگاہ کی زیادہ حفاظت ہوتی ہے ٣ ؎، اور جو مالدار نہ ہو بیوی کے کھانے پینے کا خرچہ نہ اٹھا سکتا ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ اس کے لیے روزہ شہوت کا توڑ ہے ٤ ؎، (اس حدیث میں فتی ۃ کا لفظ آیا ہے، اس کے متعلق) ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس کا مفہوم جیسا میں سمجھنا چاہتا تھا سمجھ نہ سکا۔
Narrated Alqamah: It was narrated that Alqamah said: "I was with Ibn Masud while he was with Uthman (RA), and Uthman said: The Messenger of Allah came out to some fityah (young men) - Abu AbdurRahman said, I did not understand (the word) fityah as I would want- and said: Whoever among you can afford it, let him get married, for it is more effective in lowering the gaze and guarding chastity, and whoever cannot, then fasting will be a restraint (wija) for him.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3206
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مہر اور نان و نفقہ دینے کی طاقت رکھتا ہو۔ ٢ ؎: یعنی پرائی عورت کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے کی حاجت نہیں رہتی۔ ٣ ؎: زنا و بدکاری میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ ٤ ؎: اس سے شہوانیت دبتی اور کمزور ہوجاتی ہے۔
علقمہ سے روایت ہے کہ عثمان ؓ عنہ نے ابن مسعود ؓ سے کہا: اگر تمہیں کسی نوجوان عورت سے شادی کی خواہش ہو تو میں تمہاری اس سے شادی کرا دوں؟ تو عبداللہ بن مسعود ؓ نے علقمہ کو بلایا (اور ان کی موجودگی میں) حدیث بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص بیوی کو نان و نفقہ دے سکتا ہو اسے شادی کر لینی چاہیئے۔ کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ کرنے کا ذریعہ ہے اور جو شخص نان و نفقہ دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے کیونکہ وہ اس کا توڑ ہے (اس سے نفس کمزور ہوتا ہے) ١ ؎۔
Narrated Alqamah: It was narrated from Alqamah, that Uthman (RA) said to Ibn Masud: "Shall I arrange for you to marry a young girl?" Abdullah called Alqamah and he told the people that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever among you can afford it, let him get married, for it is more effective in lowering the gaze and guarding chastity. And whoever cannot afford it, then let him fast, for it will be a restraint for him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3207
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا ابن مسعود رضی الله عنہ نے آپ کی اس پیشکش کا شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی شادی پر ابھارا ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے مگر وہ نوجوانوں کے لیے ہے، اور مجھے اب شادی کی خواہش نہ رہی۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم (نوجوانوں) سے فرمایا: جو شخص بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہوا سے شادی کر لینی چاہیئے اور جو اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے، کیونکہ وہ اس کے لیے توڑ ہے، یعنی روزہ آدمی کی شہوت کو دبا اور کچل دیتا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں اسود راوی کا ذکر نہیں ہے۔
Narrated Alqamah: It was narrated from Alqamah and Al-Aswad that Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ said to us: Whoever among you can afford it, let him get married, and whoever cannot then he should fast, for it will be a restraint (wija) for him." Abu Abdur-Rahman said: (The mention of) Al-Aswad in this Hadith is not preserved.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3208
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم نوجوانوں سے کہا: اے نوجوانو! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ کا بار اٹھا سکتا ہو، اسے شادی کر لینی چاہیئے، کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور جو نکاح کی ذمہ داریاں نہ نبھا سکتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ روزہ اس کے لیے شہوت کا توڑ ہے ۔
Narrated Abdullah: It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah said to us: O young men, whoever among you can afford it, let him get married, for it is more effective in lowering the gaze and guarding chastity, and whoever cannot then he should fast, for it will be a restraint (wija) for him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3209
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم نوجوانوں سے فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھے اسے شادی کر لینی چاہیئے ، اور (اس سے آگے) اوپر گزری ہوئی حدیث بیان کی۔
Narrated Abdullah: It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ said to us: O young men, whoever among you can afford it, let him get married," and he quoted the same Hadith.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3210
علقمہ کہتے ہیں کہ میں منی میں عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ جا رہا تھا کہ ان سے عثمان ؓ عنہ کی ملاقات ہوگئی تو وہ ان سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے۔ اور کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا میں آپ کی شادی ایک نوجوان لڑکی سے نہ کرا دوں؟ توقع ہے وہ آپ کو آپ کے ماضی کی بہت سی باتیں یاد دلا دے گی، تو عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: آپ مجھ سے یہ بات آج کہہ رہے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ یہ بات ہم سے بہت پہلے اس طرح کہہ چکے ہیں: اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ ادا کرنے کی طاقت رکھے تو اس کو نکاح کرلینا چاہیئے ۔
Narrated Alqamah: It was narrated that Alqamah said: "I was walking with Abdullah in Mina and he was met by Uthman who stood with him and spoke with him. He said: O Abu Abdur-Rahman! Shall I not marry you to a young girl? Perhaps she will remind you of when you were younger? Abdullah said: As you say that (it reminds me that) the Messenger of Allah said to us: O young men, whoever among you can afford it, let him get married.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3211
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون ؓ کو مجرد (غیر شادی شدہ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا، اور اگر آپ انہیں اس کی اجازت دیتے تو ہم خصی ہوجاتے ١ ؎۔
Narrated Sad bin Abi Waqqas: It was narrated that Sad bin Abi Waqqas said: "The Messenger of Allah forbade Uthman to be celibate. If he had given him permission we would have castrated ourselves.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3212
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نکاح و شادی بیاہ کے مراسم سے علاحدہ ہو کر صرف عبادت الٰہی میں مشغول رہتے، اور ہم اپنے آپ کو ایسا کرلیتے کہ ہمیں عورتوں کی خواہش ہی نہ رہ جاتی۔
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجرد (غیر شادی شدہ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: قتادہ اشعث سے زیادہ ثقہ اور مضبوط حافظہ والے تھے لیکن اشعث کی حدیث صحت سے زیادہ قریب لگتی ہے ١ ؎ واللہ أعلم۔
Narrated Samurah bin Jundab: It was narrated from Samurah bin Jundab that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade celibacy. Abu Abdur-Rahman said: Qatadah is more reliable and better preserves narrations than Ashath but the Hadith of Ashath (here) appears to be the correct one. Allah, Most High, knows best.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3214
Notes · وضاحت
١ ؎: وجہ اس کی یہ ہے کہ اشعث کی روایت میں حسن اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے درمیان ایک واسطہ سعد بن ہشام کا ہے جب کہ قتادہ کی روایت میں حسن اور صحابی رسول سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کے درمیان کوئی دوسرا واسطہ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٢ (١٠٨٢)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢ (١٨٤٩)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩٠)، مسند احمد (٥/١٧) (صحیح )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں جوان آدمی ہوں اور اپنے بارے میں ہلاکت میں پڑجانے سے ڈرتا ہوں، اور عورتوں سے شادی کرلینے کی استطاعت بھی نہیں رکھتا، تو کیا میں خصی ہوجاؤں؟ نبی اکرم ﷺ ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے انہوں نے اپنی یہی بات تین بار کہی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابوہریرہ! جس سے تم کو دوچار ہونا ہے اس سے تو تم دوچار ہو کر رہو گے اسے لکھ کر قلم (بہت پہلے) خشک ہوچکا ہے، اب چاہو تو تم خصی ہوجاؤ یا نہ ہو ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اوزاعی نے (ابن شہاب) زہری سے اس حدیث کو نہیں سنا ہے، لیکن یہ حدیث اپنی جگہ صحیح ہے کیونکہ اس حدیث کو یونس نے (ابن شہاب) زہری سے روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Salamah: It was narrated from Abu Salamah that Abu Hurairah said: "I said: O Messenger of Allah, I am a young man and I fear hardship for myself, but I cannot afford to marry; should I castrate myself?" The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) turned away from him until he said it three times. Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "O Abu Hurairah, the pen is dried concerning what you are going to face, so (it is up to you whether) you castrate yourself or not." Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: Al-Awzai did not hear this narration from Az-Zuhri, and this Hadith is sahih, Yunus reported it from Az-Zuhri.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3215
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو کچھ تمہاری قسمت میں لکھا جا چکا ہے اس میں ذرہ برابر کوئی تبدیلی نہیں ہونی ہے لہٰذا تمہاری قسمت میں اگر اولاد لکھی جا چکی ہے تو ضرور ہوگی اب سوچ لو کہ خصی ہونے سے کیا فائدہ ہوگا؟