ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے راستے میں جوڑا جوڑا صدقہ دیا اسے جنت کے سبھی دروازوں کے دربان بلائیں گے: اے فلاں ادھر آؤ (ادھر سے) جنت میں داخل ہو ، ابوبکر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! اس میں آپ اس شخص کا کوئی نقصان تو نہیں سمجھتے ١ ؎ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (نہیں) میں تو توقع رکھتا ہوں کہ تم ان ہی (خوش نصیب لوگوں) میں سے ہو گے (جنہیں جنت کے سبھی دروازوں سے جنت میں داخل ہونے کے لیے بلایا جائے گا) ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah, the gatekeepers of Paradise will call him from the gates of Paradise (saying): O So-and-so, come and enter! Abu Bakr said: O Messenger of Allah, such a person will never perish or be miserable. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I hope that you will be one of them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3184
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر دونوں روایتوں میں تعارض ہے لیکن یہ تعارض اس طرح ختم ہوجاتا ہے کہ یہاں اس بات کا احتمال ہے کہ ایک ہی مجلس میں یہ دونوں واقعے پیش آئے ہوں، چناچہ آپ ﷺ نے جنت میں داخل ہونے کے لیے حسب وحی الٰہی پہلے ہر عابد کو اس کے مخصوص دروازے سے پکارے جانے کی خبر دی پھر جب ابوبکر رضی الله عنہ نے سوال کیا تو آپ نے ایک ہی عابد کو تمام دروازوں سے پکارے جانے کی خبر دی، اور ساتھ ہی ابوبکر رضی الله عنہ کو اس کی بشارت بھی دی۔
صعصہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات ابوذر ؓ سے ہوئی، تو میں نے ان سے کہا: مجھ سے آپ کوئی حدیث بیان کیجئے، تو انہوں نے کہا: اچھا (پھر کہا:) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اللہ کے راستے میں اپنا ہر مال جوڑا جوڑا کر کے خرچ کرتا ہے تو جنت کے سبھی دربان اس کا استقبال کریں گے اور ہر ایک کے پاس جو کچھ ہوگا انہیں دینے کے لیے اسے بلائیں گے ، (صعصعہ کہتے ہیں) میں نے کہا: یہ کیسے ہوگا؟ تو انہوں نے کہا: اگر اونٹ رکھتا ہو تو دو اونٹ دیئے ہوں، اور گائیں رکھتا ہو تو دو گائیں دی ہوں۔
It was narrated that Sasaah bin Muawiyah said: "I met Abu Dharr and said: Tell me a Hadith. He said. Yes, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There is no Muslim worshiper who spends from each type of his wealth on a pair (of things) in the cause of Allah, but the keepers of Paradise will welcome him, all of them calling him to what they have (of reward). I said: "How is that?" He said: "If it is camels, he gives two, and if it is cows, he gives two.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3185
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی کچھ وضاحت فرمائیے کہ ہر قسم کے مال سے جوڑا دینے کا کیا مطلب ہے؟
خریم بن فاتک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کیا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں سات سو گنا بڑھا کر لکھا گیا ۔
It was narrated that Khuraim bin Fatik said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever spends in the cause of Allah, it will be recorded for him seven hundred fold.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3186
ابومسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مہار والی ایک اونٹنی اللہ کے راستے میں صدقہ میں دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن (اس ایک اونٹنی کے بدلہ میں) سات سو مہار والی اونٹنیوں کے (ثواب) کے ساتھ آئے گا ۔
It was narrated from Abu Masud that a man gave a bridled camel in charity in the cause of Allah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "On the Day of Resurrection seven hundred bridled camels will come to you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3187
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٧ (١٨٩٢)، (تحفة الأشراف: ٩٩٨٧)، مسند احمد (٤/٢٢١ و ٥/٢٧٤) (حسن )
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد دو طرح کے ہیں: ایک جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا اللہ کی رضا و خوشنودی کا طالب ہو، امام (سردار) کی اطاعت کرے، اپنی پسندیدہ چیز اللہ کے راستے میں خرچ کرے، اپنے شریک کو سہولت پہنچائے، اور فساد سے بچے تو اس کا سونا، و جاگنا سب کچھ باعث اجر ہوگا۔ دوسرا جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا ریاکاری اور شہرت کے لیے جہاد کرے، امیر (سردار و سپہ سالار) کی نافرمانی کرے اور زمین میں فساد پھیلائے تو وہ برابر سرابر نہیں لوٹے گا ١ ؎۔
It was narrated from Muadh bin Jabal that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Campaigns are of two types. As for the one who seek the Face of Allah, obeys the Imam, spends what is precious to him, is easy-going with his companion and avoids mischief, when he is asleep and when he is awake, it will all bring reward. But as for the one who fights to show off, and he disobeys the Imam and does mischief in the land, he will not come back the same as when he left." [1] [1] It was not simply be the case that he comes back with no good deeds to his credit, rather he will have a number of evil deeds on his record.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3188
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے کچھ ثواب نہیں ملے گا، بلکہ ہوسکتا ہے الٹا اسے عذاب ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٢٥ (٢٥١٥)، (تحفة الأشراف: ١١٣٢٩)، موطا امام مالک/الحج ١٨ (٤٣) (موقوفا) مسند احمد (٥/٢٣٤)، سنن الدارمی/الجہاد ٢٥ (٢٤٦١)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٢٠٠ (حسن )
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد میں جانے والوں کی بیویوں کی عزت و حرمت جہاد میں نہ جانے والوں کے لیے ان کی ماؤں کی عزت و حرمت جیسی ہے ١ ؎ جو شخص مجاہدین کی بیویوں کی حفاظت و نگہداشت کے لیے گھر پر رہا اور اس نے کسی مجاہد کی بیوی کے ساتھ خیانت کی تو اسے قیامت کے دن روک رکھا جائے گا، (یعنی اس کا حساب و کتاب اس وقت تک چکتا نہیں کیا جائے گا جب تک کہ) وہ مجاہد اس خائن کے اعمال کا ثواب جس قدر چاہے گا لے (نہ) لے گا۔ تو تمہارا کیا خیال ہے؟ ٢ ؎۔
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The sanctity of the wives of the Mujahidin to those who stay behind is like the sanctity of their mothers. There is no man who takes on the responsibility of looking after the wife of one of the Mujahidin and betrays him with her but he (the betrayer) will be made to stand before him on the Day of Resurrection and he will take whatever he wants of his (good) deeds. So what do you think?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3189
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مجاہدین کی بیویوں کی عزت و توقیر جہاد پر نہ جانے والوں پر واجب ہے۔ ٢ ؎: کیا وہ اس کے لیے کچھ چھوڑے گا؟ وہ تو اس کی ساری نیکیاں لے لے گا۔
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجاہدین کی بیویاں گھروں پر بیٹھ رہنے والوں کے لیے ویسی ہی حرام ہیں جیسی ان کی مائیں ان کے حق میں حرام ہیں۔ اگر وہ (مجاہد) کسی کو گھر پر (دیکھ بھال کے لیے) چھوڑ گیا اور اس نے اس کی (امانت میں) خیانت کی۔ تو قیامت کے دن اس (مجاہد) سے کہا جائے گا (یہ ہے تیرا مجرم) یہ ہے جس نے تیری بیوی کے تعلق سے تیرے ساتھ خیانت کی ہے۔ تو تو اس کی جتنی نیکیاں چاہے لے لے۔ (آپ ﷺ نے فرمایا:) تمہارا کیا گمان ہے (کیا وہ کچھ باقی چھوڑے گا؟ ) ۔
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah, from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The sanctity of the wive of the Mujahidin to those who stay behind is like the sanctity of their mothers. If he takes on the responsibility of looking after his wife then betrays him, it will be said to him on the Day of Resurrection: This one betrayed you with your wife, so take whatever you want of his good deeds. So what do you think?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3190
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجاہدین کی بیویوں کی حرمت گھر پر بیٹھ رہنے والوں پر ویسی ہی ہے جیسی ان کی ماؤں کی حرمت ان پر ہے، اگر گھر پر بیٹھ رہنے والے کسی شخص کو کسی مجاہد نے اپنی غیر موجودگی میں اپنی بیوی بچوں کی دیکھ بھال سونپ دی، (اور اس نے اس کے ساتھ خیانت کی) تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور پکار کر کہا جائے گا: اے فلاں! یہ فلاں ہے (تمہارا مجرم آؤ اور) اس کی نیکیوں میں سے جتنا چاہو لے لو ، پھر نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ اس کی نیکیوں میں سے کچھ باقی چھوڑے گا؟ ۔
It was narrated from Ibn Buraidah, from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The sanctity of the wives of the Mujahidin to those who stay behind is like the sanctity of their mothers. There is no man among those who stay behind who takes on the responsibility of looking after the wife of one of the Mujahidin (and betrays him) but he (the betrayer) will be made to stand before him on the Day Resurrection and it will be said: O So-and-so, this is so-and-so, take whatever you want from his good deeds." Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) turned to his Companions and said: "What do you think: Will he leave him any of his good deeds?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3191
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد کرو اپنے ہاتھوں سے، اپنی زبانوں سے، اور اپنے مالوں کے ذریعہ ١ ؎۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Strive in Jihad with your hands, your tongues and your wealth."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3192
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسلام کی ترویج و اشاعت، حفاظت و دفاع کے لیے طاقت و تلوار اور زبان و قلم کے استعمال میں اور مال و دولت کے خرچ میں دریغ نہ کرو، مال اور ہاتھ سے جہاد کا مطلب بالکل واضح ہے، زبان سے جہاد کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے جہاد کے فضائل بیان کئے جائیں اور لوگوں کو اس پر ابھارنے کے ساتھ انہیں اس کی رغبت دلائی جائے۔ قلم اور خطابت کے ذریعہ اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت اور اس کے خلاف پروپیگنڈہ کا جواب دیا جائے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سانپوں کے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا: جو ان کے بدلے (اور انتقام و قصاص) سے ڈرے (اور ان کو نہ مارے) وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
It was narrated from Abdullah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded that snakes be killed and he said: "Whoever fears their vengeance is not one of us.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3193
عبداللہ بن جبر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جبر ؓ کی عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لائے، جب گھر میں (اندر) پہنچے تو آپ نے عورتوں کے رونے کی آواز سنی۔ وہ کہہ رہی تھیں: ہم جہاد میں آپ کی شہادت کی تمنا کر رہے تھے (لیکن وہ آپ کو نصیب نہ ہوئی) ۔ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم شہید صرف اسی کو سمجھتے ہو جو جہاد میں قتل کردیا جائے؟ اگر ایسی بات ہو تو پھر تو تمہارے شہداء کی تعداد بہت تھوڑی ہوگی۔ (سنو) اللہ کے راستے میں مارا جانا شہادت ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنا شہادت ہے، جل کر مرنا شہادت ہے، ڈوب کر مرنا شہادت ہے، (دیوار وغیرہ کے نیچے) دب کر مرنا شہادت ہے، ذات الجنب یعنی نمونیہ میں مبتلا ہو کر مرنا شہادت ہے، حالت حمل میں مرجانے والی عورت شہید ہے ، ایک شخص نے کہا: تم سب رو رہی ہو جب کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چھوڑ دو انہیں کچھ نہ کہو۔ (انہیں رونے دو کیونکہ مرنے سے پہلے رونا منع نہیں ہے) البتہ جب انتقال ہوجائے تو کوئی رونے والی اس پر (زور زور سے) نہ روئے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Abdullah bin Jabr, from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) visited Jabr (when he was sick). When he entered he heard the women crying and saying: "We thought that your death would come when fighting in the cause of Allah." He said: "You think that martyrdom only comes when one is killed in the cause of Allah. In that case your martyrs would be few. Being killed in the cause of Allah is martyrdom, dying of an abdominal complaint is martyrdom, being burned to death is martyrdom, drowning is martyrdom, being crushed beneath a falling wall is martyrdom, dying of pleurisy is martyrdom, and the woman who dies along with her fetus is a martyr." A man said: "Are you weeping when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) is sitting here? He said: "Let them be, but if he dies on one should weep for him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3194
Notes · وضاحت
١ ؎: کوئی نوحہ کرنے والی اس پر نوحہ نہ کرے، رہ گیا دھیرے دھیرے رونا اور آنسو بہانا تو یہ ایک فطری عمل ہے اسلام اس سے نہیں روکتا۔
جبر بن عتیک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک میت کے یہاں پہنچے تو عورتیں رونے لگیں تو انہوں نے کہا: تم رو رہی ہو جب کہ رسول اللہ ﷺ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چھوڑو انہیں رونے دو جب تک کہ وہ ان میں موجود ہے۔ پھر جب وہ انتقال کر جائے تو کوئی عورت (چیخ چیخ کر) نہ روئے ۔
It was narrated from Jabr that he entered with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) upon someone who was dying, and the women were weeping. Jabr said: "Are you weeping when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) is sitting here?" He said: "Let them weep so long as he is among them, but if he dies no one should weep for him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3195