عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: طاعون میں مرنے والوں کے بارے میں شہدا اور اپنے بستروں پر مرنے والے اللہ کے حضور اپنا جھگڑا (مقدمہ) پیش کریں گے، شہید لوگ کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہیں، جیسے ہم مارے گئے ہیں یہ لوگ بھی مارے گئے ہیں، اور جو لوگ اپنے بستروں پر وفات پائے ہیں وہ کہیں گے یہ ہمارے بھائی ہیں یہ لوگ اپنے بستروں پر مرے ہیں جیسے ہم لوگ اپنے بستروں پر پڑے پڑے مرے ہیں۔ تو میرا رب کہے گا: ان کے زخموں کو دیکھو اگر ان کے زخم شہیدوں کے زخم سے ملتے ہیں تو یہ لوگ شہیدوں میں سے ہیں اور شہیدوں کے ساتھ رہیں گے، تو جب دیکھا گیا تو ان کے زخم شہیدوں کی طرح نکلے ١ ؎۔
It was narrated from Al-Irbad bin Sariyah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The martyrs and those who dies in their beds referred a dispute to our Lord concerning those who dies of the plague. The martyrs said: Our brothers were killed as we were killed. And those who dies in their beds said: Our brothers dies on their beds as we died. Our Lord said: Look at their wounds; if their wounds; if their wounds are like the wounds of those who were killed then they are of them and belong with them. And their wounds were like their (the martyrs) wounds.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3164
Notes · وضاحت
١ ؎: شہداء کا مقصد اس جھگڑے سے یہ ہے کہ طاعون سے مرنے والوں کے مراتب و درجات ہماری طرح ہوجائیں جب کہ بستروں پر وفات پانے والوں کا جھگڑا محض اس لیے ہوگا کہ طاعون سے مرنے والوں کی طرح ہمیں بھی شہداء کا درجہ ملنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
(تحفة الأشراف: ٩٨٨٩)، مسند احمد (٤/١٢٨، ١٢٩) (صحیح )
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دو آدمیوں پر تعجب کرتا ہے کہ ایک ان میں کا ساتھی کو قتل کرتا ہے ، اور دوسری بار آپ نے یوں فرمایا: اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے جن میں کا ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہوئے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah, the Mighty and Sublime, likes it when there are two men, one of whom killed the other, then they both enter Paradise." And another time he said: "He laughs at two men, one of whom killed the other, then they both entered Paradise.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3165
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے۔ (دونوں لڑتے ہیں) ایک دوسرے کو قتل کردیتا ہے۔ لیکن دونوں جنت میں جاتے ہیں، ایک اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، تو وہ قتل ہوجاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مارنے والے کو توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اس کی توبہ کو قبول کرلیتا ہے۔ پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور شہادت پا جاتا ہے ۔ (اس طرح دونوں جنت کے مستحق ہوجاتے ہیں) ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) Allah, the Mighty and Sublime, laughed on two men, both entered Paradise. The first one fought in the cause of Allah and was killed, then Allah accepted the repentance of the one who killed him, and he fought and was martyred.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3166
سلمان الخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن ایک رات پہرہ دیا اسے ایک مہینے کے روزے و نماز کا ثواب ملے گا، اور جو پہرہ دینے کی حالت میں مرگیا اسے اسی طرح کا اجر برابر ملتا رہے گا، اور اس کا رزق بھی جاری کردیا جائے گا، اور وہ فتنوں سے محفوظ ہوجائے گا ١ ؎۔
It was narrated from Salman Al-Khair that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever guards Ribat (the frontier) for one day and one night, will be given a reward like that for fasting and praying Qiyam for a month, and whoever dies at Ribat (guarding the frontier) will be rewarded, and he will be given provision, and he will be kept safe from Al-Fattan."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3167
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ منکر نکیر اور قبر و حشر کے فتنوں سے محفوظ ہوجائے گا، اور پہرہ داری کی وجہ سے اس کے لیے ثواب ہمیشہ جاری رہے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٥٠ (١٩١٣)، (تحفة الأشراف: ٤٤٩١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٢٦ (١٦٦٥)، مسند احمد (٥/٤٤٠، ٤٤١) (صحیح )
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن ایک رات پہرہ دیا اسے ایک ماہ کے روزے رکھنے اور نماز پڑھنے کا ثواب ملے گا، اور اگر وہ (اس دوران) مرگیا تو وہ جو کام کر رہا تھا اس کا وہ کام جاری تصور کیا جائے گا۔ اور (منکر و نکیر کے) فتنوں سے محفوظ ہوجائے گا، (یعنی وہ اس سے سوال و جواب کرنے کے لیے اس کے پاس حاضر نہ ہوں گے) اور اس کے لیے اس کا رزق (جو شہداء کا رزق ہے) جاری کردیا جائے گا ۔
It was narrated that Salman said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever guards Ribat (the frontier) in the cause of Allah for one day and one night, he will have (a reward) like that of fasting and praying Qiyam for a month. If he dies he will continue to receive reward for what he did, and he will be kept safe from Al-Fattan, and he will be given provision.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3168
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: (جہاد کے دنوں میں) اللہ کے راستے کی ایک دن کی پہرہ داری دوسری جگہوں کی ہزار دنوں کی پہرہ داری سے بہتر ہے ۔
It was narrated from Zurah bin Mabad: "Abu Salih, the freed slave of Uthman, said: I heard Uthman bin Affan (RA) say: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Ribat (guarding the frontier) for one day in the cause of Allah is better in rank than a thousand days spent within the residence.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3169
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ کے راستے (جہاد) کا ایک دن اس کے سوا کے ہزار دن سے بہتر ہے ۔
It was narrated that Abu Salih, the freed slave of Uthman, said: "Uthman bin Affan (RA) said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: A day in the cause of Allah is better than a thousand days doing anything else.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3170
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب قباء جاتے تو ام حرام بنت ملحان ؓ کے یہاں بھی جاتے، وہ آپ کو کھانا کھلاتیں۔ ام حرام بنت ملحان ؓ عبادہ بن صامت ؓ کی بیوی تھیں، ایک دن رسول اللہ ﷺ ان کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کے سر کی جوئیں دیکھنے بیٹھ گئیں۔ آپ سو گئے، پھر جب اٹھے تو ہنستے ہوئے اٹھے، کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ آپ نے فرمایا: (خواب میں) مجھے میری امت کے کچھ مجاہدین دکھائے گئے وہ اس سمندر کے سینے پر سوار تھے، تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ لگتے تھے ، یا تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں جیسے لگتے تھے۔ (اس جگہ اسحاق راوی کو شک ہوگیا ہے (کہ ان کے استاد نے ملوک على الأسرة کہا، یا مثل الملوک على الأسرة کہا)۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں سے کر دے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرما دی، پھر آپ سو گئے۔ (اور حارث کی روایت میں یوں ہے۔ آپ سوئے) پھر جاگے، پھر ہنسے پھر میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے ہنسنے کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے (جیسے اس سے پہلے فرمایا تھا) فرمایا: مجھے میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے وہ تختوں پر بیٹھے بادشاہ تھے، یا تختوں پر بیٹھے بادشاہوں جیسے لگتے تھے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! دعا فرمائیے کہ اللہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں شامل فرمائے، آپ نے فرمایا: تم (سمندر میں جہاد کرنے والوں کے) پہلے گروپ میں ہوگی۔ (انس بن مالک راوی حدیث فرماتے ہیں) پھر وہ معاویہ ؓ کے زمانہ میں سمندری سفر پر جہاد کے لیے نکلیں تو وہ سمندر سے نکلتے وقت اپنی سواری سے گر کر ہلاک ہوگئیں ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went to Quba he used to come to Umm Haram bint Milhan and she would feed him. Umm Haram was married to Ubadah bin As-Samit. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) entered upon her and she fed him and checked his head for lice. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) fell asleep, then he woke up smiling. She said: What is making you smile, O Messenger of Allah? He said: Some people of my Ummah were shown to me, fighting in the cause of Allah and riding across the sea like kings on thrones. I said: O Messenger of Allah, pray to Allah to make me one of them. So the Messenger of Allah, pray to Allah to make me one of them. So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed for her then he slept again." (One of narrators) Al-Harith, said (in his narration): "He slept then he woke up smiling. I said to him: What is making you smile, O Messenger of Allah? He said: Some people of my Ummah were shown to me, fighting in the cause of Allah and riding across the sea like kings on thrones, as he had said the first time. I said: O Messenger of Allah, pray to Allah to make me one of them. He said: You will be one of the first. And she traveled by sea at the time of Muawiyah, then she fell from her mount when she came out of the sea and died.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3171
Notes · وضاحت
١ ؎: قباء مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔ ام حرام بنت ملحان کہا جاتا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی رضاعی خالہ ہیں۔
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ام حرام بنت ملحان ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے یہاں آئے اور سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کس چیز نے آپ کو ہنسایا؟ آپ نے فرمایا: میں نے اپنی امت میں سے ایک جماعت دیکھی جو اس سمندری (جہاز) پر سوار تھے، ایسے لگ رہے تھے جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوں ، میں نے کہا: اللہ سے دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں سے کر دے، آپ نے فرمایا: تم اپنے کو انہیں میں سے سمجھو ، پھر آپ سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے، پھر میں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنی پہلی ہی بات دہرائی، میں نے پھر دعا کی درخواست کی کہ آپ دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے انہیں لوگوں میں کر دے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم (سوار ہونے والوں کے) پہلے دستے میں ہوگی ۔ پھر ان سے عبادہ بن صامت ؓ نے شادی کی ١ ؎، اور وہ سمندری جہاد پر نکلے تو وہ بھی انہیں کے ساتھ سمندری سفر پر نکلیں، پھر جب وہ جہاز سے نکلیں تو سواری کے لیے انہیں ایک خچر پیش کیا گیا، وہ اس پر سوار ہوئیں تو اس نے انہیں گرا دیا جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی (اور ان کا انتقال ہوگیا) ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that Umm Haram bint Milhan said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came to us and took a nap in our house, then he woke up smiling. I said: O Messenger of Allah, may my father and mother be ransomed for you, what has made you smile? He said: I saw some people of my Ummah riding on the sea like kings on thrones. I said: Pray to Allah to make me one of them. He said: You will be one of them. Then he slept again, and woke up smiling. I asked him and he said the same thing. I said: Pray to Allah to make me one of them. He said: You will be one of the first. Then Ubadah bin As-Samit married her, and he traveled by sea, and she traveled with him, but when she came ashore a mule was brought to her and she mounted it, and it threw her off and broke her neck.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3172
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے ان کی شادی رسول اللہ ﷺ کی اس بشارت کے بعد ہوئی ہے جب کہ اس سے ما قبل کی روایت میں یہ ہے کہ ام حرام رضی الله عنہا اس وقت عبادہ کے ماتحت تھیں۔ دونوں روایتوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلی روایت میں و کانت تحت عبادة کے جملہ سے راوی کی مراد وقت کی تقیید کے بغیر دونوں کے تعلق کو بیان کرنا ہے جب کہ اس روایت میں وقت اور حال کی قید کے ساتھ اس تعلق کی وضاحت کرنا راوی کا مقصود ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم (مسلمانوں) سے ہندوستان پر لشکر کشی کا وعدہ فرمایا، یعنی پیش گوئی کی، تو اگر ہند پر لشکر کشی میری زندگی میں ہوئی تو میں جان و مال کے ساتھ اس میں شریک ہوں گا۔ اگر میں قتل کردیا گیا تو بہترین شہداء میں سے ہوں گا، اور اگر زندہ واپس آگیا تو میں (جہنم سے) نجات یافتہ ابوہریرہ کہلاؤں گا۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) promised us that we would invade India. If I live to see that, I will sacrifice myself and my wealth. If I am killed, I will be one of the best of the martyrs, and if I come back, I will be Abu Hurairah Al-Muharrar."
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3173
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٢٣٤)، مسند احمد (٢/٢٢٨) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” جبر، یا جبیر “ لین الحدیث ہیں )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے ہندوستان کے غزوے کا وعدہ فرمایا یعنی پیش گوئی کی تو میں نے اگر اسے پا لیا، یعنی میری زندگی ہی میں ہند میں جہاد کا وقت آگیا تو میں اپنی جان و مال سب اس میں لگا دوں گا۔ اگر میں اس میں شہید ہوگیا تو برتر شہداء میں شامل ہوں گا اور اگر (شہادت نصیب نہ ہوئی) زندہ بچ کر واپس آگیا تو ابوہریرہ محرر ہوں گا، یعنی وہ ابوہریرہ ہوں گا جو جہنم کے عذاب سے آزاد کردیا گیا ہوگا۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) promised that we would invade India. If I live to see that I will sacrifice myself and my wealth. If I am killed, I will be one of the best of the martyrs, and if I come back, I will be Abu Hurairah Al-Muharrar.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3174
ثوبان رضی الله عنہ مولی رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جہنم سے محفوظ کردیا ہے۔ ایک گروہ وہ ہوگا جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور ایک گروہ وہ ہوگا جو عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کے ساتھ ہوگا ۔
It was narrated that Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There are two groups of my Ummah whom Allah will free from the Fire: The group that invades India, and the group that will be with Isa bin Maryam علیہماالسلام.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3175
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کو خندق کھودنے کا حکم دیا تو ایک چٹان نمودار ہوئی جو ان کی کھدائی میں رکاوٹ بن گئی۔ تو رسول اللہ ﷺ اٹھے، کدال پکڑی اپنی چادر خندق کے ایک کنارے رکھی، اور آیت تمت کلمة ربک صدقا وعدلا لا مبدل لکلماته وهو السميع العليم پڑھ کر کدال چلائی تو ایک تہائی پتھر ٹوٹ کر گرگیا، سلمان فارسی ؓ کھڑے دیکھ رہے تھے۔ آپ ﷺ کے کدال چلائی، ایک چمک پیدا ہوئی پھر آپ نے آیت: تمت کلمة ربک صدقا وعدلا لا مبدل لکلماته وهو السميع العليم پڑھ کر دوبارہ کدال چلائی تو دوسرا تہائی حصہ ٹوٹ کر الگ ہوگیا پھر دوبارہ چمک پیدا ہوئی، سلمان نے پھر اسے دیکھا۔ پھر آپ نے آیت: تمت کلمة ربک صدقا وعدلا لا مبدل لکلماته وهو السميع العليم پڑھ کر تیسری ضرب لگائی تو باقی تیسرا تہائی حصہ بھی الگ ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ خندق سے نکل آئے، اپنی چادر لی اور تشریف فرما ہوئے، سلمان فارسی ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب آپ نے ضرب لگائی تو میں نے آپ کو دیکھا، جب بھی آپ نے ضرب لگائی آپ کی ضرب کے ساتھ ایک چمک پیدا ہوئی، رسول اللہ ﷺ فرمایا: سلمان! تم نے یہ دیکھا؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول جی ہاں! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا (میں نے ایسا ہی دیکھا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے (پردے اٹھا کر) فارس کے شہر اور اس کے اطراف کے دیہات اور دوسرے بہت سے شہر دکھائے گئے میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے خود دیکھا ، اس وقت آپ کے جو صحابہ وہاں موجود تھے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر ہمیں فتح نصیب فرمائے اور ان کا ملک ہمیں بطور غنیمت عطا کرے، اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں ویران و برباد کرے، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی دعا فرما دی، پھر جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو پردے اٹھا کر مجھے قیصر کے شہر اور اس کے اطراف (کے قصبات و دیہات) دکھائے گئے (کہ یہ سب تمہیں ملنے والے ہیں) میں نے اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں کہ ان ممالک کو فتح کرنے میں وہ ہماری مدد فرمائے اور وہ علاقے ہمیں غنیمت میں ملیں اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں تباہ و برباد ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی بھی دعا فرمائی، پھر جب میں نے تیسری ضرب لگائی، تو مجھے ملک حبشہ کے شہر اور گاؤں دکھائے گئے، میں نے فی الحقیقت انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس موقع پر آپ نے یوں فرمایا: حبشہ کو چھوڑ دو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں اور ترک کو چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں چھوڑے رہیں (لیکن اگر وہ تم سے ٹکرائیں تو تم بھی ان سے ٹکراؤ اور انہیں شکست دو ) ۔
It was narrated from Abu Sukainah, a man from among the Muharririn,[1] that a man among the Companions of the the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded them to dig the trench (Al-Khandaq), there was a rock in their way preventing them from digging. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood, picked up a pickaxe, put his Rida (upper garment) at the edge of the ditch and said: And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All-Knower. [1] One-third of the rock broke off while Salman Al-Farisi was standing there watching, and there was a flash of light when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)struck (the rock). Then he struck it again and said: And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All-Knower And another third of the rock broke off and there was another flash of light, which Salman saw. Then he struck (the rock) a third time and said: And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All-Knower. The last third fell, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came out, picked up his Rida and sat down. Salman said: O Messenger of Allah, Each time you struck the rock there was a flash of light. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: O Salman, did you see that? He said: Yes, by the One Who sent you with the truth, O Messenger of Allah. He said: When I struck the first blow, the cities of Kisra and their environs were shown to me, and many other cities, and I saw them with my own eyes. Those of his Companions who were present said: O Messenger of Allah, pray to Allah to grant us victory and to give us their land as spoils of war, and to destroy their Lands at our hands. So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed for that. (Then he said:) Then I struck the second blow and the cities of Caesar and their environs were shown to me, and I saw them with my own eyes. They said: O Messenger of Allah, pray to Allah to grant us victory and to give us their lands as spoils of war, and to destroy their lands at our hands. So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed for that. (Then he said:) Then I struck the third blow and the cities of Ethiopia were shown to me, and the villages around them, and I saw them with my own eyes. But the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said at that point: Leave the Ethiopians alone so long as they leave you alone, and leave the Turks alone so long as they leave you alone." [1] An-Anam 6:115.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3176
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں گے جن کے چہرے تہہ بتہہ ڈھالوں کی طرح گول مٹول ہوں گے، بالوں کے لباس پہنیں گے ١ ؎ اور بالوں میں چلیں گے ٢ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Hour will not begin until the Muslims fight the Turks, a people with faces like hammered shields who wear clothes made of hair and shoes made of hair.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3177
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کے لباس بالوں سے بنے ہوئے ہوں گے یا ان کے لباس ایسے گھنے اور لمبے ہوں گے کہ لباس کی طرح لٹک رہے ہوں گے۔ ٢ ؎: یعنی ان کی جوتیوں پر بال ہوں گے یا ان کی جوتیاں بالوں سے تیار کی گئی ہوں گی۔
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہیں خیال ہوا کہ انہیں اپنے سوا نبی اکرم ﷺ کے دیگر صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے ١ ؎، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، صلاۃ اور اخلاص کی بدولت فرماتا ہے ٢ ؎۔
It was narrated from Musab bin Sad, from his father, that he thought he was better than other Companions of the Prophet. The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Rather, Allah support this Ummah because of their supplication, their Salah, and their sincerity.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3178
Notes · وضاحت
١ ؎: انہیں ایسا خیال شاید اپنی مالداری، بہادری، تیر اندازی اور زور آوری کی وجہ سے ہوا۔ ٢ ؎: اس لیے انہیں حقیر و کمزور نہ سمجھو۔
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میرے لیے کمزور کو ڈھونڈو، کیونکہ تمہیں تمہارے کمزوروں کی دعاؤں کی وجہ سے روزی ملتی ہے، اور تمہاری مدد کی جاتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Jubair bin Nufair Al-Hadrami that he heard Abu Ad-Darda say: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Bring me the weak, for you only receive provision and Divine support by virtue of your weak ones.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3179
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے تم کمزوروں کا خیال رکھو تاکہ تمہیں ان کی دعائیں حاصل ہوتی رہیں، تمہیں روزی ملتی رہے اور اللہ کی طرف سے تمہاری مدد ہوتی رہے۔
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں کسی لڑنے والے کو اسلحہ اور دیگر سامان جنگ سے لیس کیا۔ اس نے (گویا کہ) خود جنگ میں شرکت کی، اور جس نے مجاہد کے جہاد پر نکلنے کے بعد اس کے گھر والوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی ١ ؎ تو وہ بھی (گویا کہ) جنگ میں شریک ہوا ۔
It was narrated from Zaid bin Khalid that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever equips a warrior in the cause of Allah has fought, and whoever looks after his family in his absence has fought.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3180
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مجاہد کے گھر والوں کی دیکھ بھال کے دوران نگرانی کرنے والے نے مجاہد کے اہل خانہ پر نہ تو بری نگاہ ڈالی اور نہ ہی کسی قسم کی خیانت کی۔
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مجاہد کو مسلح کر کے بھیجا، تو گویا اس نے خود جہاد کیا۔ اور جس نے مجاہد کے پیچھے (یعنی اس کی غیر موجودگی میں) اس کے گھر والوں کی حفاظت و نگہداشت کی تو اس نے (گویا) خود جہاد کیا ۔
It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever equips a warrior has fought, and whoever looks after his family in his absence has fought.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3181
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ہم حاجی لوگ نکلے، اور مدینہ پہنچے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا ہم ابھی اپنا سامان اتار کر اپنے ڈیروں میں رکھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والا ہمارے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہو رہے ہیں، اور گھبرائے ہوئے ہیں، ہم بھی وہاں پہنچے دیکھا کہ لوگ بیچ مسجد میں کچھ (اکابر) صحابہ کو گھیرے ہوئے ہیں، ان میں علی، زبیر، طلحہ اور سعد بن ابی وقاص ؓ ہیں، ہم ابھی یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عثمان ؓ عنہ پیلی چادر پہنے ہوئے اور اسی سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تشریف لائے ١ ؎، اور کہا: کیا یہاں طلحہ ہیں؟ کیا یہاں زبیر ہیں؟ کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ہیں، تو انہوں نے کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: جو شخص بنی فلاں کا کھلیان (مسجد نبوی کے قریب کی زمین) خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا تو میں نے اسے بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خرید لیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: اسے ہماری مسجد میں شامل کر دو، اس کا ثواب تمہیں ملے گا (چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا) لوگوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہاں یہ سچ ہے۔ انہوں نے (پھر) کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رومہ کا کنواں خریدے گا، اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا ، تو میں نے اسے اتنے اور اتنے میں خریدا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ میں نے اتنے اور اتنے میں اسے خرید لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے (وقف) کر دو، اس کا اجر تمہیں ملے گا ، (تو میں نے اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے عام کردیا) ، لوگوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہاں (یہ سچ ہے) ، انہوں نے پھر کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے چہروں پر نگاہ ڈال کر کہا تھا جو کوئی انہیں (تنگی و محتاجی والی فوج کو) ضروریات جنگ سے مسلح کر دے گا اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا، میں نے اس لشکر کو ہر طرح سے مسلح کردیا یہاں تک کہ رسی اور نکیل کی بھی انہیں ضرورت نہ رہی۔ لوگوں نے کہا اے ہمارے رب! ہاں (یہ سچ ہے) ۔ انہوں نے کہا: اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ۔
It was narrated that Al-Ahnaf bin Qais said: "We set out as pilgrims and came to Al-Madinah intending to perform Hajj. While we were in our camping place unloading our mounts, someone came to us and said: The people have gathered in the Masjid and there is panis. So we set out and found the people gathered around a group in the middle of the Masjid, among whom were Ali, Zubayr, Talhah and Sad bin Abi Waqas. While we were like that, Uthman (RA), came, wearing a yellow cloak with which he had covered his head. He said: Is Talhah here? Is Az-Zubair here? Is Sad here? They said: Yes. He said: I adjure you be the One beside Whom there is none worthy of worship, didnt the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever buys the Mirbad of Banu so-and so, Allah will forgive him, and I bought it for twenty or twenty-five thousand, then I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him, and he said: Add it to our Masjid and the reward for it will be yours? They said: By Allah, yes. He said: I adjure you by the One beside Whom there is none worthy of worship, didnt the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever buys the well of Rumah, Allah will forgive him, so I bought it for such and such and amount, then I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him, and he said: Give it to provide water for the Muslims, and the reward for it will be yours? They said: By Allah, yes. He said: I adjure you by the One beside Whom there is none worthy of worship, didnt the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever equips these (men)- meaning the army of Al-Usrah (Tabuk) - Allah will forgive him, so I equipped them until they were not lacking even a rope or a bridle? They said: By Allah, yes. He said: O Allah, bear witness, O Allah, bear witness, O Allah, bear witness." [1] Mirbad: A place for drying dates.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3182
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب خوارج نے عثمان رضی الله عنہ کے خلاف باغیانہ کارروائیاں شروع کردی تھیں، اور ان سے خلافت سے دستبرداری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ٢ ؎: یہ میں نے تیری رضا اور اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٧٨١)، مسند احمد (١/٧٠، و یأتي عند المؤلف برقم: ٣٦٣٦، ٣٦٣٧) (ضعیف )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے راستے (جہاد) میں جوڑا جوڑا دیا ١ ؎ جنت میں اس سے کہا جائے گا: اللہ کے بندے یہ ہے (تیری) بہتر چیز، تو جو کوئی نمازی ہوگا اسے باب صلاۃ (صلاۃ کے دروازہ) سے بلایا جائے گا اور جو کوئی مجاہد ہوگا اسے باب جہاد (جہاد کے دروازہ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی خیرات دینے والا ہوگا اسے باب صدقہ (صدقہ و خیرات والے دروازہ) سے پکارا جائے گا، اور جو کوئی اہل صیام میں سے ہوگا اسے باب ریان (سیراب و شاداب دروازے) سے بلایا جائے گا ، ابوبکر ؓ نے عرض کیا (اللہ کے نبی! ) اس کی کوئی ضرورت و حاجت تو نہیں کہ کسی کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے ٢ ؎ کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah will be called in Paradise: O slave of Allah, here is prosperity. Whoever is one of the people of Salah, he will be called from the gate of Paradise, Whoever is one of the people of jihad, he will be called from the gate of paradise. Whoever is one of the people of charity, he will be called from the gate of Paradise. Whoever is one of the people who fast, he will be called from the gate of Ar-Rayyan." Abu Bakr (RA) said: "O Messenger of Allah, no distress or need will befall the one who is called from those gates. Will there be anyone who will be called from all these gates?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Yes, and I hope that you will be one of them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3183
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو چیز بھی اللہ کے راستے میں دیتا ہے تو دینے والے کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ بشکل جوڑا دے یا جوڑا سے مراد نیک عمل کی تکرار ہے۔ ٢ ؎: کیونکہ جنت میں داخل ہونے کا مقصد تو صرف ایک دروازے سے دخول کی اجازت ہی سے حاصل ہوجاتا ہے۔