شرحبیل بن سمط سے روایت ہے کہ انہوں نے کعب بن مرہ ؓ سے کہا: کعب! ہم سے رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث بیان کیجئے، لیکن دیکھئیے اس میں کوئی کمی و بیشی اور فرق نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مسلمان اسلام پر قائم رہتے ہوئے اللہ کے راستے میں بوڑھا ہوا تو قیامت کے دن یہی چیز اس کے لیے نور بن جائے گی ، انہوں نے (پھر) ان سے کہا: ہم سے نبی اکرم ﷺ کی (کوئی اور) حدیث بیان کیجئے، لیکن (ڈر کر اور بچ کر) بےکم وکاست (سنائیے) ۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: (دشمن کو) تیر مارو، جس کا تیر دشمن کو لگ گیا تو اس کے سبب اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا ، (یہ سن کر) ابن النحام نے کہا: اللہ کے رسول! وہ درجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: (سن) وہ تمہاری ماں کی چوکھٹ نہیں ہے (جس کا فاصلہ بہت کم ہے) بلکہ ایک درجہ سے لے کر دوسرے درجہ کے درمیان سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ۔
It was narrated that Shurahbil bin As-Simt said to Kab bin Murrah: "O Kab! Tell us a Hadith from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and be careful." He said: "I heard him say: Whoever develops one gray hair in Islam, in the cause of Allah, it will be light for him on the Day of Resurrection." He said to him: "Tell us about the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and be careful." He said: "I heard him say: Shoot, and whoever hits the enemy with an arrow, Allah will raise him one degree in status thereby." Ibn An-Nahhan said: O Messenger of Allah, what is a degree? He said: It is not like the doorstep of your mother; [1] rather (the distance) between two degrees is (that if) a hundred years." [1] As explained after it; the degree of distance is greater than such a degree in this world.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3144
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/العتق ١٤ (٣٩٦٧)، سنن ابن ماجہ/العتق ٤ (٢٥٢٢)، (تحفة الأشراف: ١١١٦٣)، مسند احمد (٤/٢٣٥-٢٣٦) (صحیح )
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن عبسہ ؓ سے کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔ اور اس میں بھول چوک اور کمی و بیشی کا شائبہ تک نہ ہو۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا، دشمن کے قریب پہنچا، قطع نظر اس کے کہ تیر دشمن کو لگایا نشانہ خطا کر گیا، تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے ایک مسلمان غلام آزاد کیا تو غلام کا ہر عضو (آزاد کرنے والے کے) ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات کا فدیہ بن جائے گا، اور جو شخص اللہ کی راہ میں (لڑتے لڑتے) بوڑھا ہوگیا، تو یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گا ۔
It was narrated that Shurahbil bin As-Simt said: "I said: O Amr bin Abasah! Tell us a Hadith that you heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) without forgetting or omitting anything. He said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever shoots an arrow in the cause of Allah, and it reaches the enemy, whether it misses or hits, it will be as if he freed slave. Whoever frees a believing slave, that will be a ransom for him, limb by limb, from the Fire of Hell. Whoever develops a gray hair in the cause of Allah, it will be light for him on the Day of Resurrection.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3145
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعہ تین طرح کے لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ (پہلا) تیر کا بنانے والا جس نے اچھی نیت سے تیر تیار کیا ہو، (دوسرا) تیر کا چلانے والا (تیسرا) تیر اٹھا اٹھا کر پکڑانے اور چلانے کے لیے دینے والا (تینوں ہی جنت میں جائیں گے) ۔
It was narrated from Uqbah bin Amir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah, the Mighty and Sublime, will admit three people into Paradise for one arrow: The one who makes it, intending it to be used for a good cause, the one who shoots it, and one who passes it to him.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3146
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٢٤ (٢٥١٣) مطولا، (تحفة الأشراف: ٩٩٢٢) (ضعیف) (اس کے راوی ” خالد بن زید یا یزید “ لین الحدیث ہیں) ویأتي عند المؤلف في الخیل ٨ برقم ٣٦٠٨ حدیث کے بعض دوسرے الفاظ وطرق کے لیے دیکھئے: سنن ابی داود ٢٥١٣ )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کوئی اللہ کے راستے میں گھائل ہوگا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ١ ؎ تو قیامت کے دن (اس طرح) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون ٹپک رہا ہوگا۔ رنگ خون کا ہوگا اور خوشبو مشک کی ہوگی ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "No one is wounded in the cause of Allah - and Allah knows best who is wounded in His cause - but he will come on the Day of Resurrection with his wounds bleeding the color of blood, but with the fragrance of musk.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3147
Notes · وضاحت
١ ؎: اس جملہ معترضہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں زخمی ہونے والے شخص کے عمل کا دارومدار اس کے اخلاص پر ہے جس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٠ (٢٨٠٣)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٨ (١٨٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٩٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٥ (٢٧٩٥)، موطا امام مالک/الجہاد ١٤ (٢٩)، مسند احمد (٣/٢ ٢٤، ٣١، ٣٩٨، ٤٠٠، ٥١٢، ٥٣١، ٥٣٧)، سنن الدارمی/الجہاد ١٥ (٢٤٥٠) (صحیح )
عبداللہ بن ثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں (یعنی شہداء کو) ان کے خون میں لت پت ڈھانپ دو، کیونکہ کوئی بھی زخم جو اللہ کے راستے میں کسی کو پہنچا ہو وہ قیامت کے دن (اس طرح) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا، رنگ خون کا ہوگا، اور خوشبو اس کی مشک کی ہوگی ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Thalabah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Wrap them up with their blood, for there is no wound incurred in the cause of Allah, but he will come on the Day of Resurrection bleeding with the color of blood, but its fragrance will be that of musk.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3148
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آپ نے ان شہداء کے بارے میں فرمایا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے زخم کھا کر شہید ہوگئے تھے۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے، (اس وقت) رسول اللہ ﷺ بارہ انصاری صحابہ کے ساتھ ایک طرف موجود تھے انہیں میں ایک طلحہ بن عبیداللہ ؓ بھی تھے ١ ؎۔ مشرکین نے انہیں (تھوڑا دیکھ کر) گھیر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ہماری طرف سے کون لڑے گا ؟ طلحہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میں (آپ کا دفاع کروں گا) ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جیسے ہو ویسے ہی رہو تو ایک دوسرے انصاری صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! میں (دفاع کیلئے تیار ہوں) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم (لڑو ان سے) تو وہ لڑے یہاں تک کہ شہید کردیئے گئے ۔ پھر آپ نے مڑ کر (سب پر) ایک نظر ڈالی تو مشرکین موجود تھے آپ نے پھر آواز لگائی: قوم کی کون حفاظت کرے گا ؟ طلحہ ؓ (پھر) بولے: میں حفاظت کروں گا، آپ نے فرمایا: (تم ٹھہرو) تم جیسے ہو ویسے ہی رہو ، تو دوسرے انصاری صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! میں قوم کی حفاظت کروں گا، آپ نے فرمایا: تم (لڑو ان سے) پھر وہ صحابی (مشرکین سے) لڑے اور شہید ہوگئے۔ پھر آپ ﷺ برابر ایسے ہی پکارتے رہے اور کوئی نہ کوئی انصاری صحابی ان مشرکین کے مقابلے کے لیے میدان میں اترتا اور نکلتا رہا اور اپنے پہلوں کی طرح لڑ لڑ کر شہید ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور طلحہ بن عبیداللہ ہی باقی رہ گئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے آواز لگائی۔ قوم کی کون حفاظت کرے گا ؟ طلحہ ؓ نے (پھر) کہا: میں کروں گا (یہ کہہ کر) پہلے گیارہ (شہید ساتھیوں) کی طرح مشرکین سے جنگ کرنے لگ گئے۔ (اور لڑتے رہے) یہاں تک کہ ہاتھ پر ایک کاری ضرب لگی اور انگلیاں کٹ کر گرگئیں۔ انہوں نے کہا: حس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم (حس کے بجائے) بسم اللہ کہتے تو فرشتے تمہیں اٹھا لیتے اور لوگ دیکھ رہے ہوتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو واپس کردیا (یعنی وہ مکہ لوٹ گئے) ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "On the day of Uhud, the people ran away, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was in one position among twelve men of the Ansar, one of whom was Talhah bin Ubaidullah. He said: Who will face the people? Talhah said: I will. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Stay where you are. One of the Ansar said: I will, O Messenger of Allah. He said: You (go ahead). So he fought until he was killed. Then he turned and saw the idolators. He said: Who will face the people? Talhah said: I will. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Stay where you are. One of the Ansar said: I will, O Messenger of Allah. He said: You (go ahead). So he fought until he was killed. This carried on, and each man of the Ansar went out to face them and fought like the one before him, and was killed, until only the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and Talhah bin Ubaidullah were left. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Who will face the people? Talhah said: I will. So Talhah fought like the eleven before him, until his hand was struck, and his fingers were cut off, and he exclaimed in pain. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If you had said Bismillah (in the Name of Allah), the angels would have lifted you up with the people looking on. Then Allah drove back the idolators.
حسن من قوله فقطعت أصابعه وما قبله يحتمل التحسين وهو على شرط مسلمصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3149
Notes · وضاحت
١ ؎: طلحہ بن عبیداللہ کا شمار اگرچہ ان بارہ انصاری صحابہ میں ہوا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھے، لیکن یہ انصاری نہیں ہیں، یہ اور بات ہے کہ تغلیباً سبھی کو انصاری کہا گیا ہے۔ حس: یہ کلمہ درد کی شدت کے وقت بولا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٨٩٣)، (حسن من قولہ ” فقطعت أصابعہ…“ وماقبلہ یحتمل التحسین وہو شرط مسلم )
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کی جنگ میں میرا بھائی رسول اللہ ﷺ کی معیت میں بہت بہادری سے لڑا، اتفاق ایسا ہوا کہ اس کی تلوار پلٹ کر خود اسی کو لگ گئی، اور اسے ہلاک کردیا۔ تو اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کے اصحاب چہ میگوئیاں کرنے لگے اور شک میں پڑگئے کہ وہ اپنے ہتھیار سے مرا ہے ١ ؎ سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خیبر سے لوٹ کر آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے اپنے سامنے رجز یہ کلام (یعنی جوش و خروش والا کلام) پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا: خوب سمجھ بوجھ کر کہنا ٢ ؎ میں نے کہا: قسم اللہ کی اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ـ نہ ہم صدقہ و خیرات کرتے، نہ نمازیں پڑھتے (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے سچی بات کہی ہے ۔ (دوسرے رجزیہ شعر کا ترجمہ) : اے اللہ ہم سب پر سکینت (اطمینان قلب) نازل فرما - اور جب میدان جنگ میں دشمن سے ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ مشرکین نے ہم پر ظلم و زیادتی کی ہے (تو ہماری ان کے مقابلے میں مدد فرما) ۔ جب میں اپنا رجزیہ کلام پڑھ چکا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ رجزیہ (اشعار) کس نے کہے ہیں؟ میں نے کہا: میرے بھائی نے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ ان پر رحم فرمائے (بہت اچھے رجزیہ اشعار کہے ہیں) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! لوگ تو ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے بچ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ شخص خود اپنے ہتھیار سے مرا ہے۔ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ لڑتا ہوا مجاہد بن کر مرا ہے ١ ؎۔ ابن شہاب زہری (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: میں نے سلمہ بن الاکوع ؓ کے بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے باپ سے یہ حدیث اسی طرح بیان کیا سوائے اس ذرا سے فرق کے کہ جب میں نے عرض کیا کہ کچھ لوگ ان کی نماز پڑھنے سے خوف کھا رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ غلط کہتے ہیں (بدگمانی نہیں کرنی چاہیئے) وہ جہاد کرتا ہوا بحیثیت ایک مجاہد کے مرا ہے ، آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسے دو اجر ملیں گے ۔
Salamah bin Al-Akwa said: "On the day of Khaibar, my brother fought fiercely alongside the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), then his sword recoiled upon him and killed him. The Companions of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), complaining about that, said: A man has died by his own weapon." Salamah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) returned from Khaibar and I said: O Messenger of Allah, do you permit me to recite some lines of Rajaz verse to you? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) gave him permission but Umar bin Al-Khattab (RA) said: "Think what you are saying." "I said: By Allah, if Allah had not guided us we would not have been guided. We would not have given in charity nor prayed The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: You have spoken the truth. (I continued:) Send down tranquility upon us, And make us steadfast when we meet the enemy. For the idolators have transgressed against us. When I completed my Rajaz verse, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Who said that? I said: My brother. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: May Allah have mercy on him. I said: O Messenger of Allah, some people are afraid to offer the (funeral) prayer for him, and they are saying that he is a man who died by his own weapon. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: He died striving as a Mujahid." Ibn Shihab said: "Then I asked a son of Salamah bin Al-Akwa, and he narrated a similar report to me from his father, except that he said: When I said: Some people are afraid to offer the (funeral) prayer for him, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: They lied. He died striving as Mujahid, and he will have a twofold reward, and he gestured with two of his fingers.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3150
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صحیح موت مرا ہے یا حرام موت کچھ پتہ نہیں۔ ٢ ؎: یعنی دیکھنا کوئی بات غیر مناسب نہ نکل جائے۔ ٣ ؎: یہ اور بات ہے کہ دشمن پر حملہ کرتے ہوئے تلوار اتفاقاً خود اسی کو لگ گئی لیکن یہ خودکشی نہیں ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر میری امت کے لیے یہ بات باعث تکلیف و مشقت نہ ہوتی تو میں کسی بھی فوجی ٹولی و جماعت کے ساتھ نکلنے میں پیچھے نہ رہتا، لیکن لوگوں کے پاس سواریوں کا انتظام نہیں، اور نہ ہی ہمارے پاس وافر سواریاں ہیں کہ میں انہیں ان پر بٹھا کرلے جا سکوں؟ اور وہ لوگ میرا ساتھ چھوڑ کر رہنا نہیں چاہتے۔ (اس لیے میں ہر سریہ (فوجی دستہ) کے ساتھ نہیں جاتا) مجھے تو پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں ، آپ نے ایسا تین بار فرمایا۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Were it not that it would be too difficult for my Ummah, I would not have stayed behind from any expedition. But they could not find mounts, and I could not find any mounts for them, and it would be too hard for them to stay behind when I went out. And I wish that I could be killed in the cause of Allah, then brought back to life, then killed, then brought back to life, then killed," three times.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3151
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر بہت سے مسلمانوں کے لیے یہ بات ناگواری اور تکلیف کی نہ ہوتی کہ وہ ہم سے پیچھے رہیں۔ (ہمارا ان کا ساتھ چھوٹ جائے) اور ہمارے ساتھ یہ دقت بھی نہ ہوتی کہ ہمارے پاس سواریاں نہیں ہیں جن پر ہم انہیں سوار کرا کے لے جائیں تو میں اللہ کے راستے میں جنگ کرنے کے لیے نکلنے والے کسی بھی فوجی دستہ سے پیچھے نہ رہتا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: By the One in Whose hand is my soul, were it not that some men among the believers would not like to stay behind when I went out (to fight), and I could not find any mounts for them, I would not have stayed behind from any campaign that fought in the cause of Allah. By the One in Whose hand is my soul, I wish that I could be killed in the cause of Allah, then brought back to life, then killed, then be brought back to life, then killed.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3152
ابن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان شخص جو اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اس دنیا سے جا چکا ہو یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ پھر لوٹ کر تمہارے پاس اس دنیا میں آئے اگرچہ اسے دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں دے دی جائیں سوائے شہید کے ١ ؎، مجھے اپنا اللہ کے راستے میں قتل کردیا جانا اس سے زیادہ پسند ہے کہ میری ملکیت میں دیہات، شہر و قصبات کے لوگ ہوں ٢ ؎۔
It was narrated from Ibn Abi Amirah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no Muslim soul among the people that is taken by its Lord and wishes it could come back to you, even if it had this world and everything in it, except the martyr." Ibn Abi Amirah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If I were to be killed in the cause of Allah, that would be dearer to me that if all the people of the deserts and the cities were to be mine."[1] [1] Meaning: If they were all my slaves and I set them free.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3153
Notes · وضاحت
١ ؎: شہید ہی کی ایک ایسی ہستی ہے جو باربار دنیا میں آنا اور اللہ کے راستے میں مارا جانا پسند کرتی ہے۔ ٢ ؎: یعنی سب کے سب میرے غلام ہوں اور میں انہیں آزاد کرتا رہوں۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن ایک شخص نے (رسول اللہ ﷺ) سے کہا: آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں شہید ہوگیا تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جنت میں ہو گے ، (یہ سنتے ہی) اس نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی کھجوریں پھینک دیں، (میدان جنگ میں اتر گیا) جنگ کی اور شہید ہوگیا۔
It was narrated that Amr said: "I heard Jabir say: A man said on the day of Uhud: If I am killed in the cause of Allah, where do you think I will be? He said: In Paradise. He threw down some dates that were in his hand and fought until he was killed.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3154
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اللہ کے راستے میں ثواب کی نیت رکھتے ہوئے جنگ کروں، اور جم کر لڑوں، آگے بڑھتا رہوں پیٹھ دکھا کر نہ بھاگوں، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہ مٹا دے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، پھر ایک لمحہ خاموشی کے بعد آپ نے پوچھا: سائل اب کہاں ہے ؟ وہ آدمی بولا: ہاں (جی) میں حاضر ہوں، (یا رسول اللہ! ) آپ نے فرمایا: تم نے کیا کہا تھا؟ اس نے کہا: آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں جم کر اجر و ثواب کی نیت سے آگے بڑھتے ہوئے، پیٹھ نہ دکھاتے ہوئے لڑتا ہوا مارا جاؤں تو کیا اللہ میرے گناہ بخش دے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں (بخش دے گا) سوائے قرض کے، جبرائیل (علیہ السلام) نے آ کر ابھی ابھی مجھے چپکے سے یہی بتایا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) while he was delivering a Khutbah from the Minbar, and he said: If I fight in the cause of Allah with patience and seeking reward, facing the enemy and not running away, do you think that Allah will forgive my sins? He said: Yes. Then he fell silent for a while. Then he said: Where is the one who was asking just now? The man said: Here I am. He said: What did you say? He said: What did you say? He said: I said: I said: If I fight in the cause of Allah with patience and seeking reward,facing the enemy and not running away, do you think that Allah will forgive my sins? He said: Yes, except for debt. Jibril told me that just now.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3155
Notes · وضاحت
١ ؎: قرض معاف نہیں کرے گا کیونکہ یہ بندے کا حق ہے، اس کے ادا کرنے یا بندہ کے معاف کرنے سے ہی اس سے چھٹکارا ملے گا، گویا قرض دار ہونا یہ باعث گناہ نہیں ہے بلکہ طاقت رکھتے ہوئے قرض ادا نہ کرنا یہ باعث گناہ ہے۔
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اس بارے میں کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کردیا جاؤں، اور حال یہ ہو کہ میں نے ثواب کی نیت سے جم کر جنگ لڑی ہو، آگے بڑھتے ہوئے نہ کہ پیٹھ دکھاتے ہوئے، تو کیا اللہ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں پھر جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو رسول اللہ ﷺ نے آواز دے کر اسے بلایا۔ (راوی کو شبہ ہوگیا بلایا) یا آپ نے اسے بلانے کے لیے کسی کو حکم دیا۔ تو اسے بلایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے (اس سے) کہا: تم نے کیسے کہا تھا ؟ تو اس نے آپ کے سامنے اپنی بات دہرا دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں، سوائے قرض کے سب معاف کر دے گا، جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Qatadah that his father said: "A man came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah, if I am killed in the cause of Allah with patience and seeking reward, facing the enemy and not running away, do you think that Allah will forgive my sins? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Yes. When the man turned away, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) called him back and said: What did you say? He repeated his question, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Yes, except debt. Jibril told me.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3156
ابوقتادہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے لوگوں کو (ایک دن) خطاب فرمایا: اور انہیں بتایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد اور اللہ پر ایمان سب سے بہتر اعمال میں سے ہیں ، (یہ سن کر) ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے، اگر میں اللہ کے راستے میں قتل کردیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو بخش دے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اگر تم اللہ کے راستے میں قتل کردیئے گئے، اور تم نے لڑائی ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ثواب کی نیت سے لڑی ہے پیٹھ دکھا کر بھاگے نہیں ہو تو قرض (حقوق العباد) کے سوا سب کچھ معاف ہوجائے گا۔ کیونکہ جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Qatadah that he heard Abu Qatadah narrate from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم, that he stood up among them and said that Jihad in the cause of Allah and belief in Allah are the best of deeds. Then a man stood up and said: "O Messenger of Allah, if I am killed in the cause of Allah, will Allah forgive my sins? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Yes, if you are killed in the cause of Allah, and you are patient and seek reward, and you are facing the enemy, not running way - except for debt. Jibril (علیہ السام) told me that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3157
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اس وقت آپ منبر پر (کھڑے خطاب فرما رہے) تھے، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اپنی تلوار اللہ کے راستے میں چلاؤں، ثابت قدمی کے ساتھ، بہ نیت ثواب، سینہ سپر رہوں پیچھے نہ ہٹوں یہاں تک کہ قتل کردیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے سبھی گناہوں کو مٹا دے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، پھر جب وہ جانے کے لیے مڑا، آپ نے اسے بلایا اور کہا: یہ جبرائیل ہیں، کہتے ہیں: مگر یہ کہ تم پر قرض ہو (تو قرض معاف نہیں ہوگا) ۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Qatadah that his father said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was on the Minbar and said: O Messenger of Allah, do you think that if I wield this sword of mine in the cause of Allah, with patience and seeking reward, facing the enemy, and not running away, will Allah forgive my sins? He said: Yes. When he turned away, he called him back and said: Jibril says: unless you are in debt.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3158
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شہید کے سوا دنیا میں کوئی بھی فرد ایسا نہیں ہے جسے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے یہاں خیر ملا ہوا ہو (اچھا مقام و مرتبہ حاصل ہو) پھر وہ لوٹ کر تم میں آنے کے لیے تیار ہو اگرچہ اسے پوری دنیا مل رہی ہو۔ (صرف شہید ہے) جو لوٹ کر دنیا میں آنا اور دوبارہ قتل ہو کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا پسند کرتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Kathir bin Murrah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no soul on Earth that dies, and is in a good position before Allah, that would like to come back to you, even if it had all this world, except the one who is killed (in the cause of Allah); he wishes that he could come back and be killed again.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3159
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ اسے اپنی شہادت کی وجہ سے جو عزت و مرتبہ اور بلند مقام حاصل ہوا ہے وہ دوبارہ کی شہادت سے اور بھی بڑھ جائے اور بلند ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥١٠٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/في الإمارة ٢٩ (١٨٧٧) مسند احمد (٥/٣١٨، ٣٢٢) (حسن صحیح )
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت والوں میں سے ایک شخص اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ اس سے کہے گا: آدم کے بیٹے! تم نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تو بہترین ٹھکانہ ملا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہے گا تمہاری کوئی طلب اور کوئی تمنا ہو تو مانگو اور ظاہر کرو۔ وہ کہے گا: میری تجھ سے یہی تمنا و طلب ہے کہ تو مجھے دنیا میں دسیوں بار بھیج تاکہ (میں جاؤں) پھر تیری راہ میں مارا جاؤں۔ اس کی یہ تمنا شہادت کی فضیلت دیکھنے کی وجہ سے ہوگی ۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: A man from among the people of Paradise will be brought and Allah, the Mighty and Sublime, will say: "O son of Adam, how do you find your place (in Paradise)?" He would say: "O Lord, it is the best place." He will say: "Ask and wish (for whatever you want)." He would say: "I ask You to send me back to the world so that I may be killed in Your cause ten time" - because of what he sees of the virtue of martyrdom.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3160
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شہید کو قتل کے وار سے بس اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس ہوتی ہے (پھر اس کے بعد تو آرام ہی آرام ہے) ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The martyr does not feel the pain of being killed, except as any one of you feels a pinch.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3161
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سچے دل سے شہادت کی طلب کرے تو وہ چاہے اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرے اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مقام پر پہنچا دے گا ١ ؎۔
Sahl bin Abi Umamah bin Sahl bin Hunaif narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever asks Allah, the mighty and Sublime, sincerely for martyrdom, Allah will cause him to reach the status of the martyrs even of he dies in his bed.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3162
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ اسے بھی جنت میں انہیں کی طرح مقام و مرتبہ اور گھر عطا کرے گا۔
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ حالتیں ہیں ان میں سے کسی بھی ایک حالت پر مرنے والا شہید ہوگا، اللہ کے راستے (جہاد) میں نکلا اور قتل ہوگیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور ڈوب کر مرگیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور دست میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوگیا تو وہ بھی شہید ہے، جہاد میں نکلا اور طاعون میں مبتلا ہو کر مرگیا وہ بھی شہید ہے، عورت (شوہر کے ساتھ جہاد میں نکلی ہے) حالت نفاس میں مرگئی تو وہ بھی شہید ہے ۔
It was narrated from Uqbah bin Amir that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There are five things, whoever dies of any of them is a martyr. The one who is killed in the cause of Allah is a martyr; the one who dies of an abdominal complaint in the cause of Allah is a martyr; the one who dies of the plague in the cause of Allah is a martyr; and the woman who dies in childbirth in the cause of Allah is a martyr.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3163