Sunan An Nasai 3163

جہاد سے متعلقہ احادیث

3163Sunan An Nasai

راہ الہی میں جہاد کرنے والا کس چیز کی تمنا کرے گا؟

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ بْنِ سُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَلَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ، تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ وَلَهَا الدُّنْيَا، إِلَّا الْقَتِيلُ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ، فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى.

عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شہید کے سوا دنیا میں کوئی بھی فرد ایسا نہیں ہے جسے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے یہاں خیر ملا ہوا ہو (اچھا مقام و مرتبہ حاصل ہو) پھر وہ لوٹ کر تم میں آنے کے لیے تیار ہو اگرچہ اسے پوری دنیا مل رہی ہو۔ (صرف شہید ہے) جو لوٹ کر دنیا میں آنا اور دوبارہ قتل ہو کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا پسند کرتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Kathir bin Murrah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no soul on Earth that dies, and is in a good position before Allah, that would like to come back to you, even if it had all this world, except the one who is killed (in the cause of Allah); he wishes that he could come back and be killed again.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3159
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ اسے اپنی شہادت کی وجہ سے جو عزت و مرتبہ اور بلند مقام حاصل ہوا ہے وہ دوبارہ کی شہادت سے اور بھی بڑھ جائے اور بلند ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥١٠٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/في الإمارة ٢٩ (١٨٧٧) مسند احمد (٥/٣١٨، ٣٢٢) (حسن صحیح )