Sunan An Nasai 3164

جہاد سے متعلقہ احادیث

3164Sunan An Nasai

جنت میں کس چیز کی تمنا ہوگی؟

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ: سَلْ وَتَمَنَّ، فَيَقُولُ: أَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا، فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكِ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت والوں میں سے ایک شخص اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ اس سے کہے گا: آدم کے بیٹے! تم نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تو بہترین ٹھکانہ ملا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہے گا تمہاری کوئی طلب اور کوئی تمنا ہو تو مانگو اور ظاہر کرو۔ وہ کہے گا: میری تجھ سے یہی تمنا و طلب ہے کہ تو مجھے دنیا میں دسیوں بار بھیج تاکہ (میں جاؤں) پھر تیری راہ میں مارا جاؤں۔ اس کی یہ تمنا شہادت کی فضیلت دیکھنے کی وجہ سے ہوگی ۔

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: A man from among the people of Paradise will be brought and Allah, the Mighty and Sublime, will say: "O son of Adam, how do you find your place (in Paradise)?" He would say: "O Lord, it is the best place." He will say: "Ask and wish (for whatever you want)." He would say: "I ask You to send me back to the world so that I may be killed in Your cause ten time" - because of what he sees of the virtue of martyrdom.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3160
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/صفات المنافقین ١٢ (٢٨٠٧)، (تحفة الأشراف: ٣٣٦)، مسند احمد (٣/١٣١، ٢٠٣٠، ٢٠٧، ٢٣٩، ٢٥٣) (صحیح )