Sunan An Nasai 3157

جہاد سے متعلقہ احادیث

3157Sunan An Nasai

راہ الٰہی میں شہید ہونے کی تمنا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمِيرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا مِنَ النَّاسِ مِنْ نَفْسٍ مُسْلِمَةٍ يَقْبِضُهَا رَبُّهَا تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ وَأَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، غَيْرُ الشَّهِيد. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ ابْنُ أَبِي عَمِيرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَأَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي أَهْلُ الْوَبَرِ وَالْمَدَرِ.

ابن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان شخص جو اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اس دنیا سے جا چکا ہو یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ پھر لوٹ کر تمہارے پاس اس دنیا میں آئے اگرچہ اسے دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں دے دی جائیں سوائے شہید کے ١ ؎، مجھے اپنا اللہ کے راستے میں قتل کردیا جانا اس سے زیادہ پسند ہے کہ میری ملکیت میں دیہات، شہر و قصبات کے لوگ ہوں ٢ ؎۔

It was narrated from Ibn Abi Amirah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no Muslim soul among the people that is taken by its Lord and wishes it could come back to you, even if it had this world and everything in it, except the martyr." Ibn Abi Amirah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If I were to be killed in the cause of Allah, that would be dearer to me that if all the people of the deserts and the cities were to be mine."[1] [1] Meaning: If they were all my slaves and I set them free.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3153
Notes · وضاحت
١ ؎: شہید ہی کی ایک ایسی ہستی ہے جو باربار دنیا میں آنا اور اللہ کے راستے میں مارا جانا پسند کرتی ہے۔ ٢ ؎: یعنی سب کے سب میرے غلام ہوں اور میں انہیں آزاد کرتا رہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٢٢٧)، مسند احمد (٤/٢١٦) (حسن )