ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال (اور اللہ کو معلوم ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا کون ہے) دن بھر روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے ذمہ لیا ہے کہ اسے موت دے گا، تو اسے جنت میں داخل کرے گا یا (موت نہیں دے گا تو) صحیح و سالم حالت میں اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے حاصل ہوا ہے اسے واپس اس کے گھر بھیج دے گا ۔
Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The parable of Mujahid (who strives in the cause of Allah) - and Allah knows best who strives in the cause of Allah - is that of one who fasts and prays Qiyam (continually). Allah has promised Mujahid (who strives in His cause), that He will either cause him to die and admit him to paradise, or, He will bring him back safely with whatever he had earned of reward or spoils of war
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3124
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، اور مال غنیمت پاتے ہیں، تو وہ اپنی آخرت کے اجر کا دو حصہ پہلے پالیتے ہیں ١ ؎، اور آخرت میں پانے کے لیے صرف ایک تہائی باقی رہ جاتا ہے، اور اگر غنیمت نہیں پاتے ہیں تو ان کا پورا اجر (آخرت میں) محفوظ رہتا ہے ۔
Abdullah bin Amr said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: There is no raiding party that goes out in the cause of Allah and acquires some spoils of war, but they have been given two-thirds of their reward in this world instead of in the Hereafter, and there remains one-third (in the Hereafter). And if they do not acquire any spoils of war, then all of their reward (will come in the Hereafter).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3125
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ جو مجاہد کفار سے جہاد کر کے مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس لوٹ آیا تو سردست اسے دو فائدے دنیا میں حاصل ہوگئے ایک سلامتی دوسرا مال غنیمت اور اللہ کے دشمنوں سے اس نے جہاد کا جو ارادہ کیا تھا اس کے سبب اسے اس کے اجر کا تیسرا حصہ آخرت میں ثواب کی شکل میں ملے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٤ (١٩٠٦)، سنن ابی داود/الجہاد ١٣ (٢٤٩٧)، سنن ابن ماجہ/الجہاد (٢٧٨٥)، مسند احمد ٢/١٦٢٩ (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک حدیث قدسی میں اپنے رب سے نقل فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ میری رضا چاہتے ہوئے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا تو میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اگر میں اس کو لوٹاؤں گا (یعنی زندہ واپس گھر بھیجوں گا) تو لوٹاؤں گا اجر و ثواب اور غنیمت دے کر اور اگر اس کی روح قبض کرلوں گا تو اس کو بخش دوں گا اور اسے اپنی رحمت سے نوازوں گا ۔
It was narrated from Ibn Umar, from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), of what he related from his Lord, the Mighty and Sublime: "And of My slaves who goes out as a Mujahid striving in the cause of Allah, seeking my pleasure, I guarantee that I will bring him back with whatever he had earned as reward or spoils of war, and if I take his (soul) I will forgive him and have mercy on him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3126
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے (اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں (واقعی) جہاد کرنے والا کون ہے) ۔ اس کی مثال مسلسل روزے رکھنے والے، نمازیں پڑھنے والے، اللہ سے ڈرنے والے، رکوع اور سجدہ کرنے والے کی سی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The parable of a Mujahid who strives in the cause of Allah - and Allah knows best who in His cause - is that of one who fasts, prays Qiyam, focuses with proper humility, bows and prostrates.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3127
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جتنے وقت تک مجاہد جہاد میں مشغول رہے اتنا ہی وقت تک نماز پڑھنے والا، اللہ سے ڈرنے والا، رکوع اور سجدہ کرنے والا جس ثواب عظیم کا مستحق ہے اسی ثواب عظیم کا مستحق وہ مجاہد بھی ہے جس خالص نیت سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، پھر اس نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو (یعنی وہی درجہ رکھتا ہو) آپ نے فرمایا: میں نہیں پاتا کہ تو وہ کرسکے گا، جب مجاہد جہاد کے لیے (گھر سے) نکلے تو تم مسجد میں داخل ہوجاؤ، اور کھڑے ہو کر نمازیں پڑھنی شروع کرو (اور پڑھتے ہی رہو) پڑھنے میں کوتاہی نہ کرو، اور روزے رکھو (رکھتے جاؤ) افطار نہ کرو ، اس نے کہا یہ کون کرسکتا ہے؟ ١ ؎۔
Abu Hurairah said: "A man came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: Tell me of an action that is equal to Jihad. He said: I cannot. When the Mujahid goes out, can you enter the Masjid and stand in prayer and never rest, and fast and never break your fast? He said: Who can do that?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3128
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کوئی نہیں کرسکتا ہے، معلوم ہوا کہ مجاہد جس درجہ پر فائز ہے اس تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی۔
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔
It was narrated from Abu Dharr that he asked the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) which deed was best. He said: "Belief in Allah and Jihad in the cause of Allah, the Mighty and Sublime.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3129
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا ، اس نے کہا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ، اس نے کہا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: ایسا حج جو اللہ کے نزدیک قبول ہوجائے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "A man asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) which deed is best. He said: Faith in Allah. He said: Then what? He said: Jihad in the cause of Allah. He said: Then what? He said: Hajjun Mabrur." [1] [1] Hajj, that is accepted, or free of sin.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3130
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوسعید! جو شخص راضی ہوگیا اللہ کے رب ١ ؎ ہونے پر اور اسلام کو بطور دین قبول کرلیا ٢ ؎ اور محمد ﷺ کی نبوت ٣ ؎ کا اقرار کرلیا، تو جنت اس کے لیے واجب ہوگئی ٤ ؎، (راوی کہتے ہیں) یہ کلمات ابوسعید کو بہت بھلے لگے۔ (چنانچہ) عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کلمات کو آپ مجھے ذرا دوبارہ سنا دیجئیے، تو آپ نے دہرا دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لیکن جنت میں بندے کو سو درجوں کی بلندی تک پہنچانے کے لیے ایک دوسری عبادت بھی ہے (اور درجے بھی کیسے؟ ) ایک درجہ کا فاصلہ دوسرے درجے سے اتنا ہے جتنا فاصلہ آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا: یہ دوسری عبادت کیا ہے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: (یہ دوسری عبادت) اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے ۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "O Abu Saeed! Whoever is content with Allah as Lord, Islam as his religion and Muhammad as Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), then he is guaranteed Paradise." Abu Saeed found this amazing and said: "Say it to me again, O Messenger of Allah." So he did that, then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "And there is something else by means of which a person may be raised one hundred degrees in Paradise, each of which is like that which is between the Heaven and the Earth." He said: "What is it, O Messenger of Allah? He said: "Jihad in the cause of Allah, Jihad in the cause of Allah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3131
Notes · وضاحت
١ ؎: رب اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے، جس کے معنی ہیں ہر چیز کو پیدا کر کے اس کی ضروریات مہیا کرنے اور اس کو تکمیل تک پہنچانے والا، بغیر اضافت کے اس کا استعمال اللہ کی ذات کے علاوہ کسی اور کے لیے جائز نہیں، اور اسی ربوبیت کا تقاضا ہے کہ آدمی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، کیونکہ وہی برتر و بالا مقدس ذات عبادت کی مستحق ہے یہاں رب ماننے کا معنی و مطلب اس رب کے لیے ہر طرح کی عبادت کو خاص کرنا ہے، اس لیے کہ اللہ کو کائنات کے خالق ومالک ماننے اور اس کی ربوبیت کو تسلیم کرنے میں مشرکین عرب و غیر عرب کو اعتراض نہ تھا، ان کا اصل مرض یہی تھا کہ وہ اللہ کو رب اور خالق ومالک مانتے ہوئے اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ ٢ ؎: اسلام کو بطور دین تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے طریقہ کو چھوڑ کر کوئی اور طریقہ اپنی زندگی میں نہ اپنائے۔ ٣ ؎: محمد ﷺ کو نبی تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے اوامرو نواہی کو ہر چیز پر مقدم رکھے۔ اور ہر چھوٹے بڑے معاملے میں آپ کے حکم کو بغیر کسی بحث و اعتراض کے قبول کرے۔ ٤ ؎: بشرطیکہ اس نے شرک، بدعات کی ان میں آمیزش نہ کی ہو اور بدعملی کا شکار نہ ہوا ہو۔
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز قائم کی اور زکاۃ دی، اور اللہ کے ساتھ کسی طرح کا شرک کئے بغیر مرا تو چاہے ہجرت کر کے مرا ہو یا (بلا ہجرت کے) اپنے وطن میں مرا ہو، اللہ پر اس کا یہ حق بنتا ہے کہ اللہ اسے بخش دے، ہم صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم یہ خبر لوگوں کو نہ پہنچا دیں جسے سن کر لوگ خوش ہوجائیں؟ آپ نے فرمایا: جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجے کے درمیان آسمان و زمین اتنا فاصلہ ہے، اور یہ درجے اللہ تعالیٰ نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے بنائے ہیں، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں مسلمانوں کو مشکل و مشقت میں ڈال دوں گا اور انہیں سوار کرا کے لے جانے کے لیے سواری نہ پاؤں گا اور میرے بعد میرا ساتھ چھوٹ جانے کی انہیں ناگواری اور تکلیف ہوگی تو میں کسی سریہ (فوجی دستے) کے ساتھ جانے سے بھی نہ چوکتا اور میں تو پسند کرتا اور چاہتا ہوں کہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، اور پھر قتل کیا جاؤں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Ad-Darda said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever established Salah, pays Zakah, and dies not associating anything with Allah, he has a right from Allah the Mighty and Sublime, that He will forgive him, whether he emigrated, or died in his birthplace. We said: O Messenger of Allah! Shall we not tell the people about it so that they may rejoice? He said: In Paradise there are one hundred levels, (the distance) between each two of which is like (the distance) between the Heaven and the Earth; Allah has prepared them fro the Mujahidin who strive in His cause. Were it not that it would be too difficult for the believers and I cannot find mounts for them - and they do not like to stay behind if I go out (on a campaign) - I would not have stayed behind from any expedition. I wish that I could be killed then brought back to life, then killed again.
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3132
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح میں بلند سے بلند تر جنت کا درجہ و مرتبہ حاصل کرسکوں گا تو تم بھی صرف جنت میں چلے جانے کو کافی نہ سمجھو بلکہ بلند سے بلند درجے حاصل کرنے کی کوشش کرو، گویا مغفرت کے لیے ایمان کافی تو ہے لیکن جنت میں ترقی درجات جہاد پر موقوف ہے۔
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو مجھ پر ایمان لایا، اور میری اطاعت کی، اور ہجرت کی، تو میں اس کے لیے جنت کے احاطے (فصیل) میں ایک گھر اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا ذمہ لیتا ہوں۔ اور میں اس شخص کے لیے بھی جو مجھ پر دل سے ایمان لائے، اور میری اطاعت کرے، اور اللہ کے راستے میں جہاد کرے ضمانت لیتا ہوں جنت کے گرد و نواح میں (فصیل کے اندر) ایک گھر کا، اور جنت کے وسط میں ایک گھر کا اور جنت کے بلند بالا خانوں (منزلوں) میں سے بھی ایک گھر (اونچی منزل) کا۔ جس نے یہ سب کیا (یعنی ایمان، ہجرت اور جہاد) اس نے خیر کے طلب کی کوئی جگہ نہ چھوڑی ا ؎ اور نہ ہی شر سے بچنے کی کوئی جگہ ٢ ؎ جہاں مرنا چاہے مرے ٣ ؎۔
It was narrated from Amr bin Malik Al-Janbi that he heard Fadalah bin Ubaid say: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: I am a Zaim - and the Zaim is the guarantor - for the one who believes in me and accepts Islam, and emigrates: A house on the outskirts of Paradise and a house in the middle of Paradise. And I am a guarantor, for the one who believes in me and accepts Islam, and strives in the cause of Allah: A house on the outskirts of Paradise and a house in the middle of Paradise and a house in the highest chambers of Paradise. Whoever does that and seeks goodness wherever it is, and avoids evil wherever it is, may die wherever he wants to die.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3133
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خیر کے طلب کے لیے کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں وہ پہنچا نہ ہو۔ ٢ ؎: یعنی شر سے اپنے آپ کو بچانے اور اس سے محفوظ رکھنے کے لیے شر کی کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں سے اس نے اپنے آپ کو دور نہ رکھا ہو۔ ٣ ؎: یعنی ہر طرح کا خیر اس نے حاصل کرلیا ہے، اور ہر طرح کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ کرلیا ہے، اب اس کے لیے فکر و غم کی کوئی بات نہیں ہے۔
سبرہ بن ابی فاکہہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: شیطان ابن آدم کو بہکانے کے لیے اس کے راستوں میں بیٹھا۔ کبھی وہ اسلام کے راستہ سے سامنے آیا۔ کہا: تم اسلام لاتے ہو؟ اپنے دین کو، اپنے باپ کے دین کو اور اپنے دادا کے دین کو چھوڑ رہا ہے؟ (یہ اچھی بات نہیں) لیکن انسان نے اس کی بات نہیں مانی اور اسلام لے آیا۔ پھر وہ ہجرت کے راستے سے اسے بہکانے کے لیے بیٹھا۔ کہا: تم ہجرت کر رہے ہو؟ تم اپنی زمین اور اپنا آسمان چھوڑ کر جا رہے ہو، مہاجر کی مثال لمبی رسی میں بندھے گھوڑے کی مثال ہے (جو رسی کے دائرے سے باہر کہیں آ جا نہیں سکتا) ، لیکن اس نے اس کی بات نہیں مانی (اس کے بہکانے میں نہیں آیا) اور ہجرت کی۔ پھر وہ انسان کو جہاد کے راستے سے بہکانے کے لیے بیٹھا۔ کہا: تم جہاد کرتے ہو؟ یہ تو جان و مال کو کھپا دینا اور ضائع کردینا ہے۔ تم جہاد کرو گے تو قتل کردیئے جاؤ گے۔ تمہاری بیوی کی شادی کردی جائے گی، اور تمہارا مال بانٹ دیا جائے گا۔ لیکن اس نے اس کی بات نہیں مانی اور جہاد کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ایسا کیا اس کا اللہ تعالیٰ پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اسے (اپنی رحمت سے) جنت میں داخل فرمائے، اور جو شخص (اس راہ میں) شہید ہوگیا اللہ تعالیٰ پر ایک طرح سے واجب ہوگیا کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے، اگر وہ (اس راہ میں) ڈوب گیا تو اسے بھی جنت میں داخل کرنا اللہ پر اس کا حق بنتا ہے، اگر اسے اس کی سواری گرا کر ہلاک کر دے تو بھی اللہ تعالیٰ پر اس کا حق بنتا ہے کہ اسے بھی (اپنے فضل و کرم سے) جنت میں داخل فرمائے ۔
It was narrated that Sabrah bin Abi Fakih said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: the Shaitan sits in the paths of the son of Adam. He sits waiting for him, in the path to Islam, and he says: Will you accept Islam, and leave your religion, and the religion of your forefathers? But he disobeys him and accepts Islam. Then he sits waiting for him, on the path to emigration, and he says: Will you emigrate and leave behind your land and sky? The one who emigrates is like a horse tethered to a peg. But he disobeys him and emigrates. Then he sits, waiting for him, on the path to Jihad, and he says: Will you fight in Jihad when it will cost you your life and your wealth? You will fight and be killed, and your wife will remarry, and your wealth will be divided. But he disobeys him and fights in Jihad. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever does that, then he had a right from Allah, the Mighty and Sublime, that He will admit him to paradise. Whoever is killed, he has a right from Allah, the Mighty and Sublime, that He will admit him to Paradise. If he is drowned, he has a right from Allah that He will admit him to paradise, or whoever is thrown by his mount and his neck is broken, he had a right from Allah that he will admit him to Paradise.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3134
ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کے راستے میں جوڑا دے ١ ؎، جنت میں (اسے مخاطب کر کے) کہا جائے گا: اللہ کے بندے یہ ہے (تیری) بہتر چیز۔ تو جو کوئی نمازی ہوگا اسے باب صلاۃ (صلاۃ کے دروازہ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی مجاہد ہوگا اسے باب جہاد (جہاد کے دروازہ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی صدقہ و خیرات دینے والا ہوگا اسے باب صدقہ (صدقہ و خیرات والے دروازہ) سے پکارا جائے گا، اور جو کوئی اہل صیام میں سے ہوگا اسے باب ریان (سیراب و شاداب دروازہ) سے بلایا جائے گا ۔ ابوبکر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! اس کی کوئی ضرورت و حاجت نہیں کہ کسی کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے ٢ ؎ کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے ۔
Abu Hurairah used to narrate that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah, he will be called in Paradise: O slave of Allah, here is prosperity. Whoever is one of those who pray, he will be called from the gate of Paradise. Whoever is one of those who participated in Jihad, he will be called from the gate of Paradise. Whoever is one of those who fast, he will be called from the gate of Ar-Rayyan." Abu Bakr As-Siddiq said: "O Messenger of Allah! No distress, or need will befall the one who is called from those gates. Will there be anyone who will be called from all these gates? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Yes, and I hope that you will be one of them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3135
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو چیز بھی اللہ کے راستے میں دیتا ہے تو دینے والے کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ جوڑا کی شکل میں دے، یا جوڑا سے مراد نیک عمل کی تکرار ہے۔ ٢ ؎: کیونکہ جنت میں داخل ہونے کا مقصد تو صرف ایک دروازے سے دخول کی اجازت ہی سے حاصل ہوجاتا ہے۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: آدمی لڑتا ہے تاکہ اس کا ذکر اور چرچا ہو ١ ؎، لڑتا ہے تاکہ مال غنیمت حاصل کرے، لڑتا ہے تاکہ اللہ کے راستے میں لڑنے والوں میں اس کا مقام و مرتبہ جانا پہچانا جائے تو کس لڑنے والے کو اللہ کے راستے کا مجاہد کہیں گے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے کا مجاہد اسے کہیں گے جو اللہ کا کلمہ ٢ ؎ بلند کرنے کے لیے لڑے ۔
Abu Musa Al-Ashari said: "A Bedouin came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: A man fights for fame, or he fights for the spoils of war, or he fights to show off. Who is the one who is fighting in the cause of Allah? He said: The one who fights so that the word of Allah will be supreme is the one who is fighting in the cause of Allah, the Mighty and Sublime.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3136
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ریاکاری کے ساتھ لڑتا ہے تاکہ لوگوں میں اپنی بہادری کی وجہ سے جانا اور پہچانا جائے۔ ٢ ؎: یعنی اس کے دین کی بلندی کے لیے لڑے۔
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ (کی مجلس) سے لوگ جدا ہونے لگے، تو اہل شام میں سے ایک شخص نے ابوہریرہ ؓ سے کہا: شیخ! رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی کوئی حدیث مجھ سے بیان کیجئے، کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: قیامت کے دن پہلے پہل جن لوگوں کا فیصلہ ہوگا، وہ تین (طرح کے لوگ) ہوں گے، ایک وہ ہوگا جو شہید کردیا گیا ہوگا، اسے لا کر پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی (ان) نعمتوں کی پہچان کروائے گا (جو نعمتیں اس نے انہیں عطا کی تھیں) ۔ وہ انہیں پہچان (اور تسلیم کر) لے گا۔ اللہ (اس) سے کہے گا: یہ ساری نعمتیں جو ہم نے تجھے دی تھیں ان میں تم نے کیا کیا وہ کہے گا: میں تیری راہ میں لڑا یہاں تک کہ میں شہید کردیا گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے۔ بلکہ تو اس لیے لڑاتا کہ کہا جائے کہ فلاں تو بڑا بہادر ہے چناچہ تجھے ایسا کہا گیا ١ ؎، پھر حکم دیا جائے گا: اسے لے جاؤ تو اسے چہرے کے بل گھسیٹ کرلے جایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک وہ ہوگا جس نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا، اور قرآن پڑھا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ (اس سے) کہے گا: ان نعمتوں کا تو نے کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا اور اسے (دوسروں کو) سکھایا اور تیرے واسطے قرآن پڑھا۔ اللہ تعالیٰ کہے گا: تو نے جھوٹ اور غلط کہا تو نے تو علم اس لیے سیکھا کہ تجھے عالم کہا جائے تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے چناچہ تجھے کہا گیا۔ پھر اسے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چناچہ چہرے کے بل گھسیٹ کر اسے لے جایا جائے گا یہاں تک کہ وہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا ۔ ایک اور شخص ہوگا جسے اللہ تعالیٰ نے بڑی وسعت دی ہوگی طرح طرح کے مال و متاع دیئے ہوں گے اسے حاضر کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی عطا کردہ نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ (اس سے) کہے گا: ان کے شکریہ میں تو نے کیا کیا وہ کہے گا: اے رب! میں نے کوئی جگہ ایسی نہیں چھوڑی جہاں تو پسند کرتا ہے کہ وہاں خرچ کیا جائے۔ مگر میں نے وہاں خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بکتا ہے، تو نے یہ سب اس لیے کیا کہ تیرے متعلق کہا جائے کہ تو بڑا سخی اور فیاض آدمی ہے چناچہ تجھے کہا گیا، اسے یہاں سے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چناچہ چہرے کے بل گھسیٹتا ہوا اسے لے جایا جائے گا۔ اور لے جا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں تحب (کا مفہوم) جیسا میں چاہتا تھا سمجھ نہ سکا لیکن جو میں نے سمجھا وہ یہ ہے کہ استاذ نے تحب کے آگے أن ينفق فيها کہا۔
It was narrated from Abu Hurairah, that one of the people of Ash-Sham said to him: "O Shaikh, tell me of a Hadith that you heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)." (He said: "Yes; I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)) say: The first of people for whom judgment will be passed on the Day of Resurrection are three. A man who was martyred. He will be brought and Allah will remind him of His blessings and he will acknowledge them. He will say: What did you do with them? He will say: I fought for Your sake until I was martyred. He will say: You are lying. You fought so that it would be said that so-and-so is brave, and it was said. Then He will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire. And (the second will be) a man who acquired knowledge and taught others, and read Quran. He will be brought, and Allah will remind him of His blessings, and he will acknowledge them. He will say: What did you do with them? He will say: I acquired knowledge and taught others, and read the Quran for Your sake. He will say: You are lying. You acquired knowledge so that it would be said that you were a scholar; and you read Quran so that it would be said that you were a reciter, and it was said. Then He will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire. And (the third will be) a man whom Allah made rich and gave him all kinds of wealth. He will be brought and Allah will remind him of His blessings, and he will acknowledge them. He will say: What did you do with them? He will say: I did not leave any way that You like wealth to be spent - Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: I did not understand "what You like" as I wanted to [1] - "but I spent it." He will say: "You are lying. You spent it so that it would be said that he was generous, and it was said." Then he will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire." [1] That is, he did not hear or understand what came after it as well as he wanted to, but it was similar to what follows regarding the spending. Similar was stated by Shaikh Abdur-Rahman Al-Funjani in his notes on the text, according to Al-Funjani in his commentary At-Taiqat As-Salafiyyah (2:51)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3137
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تیری جرأت و بہادری کی دنیا میں بڑی تعریفیں ہوئیں اور بڑا چرچا رہا۔
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، اور کسی اور چیز کی نہیں صرف ایک عقال (اونٹ کی ٹانگیں باندھنے کی رسی) کی نیت رکھی تو اس کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ١ ؎۔
It was narrated from Yahya bin Al-Walid bin Ubadah bin As-Samit that his grandfather said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever fights in the cause of Allah intending only to get an Iqal, he will have what he intended.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3138
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ اس کی نیت خالص نہ تھی اس لیے وہ ثواب سے بھی محروم رہے گا، رسی ایک معمولی چیز ہے اس کے حصول کی نیت سے انسان اگر ثواب سے محروم ہوسکتا ہے، تو دین کا کام کرنے والا اگر کسی بڑی چیز کے حصول کی نیت کرے، اور اللہ کی رضا مندی مطلوب نہ ہو تو اس کا کیا حال ہوگا!۔
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جہاد کیا اور اس نے (مال غنیمت میں) صرف عقال (یعنی ایک معمولی چیز) حاصل کرنے کا ارادہ کیا، تو اسے وہی چیز ملے گی جس کا اس نے ارادہ کیا ١ ؎۔
It was narrated from Ubadah bin As-Samit that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever fights seeking only an Iqal, then he will have what he intended.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3139
Notes · وضاحت
١ ؎: مزید اسے اور کوئی چیز از روئے ثواب بشکل انعام و اکرام جنت میں حاصل نہ ہوگی۔
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور عرض کیا: آپ ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو جہاد کرتا ہے، اور جہاد کی اجرت و مزدوری چاہتا ہے، اور شہرت و ناموری کا خواہشمند ہے، اسے کیا ملے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کے لیے کچھ نہیں ہے ١ ؎۔ اس نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی۔ اور رسول اللہ ﷺ اس سے یہی فرماتے رہے کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو، اور اس سے اللہ کی رضا مقصود و مطلوب ہو ۔
It was narrated that Abu Umamah Al-Bahili said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: What do you think of a man who fights seeking reward and fame - what will he have? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: He will not have anything. He repeated it three times, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: He will not have anything. Then he said: Allah does not accept any deed, except that which is purely for Him, and seeking His Face.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3140
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ اس کی نیت خالص نہیں تھی اس لیے وہ ثواب سے محروم رہے گا۔
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو (مسلمان) شخص اونٹنی دوہنے کے وقت مٹھی بند کرنے اور کھولنے کے درمیان کے وقفہ کے برابر بھی (یعنی ذرا سی دیر کے لیے) اللہ کے راستے میں جہاد کرے، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ اور جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے اپنی شہادت کی دعا کرے، پھر وہ مرجائے یا قتل کردیا جائے تو (دونوں ہی صورتوں میں) اسے شہید کا اجر ملے گا، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہوجائے یا کسی مصیبت میں مبتلا کردیا جائے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے زخم کا رنگ (زخمی ہونے کے وقت) جیسا کچھ تھا، اس سے بھی زیادہ گہرا و نمایاں ہوگا، رنگ زعفران کی طرح اور (اس کا زخم بدنما و بدبودار نہ ہوگا بلکہ اس کی) خوشبو مشک کی ہوگی، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اس پر شہداء کی مہر ہوگی ١ ؎۔ ١ ؎: یعنی اس کا شمار شہیدوں میں ہوگا۔
Muadh bin Jabal said that he heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "Whoever fights in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, for the length of time between two milkings of a she-camel, Paradise is guaranteed for him. Whoever asks Allah to be killed (in Jihad) sincerely, from his heart, then he dies or is killed, he will have the reward of a martyr. Whoever is wounded or injured in the cause of Allah, it will come on the Day of Resurrection bleeding the most it ever bled, but its color will be like saffron, and its fragrance will be like musk. Whoever is wounded in the cause of Allah, upon him is the seal of the martyrs.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3141
عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کے راستے میں (جہاد کرتے کرتے) بوڑھا ہوگیا، تو یہ چیز قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گی، اور جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر بھی چلایا خواہ دشمن کو لگا ہو یا نہ لگا ہو تو یہ چیز اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے درجہ میں ہوگی۔ اور جس نے ایک مومن غلام آزاد کیا تو یہ آزاد کرنا اس کے ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات دلانے کا فدیہ بنے گا ۔
It was narrated from Shurahbil bin As-Simt that he said to Amr bin Abasah: "O Amr! Tell us a Hadith that you heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)." He said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever develops one gray hair in the cause of Allah, Most High, it will be light for him on the Day of Resurrection. Whoever shoots an arrow in the cause of Allah, Most High, whether it reaches the enemy or not, it will be as if he freed a slave. Whoever frees a believing slave, it will be a ransom for him from the Fire, limb by limb.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3142
ابونجیح سلمی (عمرو بن عبسہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کے راستے میں ایک تیر لے کر پہنچا، تو وہ اس کے لیے جنت میں ایک درجہ کا باعث بنا تو اس دن میں نے سولہ تیر پہنچائے، راوی کہتے ہیں اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تو (اس کا) یہ تیر چلانا ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔
It was narrated that Abu Najih As-Sulami said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever shoots an arrow in the cause of Allah and it hits the target, it will raise him one level in Paradise. That day I shot sixteen arrows that hit their targets." He said: "And I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever shoots an arrow in the cause of Allah, it is equal to the reward of freeing a slave.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3143