Sunan An Nasai 3142

جہاد سے متعلقہ احادیث

3142Sunan An Nasai

جس شخص نے راہ اللہ میں جہاد تو کیا لیکن اس نے صرف ایک رسی حاصل کرنے کی نیت کی

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَمْ يَنْوِ إِلَّا عِقَالًا، فَلَهُ مَا نَوَى.

عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، اور کسی اور چیز کی نہیں صرف ایک عقال (اونٹ کی ٹانگیں باندھنے کی رسی) کی نیت رکھی تو اس کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ١ ؎۔

It was narrated from Yahya bin Al-Walid bin Ubadah bin As-Samit that his grandfather said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever fights in the cause of Allah intending only to get an Iqal, he will have what he intended.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3138
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ اس کی نیت خالص نہ تھی اس لیے وہ ثواب سے بھی محروم رہے گا، رسی ایک معمولی چیز ہے اس کے حصول کی نیت سے انسان اگر ثواب سے محروم ہوسکتا ہے، تو دین کا کام کرنے والا اگر کسی بڑی چیز کے حصول کی نیت کرے، اور اللہ کی رضا مندی مطلوب نہ ہو تو اس کا کیا حال ہوگا!۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥١٢٠)، مسند احمد (٥/٣١٥، ٣٢٠، ٣٢٩)، سنن الدارمی/الجہاد ٢٤ (٢٤٦٠) (حسن )