Sunan An Nasai 3129

جہاد سے متعلقہ احادیث

3129Sunan An Nasai

ان مجاہدین کے متعلق جنہیں مال غنیمت نہ مل سکے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَذَكَرَ آخَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيُصِيبُونَ غَنِيمَةً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الْآخِرَةِ، وَيَبْقَى لَهُمُ الثُّلُثُ، فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ.

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، اور مال غنیمت پاتے ہیں، تو وہ اپنی آخرت کے اجر کا دو حصہ پہلے پالیتے ہیں ١ ؎، اور آخرت میں پانے کے لیے صرف ایک تہائی باقی رہ جاتا ہے، اور اگر غنیمت نہیں پاتے ہیں تو ان کا پورا اجر (آخرت میں) محفوظ رہتا ہے ۔

Abdullah bin Amr said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: There is no raiding party that goes out in the cause of Allah and acquires some spoils of war, but they have been given two-thirds of their reward in this world instead of in the Hereafter, and there remains one-third (in the Hereafter). And if they do not acquire any spoils of war, then all of their reward (will come in the Hereafter).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3125
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ جو مجاہد کفار سے جہاد کر کے مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس لوٹ آیا تو سردست اسے دو فائدے دنیا میں حاصل ہوگئے ایک سلامتی دوسرا مال غنیمت اور اللہ کے دشمنوں سے اس نے جہاد کا جو ارادہ کیا تھا اس کے سبب اسے اس کے اجر کا تیسرا حصہ آخرت میں ثواب کی شکل میں ملے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٤ (١٩٠٦)، سنن ابی داود/الجہاد ١٣ (٢٤٩٧)، سنن ابن ماجہ/الجہاد (٢٧٨٥)، مسند احمد ٢/١٦٢٩ (صحیح )