جہاد سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 24 · 112 hadiths · Page 2 of 6

3108Sunan An Nasai

جس کی صرف والدہ زندہ ہو اس کے لئے اجازت

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا.

معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ ﷺ نے (ان سے) پوچھا: کیا تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: انہیں کی خدمت میں لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے ١ ؎۔

It was narrated from Muawiyah bin Jahimah As-Sulami, that Jahimah came to the Prophet ﷺ and said: “Messenger of Allah ﷺ! I want to go out and fight (in Jihad) and I have come to ask your advice.” He said: “Do you have a mother?” He said: “Yes.” He said: “Then stay with her, for Paradise is beneath her feet.” (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3104
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جنت کی حصول یابی ماں کی رضا مندی اور خوشنودی کے بغیر ممکن نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٢ (٢٧٨١)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٥)، مسند احمد (٣/٤٢٩) (حسن صحیح )
3109Sunan An Nasai

جان و مال سے جہاد کرنے والے کے بارے میں احادیث

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: مَنْ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِقَالَ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللَّهَ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! لوگوں میں افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا: افضل وہ ہے جو اللہ کے راستے میں جان و مال سے جہاد کرے ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! پھر کون؟ آپ نے فرمایا: پھر وہ مومن جو پہاڑوں کی کسی گھاٹی میں رہتا ہو، اللہ سے ڈرتا ہو، اور لوگوں کو (ان سے دور رہ کر) اپنے شر سے بچاتا ہو ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: “Messenger of Allah ﷺ! Which of the people is best?” He said: “One who strives with himself and his wealth in the cause of Allah.” He said: “Then who, Messenger of Allah ﷺ?” He said: “Then a believer (isolating himself) in one of the mountain passes, who fears Allah and spares the people his evil.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3105
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٢٤ (٢٧٨٦)، الرقاق ٣٤ (٦٤٩٤)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٤ (١٨٨٨)، سنن ابی داود/الجہاد ٥ (٢٤٨٥)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٢٤ (١٦٦٠)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٣ (٣٩٧٨)، (تحفة الأشراف: ٤١٥١)، مسند احمد (٣/١٦، ٣٧، ٥٦، ٨٨) (صحیح )
3110Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ ؟ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ، أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، أَوْ عَلَى قَدَمِهِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ، رَجُلًا فَاجِرًا، يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سال رسول اللہ ﷺ اپنی سواری سے پیٹھ لگائے خطبہ دے رہے تھے، آپ نے کہا: کیا میں تمہیں اچھے آدمی اور برے آدمی کی پہچان نہ بتاؤں؟ بہترین آدمی وہ ہے جو پوری زندگی اللہ کے راستے میں گھوڑے یا اونٹ کی پیٹھ پر سوار ہو کر یا اپنے قدموں سے چل کر کام کرے۔ اور لوگوں میں برا وہ فاجر شخص ہے جو کتاب اللہ (قرآن) تو پڑھتا ہے لیکن کتاب اللہ (قرآن) کی کسی چیز کا خیال نہیں کرتا ١ ؎۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: In the year of Tabuk, the Messenger of Allah ﷺ addressed the people, while leaning against his mount. He said: ‘Shall I not tell you of the best of the people and the worst of the people? Among the best of the people is a man who strives in the cause of Allah on the back of his horse, or on the back of his camel, or on his own two feet, until death comes to him. And among the worst of the people, is an immoral man (Fajir) who reads the Book of Allah but he does not refrain from doing anything bad because of it.” (Hasan)

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3106
Notes · وضاحت
١ ؎: نہ اس کے احکام پر عمل کرتا ہے، اور نہ ہی منہیات سے باز رہتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٤١٢)، مسند احمد (٣/٣٧، ٤١، ٥٧) (ضعیف الإسناد )
3111Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَا يَبْكِي أَحَدٌ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، فَتَطْعَمَهُ النَّارُ حَتَّى يُرَدَّ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے خوف سے رونے والے کو جہنم کی آگ اس وقت تک لقمہ نہیں بنا سکتی جب تک کہ (تھن سے نکلا ہوا) دودھ تھن میں واپس نہ پہنچا دیا جائے ١ ؎، اور کسی مسلمان کے نتھنے میں جہاد کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھا نہیں ہوسکتے ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “No man will enter the Fire who weeps for fear of Allah, Most High, until the milk goes back into the udders. And the dust (of Jihad) in the cause of Allah, and the smoke of Hell will never be combined.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3107
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نہ کبھی دودھ تھن میں پہنچایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اللہ کے خوف سے رونے والا کبھی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ٢ ؎: یعنی مجاہد فی سبیل اللہ جنت ہی میں جائے گا جہنم میں نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٨ (١٦٣٣)، والزہد ٨ (٢٣١١)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٩ (٢٧٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٨٥)، مسند احمد (٢/٢٩٨، ٤٥٤) (صحیح )
3112Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ تَعَالَى، حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ نَارِ جَهَنَّمَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کے خوف سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جاسکتا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ پہنچ جائے ١ ؎، اور اللہ کے راستے کا گرد و غبار اور جہنم کی آگ کا دھواں اکٹھا نہیں ہوسکتے ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "No man will enter the Fire who weeps for fear of Allah, Most High, until the milk goes back into the udders. And the dust (of Jihad) in the cause of Allah, and the smoke of Hell will never be combined.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3108
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نہ کبھی دودھ تھن میں واپس ہوگا اور نہ ہی اللہ کے خوف سے رونے والا کبھی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ٢ ؎: یعنی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے والا جہنم میں نہ جائے گا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3113Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا، ثُمَّ سَدَّدَ وَقَارَبَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ مُؤْمِنٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفَيْحُ جَهَنَّمَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالْحَسَدُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان جس نے کسی کافر کو قتل کردیا، اور آخر تک ایمان و عقیدہ اور عمل کی درستگی پر قائم رہا تو وہ دونوں (یعنی مومن قاتل اور کافر مقتول) جہنم میں اکٹھا نہیں ہوسکتے۔ اور نہ ہی کسی مومن کے سینے میں اللہ کے راستے کا گردوغبار اور جہنم کی آگ کی لپٹ و حرارت اکٹھا ہوں گے ١ ؎، اور کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوسکتے ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Two will never be gathered together in the Fire: A Muslim who killed a disbeliever then tried his best and did not deviate. And two will never be gathered together in the lungs of a believer: Dust in the cause of Allah, and the odor of Hell. And two will never be gathered in the heart of a salve: Faith and envy.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3109
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جہنم کی آگ کی لپٹ مجاہد کو نہیں چھو سکتی کیونکہ اس کا مقام جنت ہے۔ ٢ ؎: یعنی مومن کامل حاسد نہیں ہوسکتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٧٤٩)، مسند احمد (٢/٣٤٠، ٣٥٣) (صحیح )
3114Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ أَبَدًا، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں دونوں کسی بندے کے سینے میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے اور بخل اور ایمان یہ دونوں بھی کسی بندے کے دل میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ : said: “The dust in the cause of Allah and the smoke of Hell will never be combined in a man’s face, and stinginess and faith can never be combined in a slave’s heart.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3110
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پکا مومن ہوگا تو وہ تنگ دل و بخیل نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٢٦٢)، مسند احمد (٢/٢٥٦، ٣٤٢، ٤٤١) (صحیح )
3115Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي وَجْهِ رَجُلٍ أَبَدًا، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی آدمی کے چہرے پر اللہ کے راستے (یعنی جہاد) میں نکلنے کی گرد اور جہنم کی آگ دونوں اکٹھا نہیں ہوسکتے، اور بخل اور ایمان کبھی کسی بندے کے دل میں جمع نہیں ہوسکتے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The dust in the cause of Allah and the smoke of Hell will never be combined in a slave’s lungs, and stinginess and faith can never be combined in a slave’s heart.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3111
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو شخص صحیح معنی میں مومن ہوگا وہ بخیل نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3116Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي جَوْفِ عَبْدٍ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد کی گرد اور جہنم کا دھواں دونوں کسی بندے کے سینے میں جمع نہیں ہوسکتے، اور نہ ہی کسی بندے کے سینے میں بخل اور ایمان اکٹھا ہوسکتے ہیں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “The dust in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, and the smoke of Hell will never be combined in the nostrils of a Muslim.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3112
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١١٢ (صحیح )
3117Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَرْعَرَةُ بْنُ الْبِرِنْدِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن کے نتھنے میں اللہ کے راستے کا غبار، اور جہنم کا دھواں کبھی بھی جمع نہیں ہوسکتے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The dust in the cause of Allah and the smoke of Hell will never be combined in the nostrils of a Muslim, and stinginess and faith will never be combined in a Muslim man’s heart.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3113
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١١٢ (صحیح )
3118Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْحُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ شُحٌّ وَإِيمَانٌ فِي قَلْبِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں دونوں مومن کے نتھنے میں جمع نہیں ہوسکتے، اور نہ ہی کسی مسلمان کے نتھنے میں بخل اور ایمان اکٹھا ہوسکتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Al-’Ala’ bin Al-Lajlaj that he heard Abu Hurairah (RA) say: “Allah will never combine the dust in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, and the smoke of Hell, in the lungs of a Muslim man, and Allah will never combine faith in Allah, and stinginess in the heart of a Muslim man.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3114
Notes · وضاحت
١ ؎: نہ بخیل کامل مومن ہوسکتا ہے، اور نہ ہی کامل مومن بخیل ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١١٢ (صحیح )
3119Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ غُبَارًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانَ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، وَلَا يَجْمَعُ اللَّهُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، الْإِيمَانَ بِاللَّهِ وَالشُّحَّ جَمِيعًا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی مسلمان شخص کے پیٹ میں اللہ عزوجل اکٹھا نہ کرے گا، اور نہ ہی کسی مسلمان کے دل میں اللہ پر ایمان اور بخالت (کنجوسی) کو اللہ تعالیٰ ایک ساتھ جمع کرے گا۔

It was narrated from Abu Al-Ala bin Al-Lajlaj that he heard Abu Hurairah say: "Allah will never combine the dust in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, and the smoke of Hell, in the lungs of a Muslim man, and Allah will never combine faith in Allah, and stinginess in the heart of a Muslim man.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3115
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١١٢ (صحیح )
3120Sunan An Nasai

جس آدمی کے پاؤں پر راہ اللہ میں جہاد کا غبار پڑا ہو

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: لَحِقَنِي عَبَايَةُ بْنُ رَافِعٍ وَأَنَا مَاشٍ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَبْشِرْ فَإِنَّ خُطَاكَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ حَرَامٌ عَلَى النَّارِ.

یزید بن ابی مریم کہتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز کے لیے جا رہا تھا کہ (راستے میں) مجھے عبایہ بن رافع ملے، کہا: خوش ہوجاؤ! آپ کے یہ قدم اللہ کے راستے میں اٹھ رہے ہیں (کیونکہ) میں نے ابوعبس بن جبر انصاری ؓ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے دونوں قدم اللہ کے راستے میں گرد آلود ہوجائیں تو وہ آگ یعنی جہنم کے لیے حرام ہے ١ ؎۔

Yazid bin Abi Mariam said: "Abayah bin Rafi met me when I was walking to Friday prayers, and he said: Rejoice, for these steps you are taking are in the cause of Allah. I heard Abu Abs say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Anyone whose feet become dusty in the cause of Allah, he will be forbidden to the Fire.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3116
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ شخص جہنم میں نہ جائے گا، اللہ کرے ایسا ہی ہو، انہوں نے جمعہ کے لیے نکلنے کو بھی فی سبیل اللہ میں شامل فرمایا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ١٨ (٩٠٧)، الجہاد ١٦ (٢٨١١)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٧ (١٦٣٢)، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٢)، مسند احمد (٣/٤٧٩) (صحیح )
3121Sunan An Nasai

جہاد میں رات میں جاگنے والی آنکھ کا اجر و ثواب

أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَاب، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ شُمَيْرٍ الرُّعَيْنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ التُّجِيبِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رَيْحَانَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: حُرِّمَتْ عَيْنٌ عَلَى النَّارِ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.

ابوریحانہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو آنکھ اللہ کے راستے میں جاگی ہو وہ آنکھ جہنم پر حرام ہے ١ ؎۔

Abu Ali At-Tujibi (said) that he heard Abu Raihanah say: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The eye that stays awake in the cause of Allah will be forbidden to the Fire.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3117
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسی آنکھ والا جہنم میں نہ جائے گا بلکہ جنت اس کا ٹھکانہ ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٠٤٠)، مسند احمد (٤/١٣٤)، سنن الدارمی/الجہاد ١١ (٢٤٤٥) (صحیح )
3122Sunan An Nasai

جہاد کے واسطے صبح کے وقت کی فضیلت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْغَدْوَةُ وَالرَّوْحَةُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَفْضَلُ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا.

سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے یعنی جہاد میں صبح یا شام (کسی وقت بھی نکلنا) دنیا وما فیہا سے افضل و بہتر ہے ۔

It was narrated that Sahl bin Sad said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Going out before noon or after noon, in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, is better than this world and everything in it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3118
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٥ (٢٧٩٤)، ٧٣ (٢٨٩٢)، والرقاق ٢ (٦٤١٥)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٠ (١٨٨١)، (تحفة الأشراف: ٤٦٨٢)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٧ (١٦٤٨)، ٢٦ (١٦٦٤)، مسند احمد (٣/٤٣٣ و ٥/٣٣٥، ٣٣٧، ٣٣٩)، سنن الدارمی/الجہاد ٩ (٢٤٤٣) (صحیح )
3123Sunan An Nasai

بوقت شام جہاد کرنے کے واسطے فضیلت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ.

ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد میں صبح کو نکلنا ہو، یا شام کے وقت یہ کائنات کی ان تمام چیزوں سے افضل و برتر ہے جن پر سورج نکلتا اور ڈوبتا ہے ۔

It was narrated from Abu Abdur-Rahman Al-Hubuli that he heard Abu Ayyub Al-Ansari say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Going out before noon and after noon, in the cause of Allah, is better than everything on which the sun rises and sets.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3119
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٠ (١٨٨٣)، (تحفة الأشراف: ٣٤٦٦)، مسند احمد (٥/٤٢٢) (صحیح )
3124Sunan An Nasai

بوقت شام جہاد کرنے کے واسطے فضیلت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین طرح کے لوگ ہیں جن کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق اور واجب ہے، (ایک) اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا (دوسرا) ایسا نکاح کرنے والا، جو نکاح کے ذریعہ پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو (تیسرا) وہ مکاتب ١ ؎ جو مکاتبت کی رقم ادا کر کے آزاد ہوجانے کی کوشش کر رہا ہو ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There are three, all of whom have a promise of help from Allah: The Mujahid who strives in the cause of Allah, the Mighty and Sublime; the man who gets married, seeking to keep himself chaste; and the slave who has a contract of manumission and wants to buy his freedom.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3120
Notes · وضاحت
١ ؎: مکاتب ایسا غلام ہے جو اپنی ذات کی آزادی کی خاطر مالک کیلئے کچھ قیمت متعین کر دے، قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ آزاد ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٢٠ (١٦٥٥)، سنن ابن ماجہ/العتق ٣ (٢٥١٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٣٩)، ویأتی عند المؤلف فی النکاح ٥ (برقم ٣٢٢٠) (حسن )
3125Sunan An Nasai

مجاہدین اللہ تعالیٰ کے پاس جانے والے وفد ہیں

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَفْدُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ: الْغَازِي، وَالْحَاجُّ، وَالْمُعْتَمِرُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے وفد میں تین (طرح کے لوگ شامل) ہیں (ایک) مجاہد (دوسرا) حاجی، (تیسرا) عمرہ کرنے والا ١ ؎۔

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The guests of Allah, the Mighty and Sublime, are three: The warrior, the pilgrim performing Hajj, and the pilgrim performing Umrah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3121
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ تینوں اللہ کے مقرب ہیں اور اس کے ایلچی کا درجہ رکھتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
وانظر حدیث رقم: ٢٦٢٦ (صحیح )
3126Sunan An Nasai

خداوند قدوس مجاہد کی جن چیزوں کی کفالت کرتا ہے اس سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَكَفَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ، بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اپنی راہ کے مجاہد کا کفیل و ضامن ہے جو خالص جہاد ہی کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے، اور اس ایمان و یقین کے ساتھ نکلتا ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ اسے (شہید کا درجہ دے کر) جنت میں داخل فرمائے گا یا پھر اسے ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس کے اس ٹھکانے پر واپس لائے گا، جہاں سے نکل کر وہ جہاد میں شریک ہوا تھا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah, the Mighty and Sublime, has guaranteed to the one who strives in His cause, only going out for Jihad in His cause, and believing in His Word, that He will admit him to Paradise, or bring him back to his home from which he emerged, with whatever he has earned of reward, or spoils of war.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3122
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٢٦ (٣٦)، الجہاد ٢ (٢٧٨٧)، فرض الخمس ٨ (٣١٢٣)، التوحید ٢٨ (٦٤٥٧)، ٣٠ (٧٤٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٣٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة ٢٨ (١٨٧٦)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١ (٢٧٥٣)، موطا امام مالک/الجہاد ١ (٢)، مسند احمد (٢/٢٣١، ٣٨٤، ٣٩٩، ٤٩٤)، سنن الدارمی/الجہاد ٢ (٢٤٣٦) (صحیح )
3127Sunan An Nasai

خداوند قدوس مجاہد کی جن چیزوں کی کفالت کرتا ہے اس سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي ذُبَاب، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: انْتَدَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْإِيمَانُ بِي وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِي، أَنَّهُ ضَامِنٌ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ بِأَيِّهِمَا كَانَ إِمَّا بِقَتْلٍ، أَوْ وَفَاةٍ، أَوْ أَرُدَّهُ، إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَالَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جو اس کے راستے میں نکلتا ہے (یعنی جہاد کے لیے) اور اس کا یہ نکلنا محض اللہ پر اپنے ایمان کے تقاضے، اور اس کے راستے میں جہاد کے جذبے سے ہے (تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو) اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا چاہے وہ قتل ہو کر مرا ہو، یا اپنی فطری موت پائی ہو، یا میں اسے اس اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو، اور جو بھی ملا ہو، اس کے اپنے اس گھر پر واپس پہنچا دوں گا جہاں سے وہ جہاد کے لیے نکلا تھا ۔

Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Allah has guaranteed: For the one who goes out in the cause of Allah, and nothing makes him do that except faith in Me, and Jihad in My cause - that He will admit him to Paradise whether he is killed or he dies, or He will return him to his home from which he departed with whatever he has earned of reward or spoils of war.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3123
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٢١١)، مسند احمد (٢/٤٩٤، ویأتي عند المؤلف ٥٠٢٥ (صحیح )