اس غزوہ کرنے والے شخص کا بیان جو کہ مزدوری اور شہرت حاصل کرنے کی تمنا رکھے
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ هِلَالٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ مَالَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ، فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ.
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور عرض کیا: آپ ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو جہاد کرتا ہے، اور جہاد کی اجرت و مزدوری چاہتا ہے، اور شہرت و ناموری کا خواہشمند ہے، اسے کیا ملے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کے لیے کچھ نہیں ہے ١ ؎۔ اس نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی۔ اور رسول اللہ ﷺ اس سے یہی فرماتے رہے کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو، اور اس سے اللہ کی رضا مقصود و مطلوب ہو ۔
It was narrated that Abu Umamah Al-Bahili said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: What do you think of a man who fights seeking reward and fame - what will he have? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: He will not have anything. He repeated it three times, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: He will not have anything. Then he said: Allah does not accept any deed, except that which is purely for Him, and seeking His Face.