Sunan An Nasai 3219

نکاح سے متعلقہ احادیث

3219Sunan An Nasai

ترک نکاح کی ممانعت

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ قَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِيَ الْعَنَتَ وَلَا أَجِدُ طَوْلًا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، أَفَأَخْتَصِي ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى قَالَ: ثَلَاثًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ، فَاخْتَصِ عَلَى ذَلِكَ أَوْ دَعْ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الْأَوْزَاعِيُّ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ الزُّهْرِيِّ وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، قَدْ رَوَاهُ يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں جوان آدمی ہوں اور اپنے بارے میں ہلاکت میں پڑجانے سے ڈرتا ہوں، اور عورتوں سے شادی کرلینے کی استطاعت بھی نہیں رکھتا، تو کیا میں خصی ہوجاؤں؟ نبی اکرم ﷺ ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے انہوں نے اپنی یہی بات تین بار کہی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابوہریرہ! جس سے تم کو دوچار ہونا ہے اس سے تو تم دوچار ہو کر رہو گے اسے لکھ کر قلم (بہت پہلے) خشک ہوچکا ہے، اب چاہو تو تم خصی ہوجاؤ یا نہ ہو ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اوزاعی نے (ابن شہاب) زہری سے اس حدیث کو نہیں سنا ہے، لیکن یہ حدیث اپنی جگہ صحیح ہے کیونکہ اس حدیث کو یونس نے (ابن شہاب) زہری سے روایت کیا ہے۔

Narrated Abu Salamah: It was narrated from Abu Salamah that Abu Hurairah said: "I said: O Messenger of Allah, I am a young man and I fear hardship for myself, but I cannot afford to marry; should I castrate myself?" The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) turned away from him until he said it three times. Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "O Abu Hurairah, the pen is dried concerning what you are going to face, so (it is up to you whether) you castrate yourself or not." Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: Al-Awzai did not hear this narration from Az-Zuhri, and this Hadith is sahih, Yunus reported it from Az-Zuhri.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3215
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو کچھ تمہاری قسمت میں لکھا جا چکا ہے اس میں ذرہ برابر کوئی تبدیلی نہیں ہونی ہے لہٰذا تمہاری قسمت میں اگر اولاد لکھی جا چکی ہے تو ضرور ہوگی اب سوچ لو کہ خصی ہونے سے کیا فائدہ ہوگا؟
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٢٠٧) (صحیح )