جو کام خداوند قدوس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقام بلند فرمانے کے واسطے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فرض فرمائے اور عام لوگوں کے واسطے حرام فرمائے؟
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى، عَنْمَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ أَوْ كَانَ طَلَاقًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا۔ کیا وہ طلاق تھا؟ ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA), said: "The Messenger of Allah ﷺ gave his wives the choice (of staying with him) or it divorce?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3202
Notes · وضاحت
١ ؎: نہیں، طلاق نہیں تھا گویا بیوی جب شوہر کو اختیار کرلے تو تخییر طلاق نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٥ (٥٢٦٢)، صحیح مسلم/الطلاق ٤ (١٤٧٧)، سنن ابی داود/الطلاق ١٢ (٢٢٠٣)، سنن الترمذی/الطلاق ٤ (١١٧٩ م)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٢ (٢٠٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٤)، مسند احمد (٦/٤٥، ٤٧، ١٧٣، ٢٣٩، ٢٤٠، ٢٦٤، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٣٤٧٤، ٣٤٧٥) (صحیح )