ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح جو میرے رضاعی چچا ہوتے تھے میرے پاس آنے کی اجازت مانگ رہے تھے تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا، جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں ۔ عائشہ ؓ کہتی ہیں: یہ واقعہ پردہ کی آیت کے نزول کے بعد کا ہے۔
It was narrated that Aishah said: "Aflah, the brother of Abu Al-Quais, who was my paternal uncle through breast-feeding, used to ask permission to enter upon me, and I refused to let him in until the Messenger of Allah came, and I told him about that. He said: Let him in, for he is your paternal uncle. Aishah said: "That was after the (Verse of) Hijab had been revealed.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3316
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے چچا افلح نے پردہ کی آیت کے اترنے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، پھر نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: انہیں اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا ہے (وہ میرے محرم کیسے ہوگئے) ، آپ نے فرمایا: تم انہیں (اندر) آنے کی اجازت دو، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے (تمہیں نہیں معلوم؟ ) وہ تمہارے چچا ہیں ۔
It was narrated that Aishah said: "My paternal uncle Aflah asked permission to enter upon me after the (Verse of) Hijab had been revealed, but I did not let him in. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to me and I asked him (about that) and he said: Let him in, for he is your paternal uncle. I said: O Messenger of Allah, the woman breast-fed me, not the man. He said: Let him in, may your hands be rubbed with dust, for he is your uncle.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3317
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح (میرے پاس گھر میں آنے کی) اجازت مانگنے آئے، میں نے کہا: میں جب تک خود نبی اکرم ﷺ سے اجازت نہ لے لوں انہیں اجازت نہ دوں گی، تو جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ سے بتایا کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح آئے تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، آپ نے فرمایا: (نہیں) انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں ، میں نے کہا: مجھے تو ابوالقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے، مرد نے نہیں پلایا ہے۔ آپ نے فرمایا: (بھلے سے مرد نے نہیں پلایا ہے) تم انہیں آنے دو، وہ تمہارے چچا ہیں ۔
It was narrated that Aishah said: "Aflah, the brother of Abu Al-Quais, came and asked permission to enter, and I said: I will not let him in until I seek the permission of the Prophet of Allah. When the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came, I said to him: Aflah, the brother of Abu Al-Quais, came and asked permission to enter, but I refused to let him in. He said: Let him in, for he is your paternal uncle. I said: The wife of Abu Al-Quais breast-fed me; the man did not breast-feed me. He said: Let him in, for he is your paternal uncle.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3318
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! سالم جب میرے پاس آتے ہیں تو میں (اپنے شوہر) ابوحذیفہ ؓ کے چہرے پر (ناگواری) دیکھتی ہوں (اور ان کا آنا ناگزیر ہے) ١ ؎ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم انہیں دودھ پلا دو ، میں نے کہا: وہ تو ڈاڑھی والے ہیں، (بچہ تھوڑے ہیں) ، آپ نے فرمایا: (پھر بھی) دودھ پلا دو، دودھ پلا دو گی تو ابوحذیفہ ؓ کے چہرے پر جو تم (ناگواری) دیکھتی ہو وہ ختم ہوجائے گی ، سہلہ ؓ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! دودھ پلا دینے کے بعد پھر میں نے ابوحذیفہ ؓ کے چہرے پر کبھی کوئی ناگواری نہیں محسوس کی۔
Zainab bint Abi Salamah said: "I heard Aisha, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Sahlah bint Suhail came to the Messenger of Allah and said: O Messenger of Allah, I see (displeasure) in the face of Abu Hudhaifah when Salim enters upon me. The Messenger of Allah said: Breast-feed him. She said: He has a beard. He said: Breast-feed him, and that will take away (the displeasure) in the face of Abu Hudhaifah. She said: By Allah, I never saw that on the face of Abu Hudhaifah after that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3319
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوحذیفہ سہلہ رضی الله عنہا کے شوہر تھے، انہوں نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب متبنی کے سلسلہ میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی تھی، پھر جب تبنی حرام قرار پایا تو ابوحذیفہ رضی الله عنہ کو یہ چیز ناپسند آئی کہ سالم ان کے گھر میں پہلے کی طرح آئیں، یہی وہ مشکل تھی جسے حل کرنے کے لیے سہلہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پہنچیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، اور کہا: میں سالم کے اپنے پاس آنے جانے سے (اپنے شوہر) ابوحذیفہ کے چہرے میں کچھ (تبدیلی و ناگواری) دیکھتی ہوں، آپ نے فرمایا: تم انہیں اپنا دودھ پلا دو ، انہوں نے کہا: میں انہیں کیسے دودھ پلا دوں وہ تو بڑے (عمر والے) آدمی ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ بڑی عمر کے ہیں ، اس کے بعد وہ (دودھ پلا کر پھر ایک دن) آئیں اور کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو نبی بنا کر حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس کے بعد ابوحذیفہ کے چہرے پر کوئی ناگواری کی چیز نہیں دیکھی۔
It was narrated that Aishah said: "Sahlah bint Suhail came to the Messenger of Allah and said: I see (displeasure) in the face of Abu Hudhaifah when Salim enters upon me. The Messenger of Allah said: Breast-feed him. She said: How can I breast-feed him when he is a grown man? He said: Dont I know that he is a grown man? Then she came after that and said: By the One Who sent you with the truth as a Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), I have never seen anything I dislike on the face of Abu Hudhaifah after that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3320
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوحذیفہ کی بیوی کو حکم دیا کہ تم ابوحذیفہ کے غلام سالم کو دودھ پلا دو تاکہ ابوحذیفہ کی غیرت (ناگواری) ختم ہوجائے۔ تو انہوں نے انہیں دودھ پلا دیا اور وہ (بچے نہیں) پورے مرد تھے۔ ربیعہ (اس حدیث کے راوی) کہتے ہیں: یہ رخصت صرف سالم کے لیے تھی ١ ؎۔
It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah commanded the wife of Abu Hudhaifah to breast-feed Salim, the freed slave of Abu Hudhaifah, so that the protective jealousy of Abu Hudhaifah would be dispelled. She breast-fed him when he was a man." (One of the narrators) Rabiah said: "That was a concession granted to Salim.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3321
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی دوسرے بڑے شخص کو دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوگی، جمہور کی رائے یہی ہے کہ یہ سالم کے ساتھ خاص تھا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے کہا: اللہ کے رسول! سالم ہمارے پاس آتا جاتا ہے (اب وہ بڑا ہوگیا ہے) جو باتیں لوگ سمجھتے ہیں وہ بھی سمجھتا ہے اور جو باتیں لوگ جانتے ہیں وہ بھی جان گیا ہے (اور اس کا آنا جانا بھی ضروری ہے) آپ نے فرمایا: تو اسے اپنا دودھ پلا دے تو اپنے اس عمل سے اس کے لیے حرام ہوجائے گی ۔ ابن ابی ملیکہ (اس حدیث کے راوی) کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو سال بھر کسی سے بیان نہیں کیا، پھر میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی (اور اس کا ذکر آیا) تو انہوں نے کہا: اس حدیث کو بیان کرو اور اس کے بیان کرنے میں (شرماؤ) اور ڈرو نہیں۔
It was narrated that Aishah said: "Sahlah came to the Messenger of Allah and said: O Messenger of Allah, Salim enters upon us and he understands what men understand, and knows what men know. He said: Breast-feed him, and you will become unlawful to him thereby. (Ibn Abi Mulaikah, one of the narrators said:) For a year I did not narrate this, then I met Al-Qasim and he said: Narrate it and do not worry about it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3322
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ابوحذیفہ اور ان کی بیوی (بچوں) کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے۔ تو سہیل کی بیٹی (سہلہ ابوحذیفہ کی بیوی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، اور کہا کہ سالم لوگوں کی طرح جوان ہوگیا ہے اور اسے لوگوں کی طرح ہر چیز کی سمجھ آگئی ہے اور وہ ہمارے پاس آتا جاتا ہے اور میں اس کی وجہ سے ابوحذیفہ کے دل میں کچھ (کھٹک) محسوس کرتی ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے دودھ پلا دو، تو تم اس پر حرام ہوجاؤ گی تو انہوں نے اسے دودھ پلا دیا، چناچہ ابوحذیفہ کے دل میں جو (خدشہ) تھا وہ دور ہوگیا، پھر وہ لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس (دوبارہ) آئیں اور (آپ سے) کہا: میں نے (آپ کے مشورہ کے مطابق) اسے دودھ پلا دیا، اور میرے دودھ پلا دینے سے ابوحذیفہ کے دل میں جو چیز تھی یعنی کبیدگی اور ناگواری وہ ختم ہوگئی۔
It was narrated from Aishah that Salim, the freed slave of Abu Hudhaifah, was with Abu Hudhaifah and his family in their house. The daughter of Suhail came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "Salim has reached the age of manhood, and understands what men understand. He enters upon us, and I think that Abu Hudhaifah is not happy about that." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Breast-feed him, and you will become unlawful to him." So she breast-fed him, and the displeasure of Abu Hudhaifah disappeared. She came back to him and said: "I breast-fed him and the displeasure of Abu Hudhaifah has disappeared.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3323
زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سبھی ازواج مطہرات ١ ؎ نے اس بات سے انکار کیا کہ کوئی ان کے پاس اس رضاعت کا سہارا لے کر (گھر کے اندر) آئے، مراد اس سے بڑے کی رضاعت ہے اور سب نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا: قسم اللہ کی! ہم سمجھتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے سہلہ بنت سہیل کو (سالم کو دودھ پلانے کا) جو حکم دیا ہے وہ حکم رسول اللہ ﷺ کی جانب سے سالم کی رضاعت کے سلسلہ میں خاص تھا۔ قسم اللہ کی! اس رضاعت کے ذریعہ کوئی شخص ہمارے پاس آ نہیں سکتا اور نہ ہمیں دیکھ سکتا ہے۔
It was narrated that Urwah said: "The rest of the wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) refused for anyone to enter upon them on the basis of that type of breast-feeding, meaning breast-feeding of an adult. They said to Aishah: By Allah, we think that what the Messenger of Allah told Sahlah bint Suhail to do was a concession which was granted by the Messenger of Allah only with regard to breast-feeding Salim. By Allah, no one will enter upon us, nor see us on the basis of this type of breast-feeding.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3324
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی تھیں کہ سبھی ازواج مطہرات نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس رضاعت (یعنی بڑے کی رضاعت) کو دلیل بنا کر ان کے پاس (یعنی کسی بھی عورت کے پاس) جایا جائے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا: قسم اللہ کی! ہم اس رخصت کو عام رخصت نہیں سمجھتے، یہ رخصت رسول اللہ ﷺ نے خاص سالم کے لیے دی تھی، اس رضاعت کو دلیل بنا کر ہم عورتوں کے پاس کوئی آ جا نہیں سکتا اور نہ ہی ہم عورتوں کو دیکھ سکتا ہے۔
Zainab bint Abu Salamah narrated that her mother Umm Salamah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), used to say: "The rest of the wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) refused for anyone to enter upon them on the basis of that type of breast-feeding, meaning breast-feeding of an adult. They said to Aishah: By Allah, we think that this is a concession which the Messenger of Allah granted only to Salim. No one will enter upon us, nor see us on the basis of this type of breast-feeding.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3325
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ٧ (١٤٥٤)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٧ (١٩٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٧٤)، مسند احمد (٦/٣١٢) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جدامہ بنت وہب نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا ارادہ ہوا کہ غیلہ سے روک دوں پھر مجھے خیال ہوا کہ روم و فارس کے لوگ بھی غیلہ کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اسحاق (راوی) کی روایت میں یصنعہ کی جگہ یصنعونہ ہے۔
It was narrated from Aishah that Judamah bint Wahb told her that the Messenger of Allah said: "I was thinking of forbidding Ghilah until I remembered that it is done by the Persians and Romans" -(one of the narrators) Ishaq said: "(They) do that -and it does not harm their children.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3326
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا یعنی عزل کا ذکر ہوا، تو آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ (ذرا تفصیل بتاؤ) ہم نے کہا: آدمی کے پاس بیوی ہوتی ہے، اور وہ اس سے صحبت کرتا ہے اور حمل کو ناپسند کرتا ہے، (ایسے ہی) آدمی کے پاس لونڈی ہوتی ہے وہ اس سے صحبت کرتا ہے، اور نہیں چاہتا کہ اس کو اس سے حمل رہ جائے ٢ ؎، آپ نے فرمایا: اگر تم ایسا نہ کرو تو تمہیں نقصان نہیں ہے، یہ تو صرف تقدیر کا معاملہ ہے ٣ ؎۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Bishr bin Masud, who attributed the Hadith to Abu Saeed Al-Khudri, that mention of that (coitus interruptus) was made to the Messenger of Allah and he said: "Why do you do that?" We said: "A man may have a wife, and he has intercourse with her, but he does not want her to get pregnant, or he may have a concubine, and he has intercourse with her, but he does not want her to get pregnant." He said: "It does not make any difference if you do that, for it is the matter of Al-Qadr.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3327
Notes · وضاحت
١ ؎: عزل جماع کے دوران شرمگاہ سے باہر منی خارج کرنا۔ ٢ ؎: اس لیے جماع کے دوران جب انزال کا وقت آتا ہے تو وہ شرمگاہ سے باہر انزال کرتا ہے تاکہ اس کی منی بچہ دانی میں داخل نہ ہو سکے کہ جس سے وہ حاملہ ہوجائے یہ کام کیسا ہے؟۔ ٣ ؎: بچے کی پیدائش یا عدم پیدائش میں عزل یا غیر عزل کا دخل نہیں بلکہ یہ تقدیر کا معاملہ ہے۔ اگر کسی بچے کی پیدائش لکھی جا چکی ہے تو تم اس کے وجود کے لیے موثر نطفے کو باہر ڈال ہی نہ سکو گے، اس کا انزال شرمگاہ کے اندر ہی ہوگا، اور وہ حمل بن کر ہی رہے گا۔
ابوسعید زرقی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عزل کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا: میری بیوی دودھ پلاتی ہے، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رحم میں جس کا آنا مقدر ہوچکا ہے وہ ہو کر رہے گا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Saeed Az-Zuraqi that a man asked the Messenger of Allah about coitus interruptus and said: "My wife is breast-feeding and I do not want her to get pregnant." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "What has been decreed in the womb will come to be.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3328
Notes · وضاحت
١ ؎: چاہے تم عزل کرو یا نہ کرو اس لیے عزل کر کے بےمزہ ہونا اچھا نہیں۔
حجاج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: رضاعت کے حق کی ادائیگی کی ذمہ داری سے مجھے کیا چیز عہدہ بر آ کرسکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: شریف غلام یا شریف لونڈی ١ ؎۔
It was narrated from Hajjaj bin Hajjaj that his father said: "I said: O Messenger of Allah, how can I pay back the dues of the one who breast-fed me? He said: By giving a male or female slave.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3329
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شریف ولائق غلام یا شریف ولائق لونڈی دے دو تاکہ وہ اس کی خدمت کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ١٢ (٢٠٦٤)، سنن الترمذی/الرضاع ٦ (١١٥٣)، مسند احمد (٣/٤٥٠)، سنن الدارمی/النکاح ٥٠ (٢٣٠٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” حجاج بن حجاج “ لین الحدیث ہیں )
عقبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے نکاح کیا تو ہمارے پاس ایک حبشی عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا کہ میں نے فلان بنت فلاں سے شادی کی ہے پھر میرے پاس ایک حبشی عورت آئی، اس نے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، (یہ سن کر) آپ نے اپنا چہرہ مجھ سے پھیرلیا ١ ؎ تو میں پھر آپ کے چہرے کی طرف سے سامنے آیا اور میں نے کہا: وہ جھوٹی ہے، آپ نے فرمایا: تم اسے کیسے جھوٹی کہہ سکتے ہو، جب کہ وہ بیان کرتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تو اس کو چھوڑ کر اپنے سے الگ کر دو ۔
It was narrated that Uqbah bin Al-Harith said: I married a woman, then a black woman came to us and said: I breast-fed you both. I went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: I married so and so and a black woman came to me and said: I breast-fed you both. He turned away from me so I came to him from the other side and said: She is lying. He said: "How can you be intimate with your wife when she says that she breast-fed you both? Leave her (divorce her).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3330
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ یہ شخص اس بات سے آگاہ ہوجائے کہ ایسی صورت میں کسی عقلمند کے لیے مناسب نہیں کہ اس عورت کو اپنی زوجیت میں رکھے چہ جائیکہ اس کے متعلق کوئی سوال کرے۔
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ماموں سے ملا، تو ان کے پاس جھنڈا تھا۔ تو میں نے ان سے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک ایسے شخص کی گردن اڑا دینے یا اسے قتل کردینے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے انتقال کے بعد اس کی بیوی سے شادی کرلی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Al-Bara said: "I met my maternal uncle who was carrying a flag (for an expedition) and I said: Where are you going? He said: The Messenger of Allah is sending me to a man who has married his fathers wife after he died, to strike his neck or kill him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3331
Notes · وضاحت
١ ؎: راوی ( براء ) کو شک ہوگیا ہے کہ ماموں نے أن أضرب عنقہ میں اس کی گردن مار دوں کہا یا أقتلہ میں اسے قتل کر دوں کہا، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا، ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے کہا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کے پاس بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلی ہے۔ مجھے آپ نے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا مال اپنے قبضہ میں کرلوں ١ ؎۔
It was narrated from Yazid bin Al-Bara that his father said: "I met my maternal uncle who was carrying a flag (for an expedition) and I said: Where are you going? He said: The Messenger of Allah is sending me to a man who has married his fathers wife, and he has commanded me to strike his neck (kill him) and seize his wealth.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3332
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اگر کسی نے مرتد کو قتل کیا ہے تو اس مرتد کا مال بشکل فئی قاتل کو ملے گا۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک لشکر اوطاس کی طرف بھیجا ١ ؎ وہاں ان کی دشمن سے مڈبھیڑ ہوگئی، اور انہوں نے دشمن کا بڑا خون خرابہ کیا، اور ان پر غالب آگئے، انہیں ایسی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے شوہر مشرکین میں رہ گئے تھے، چناچہ مسلمانوں نے ان قیدی باندیوں سے صحبت کرنا مناسب نہ سمجھا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: والمحصنات من النساء إلا ما ملکت أيمانکم اور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آجائیں (النساء: ٢٤) یعنی یہ عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت پوری ہوجائے۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet of Allah sent an army to Awtas. They met the enemy, fought them, and prevailed over them. They acquired female prisoners who had husbands among the idolaters. The Muslims felt reluctant to be intimate with them. Then Allah, the Mighty and Sublime revealed: "Also (forbidden are) women already married, except those (slaves) whom your right hands possess," meaning, this is permissible for you once they have completed their Iddah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3333
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اسلام میں نہ جلب ہے نہ جنب ہے اور نہ ہی شغار ہے، اور جس کسی نے کسی طرح کا لوٹ کھسوٹ کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated from Imran bin Husain that the Messenger of Allah said: "There is no bringing, no avoidance and no Shighar in Islam, and whoever robs, he is not one of us.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3335
Notes · وضاحت
١ ؎: جلب زکاۃ اور گھوڑ دوڑ دونوں میں ہوتا ہے، جلب گھوڑوں میں یہ ہے کہ مقابلہ کے وقت کسی کو اپنے گھوڑے کے پیچھے لگالے کہ وہ گھوڑے کو ڈانٹتا رہے تاکہ وہ آگے بڑھ جائے، جب کہ زکاۃ میں جلب یہ ہے کہ زکاۃ وصول کرنے والا کسی جگہ بیٹھ جائے اور زکاۃ دینے والوں سے کہے کہ مال میرے پاس لاؤ تاکہ زکاۃ لی جاسکے، چونکہ اس میں زکاۃ دینے والوں کو مشقت و پریشانی لاحق ہوگی اس لیے اس سے منع کیا گیا۔ اور جنب یہ ہے کہ مقابلہ کے وقت اپنے گھوڑے کے پہلو میں ایک اور گھوڑا رکھے کہ جب سواری کا گھوڑا تھک جائے تو اس گھوڑے پر سوار ہوجائے، جب کہ زکاۃ میں جنب یہ ہے کہ صاحب مال اپنا مال لے کر دور چلا جائے تاکہ زکاۃ وصول کرنے والا زکاۃ کی طلب میں تکلیف و مشقت میں پڑجائے۔ نکاح شغار یعنی کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن کو دوسرے کی نکاح میں اس کی بہن یا بیٹی سے اپنے ساتھ نکاح کرنے کے عوض میں بلا مہر دیدے۔۔