عزل کے بارے میں
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَرَدَّ الْحَدِيثَ حتى رده إلى أبي سعيد الخدري، قَالَ: ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَمَا ذَاكُمْقُلْنَا: الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ فَيُصِيبُهَا وَيَكْرَهُ الْحَمْلَ، وَتَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، قَالَ: لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا یعنی عزل کا ذکر ہوا، تو آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ (ذرا تفصیل بتاؤ) ہم نے کہا: آدمی کے پاس بیوی ہوتی ہے، اور وہ اس سے صحبت کرتا ہے اور حمل کو ناپسند کرتا ہے، (ایسے ہی) آدمی کے پاس لونڈی ہوتی ہے وہ اس سے صحبت کرتا ہے، اور نہیں چاہتا کہ اس کو اس سے حمل رہ جائے ٢ ؎، آپ نے فرمایا: اگر تم ایسا نہ کرو تو تمہیں نقصان نہیں ہے، یہ تو صرف تقدیر کا معاملہ ہے ٣ ؎۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Bishr bin Masud, who attributed the Hadith to Abu Saeed Al-Khudri, that mention of that (coitus interruptus) was made to the Messenger of Allah and he said: "Why do you do that?" We said: "A man may have a wife, and he has intercourse with her, but he does not want her to get pregnant, or he may have a concubine, and he has intercourse with her, but he does not want her to get pregnant." He said: "It does not make any difference if you do that, for it is the matter of Al-Qadr.