انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! چوپائے ہلاک ہوگئے، (اور پانی نہ ہونے سے) راستے (سفر) ٹھپ ہوگئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دعا کی، تو جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی، تو پھر ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھر منہدم ہوگئے، راستے (سیلاب کی وجہ سے) کٹ گئے، اور جانور مرگئے، تو آپ نے دعا کی: اللہم على رءوس الجبال والآکام وبطون الأودية ومنابت الشجر اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں، ٹیلوں، نالوں اور درختوں پر برسا تو اسی وقت بادل مدینہ سے اس طرح چھٹ گئے جیسے کپڑا (اپنے پہننے والے سے اتار دینے پر الگ ہوجاتا ہے) ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "A man came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah, the livestock have died and the routes have been cut off; pray to Allah (SWT), the Mighty and Sublime. So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed to Allah (SWT) and it rained from that Friday until the next. Then a man came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: The houses have been destroyed, the routes have been cut off and the livestock have died. He said: O Allah, on the tops of the mountains and hills, in the bottom of the valleys and where the trees grow. So (the rain) was lifted from Al-Madinah like a garment being removed."
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1504
عبداللہ بن زید ؓ (جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ استسقاء کی نماز پڑھنے کے لیے عید گاہ کی طرف نکلے۔ تو آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اور اپنی چادر پلٹی، اور دو رکعت نماز پڑھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کی غلطی ہے ١ ؎ عبداللہ بن زید جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی وہ عبداللہ بن زید بن عبد ربہ ہیں، اور یہ جو استسقا کی حدیث روایت کر رہے ہیں عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ہیں۔
It was narrated from Abbad bin Tamim: "Sufyan said: I asked Abdullah bin Abi Bakr who said: I heard it from Abbad bin Tamim who narrated it from his father, that Abdullah bin Zaid, who was shown the call to prayer (in a dream) said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out to the prayer place to pray for rain. He faced the kiblah and turned his cloak around and prayed two rakahs."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1505
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سفیان بن عیینہ کا اس حدیث کے راوی کے بارے میں یہ کہنا کہ انہیں کو خواب میں اذان دکھائی گئی ان کا وہم ہے، اذان عبداللہ بن زیدبن عبدربہ کو دکھائی گئی، اور اس حدیث کے راوی کا نام عبداللہ بن زید بن عاصم ہے۔
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ فلاں نے مجھے ابن عباس ؓ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز استسقاء کے بارے میں پوچھوں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ (استسقاء کی نماز کے لیے) عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے پھٹے پرانے کپڑے میں نکلے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ١ ؎ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔
It was narrated from Hisham bin Ishaq bin Abdullah bin Kinanah that : His father said: "So and so sent me to ask him how the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed for rain (Istisqa)." He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out beseeching and humble, (dressed) in a state of humility. He did not give a Khutbah like this Khutbah of yours, and he prayed two rakahs."
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1506
Notes · وضاحت
١ ؎: بلکہ آپ کا خطبہ دعا و استغفار اور اللہ سے عاجزی اور گڑگڑانے پر مشتمل تھا۔
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے استسقاء کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ پھٹے پرانے کپڑوں میں عاجزی اور گریہ وزاری کا اظہار کرتے ہوئے نکلے، اور منبر پر بیٹھے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ آپ برابر دعا اور عاجزی کرتے رہے، اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں لگے رہے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی جیسے آپ عیدین میں پڑھتے تھے۔
It was narrated from Hisham binIshaq bin Abdullah bin Kinanah that: His father said: "I asked Ibn Abbas how the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed for rain. He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out (dressed) in a state of humility, beseeching and humble. He sat on the minbar but he did not deliver a Khutbah like this Khutbah of yours, rather he kept supplicating, beseeching and saying the takbir, and he prayed two rakahs as he used to do during the two Eids."
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1508
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ استسقاء کی نماز کے لیے نکلے تو آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری، اور دعا کی، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور قرآت کی تو بلند آواز سے قرآت کی۔
It was narrated from Abbad bin Tamim that : His paternal uncle had told him that he went out with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) to pray for rain. He turned his rida around, and turned his back to the people, then he prayed two rakahs and recited loudly.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1509
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور اپنی چادر پلٹی۔
It was narrated from Abbad bin Tamim, from his paternal uncle that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed for rain, and prayed two rakahs, and turned his rida around.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1510
عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (جائے نماز کی طرف) نکلے، تو آپ نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور جس وقت آپ قبلہ رخ ہوئے اپنی چادر پلٹی۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Bakr that: He heard Abbad bin Tamim said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out and prayed for rain, and he turned his rida around when he turned to the Qiblah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1511
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو استسقاء میں دیکھا کہ آپ قبلہ رخ ہوئے، آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور (دعا مانگنے کے لیے) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔
It was narrated from Abbad bin Tamim, from his paternal uncle, that: He saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), when he prayed for rain, turn to face the Qiblah, turning his cloak around and raising his hands.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1512
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سوائے استسقاء کے اپنے دونوں ہاتھ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے، آپ اس میں اپنے دونوں ہاتھ اتنا بلند کرتے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did not raise his hands during any supplication except when praying for rain, when he used to raise his hands so high that the whiteness of his armpits could be seen."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1513
آبی اللحم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو احجار الزیت کے پاس دیکھا کہ آپ بارش کے لیے دعا کر رہے تھے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اٹھائے دعا کر رہے تھے۔
It was narrated from Abi Al-Lahm that: He saw the Messenger of Allah at Ahjar Az-Zait praying for rain and raising his hands, making supplications.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1514
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جمعہ کے روز مسجد میں تھے، اور رسول اللہ ﷺ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! راستے (سفر) ٹھپ ہوگئے، جانور ہلاک ہوگئے، اور علاقے خشک سالی کا شکار ہوگئے، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے کے بالمقابل اٹھایا، پھر آپ نے دعا کی: اللہم اسقنا اے اللہ! ہمیں سیراب کر تو قسم اللہ کی! رسول اللہ ﷺ ابھی منبر سے اترے بھی نہ تھے کہ زور دار بارش ہونے لگی، اور اس دن سے دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ چناچہ پھر ایک آدمی کھڑا ہوا (مجھے یاد نہیں کہ یہ وہی شخص تھا جس نے رسول اللہ ﷺ سے بارش کے لیے دعا کرنے کے لیے کہا تھا یا کوئی دوسرا شخص تھا) اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پانی کی زیادتی کی وجہ سے راستے بند ہوگئے ہیں، اور جانور ہلاک ہوگئے ہیں، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ (اب) ہم سے بارش روک لے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی: اللہم حوالينا ولا علينا ولکن على الجبال ومنابت الشجر اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا، ہم پر نہ برسا، اور پہاڑوں پر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا ۔ انس ؓ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! آپ کا یہ کہنا ہی تھا کہ بادل پھٹ پھٹ کر (آسمان صاف ہوگیا) یہاں تک کہ ہمیں اس میں سے کچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that he said: "While we were in the masjid on Friday and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was addressing the people, a man stood up and said: O Messenger of Allah, the routes have been cut off, our wealth has been destroyed and prices have gone up. Pray to Allah (SWT) to give us rain. So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) raised his hands in level with his face and said: O Allah, give us rain. By Allah (SWT), the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had not come down from the minbar before it started to pour with rain, and it rained from that day until the following Friday. Then a man stood up- I do not know if he was the same man who had asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) to pray for rain for us or not- and said: O Messenger of Allah, the routes have been cut off, and our wealth has been destroyed because there is too much water. Pray to Allah (SWT ) to stop the rain for us. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: O Allah, around us and not on us, rather on the mountains and places where trees grow. By Allah, hardly had the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) spoken these words than the clouds split apart (and vanished) until we could not see anything of them."
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1515
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ کچھ لوگ آپ کی طرف اٹھ کر بڑھے، اور چلا کر کہنے لگے: اللہ کے نبی! بارش نہیں ہو رہی ہے، اور جانور ہلاک ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے۔ تو آپ نے دعا کی: اللہم اسقنا اللہم اسقنا اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ ہمیں سیراب فرما ۔ انس ؓ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اس وقت ہم کو آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا (مگر آپ کے دعا کرتے ہی) بدلی اٹھی، اور پھیل گئی، پھر برسنے لگی، رسول اللہ ﷺ اترے، اور آپ نے نماز پڑھی، اور لوگ فارغ ہو کر پلٹے تو دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی۔ تو دوسرے جمعہ کو جب رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے، تو لوگ پھر چلا کر کہنے لگے: اللہ کے نبی! گھر گرگئے، راستے ٹھپ ہوگئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ اب اسے ہم سے روک لے، تو رسول اللہ ﷺ مسکرائے، اور آپ نے دعا فرمائی: اللہم حوالينا ولا علينا اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا ہم پر نہ برسا تو بادل مدینہ سے چھٹ گئے، اور اس کے اطراف میں برسنے لگے، اور مدینہ میں ایک بوند بارش کی نہیں پڑ رہی تھی۔ میں نے مدینہ کو دیکھا کہ وہ ایسا لگ رہا تھا گویا وہ تاج پہنے ہوئے ہے۔
It was narrated from Thabit that Anas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was delivering the Khutbah one Friday when the people stood up and shouted: O Prophet of Allah! There has been no rain and the animals have died. Pray to Allah (SWT) to send us rain. He said: O Allah, send us rain; O Allah, send us rain. By Allah (SWT), we could not see even a wisp of a cloud in the sky, then a cloud appeared and grew, and it rained. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came down and prayed, and the people departed, and it continued to rain until the following Friday. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up to deliver the Khutbah, they called out to him and said: O Prophet (صلی اللہ علیProphet of destroyed and the routes are cut off. Pray to Allah to take it away from us. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) smiled and said: O Allah, around us and not on us! Then is dispersed from Al-Madinah and rain fell around Al-Madinah but not a single drop fell on Al-Madinah. I looked, and it was in something like a ring."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1517
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اور رسول اللہ ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف رخ کر کے کھڑا ہوگیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! مال (جانور) ہلاک ہوگئے، اور راستے بند ہوگئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اور دعا کی: اللہم أغثنا اللہم أغثنا اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ ہمیں سیراب فرما ۔ انس ؓ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! ہم کو آسمان میں کہیں بادل یا بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا، اور ہمارے اور سلع پہاڑی کے بیچ کسی گھر یا مکان کی آڑ نہ تھی، اتنے میں ڈھال کے مانند بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا، پھر جب وہ آسمان کے درمیان میں پہنچا تو پھیل گیا، اور برسنے لگا۔ انس ؓ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! ہم نے ایک ہفتہ تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر اگلے جمعہ میں اسی دروازے سے ایک آدمی داخل ہوا، اور رسول اللہ ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے، تو وہ آپ کی طرف چہرہ کر کے کھڑا ہوگیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کا سلام و صلاۃ (درود و رحمت) ہو آپ پر! مال ہلاک ہوگئے (جانور مرگئے) ، اور راستے بند ہوگئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہم سے اسے روک لے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے، اور دعا کی: اللہم حوالينا ولا علينا اللہم على الآکام والظراب وبطون الأودية ومنابت الشجر اے اللہ! ہمارے اردگرد برسا، ہم پر نہ برسا، اے اللہ! ٹیلوں، چوٹیوں، گھاٹیوں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا یہ کہنا تھا کہ بادل چھٹ گئے، اور ہم نکل کر دھوپ میں چل رہے تھے۔ شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کہتے ہیں کہ میں نے انس ؓ سے پوچھا: کیا یہ وہی پہلا شخص تھا، تو انہوں نے کہا: نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: A man entered the masjid when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was standing and delivering the Khutbah. He turned to face the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) standing and said: O Messenger of Allah, our wealth has been destroyed and the routes have been cut off. Pray to Allah (SWT) to send us rain. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) raised his hands then said: "O Allah, send us rain." Anas said: "By Allah, we had not seen even a wisp of a cloud in the sky and there were no houses or buildings between us and (the mountain of ) Sal. Then a cloud like a shield appeared, and when it reached the middle of the sky it spread and it began to rain." Anas said: "By Allah, we did not see the sun for a week. Then a man entered through that door on the following Friday, when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was standing and delivering the Khutbah. He turned to face him standing and said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), may Allah (SWT) send blessings upon you. Our wealth has been destroyed and the routes have been cut off. Pray to Allah (SWT) to withold (the rain) from us. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) raised his hands and said: O Allah, around us and not on us.; O Allah, on the hills and mountains, the bottoms of the valleys and where the trees grow. Then it stopped raining and we went out walking in the sun." Sharik said: I asked Anas: Was he the same man? He said: No."
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1518
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں جزم ہے، اور اس سے پہلے ایک روایت گزر چکی ہے اس میں ہے کہ انہوں نے کہا لا أدری ہو الذی قال لرسول اللہ ﷺ استسق لنا أم لا دونوں میں اس طرح تطبیق دی گئی ہے کہ شاید انہیں بھول جانے کے بعد یاد آیا ہو، یا یاد رہا ہو پھر بھول گئے ہوں یا لا یہاں لا أدری کے معنی میں ہو۔
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ استسقاء کی غرض سے نکلے، تو آپ نے لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری، اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر اللہ سے دعا کی، اور اپنی چادر الٹی، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ ابن ابی ذئب کہتے ہیں: حدیث میں یہ بھی ہے: وقرأ فيهما اور ان دونوں میں قرأت کی ۔
It was narrated that Ibn Shihab said: "Abbad bin Tamim told me that he heard his paternal uncle, who was one of the companions of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out one day to pray for rain. He turned his back toward the people, praying to Allah (SWT), and he turned to face the Qiblah. He turned his rida around, then he prayed two rakahs." (One of the narrators) Ibn Abi Dhib said in the Hadith: "And he recited in them both."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1519
عبداللہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور قبلہ کی طرف منہ کیا۔
It was narrated from Abdullah bin Zaid that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) went out to pray for rain, and he prayed two rakahs facing the Qiblah. (Sahih
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1520
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ امراء میں سے ایک امیر نے مجھے ابن عباس ؓ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے استسقاء کے بارے میں پوچھوں، تو ابن عباس ؓ نے کہا: وہ مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھتے؟ رسول اللہ ﷺ عاجزی و انکساری کے ساتھ پھٹے پرانے کپڑوں میں گریہ وزاری کرتے ہوئے نکلے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اسی طرح جیسی آپ عیدین میں پڑھتے تھے، اور آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ١ ؎۔
It was narrated from Hisham bin Ishaq bin Abdullah bin Kinanah that: His father said: "One of the governors sent me to Ibn Abbas to ask him about the prayer for rain. He said: What kept him from asking me? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out humbly, (dressed) in a state of humility, submissiveness and beseeching, and he prayed two rakahs as in the Eid prayer, but he did not deliver a Khutbah like this Khutbah of yours."
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1521
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں نفی قید کی ہے، مقید کی نہیں جیسا کہ اس پر وہ احادیث دلالت کرتی ہیں جن میں خطبہ کی تصریح ہے۔
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، ان میں آپ نے بلند آواز سے قرآت کی۔
It was narrated from Abbad bin Tamim from his paternal uncle that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) went out and prayed for rain, then he prayed two rakahs in which he recited loudly.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1522
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بارش ہوتی تو کہتے: اللہم اجعله صيبا نافعا اے اللہ! خوب برسا اور اسے فائدہ مند بنا ۔
It was narrated from Aishah that: When it rained the Messenger of Allah would say: "Allahummajalhu Sayyiban nafi`a. (O Allah, make it beneficial rain)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1523
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ١١٣ (٥٠٩٩) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢١ (٣٨٨٩) مطولاً، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٦)، مسند احمد ٦/٤١، ٩٠، ١١٩، ١٣٧، ١٣٨، ١٦٦، ١٩٠، ٢٢٢ (صحیح )