بارش طلبی کی نماز سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 15 · 25 hadiths · Page 2 of 2

1525Sunan An Nasai

ستاروں کی وجہ سے مینہ برسنے کے عقیدہ کا رد

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: الْكَوْكَبُ وَبِالْكَوْكَبِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب بھی میں نے اپنے بندوں کو بارش کی نعمت سے نوازا تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ لوگ کہتے رہے: فلاں ستارے نے ایسا کیا ہے، اور فلاں ستارے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah, the Mighty and Sublime, said: I have never sent down My favor to My slaves but a group of them became disbelievers who say; "The stars and by stars."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1524
Notes · وضاحت
١ ؎: حالانکہ ستاروں میں کوئی طاقت نہیں، وہ تو جماد ہیں، یہ نعمت تو اس ذات باری تعالیٰ نے دی ہے جس نے ستاروں، ساری مخلوقات کو پیدا کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٣٢ (٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٤١١٣)، مسند احمد ٢/٣٦٢، ٣٦٨، ٤٢١ (صحیح )
1526Sunan An Nasai

ستاروں کی وجہ سے مینہ برسنے کے عقیدہ کا رد

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَأَمَّا مَنْ آمَنَ بِي وَحَمِدَنِي عَلَى سُقْيَايَ فَذَاكَ الَّذِي آمَنَ بِي وَكَفَرَ بِالْكَوْكَبِ، وَمَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَاكَ الَّذِي كَفَرَ بِي وَآمَنَ بِالْكَوْكَبِ.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے سنا نہیں کہ تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا؟ اس نے فرمایا: میں نے جب بھی بارش کی نعمت اپنے بندوں پر کی تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ کہتا رہا: فلاں و فلاں نچھتر کے سبب ہم پر بارش ہوئی، تو رہا وہ شخص جو مجھ پر ایمان لایا، اور میرے بارش برسانے پر اس نے میری تعریف کی، تو یہ وہی شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا، اور ستاروں کا انکار کیا، اور جس نے کہا: ہم فلاں فلاں نچھتر کے سبب بارش دیئے گئے، تو یہ وہ شخص ہے جس نے میرے ساتھ کفر کیا، اور ستاروں پر ایمان رکھا ۔

It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani said: "It rained during the time of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Have you nt heard what your Lord said this night? He said: I have never sent down any blessing upon My slaves but some of them become disbelievers thereby, saying: We have been given rain by such and such a star. As for the one who believes in Me and praises Me for giving rain, that is the one who believes in Me and disbelieves in the stars. But the one who says: We have been given rain by such and such a star he has disbelieved in Me and believed in the stars."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1525
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٥٦ (٨٤٦)، الاستسقاء ٢٨ (١٠٣٨)، المغازي ٣٥ (٤١٤٧)، التوحید ٣٥ (٧٥٠٣)، صحیح مسلم/الإیمان ٣٢ (٧١)، سنن ابی داود/الطب ٢٢ (٣٩٠٦)، (تحفة الأشراف: ٣٧٥٧)، موطا امام مالک/الاستسقاء ٣ (٤)، مسند احمد ٤/١١٥، ١١٦، ١١٧ (صحیح )
1527Sunan An Nasai

ستاروں کی وجہ سے مینہ برسنے کے عقیدہ کا رد

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطَرَ عَنْ عِبَادِهِ خَمْسَ سِنِينَ ثُمَّ أَرْسَلَهُ، لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: سُقِينَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے پانچ سال تک بارش روکے رکھے، پھر اسے چھوڑے تو بھی لوگوں میں سے ایک گروہ کافر ہی رہے گا، کہے گا: ہم تو مجدح ستارے کے سبب برسائے گئے ہیں۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If Allah (SWT) were to withhold rain from His slaves for five years and then send it, some of the people would become disbelievers, saying: "We have been given rain by the star of Al-Mijdah."

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1526
Notes · وضاحت
١ ؎: مجدح ستارے ان ستاروں میں سے ایک ستارے کا نام ہے جو عربوں کے نزدیک بارش پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے بارش بند ہونے کی دعا کرے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤١٤٨)، مسند احمد ٣/٧، سنن الدارمی/الرقاق ٤٩ (٢٨٠٤) (ضعیف) (اس کے راوی ” عتاب “ لین الحدیث ہیں )
1528Sunan An Nasai

اگر نقصان کا خطرہ ہو تو امام بارش کے تھمنے کے لئے دعا کرے

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قال: قَحَطَ الْمَطَرُ عَامًا، فَقَامَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَجْدَبَتِ الْأَرْضُ وَهَلَكَ الْمَالُ، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً، فَمَدَّ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ يَسْتَسْقِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَمَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ حَتَّى أَهَمَّ الشَّابَّ الْقَرِيبَ الدَّارِ الرُّجُوعُ إِلَى أَهْلِهِ فَدَامَتْ جُمُعَةٌ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَاحْتَبَسَ الرُّكْبَانُ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسُرْعَةِ مَلَالَةِ ابْنِ آدَمَ وَقَالَ بِيَدَيْهِ: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَتَكَشَّطَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک سال بارش نہیں ہوئی تو کچھ مسلمان جمعہ کے دن نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش نہیں ہو رہی ہے، زمین سوکھ گئی ہے، اور جانور ہلاک ہوگئے ہیں، تو آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، اور اس وقت آسمان میں ہمیں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خوب دراز کیا یہاں تک کہ مجھے آپ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی، آپ اللہ تعالیٰ سے پانی برسنے کے لیے دعا کر رہے تھے۔ ابھی ہم جمعہ کی نماز سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے (کہ بارش ہونے لگی) یہاں تک کہ جس جوان کا گھر قریب تھا اس کو بھی اپنے گھر جانا مشکل ہوگیا، اور برابر دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی، جب اگلا جمعہ آیا تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! گھر گرگئے، اور سوار محبوس ہو کر رہ گئے، تو رسول اللہ ﷺ ابن آدم (انسان) کے جلد اکتا جانے پر مسکرائے، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی: اللہم حوالينا ولا علينا اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور (اب) ہم پر نہ برسا تو مدینہ سے بادل چھٹ گئے۔

It was narrated that Anas said: "There was no rain for a year, so some of the Muslims went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) one Friday and said: O Messenger of Allah, there has been no rain; the land has become bare and our wealth has been destroyed. He raised his hands, and we did not see any cloud in the sky. He stretched forth his hands until I could see the whiteness of his armpits, praying to Allah (SWT) for rain. When we finished praying Jumuah, even a young man whose house nearby was worried about how he would get home. That lasted for a week, then on the following Friday they said: O Messenger of Allah, houses have been destroyed and all travel has been ceased. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) smiled at how quickly the sons of Adam become weary, and he said with his hands raised: O Allah, around us and not on us, and it dispersed from Al-Madinah."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1527
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٩٦)، مسند احمد ٣/١٠٤ (صحیح الإسناد )
1529Sunan An Nasai

بارش کی دعا کرنے کے لئے ہاتھوں کا بلند کرنا

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: أَصَابَ النَّاسُ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَمِنَ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ حَتَّى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَقَامَ ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلَّا انْفَرَجَتْ، حَتَّى صَارَتِ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي، وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا أَخْبَرَ بِالْجَوْدِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگوں کو قحط سالی سے دو چار ہونا پڑا، رسول اللہ ﷺ منبر پر جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک اعرابی (بدو) کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! مال (جانور) ہلاک ہوگئے، اور بال بچے بھوکے ہیں، لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، اس وقت ہمیں آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ آپ نے اپنے ہاتھوں کو ابھی نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ بادل پہاڑ کے مانند امنڈنے لگا، اور آپ ابھی اپنے منبر سے اترے بھی نہیں کہ میں نے دیکھا بارش کا پانی آپ کی داڑھی سے ٹپک رہا ہے، ہم پر اس دن، دوسرے دن اور اس کے بعد والے دن یہاں تک کہ دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی، تو وہی اعرابی یا کوئی اور شخص کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! عمارتیں منہدم ہوگئیں، اور مال و اسباب ڈوب گئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، اور آپ نے یوں دعا کی: اللہم حوالينا ولا علينا اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور (اب) ہم پر نہ برسا چناچہ آپ نے اپنے ہاتھ سے بادل کی جانب جس طرف سے بھی اشارہ کیا، وہ وہاں سے چھٹ گئے یہاں تک کہ مدینہ ایک گڈھے کی طرح لگنے لگا، اور وادی پانی سے بھر گئی، اور جو بھی کوئی کسی طرف سے آتا یہی بتاتا کہ خوب بارش ہوئی ہے۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "There was a drought during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). While the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was giving the Khutbah on the minbar one Friday, a Bedouin stood up and said: O Messenger of Allah wealth has been destroyed and our children are hungry; pray to Allah for us. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) raised his hands, and we could not see even a wisp of a cloud in the sky, but by the One in Whose hand is my soul, he did not lower (his hands) before clouds like mountains appeared, and he did not come down from his minbar before we saw the rain dripping from his beard. It rained that day and the next day, and the day after, until the following Friday. Then that Bedouin"- or he said, "Someone else"- "stood up and said: O Messenger of Allah, buildings have been destroyed and wealth has drowned; pray to Allah (SWT) for us. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) raised his hands and said: O Allah, around us and not on us. He did not point in any direction but the clouds dispersed, until Al-Madinah became like a hole. And the valleys ran with water and no one came from any direction but he told us of the heavy rains."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1528
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٣٥ (٩٣٣)، الإستسقاء ١١ (١٠١٨)، ٢٤ (١٠٣٢)، صحیح مسلم/الإستسقاء ٢ (٨٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٤)، مسند احمد ٣/٢٥٦ (صحیح )