ستاروں کی وجہ سے مینہ برسنے کے عقیدہ کا رد
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطَرَ عَنْ عِبَادِهِ خَمْسَ سِنِينَ ثُمَّ أَرْسَلَهُ، لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: سُقِينَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ.
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے پانچ سال تک بارش روکے رکھے، پھر اسے چھوڑے تو بھی لوگوں میں سے ایک گروہ کافر ہی رہے گا، کہے گا: ہم تو مجدح ستارے کے سبب برسائے گئے ہیں۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If Allah (SWT) were to withhold rain from His slaves for five years and then send it, some of the people would become disbelievers, saying: "We have been given rain by the star of Al-Mijdah."