وصیتوں سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 30 · 61 hadiths · Page 1 of 4

3641Sunan An Nasai

وصیت کرنے میں دیر کرنا مکروہ ہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟ قَالَ: أَنْ تَصَدَّقَ، وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ، وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ: كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ اجر و ثواب میں سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا اس وقت صدقہ کرنا جب تندرست اور صحت مند ہو، تمہیں مال جمع کرنے کی حرص ہو، محتاج ہوجانے کا ڈر ہو اور تمہیں لمبی مدت تک زندہ رہنے کی امید ہو اور صدقہ کرنے میں جان نکلنے کے وقت کا انتظار نہ کر کہ جب جان حلق میں اٹکنے لگے تو کہو: فلاں کو اتنا دے دو، حالانکہ اب تو وہ فلاں ہی کا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah, what kind of charity brings the greatest reward? He said: To give in charity when you are healthy and feeling miserly, and fearing poverty and hoping for a long life. Do not wait until the (death rattle) reaches the throat and then say: "This is for so and so," and it nearly became the property of so and so (the heirs).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3611
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مرتے وقت صدقہ دینے میں زیادہ ثواب نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٤٣ (صحیح )
3642Sunan An Nasai

وصیت کرنے میں دیر کرنا مکروہ ہے

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ ؟قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مِنَّا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ، مَالُكَ مَا قَدَّمْتَ وَمَالُ وَارِثِكَ مَا أَخَّرْتَ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں کون شخص ہے جس کو اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پسند ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر شخص کو اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سمجھو اس بات کو، تم میں سے ہر شخص کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ عزیز و محبوب ہے، تمہارا مال تو وہ ہے جو تم نے (مرنے سے پہلے اپنی آخرت میں کام آنے کے لیے) آگے بھیج دیا اور تمہارے وارث کا مال وہ ہے جو تم نے (مرنے کے بعد) اپنے پیچھے چھوڑ دیا ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: For whom among you is the wealth of his heirs dearer to him than his own wealth? They said: O Messenger of Allah, there is no one among us for whom his own wealth is not dearer to him than the wealth of his heirs. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Know that there is no one among you for whom the wealth of his heirs is not dearer than his own wealth. Your wealth is that which you have sent on ahead, and the wealth of your heirs is that which you have kept.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3612
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اپنی زندگی ہی میں کسی کو دے دلا دینا زیادہ بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ١٢ (٦٤٤٢)، (تحفة الأشراف: ٩١٩٢)، مسند احمد (١/٣٨٢) (صحیح )
3643Sunan An Nasai

وصیت کرنے میں دیر کرنا مکروہ ہے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ 1 حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ 2 سورة التكاثر آية 1-2، قَالَ: يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي، وَإِنَّمَا مَالُكَ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ.

شخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ألهاكم التکاثر * حتى زرتم المقابر (کثرت و زیادتی) کی چاہت نے تمہیں غفلت میں ڈال دیا یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے آپ نے فرمایا: ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال کہتا ہے؟ (لیکن حقیقت میں) تمہارا مال تو صرف وہ ہے جو تم نے کھا (پی) کر ختم کردیا، یا پہن کر بوسیدہ اور پرانا کردیا یا صدقہ کر کے اسے آخرت کے لیے آگے بھیج دیا ۔

It was narrated from Mutarrif, from his father, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The mutual rivalry (for piling up of worldly things) diverts you, Until you visit the graves (i.e. till you die). The son of Adam says: My wealth, my wealth, but your wealth is what you eat and consume, or what you wear and it wears out, or what you give in charity and send on ahead (for the Hereafter).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3613
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٥٨)، سنن الترمذی/الحج ٣١ (٢٣٤٢)، تفسیر اتکاتر ٤٩ (٣٣٥٤)، (تحفة الأشراف: ٥٣٤٦)، مسند احمد (٤/٢٤، ٢٦) (صحیح )
3644Sunan An Nasai

وصیت کرنے میں دیر کرنا مکروہ ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق، سَمِعَ أَبَا حَبِيبَةَ الطَّائِيَّ، قَالَ: أَوْصَى رَجُلٌ بِدَنَانِيرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَسُئِلَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَحَدَّثَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ، أَوْ يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ مَثَلُ الَّذِي يُهْدِي بَعْدَمَا يَشْبَعُ.

ابوحبیبہ طائی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کچھ دینار اللہ کی راہ میں دینے کی وصیت کی۔ تو ابو الدرداء ؓ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی یہ حدیث بیان کی کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اپنی موت کے وقت غلام آزاد کرتا ہے یا صدقہ و خیرات دیتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص پیٹ بھر کھا لینے کے بعد (بچا ہوا) کسی کو ہدیہ دیدے ١ ؎۔

Abu Habibah At-Tai said: "A man made a will leaving some Dinars (to be spent) in the cause of Allah. Abu Ad-Darda was asked about that, and he narrated that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The likeness of the one who frees a slave or gives some charity when he is dying, is that of a man who gives a gift after he has eaten his fill.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3614
Notes · وضاحت
١ ؎: تو جیسے اس ہدیہ کا کوئی خاص ثواب اور اہمیت نہیں ہے ایسے ہی مرتے وقت غلام آزاد کرنے اور صدقہ دینے کی بھی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے، دے تو اس وقت دے جب خود کو بھی اس کی احتیاج اور ضرورت ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/العتق ١٥ (٣٩٦٨)، مختصراً سنن الترمذی/الوصایا ٧ (٢١٢٣) مطولا، (تحفة الأشراف: ١٠٩٧٠)، مسند احمد (٥/١٩٦، ١٩٧ و ٦/٤٤٧) (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو حبیبہ “ لین الحدیث ہیں )
3645Sunan An Nasai

وصیت کرنے میں دیر کرنا مکروہ ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصَى فِيهِ أَنْ يَبِيتَ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنی ضروری ہو مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں ایسی گزارے جس میں اس کے پاس اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو ۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: It is not befitting for a Muslim who has anything concerning which a will should be made, to abide for two nights without having a written will with him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3615
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٠٨٥) (صحیح )
3646Sunan An Nasai

وصیت کرنے میں دیر کرنا مکروہ ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصَى فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ،

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کو جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس کے بارے میں اسے وصیت کرنی ہو یہ حق نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس طرح گزارے کہ اس کے پاس اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو ۔

It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "It is not befitting for a Muslim who has anything concerning which a will should be made, to abide for two nights without having a written will with him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3616
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ١ (٢٧٣٨)، (تحفة الأشراف: ٨٣٨٢)، موطا امام مالک/الوصایا ١ (١)، مسند احمد (٢/١١٣) (صحیح )
3647Sunan An Nasai

وصیت کرنے میں دیر کرنا مکروہ ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَوْلَهُ.

اس سند سے یہ ابن عمر سے موقوفاً روایت ہے (یعنی ابن عمر ؓ کا قول) ۔

(The same) was narrated from Ibn Awn, from Nafi, from Ibn Umar (RA).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3617
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٧٥١)، مسند احمد (٢/١٠) (صحیح )
3648Sunan An Nasai

وصیت کرنے میں دیر کرنا مکروہ ہے

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: فَإِنَّ سَالِمًا أَخْبَرَنِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَمُرُّ عَلَيْهِ ثَلَاثُ لَيَالٍ إِلَّا وَعِنْدَهُ وَصِيَّتُهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: مَا مَرَّتْ عَلَيَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ: إِلَّا وَعِنْدِي وَصِيَّتِي.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کی تین راتیں بھی ایسی گزریں کہ اس کے اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو ۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی ہے اس وقت سے ہمیشہ میری وصیت میرے پاس رہتی ہے۔

It was narrated from Abdullah bin Umar (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is not befitting for a Muslim to abide for three nights without having his will with him." Abdullah bin Umar (RA) said: "Since I heard this from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم), I have always had my will with me.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3618
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الوصایا ١ (١٦٢٧ م)، (تحفة الأشراف: ٧٠٠٠) (صحیح )
3649Sunan An Nasai

وصیت کرنے میں دیر کرنا مکروہ ہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصَى فِيهِ فَيَبِيتُ ثَلَاثَ لَيَالٍ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں وصیت کرنی ضروری ہو پھر بھی وہ تین راتیں بھی اس طرح گزارے کہ اس کے پاس اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو ١ ؎۔

It was narrated from Salim bin Abdullah, from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "It is not right for a Muslim who has anything concerning which a will should be made, to abide for more than three nights without having a written will with him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3619
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر کسی شخص کے ذمہ کوئی ایسا واجب حق ہو جس کی ادائیگی ضروری ہے مثلاً قرض اور امانت وغیرہ تو ایسے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ وصیت کرے اور اگر اس کے ذمہ کوئی واجبی حق نہیں ہے تو وصیت مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الوصایا ١ (١٦٢٧)، (تحفة الأشراف: ٦٨٩٦) (صحیح )
3650Sunan An Nasai

کیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت فرمائی تھی؟

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: كَيْفَ كَتَبَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةَ ؟ قَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ.

طلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے وصیت کی تھی؟ کہا: نہیں ١ ؎، میں نے کہا: پھر مسلمانوں پر وصیت کیسے فرض کردی؟ کہا: آپ نے اللہ کی کتاب سے وصیت کو ضروری قرار دیا ہے ٢ ؎۔

Talha (RA) said: "I asked Ibn Abi Awfa: Did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) leave a will? He said: No. I said: How come it is prescribed for the Muslims to make wills? He said: He left instructions urging the Muslims to adhere to the Book of Allah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3620
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دنیا کے متعلق کوئی وصیت نہیں کی کیونکہ آپ نے ایسا کوئی مال چھوڑا ہی نہیں تھا جس میں وصیت کرنے کی ضرورت پیش آتی، رہی مطلق وصیت تو آپ نے کئی باتوں کی وصیت فرمائی ہے۔ ٢ ؎: اشارہ ہے آیت کریمہ : كتب عليكم إذا حضر أحدکم الموت إن ترک خيرا الوصية للوالدين والأقربين بالمعروف حقا على المتقي کی طرف، یعنی اس آیت کی بنا پر آپ نے وصیت کو فرض قرار دیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ١ (٢٧٤٠)، المغازي ٨٣ (٤٤٦٠)، فضائل القرآن ١٨ (٥٠٢٢)، صحیح مسلم/الوصایا ٥ (١٦٣٤)، سنن الترمذی/الوصایا ٤ (٢١١٩)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ١ (٢٦٩٦)، (تحفة الأشراف: ٥١٧٠)، مسند احمد (٤/٣٥٤، ٣٥٥، ٣٨١)، سنن الدارمی/الوصیة ٣ (٣٢٢٤) (صحیح )
3651Sunan An Nasai

کیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت فرمائی تھی؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا شَاةً، وَلَا بَعِيرًا، وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (موت کے وقت) نہ دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) did not leave behind a Dinar or a Dirham, or a sheep or a camel, and he did not leave any will.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3621
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الوصایا ٦ (١٦٣٥)، سنن ابی داود/الوصایا ١ (٢٨٦٣)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ١ (٢٦٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٦١٠)، مسند احمد (٦/٤٤)، ویأتي فیما یلي (صحیح )
3652Sunan An Nasai

کیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت فرمائی تھی؟

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْهَمًا، وَلَا دِينَارًا، وَلَا شَاةً، وَلَا بَعِيرًا، وَمَا أَوْصَى.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) did not leave behind a Dirham or a Dinar, or a sheep or a camel, and he did not leave any will.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3622
Takhrij · تخریج
انطر ما قبلہ (صحیح )
3653Sunan An Nasai

کیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت فرمائی تھی؟

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهُذَيْلِ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْهَمًا، وَلَا دِينَارًا، وَلَا شَاةً، وَلَا بَعِيرًا، وَلَا أَوْصَى، لَمْ يَذْكُرْ جَعْفَرٌ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ درہم چھوڑا، نہ دینار، نہ بکری چھوڑی اور نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔ (اس روایت کے دونوں راویوں میں سے ایک راوی جعفر بن محمد بن ہذیل نے اپنی روایت میں دینار اور درہم کا ذکر نہیں کیا ہے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) did not leave behind a Dirham or a Dinar, or a sheep or a camel, and he did not leave any will." Jafar did not mention "Dinar or Dirham.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3623
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٩٦٧) (صحیح )
3654Sunan An Nasai

کیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت فرمائی تھی؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَقَدْ دَعَا بِالطَّسْتِ لِيَبُولَ فِيهَا، فَانْخَنَثَتْ نَفْسُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَشْعُرُ، فَإِلَى مَنْ أَوْصَى ؟.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ کو وصیت کی (اس وقت آپ کی حالت اتنی خراب تھی کہ) آپ نے پیشاب کرنے کے لیے طشت منگوایا کہ اتنے میں آپ کے اعضاء ڈھیلے پڑگئے (روح پرواز کرگئی) اور میں نہ جان سکی تو آپ نے کس کو وصیت کی؟ ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "They say that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) made a will concerning Ali (RA). But he called for a vessel in which to urinate, then he went limp without me realizing it. So to whom did he leave a will?

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3624
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ کی روح پرواز کرگئی، اس وقت تک میں وہاں موجود تھی پھر آخر کون ہے جسے وصی بنایا گیا؟ البتہ یہ ممکن ہے کہ آپ نے کتاب و سنت سے متعلق وصیت انتقال سے کچھ روز پہلے کی ہو اور یہ وصیت کسی کے ساتھ خاص نہیں ہوسکتی بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٣ (صحیح )
3655Sunan An Nasai

کیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت فرمائی تھی؟

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ غَيْرِي، قَالَتْ: وَدَعَا بِالطَّسْتِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے وقت میرے سوا آپ کے پاس کوئی اور نہ تھا اس وقت آپ نے (پیشاب کے لیے) طشت منگا رکھا تھا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) died when no one was with him except me." She said: "And he called for a vessel.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3625
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٣ (صحیح )
3656Sunan An Nasai

ایک تہائی مال کی وصیت

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالشَّطْرَ ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالثُّلُثَ ؟ قَالَ: الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ.

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا ایسا بیمار کہ مرنے کے قریب آ لگا، رسول اللہ ﷺ میری عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لائے، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت سارا مال ہے اور ایک بیٹی کے علاوہ میرا کوئی وارث نہیں، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے جواب دیا: نہیں ۔ میں نے کہا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: نہیں ۔ میں نے کہا: تو ایک تہائی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ایک تہائی، حالانکہ یہ بھی زیادہ ہی ہے تمہارا اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔

It was narrated from Amir bin Sad that his father said: "I became ill with a sickness from which I later recovered. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came to visit me, and I said: O Messenger of Allah, I have a great deal of wealth and I have no heir except my daughter. Shall I give two-thirds of my wealth in charity? He said: No. I said: Half? He said: No. I said: One-third? He said: (Give) one-third, and one-third is a lot. It is better to leave your heirs independent of means, than to leave them poor and holding out their hands to people.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3626
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٣٦ (١٢٩٥) مطولا، مناقب الأنصار ٤٩ (٣٩٣٦)، المغازي ٧٧ (٤٣٩٥)، النفقات ١ (٥٣٥٤)، المرضی ١٣ (٥٦٥٩)، ١٦ (٥٦٦٨)، الدعوات ٤٣ (٦٣٧٣)، الفرائض ٦ (٦٧٣٣)، صحیح مسلم/ الوصایا ٢ (٢١١٦)، سنن ابی داود/الوصایا ٢ (٢٨٦٤)، سنن الترمذی/الجنائز ٦ (٩٧٥)، الوصایا ١ (٢١١٧)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٥ (٢٧٠٨)، (تحفة الأشراف: ٣٨٩٠)، موطا امام مالک/الوصایا ٣ (٤)، مسند احمد (١/١٦٨، ١٧٢، ١٧٦، ١٧٩)، سنن الدارمی/الوصایا ٧ (٣٢٣٩) (صحیح )
3657Sunan An Nasai

ایک تہائی مال کی وصیت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالشَّطْرَ ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالثُّلُثَ ؟ قَالَ: الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، يَتَكَفَّفُونَ فِي أَيْدِيهِمْ.

سعد بن ابی وق اس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میری عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لائے اور میں ان دنوں مکے میں تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: آدھے مال کی؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ نے فرمایا: ہاں، ایک تہائی دے دو، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے، تمہارا اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں تنگدست چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، اور لوگوں سے جو ان کے ہاتھ میں ہے مانگتے پھریں ۔

It was narrated that Sad said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to visit me when I was in Makkah. I said: O Messenger of Allah, shall I bequeath all my money? He said: No. I said: One-half? He said: No. I said: One-third? He said: (Bequeath) one-third, and one-third is a lot. If you leave your heirs independent of means, that is better than if you leave them poor and holding out their hands to people.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3627
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ٢ (٢٧٤٢) مطولا، النفقات ١ (٥٣٥٤) مطولا، صحیح مسلم/الوصایا ٢ (١٦٢٨ م)، (تحفة الأشراف: ٣٨٨٠)، مسند احمد (١/١٧٢، ١٧٣) (صحیح )
3658Sunan An Nasai

ایک تہائی مال کی وصیت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِمَكَّةَ، وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّذِي هَاجَرَ مِنْهَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ سَعْدَ ابْنَ عَفْرَاءَ أَوْ يَرْحَمُ اللَّهُ سَعْدَ ابْنَ عَفْرَاءَ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: النِّصْفَ ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالثُّلُثَ ؟ قَالَ: الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ،

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (وہ مکہ میں بیمار پڑے تو) رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لاتے تھے، وہ اس سر زمین میں جہاں سے وہ ہجرت کر کے جا چکے تھے مرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی: سعد بن عفراء پر اللہ کی رحمت نازل ہو ، (سعد کی صرف ایک بیٹی تھی) ، سعد ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی (اللہ کی راہ میں دینے کی) وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: آدھے مال کی، اللہ کی راہ میں وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: تو ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: تہائی کی وصیت کر دو، ایک تہائی بھی زیادہ ہے، تم اگر اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ جاؤ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج اور پریشان حال بنا کر اس دنیا سے جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔

It was narrated from Amir bin Sad that his father said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to visit him when he was in Makkah, and he did not want to die in the land from which he had emigrated. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: May Allah have mercy on Sad bin Afra. He had only one daughter, and he said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم), shall I bequeath all my wealth? He said: No. I said: Half? He said: No. I said: One-third? He said: One-third, and one-third is a lot. For you to leave your heirs independent of means is better than if you were to leave them poor, holding out their hands to people.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3628
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3659Sunan An Nasai

ایک تہائی مال کی وصیت

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ آلِ سَعْدٍ، قَالَ: مَرِضَ سَعْدٌ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ: لَا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

سعد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ آل سعد میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ سعد بیمار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی (اللہ کی راہ میں دینے) وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، اور انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔

One from the family of Sad narrated: "Sad fell sick and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) entered upon him and he said: O Messenger of Allah, shall I bequeath all my money? He said: No." And he quoted the same Hadith.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٩٥٠)، (حم ١/٧٢) (صحیح )
3660Sunan An Nasai

ایک تہائی مال کی وصیت

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ اشْتَكَى بِمَكَّةَ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ بَكَى، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمُوتُ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرْتُ مِنْهَا ؟ قَالَ: لَا، إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: يَعْنِي بِثُلُثَيْهِ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَنِصْفَهُ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَثُلُثَهُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَتْرُكَ بَنِيكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ.

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ مکہ میں بیمار پڑے تو (ان کی بیمار پرسی کے لیے) رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، وہ آپ کو دیکھ کر رو پڑے، کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی سر زمین میں مر رہا ہوں جہاں سے ہجرت کر کے جا چکا ہوں، آپ نے فرمایا: نہیں، ان شاء اللہ (تم یہاں نہیں مرو گے) ۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، انہوں نے کہا: دو تہائی کی دے دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، انہوں نے کہا: آدھا دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں انہوں نے کہا: تو تہائی کی وصیت کر دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اچھا ایک تہائی کی وصیت کر دو، ایک تہائی بھی زیادہ ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا اپنی اولاد کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔

Amir bin Sad (narrated) from his father that he fell sick in Makkah and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came to him. When Sad saw him, he wept and said: "O Messenger of Allah, am I to die in the land from which I emigrated?" He said: "No, if Allah wills." He said: "O Messenger of Allah, shall I bequeath all of my wealth in the cause of Allah?" He said: "No." He said: "Two-thirds?" He said: "No." He said: "Half of it?" He said: "No." He said: "One-third of it?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "One-third, and one-third is a lot. If you leave your sons independent of means that is better than if you leave them poor, holding out their hands to people.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3630
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٨٧٦)، مسند احمد (١/١٨٤) (صحیح )