عمرو بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں (رسول اللہ ﷺ انتقال فرما گئے) اور انتقال کے وقت رسول اللہ ﷺ نے سوائے اپنے سفید خچر کے جس پر سوار ہوا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار کے اور زمین کے جسے اللہ کے راستہ میں دے دیا تھا کچھ نہ چھوڑا تھا نہ دینار نہ درہم نہ غلام نہ لونڈی، (مصنف) کہتے ہیں (میرے استاذ) قتیبہ نے دوسری بار یہ بتایا کہ زمین کو صدقہ کردیا تھا۔
It was narrated that Amr bin Al-Harith said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) did not leave behind a Dinar nor a Dirham, or any slave, male or female; except his white mule which he used to ride, his weapon and some land which he left to be used for the cause of Allah." (One of the narrators) Qutaibah said on one occasion: "In charity.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3594
عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سوائے اپنے سفید خچر، ہتھیار اور زمین کے جسے آپ صدقہ کر گئے تھے کچھ چھوڑ کر نہ گئے تھے۔
Abu Ishaq narrated: "I heard Amr bin Al-Harith say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) did not leave behind anything except his white mule, his weapon and some land which he left as a charity.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3595
عمرو بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا (آپ نے اپنے انتقال کے موقع پر) اپنے شہباء خچر، ہتھیار اور اپنی زمین کے علاوہ جسے آپ صدقہ کر گئے تھے کچھ نہ چھوڑ کر گئے۔
Yunus bin Abi Ishaq narrated that his father said: "I heard Amr bin Al-Harith say: I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and he left nothing behind except his white mule, his weapon and some land which he left as a charity.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3596
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے خیبر میں (حصہ میں) ایک زمین ملی، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے کہا: مجھے بہت اچھی زمین ملی ہے، مجھے اس سے زیادہ محبوب و پسندیدہ مال (کبھی) نہ ملا تھا، آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو صدقہ کرسکتے ہو تو انہوں نے اسے بایں طور صدقہ کردیا کہ وہ زمین نہ تو بیچی جائے گی اور نہ ہی کسی کو ہبہ کی جائے گی اور اس کی پیداوار فقیروں، محتاجوں اور قرابت داروں میں، گردن چھڑانے (یعنی غلام آزاد کرانے میں) ، مہمانوں کو کھلانے پلانے اور مسافروں کی مدد و امداد میں صرف کی جائے گی اور کچھ حرج نہیں اگر اس کا ولی، نگراں، محافظ و مہتمم اس میں سے کھائے مگر شرط یہ ہے کہ وہ معروف طریقے (انصاف و اعتدال) سے کھائے (کھانے کے نام پر لے کر) مالدار بننے کا خواہشمند نہ ہو اور دوسروں (دوستوں) کو کھلائے ۔
It was narrated from Sufyan Ath-Thawri, from Ibn Awn, from Nafi, from Ibn Umar, from Umar, that he said: "I was allocated some land of Khaibar. I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and said: I have acquired some land and I have never acquired any wealth that is dearer to me or more precious than it. He said: If you wish, you can give it in charity." So he gave it in charity on condition that it would not be bought or given away, for the poor, relatives, slaves, guests and wayfarers. And there is no sin on the administrator if he eats from it or feeds others on a reasonable basis, with no intention of becoming wealthy from it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3597
عمر رضی الله عنہ نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
A similar report was narrated from Abu Ishaq Al-Fazari, from (Ayyub) bin Awn, from Nafi, from Ibn Umar, from Umar (RA) from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ عمر ؓ کو خیبر میں (بعد فتح خیبر تقسیم غنیمت میں) ایک زمین ملی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے ایسی زمین ملی ہے جس سے بہتر مال میرے نزدیک مجھے کبھی نہیں ملا، تو آپ ہمیں بتائیں میں اسے کیا کروں، آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس سے حاصل پیداوار کو تقسیم (خیرات) کر دو، تو انہوں نے اس زمین کو بایں طور صدقہ کردیا کہ وہ نہ بیچی جائے گی نہ وہ بخشش میں دی جائے گی اور نہ وہ ورثہ میں دی جائے گی، اس کی آمدنی تقسیم ہوگی فقراء میں، جملہ رشتہ ناطہٰ والوں میں، غلام آزاد کرنے میں، اللہ کی راہ (جہاد) میں، مہمان نوازی میں، مسافروں کی امداد میں، اس زمین کے متولی (نگران و مہتمم) کے اس کی آمدنی میں سے معروف طریقے سے کھانے پینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور نہ ہی دوست و احباب کو کھلانے میں کوئی حرج ہے لیکن (اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر) مالدار بننے کی کوشش نہ کرے۔
It was narrated that Yazid -Ibn Ruzaiq- said: "Ibn Awn narrated to us, from Nafi, from Ibn Umar, from Umar, who said: I acquired some land at Khaibar. He came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: I have acquired some land at Khaibar, and I have never been given any wealth that is more precious to me than it. What do you command me to do with it? He said: If you wish, you can freeze it and give it in charity. So he gave it in charity on condition that it would not be sold, given away or inherited, to the poor, relatives, slaves, for the cause of Allah, guests and wayfarers. There is no sin on the one who administers it if he eats from it on a reasonable basis and feeds his friend, with no intention of becoming wealthy from it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3599
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اس کے بارے میں صلاح و مشورہ کرنے کے لیے آئے اور کہا: مجھے ایک ایسی بڑی زمین ملی ہے جس سے میری نظروں میں زیادہ قیمتی مال مجھے کبھی نہیں ملا تو آپ مجھے اس زمین کے بارے میں کیا حکم و مشورہ دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو اصل زمین کو روک کر وقف کر دو اور اس کی آمدنی کو صدقہ کر دو ۔ تو انہوں نے اس طرح صدقہ کردیا کہ وہ بیچی نہ جاسکے گی اور نہ ھبہ کی جاسکے گی اور اس کی پیداوار اور آمدنی کو صدقہ کردیا فقراء، قرابت داروں، غلاموں کو آزاد کرنے، اللہ کی راہ، مسافروں (کی امداد) میں اور مہمانوں (کے تواضع) میں۔ اور اس کے ولی (نگراں و مہتمم) کے اس میں سے کھانے اور اپنے دوست کو کھلانے میں کوئی حرج و مضائقہ نہیں ہے لیکن (اس کے ذریعہ سے) مالدار بننے کی کوشش نہ ہو، حدیث کے الفاظ راوی حدیث اسماعیل مسعود کے ہیں۔
It was narrated from Bishr, from Ibn Awn, from Nafi, from Ibn Umar who said: "Umar (RA) acquired some land at Khaibar. He came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and consulted him about it. He said: I have acquired a great deal of land, and I have never acquired any wealth that is more precious to me than it. What do you command me to do with it? He said: If you wish, you may freeze it and give it in charity. So he gave it in charity on condition that it would not be sold or given away, and he gave it in charity to the poor, relatives, to emancipate slaves, for the cause of Allah, for wayfarers and guests. There is no sin -on the administrator- if he eats (from it) or feeds a friend, with no intention of becoming wealthy from it." These are the wordings of Ismail.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3600
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے، (وہ کہتے ہیں:) کہ عمر ؓ کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ اس زمین کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کے پاس مشورہ کرنے آئے، آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو اصل کو روک کر وقف کر دو اور اس کی پیداوار کو صدقہ کر دو ۔ تو انہوں نے اس کی اصل کو اس طرح روک کر وقف کیا کہ یہ زمین نہ تو بیچی جاسکے گی اور نہ ہی کسی کو ہبہ کی جاسکے گی اور نہ ہی کسی کو وراثت میں دی جاسکے گی۔ اور اس کو صدقہ کیا اس طرح کہ اس سے فقراء، قرابت دار فائدہ اٹھائیں گے، اس کی آمدنی سے غلاموں کو آزاد کرانے میں مدد دی جائے گی اور مساکین پر خرچ کی جائے گی، مسافر کی مدد اور مہمان کی تواضع کی جائے گی اور جو اس زمین کا ولی (سرپرست و نگراں) ہوگا وہ بھی اس کی آمدنی سے معروف طریقے سے کھا سکے گا اور اپنے دوست کو کھلا سکے گا، لیکن (اپنے کھانے پینے کے نام پہ اس میں سے لے کر) مالدار اور سیٹھ نہ بن سکے گا۔
It was narrated from Azhar As-Samman, from Ibn Awn, from Nafi, from Ibn Umar, that Umar acquired some land at Khaibar. He came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and consulted him about that. He said: "If you wish, you may freeze it and give it in charity." So he froze it, stipulating that it should not be sold, given as a gift or inherited, and he gave it in charity to the poor, relatives, slaves, the needy, wayfarers and guests. There is no sin on the administrator if he eats from it on a reasonable basis or feeds a friend with no intention of becoming wealthy from it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3601
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون تم بِر (بھلائی) کو حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ تم اس میں سے خرچ نہ کرو جسے تم پسند کرتے ہو (آل عمران: ٩٢) نازل ہوئی تو ابوطلحہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ہم سے ہمارے اچھے مال میں سے مانگتا ہے، تو اللہ کے رسول! میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی زمین اللہ کی راہ میں وقف کی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس وقف کو اپنے قرابت داروں: حسان بن ثابت اور ابی بن کعب کے لیے کر دو (کہ وہ لوگ اس زمین کو اپنے تصرف میں لائیں اور فائدہ اٹھائیں) ۔
It was narrated that Anas said: "When this Verse was revealed -By no means shall you attain Al Birr (piety, righteousness--here it means Allahs reward, i.e. Paradise), unless you spend (in Allahs cause) of that which you love- Abu Talha said: Our Lord will ask us about our wealth. I adjure you, O Messenger of Allah! I am giving my land to Allah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Make it for your relatives, Hassan bin Thabit and Ubayy bin Kab.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3602
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: میرے پاس خیبر میں جو سو حصے ہیں اس سے زیادہ بہتر اور پسندیدہ مال مجھے کبھی بھی نہیں ملا، میں نے اسے صدقہ کردینے کا ارادہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اصل روک لو اور اس کا پھل (پیداوار) تقسیم کر دو ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "Umar said to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): The one hundred shares that I acquired in Khaibar -I have never acquired any wealth that I like more than that, and I want to give it in charity. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Freeze it and donate its fruits.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3603
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصدقات ٤ (٢٣٩٧)، (تحفة الأشراف: ٧٩٠٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا اچھا مال ہاتھ لگا ہے کہ اس جیسا مال مجھے کبھی نہیں ملا تھا۔ میرے پاس سو راس (جانور) تھے تو میں نے انہیں خیبر والوں کو دے کر سو حصے خرید لیے اور میرا ارادہ ہے کہ انہیں اللہ عزوجل کی راہ میں دے کر اس کی قرابت حاصل کرلوں۔ آپ نے فرمایا: (اگر تمہارا ایسا ارادہ ہے تو) اصل (یعنی زمین) کو روک لو اور پھل تقسیم کر دو ۔
It was narrated that Umar (RA) said: "Umar came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and said: O Messenger of Allah, I have acquired some wealth the like of which I have never acquired before. I had one hundred head (of livestock) with which I bought one hundred shares of Khaibar from its people. I wanted to draw closer to Allah, the Mighty and Sublime, by means of it. He said: Freeze it and donate its fruits.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3604
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک زمین ثمغ (مدینہ) میں تھی، میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اصل (زمین) کو روک لو اور اس کے پھل (پیداوار و فوائد) کو تقسیم کر دو ۔
It was narrated that Umar said: "I asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about some land of mine in Thamgh. He said: Freeze it and donate its fruits.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3605
معتمر بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حصین بن عبدالرحمٰن کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے اور وہ عمرو بن جاوان سے، جو ایک تمیمی شخص ہیں، روایت کرتے ہیں، اور یہ بات اس طرح ہوئی کہ میں (حصین بن عبدالرحمٰن) نے ان سے (یعنی عمرو بن جاوان سے) کہا: کیا تم نے احنف بن قیس کا اعتزال دیکھا ہے، کیسے ہوا؟ وہ کہتے ہیں: میں نے احنف کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں مدینہ آیا (اس وقت) میں حج پر نکلا ہوا تھا، اسی اثناء میں ہم اپنی قیام گاہوں میں اپنے کجاوے اتار اتار کر رکھ رہے تھے کہ اچانک ایک آنے والے شخص نے آ کر بتایا کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہو رہے ہیں۔ میں وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ اکٹھا ہیں اور انہیں کے درمیان کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان میں علی بن ابی طالب، زبیر، طلحہ، سعد بن ابی وقاص ؓ موجود ہیں۔ میں وہاں کھڑا ہوگیا، اسی دوران یہ آواز آئی: یہ لو عثمان بن عفان بھی آگئے، وہ آئے ان کے جسم پر ایک زرد رنگ کی چادر تھی ١ ؎، میں نے اپنے پاس والے سے کہا: جیسے تم ہو ویسے رہو مجھے دیکھ لینے دو وہ (عثمان) کیا کہتے ہیں، عثمان نے کہا: کیا یہاں علی ہیں، کیا یہاں زبیر ہیں، کیا یہاں طلحہ ہیں، کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں (موجود ہیں) انہوں نے کہا: میں آپ لوگوں سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تمہیں معلوم ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: جو شخص خرید لے گا فلاں کا مربد (کھلیان، کھجور سکھانے کی جگہ) اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا ، تو میں نے اسے خرید لیا تھا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ کر آپ کو بتایا تھا کہ میں نے عقلان کا مربد (کھلیان) خرید لیا ہے تو آپ نے فرمایا تھا: اسے ہماری مسجد (مسجد نبوی) میں شامل کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا ، لوگوں نے کہا: ہاں، (ایسا ہی ہوا تھا) (پھر) کہا: میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: جو شخص رومہ کا کنواں خرید لے گا (رومہ مدینہ کی ایک جگہ کا نام ہے) اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا ۔ میں (بئررومہ خرید کر) رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اور (آپ سے) کہا: میں نے بئررومہ خرید لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا ، لوگوں نے کہا: ہاں (ایسا ہی ہوا تھا) انہوں نے (پھر) کہا: میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تمہیں معلوم ہے رسول اللہ ﷺ نے (جنگ تبوک کے موقع پر) فرمایا تھا: جو شخص جیش عسرۃ (تہی دست لشکر) کو (سواریوں اور سامان حرب و ضرب سے) آراستہ کرے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا ، تو میں نے ان لشکریوں کو ساز و سامان کے ساتھ تیار کردیا یہاں تک کہ انہیں عقال (اونٹوں کے پاؤں باندھنے کی رسی) اور خطام (مہار بنانے کی رسی) کی بھی ضرورت باقی نہ رہ گئی۔ لوگوں نے کہا: ہاں (آپ درست فرماتے ہیں ایسا ہی ہوا تھا) یہ سن کر انہوں نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔
Al-Ahnaf said: "I came to Al-Madinah, and I was performing Hajj, and while we were in our camping place unloading our mounts, someone came to us and said: The people have gathered in the Masjid. I looked and found the people gathered, and in the midst of them was a group; there I saw Ali bin Abi Talib, Az-Zubair, Talhah and Sad bin Abi Waqqas (RA). When I got there, it was said that Uthman bin Affan (RA) had come. He came, wearing a yellowish cloak. I said to my companion: Stay where you are until I find out what is happening. Uthman (RA) said: Is Ali here? Is Az-Zubair here? Is Talhah here? Is Sad here? They said: Yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever buys the Mirbad of Banu so and so, Allah will forgive him, and I bought it, then I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and told him, and he said: Add it to our Masjid and the reward for it will be yours? They said: Yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever buys the well of Rumah, Allah will forgive him, so I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and said: I have bought the well of Rumah. He said: Give it to provide water for the Muslims, and the reward for it will be yours? They said: Yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever equips the army of Al-Usrah (i.e. Tabuk), Allah will forgive him, so I equipped them until they were not lacking even a rope or a bridle? They said: Yes. He said: O Allah, bear witness, O Allah, bear witness, O Allah, bear witness.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3606
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب خوارج نے عثمان رضی الله عنہ کے خلاف باغیانہ کارروائیاں شروع کردی تھیں اور ان سے خلافت سے دستبرداری کا مطالبہ کر رہے تھے۔
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ہم اپنے گھر سے حج کے ارادے سے نکلے۔ مدینہ پہنچ کر ہم اپنے پڑاؤ کی جگہوں (خیموں) میں اپنی سواریوں سے سامان اتار اتار کر رکھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والے نے آ کر خبر دی کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہیں اور گھبرائے ہوئے ہیں تو ہم بھی (وہاں) چلے گئے، کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ مسجد کے بیچ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور لوگ انہیں (چاروں طرف سے) گھیرے ہوئے ہیں، ان میں علی، زبیر، طلحہ، سعد بن ابی وقاص ؓ بھی موجود تھے۔ ہم یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عثمان بن عفان آگئے، وہ اپنے اوپر ایک پیلی چادر ڈالے ہوئے تھے اور اس سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھے۔ (آ کر) کہنے لگے: کیا یہاں علی ہیں، کیا یہاں طلحہ ہیں، کیا یہاں زبیر ہیں، کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں (ہیں) انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: جو شخص بنی فلاں کا مربد (کھجوریں خشک کرنے کا میدان، کھلیان) خرید لے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا ، تو میں نے اسے بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خرید لیا تھا، اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ کو بتایا۔ آپ نے فرمایا: اسے (وقف کر کے ہماری) مسجد میں شامل کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا ۔ ان لوگوں نے اللہ کا نام لے کر کہا: ہاں (ہمیں معلوم ہے) (پھر) انہوں نے کہا: میں تم سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: جو شخص رومہ کا کنواں خریدے گا اللہ اس کی مغفرت فرمائے گا ، تو میں نے اسے اتنے اتنے میں خریدا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ میں نے اسے اتنے داموں میں خرید لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اس کو عام مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا ۔ انہوں نے اللہ کا نام لے کر کہا: ہاں، (پھر) انہوں نے کہا: میں قسم دیتا ہوں تم کو اس اللہ کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے چہروں پر نظر ڈالتے ہوئے کہا تھا جو شخص ان لوگوں کو تیار کر دے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا ۔ هؤلاء سے مراد جیش عسرت ہے (ساز و سامان سے تہی دست لشکر) تو میں نے انہیں مسلح کردیا اور اس طرح تیار کردیا کہ انہیں اونٹوں کے پیر باندھنے کی رسی اور نکیل کی رسی کی بھی ضرورت باقی نہ رہ گئی تو ان لوگوں نے اللہ کا نام لے کر کہا ہاں (ایسا ہی ہوا ہے) تب عثمان نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔ (میں نے یہ تیری رضا کے لیے کیا ہے اور ایسا کرنے والا مجرم نہیں ہوسکتا) ۔
It was narrated that Al-Ahnaf bin Qais said: "We set out for Hajj, and came to Al-Madinah intending to perform Hajj. While we were in our camping place unloading our mounts, someone came to us and said: The people have gathered in the Masjid and there is panic. So we set out and found the people gathered around a group in the middle of the Masjid, among whom were Ali, Az-Zubair, Talhah and Sad bin Abi Waqqas (RA). While we were like that, Uthman (RA) came, wearing a yellowish cloak with which he had covered his head. He said: Is Ali here? Is Talhah here? Is Az-Zubair here? Is Sad here? They said: Yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever buys the Mirbad of Banu so and so, Allah will forgive him, and I bought it for twenty or twenty-five thousand, then I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and told him, and he said: Add it to our Masjid and the reward for it will be yours? They said: By Allah, yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever buys the well of Rumah, Allah will forgive him, so I bought it for such and such an amount, then I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and told him, and he said: Give it to provide water for the Muslims, and the reward for it will be yours? They said: By Allah, yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever equips these (men), Allah will forgive him, -meaning the army of Al-Usrah (i.e. Tabuk)- so I equipped them until they were not lacking even a rope or a bridle? They said: By Allah, yes. He said: O Allah, bear witness, O Allah, bear witness.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3607
ثمامہ بن حزن قشیری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت عثمان ؓ عنہ کے گھر موجود تھا جب انہوں نے اوپر سے جھانک کر لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو وہاں بئررومہ کے سوا کہیں بھی پینے کا میٹھا پانی نہ تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ہے کوئی جو رومہ کا کنواں خرید کر (وقف کر کے) اپنے اور تمام مسلمانوں کے ڈولوں کو یکساں کر دے اس کے عوض اسے جنت میں اس سے بہتر ملے گا ۔ میں نے (آپ کے اس ارشاد کے بعد) اسے اپنے ذاتی مال سے خرید کر اپنا ڈول عام مسلمانوں کے ڈول کے ساتھ کردیا (یعنی وقف کردیا اور اپنے لیے کوئی تخصیص نہ کی) اور آج یہ حال ہے کہ تم لوگ مجھے اس کا پانی پینے نہیں دے رہے ہو، حال یہ ہے کہ میں سمندر کا ( کھارا) پانی پی رہا ہوں۔ لوگوں نے کہا: ہاں، (اسی طرح ہے) (پھر) انہوں نے کہا: میں تم سے اسلام اور اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو جیش عسرہ (ضرورت مند لشکر) کو میں نے اپنا مال صرف کر کے جنگ میں شریک ہونے کے قابل بنایا تھا۔ ان لوگوں نے کہا: ہاں، (ایسا ہی ہے) انہوں نے (پھر) کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے مسجد اپنے نمازیوں پر تنگ ہوگئی تھی، آپ نے فرمایا تھا: کون ہے جو فلاں خاندان کی زمین کو خرید کر جنت میں اس سے بہتر پانے کے لیے اسے مسجد میں شامل کر کے مسجد کو مزید وسعت دیدے ۔ تو میں نے اس زمین کے کئی ٹکڑے کو اپنا ذاتی مال صرف کر کے خرید لیا تھا اور مسجد میں اس کا اضافہ کردیا تھا اور تمہارا حال آج یہ ہے کہ تم لوگ مجھے اس میں دو رکعت نماز پڑھنے تک نہیں دے رہے ہو۔ لوگوں نے کہا: ہاں (بجا فرما رہے ہیں آپ) ۔ انہوں نے (پھر) کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ ﷺ مکہ کی پہاڑیوں میں سے ایک پہاڑی پر تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر بھی تھے اور میں بھی تھا، اس وقت وہ پہاڑ ہلنے لگا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے ٹھوکر لگائی اور فرمایا: ثبیر! سکون سے رہ، کیونکہ (یہاں) تیرے اوپر نبی، صدیق اور دو شہید موجود ہیں ۔ لوگوں نے کہا: اللہ گواہ ہے، ہاں (آپ ٹھیک کہتے ہیں) انہوں نے کہا: اللہ اکبر، اللہ بہت بڑا ہے۔ ان لوگوں نے (میرے شہید ہونے کی) گواہی دی۔ رب کعبہ کی قسم میں شہید ہوں۔
It was narrated that Thumamah bin Hazn Al-Qushairi said: "I was present at the house when Uthman looked out over them and said: I adjure you by Allah and by Islam, are you aware that when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came to Al-Madinah, and it had no water that was considered sweet (suitable for drinking) except the well of Rumah, he said: "Who will buy the well of Rumah and dip his bucket in it alongside the buckets of the Muslims, in return for a better one in Paradise?" and I bought it with my capital and dipped my bucket into it alongside the buckets of the Muslims? Yet today you are preventing me from drinking from it, so that I have to drink salty water. They said: By Allah, yes. He said: I adjure you by Allah and by Islam, are you aware that I equipped the army of Al-Usrah (Tabuk) from my own wealth? They said: By Allah, yes. He said: I adjure you by Allah and by Islam, are you aware that when the Masjid became too small for the people and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Who will buy the plot of the family of so and so and add it to the Masjid, in return for a better plot in Paradise? I bought it with my capital and added it to the Masjid? Yet now you are preventing me from praying two Rakahs therein. They said: By Allah, yes. He said: I adjure you by Allah and by Islam, are you aware that when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) was atop Thabir -the Thabir in Makkah- and with him were Abu Bakr, Umar and myself, the mountain shook, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) kicked it with his foot and said: Be still, Thabir, for upon you are a Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), a Siddiq and two martyrs? They said: By Allah, yes. He said: Allahu Akbar! They have testified for me, by the Lord of the Kabah -i.e., that I am a martyr.
صحيح دون قصة ثبيرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3608
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ١٩ (٣٧٠٣)، (تحفة الأشراف: ٩٧٨٥)، مسند احمد (١/٧٤) (صحیح) (لیکن ” ثبر “ کا واقعہ صحیح نہیں ہے )
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے، (وہ کہتے ہیں:) کہ جب لوگوں نے عثمان ؓ عنہ کے گھر کا محاصرہ کرلیا تو عثمان نے مکان کے اوپر سے نیچے کی طرف جھانکتے ہوئے لوگوں سے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جس نے پہاڑ کے ہلنے والے دن رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا۔ جب پہاڑ ہلا تھا رسول اللہ ﷺ نے اسے ٹھوکر لگا کر کہا تھا: ٹھہرا رہ (سکون سے رہ) تیرے اوپر ایک نبی، صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں ، (کوئی اور نہیں) اس وقت میں آپ کے ساتھ تھا (یہ سن کر) بہت سے لوگوں نے ان کی بات کی تصدیق کی، انہوں نے (پھر) کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اسی شخص سے پوچھتا ہوں جو بیعت رضوان کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، رسول اللہ ﷺ نے (اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر) فرمایا تھا: یہ اللہ کا ہاتھ ہے اور یہ ہاتھ عثمان کا ١ ؎، تو بہت سے لوگوں نے اس کی تصدیق کی۔ پھر انہوں نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اسی شخص سے پوچھتا ہوں جس نے جیش عسرہ (تنگ حالی سے دوچار لشکر) کے دن رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ کون ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا ایسا خرچ جس کی (بارگاہ الٰہی میں) قبولیت یقینی ہے ۔ اس وقت میں نے اپنے ذاتی مال کو خرچ کر کے آدھے لشکر کی ضروریات کو پورا کر کے میدان جنگ میں شریک ہونے کے قابل بنایا تھا تو بیشمار لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی۔ انہوں نے (پھر) کہا: میں اس شخص سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کون ہے جو جنت میں ایک گھر کے عوض اس مسجد (نبوی) میں توسیع کرتا ہے ۔ میں نے (یہ سن کر مسجد سے ملی ہوئی زمین) اپنے پیسوں سے خرید کر مسجد کو کشادہ کردیا، تو لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔ انہوں نے پھر کہا: میں اللہ کو گواہ بنا کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جو بئررومہ کی فروختگی کے وقت موجود تھا میں نے اسے اپنا مال دے کر خریدا تھا اور میں نے اسے مسافروں کے لیے عام کردیا تھا (جو بھی گزرنے والا اس کا پانی پینا چاہے پیے) لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی ۔
It was narrated from Abu Salamah bin Abdur-Rahman that Uthman looked out over them when they besieged him and said: "By Allah, I adjure a man who heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم), on the day when the mountain shook with him, and he kicked it with his foot and said: Be still, for there is no one upon you but a Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) or a Siddiq or two martyrs, and I was with him." Some men responded and affirmed that. Then he said: "By Allah, I adjure a man who witnessed the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم), on the day of Baiat Al-Ridwan, say: This is the Hand of Allah and this is the hand of Uthman." Some men responded and affirmed that. He said: "By Allah, I adjure a man who heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) say, on the day of the army of Al-Usrah (i.e. Tabuk): Who will spend and it will be accepted? And I equipped half of the army from my own wealth." Some men responded and affirmed that. Then he said: "By Allah, I adjure a man who heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) say: Who will add to this Masjid in return for a house in Paradise, and I bought it with my own wealth." Some men responded and affirmed that. Then he said: "By Allah, I adjure a man who witness Rumah being sold, and I bought it from my own wealth and allowed wayfarers to use it." Some men responded and affirmed that.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3609
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں نبی اکرم ﷺ نے اللہ کا ہاتھ جو ارشاد فرمایا ہے تو اس میں آپ ﷺ سورة الفتح کی آیت ( ١٥ ) کی طرف اشارہ فرما رہے تھے : اللہ عزوجل نے فرمایا ہے : إن الذين يبايعونک إنما يبايعون الله يد الله فوق أيديهم بلاشبہ جو لوگ اے ہمارے نبی! ( حدیبیہ میں ) بیعت کر رہے تھے وہ گویا اللہ رب العزت سے بیعت کر رہے تھے، اللہ عزوجل کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر تھا ( الفتح : 10) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٨٤٢)، مسند احمد (١/٥٩) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ جب عثمان ؓ عنہ کا ان کے گھر میں محاصرہ کردیا گیا اور لوگ ان کے گھر کے چاروں طرف اکٹھا ہوگئے تو انہوں نے اوپر سے جھانک کر انہیں دیکھا، اور عبدالرحمٰن نے (اوپر گزری ہوئی) پوری حدیث بیان کی۔
It was narrated that Abdur-Rahman Al-Sulami said: "When Uthman (RA) was besieged in his house, the people gathered around his house and he looked out over them" and he quoted the same Hadith.