عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس تھا اس وقت ان سے کسی نے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں کچھ پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا ہوسکتا ہے اپنے من ہی من میں پڑھتے رہے ہوں۔ انہوں نے کہا: تم پر پتھر لگیں گے یہ تو پہلے سے بھی خراب بات تم نے کہی۔ رسول اللہ ﷺ اللہ کے بندے تھے، اللہ نے آپ کو اپنا پیغام دے کر بھیجا، آپ نے اسے پہنچا دیا۔ قسم اللہ کی، رسول اللہ ﷺ نے عامۃ الناس سے ہٹ کر ہم اہل بیت سے تین باتوں کے سوا اور کوئی خصوصیت نہیں برتی۔ ہمیں حکم دیا کہ ہم مکمل وضو کریں، ہم صدقہ کا مال نہ کھائیں اور نہ ہی گدھوں کو گھوڑیوں پر ک دائیں (جفتی کرائیں) ۔
It was narrated that Abdullah bin Ubaidullah bin Abbas said: I was with Ibn Abbas and a man asked him: "Did the Messenger of Allah recite during Zuhr and Asr?" He said: "No." He said: "Perhaps he used to recite to himself?" He said: "May your face be scratched! This question is worse than the first one. The Messenger of Allah was a slave whose Lord commanded him and he conveyed (the message). By Allah, the Messenger of Allah did not specify anything for us above the people, except for three things: He commanded us to perform Wudu properly, not to consume charity, and not to mate donkeys with horses.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3581
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے گھوڑا پالے اور اللہ پر اس کا پورا ایمان ہو اور اللہ کے وعدوں پر اسے پختہ یقین ہو تو اس گھوڑے کی آسودگی، اس کی سیرابی، اس کا پیشاب اور اس کا گوبر سب نیکیاں بنا کر اس کے میزان میں رکھ دی جائیں گی ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "Whoever keeps a horse for the cause of Allah out of faith in Allah and believing the promise of Allah, its feed, water, urine and dung will all count as Hasanat in the balance of his deeds.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3582
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک) گھوڑوں کی دوڑ کرائی (کہ کون گھوڑا آگے نکلتا ہے) ١ ؎ حفیاء سے روانہ کرتے (دوڑاتے) اور ثنیۃ الوداع آخری حد تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان گھوڑوں میں بھی دوڑ کرائی جو محنت و مشقت کے عادی نہ تھے (جو سدھائے اور تربیت یافتہ نہ تھے) اور ان کے دوڑ کی حد ثنیۃ سے مسجد بنی زریق تک تھی ٢ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)organized a horse race and sent them from Al-Hafya and its finish line was Thaniyyat Al-Wada; and he organized a race for horses that had not been made lean, and the course stretched from Ath-Thaniyyah to the Masjid of Banu Zuraiq.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3583
Notes · وضاحت
١ ؎: حفیاء ایک گاؤں کا نام اور ثنیّۃ الوداع ایک پہاڑ یا ایک محلے کا نام ہے۔ ٢ ؎: ثنیّۃ سے مسجد بنی زریق تک ایک میل کا اور حفیاء سے ثنیّۃ تک پانچ چھ میل کا فاصلہ ہے، معلوم ہوا کہ مسابقہ و مقابلہ مشروع اور جائز ہے عبث ولا یعنی چیز نہیں ہے بلکہ اس سے ایسی مشق ہوتی ہے جن سے جنگ وغیرہ میں اچھے مقاصد حاصل ہوسکتے ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سدھائے ہوئے گھوڑوں کے درمیان آگے بڑھنے کا مقابلہ کرایا، (دوڑ کی) آخری حد حفیاء سے شروع ہو کر ثنیۃ الوداع تک تھی، (ایسے ہی) رسول اللہ ﷺ نے ان گھوڑوں کے درمیان بھی ثنیۃ سے لے کر مسجد بنی زریق کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کرایا جو، غیر تربیت یافتہ تھے (جو مشقت اور بھوک و تکلیف کے عادی نہ تھے) ۔ نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر ؓ ان لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اس مقابلے کے دوڑ میں حصہ لیا تھا۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) organized a race for horses that had been made lean, from Al-Hafya and its finish line was Thaniyyat Al-Wada, and he organized another race for horses that had not been made lean, from Ath-Thaniyyah to the Masjid of Banu Zuraiq, and Abdullah was among those who took part in the race.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3584
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صرف تین چیزوں میں (انعام و اکرام کی) شرط لگانا جائز ہے: تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There should be no awards (for victory in a competition) except for arrows, camels or horses.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3585
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٦٧ (٢٥٧٤)، سنن الترمذی/الجہاد ٢٢ (١٧٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٣٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٤ (٢٨٧٨)، مسند احمد (٢/٢٥٦، ٣٥٨، ٤٢٥، ٤٧٤) (صحیح )
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آگے بڑھنے کی شرط صرف تین چیزوں میں لگانا درست ہے: تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There should be no awards (for victory in a competition) except on arrows, camels or horses.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3586
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عضباء نامی ایک اونٹنی تھی وہ ہارتی نہ تھی، اتفاقاً ایک اعرابی (دیہاتی) اپنے جوان اونٹ پر آیا اور وہ مقابلے میں عضباء سے بازی لے گیا، یہ بات (ہار) مسلمانوں کو بڑی ناگوار گزری۔ جب آپ نے لوگوں کے چہروں کی ناگواری و رنجیدگی دیکھی تو لوگ خود بول پڑے: اللہ کے رسول! عضباء شکست کھا گئی (اور ہمیں اس کا رنج ہے) ، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو اللہ کے حق (و اختیار) کی بات ہے کہ جب دنیا میں کوئی چیز بہت بلند ہوجاتی اور بڑھ جاتی ہے تو اللہ اسے پست کردیتا اور نیچے گرا دیتا ہے (اس لیے کبیدہ خاطر ہونا ٹھیک نہیں ہے) ۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had a she-camel called Al-Adba which could not be beaten. One day a Bedouin came on a riding-camel and beat her (in a race). The Muslims were upset by that, and when he saw the expressions on their faces they said: O Messenger of Allah, Al-Adba has been beaten. He said: It is a right upon Allah that nothing is raised in this world except He lowers it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3588
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اونٹوں اور گھوڑوں کے آگے بڑھنے کے مقابلوں کے سوا اور کہیں شرط لگانا درست نہیں ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "There should be no awards (for victory in a competition) except over camels or horses.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3589
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٤ (٢٨٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٧٧) (صحیح )
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسلام میں نہ تو جلب ہے اور نہ جنب ہے اور نہ ہی شغار ہے اور جس نے لوٹ کھسوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated from Imran bin Husain that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no bringing, no avoidance and no Shighar in Islam, and whoever robs is not one of us.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3590
Notes · وضاحت
١ ؎: جلب یہ ہے کہ آدمی گھڑ دوڑ کے مقابلے میں اپنے گھوڑے کے پیچھے کسی کو اسے ڈانٹنے اور ہکارنے کے لیے لگالے تاکہ وہ اور تیز دوڑے۔ اور جنب یہ ہے کہ اپنے پہلو میں دوسرا گھوڑا رکھے اور جب مقابلے کا گھوڑا تھکنے لگے تو اس پر سوار ہوجائے۔ اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی کسی عزیزہ کی شادی دوسرے سے اس شرط کے ساتھ کر دے کہ وہ دوسرا اپنی قریبی عزیزہ کی شادی اس کے ساتھ کر دے، اور ان دونوں کے مابین مہر متعین نہ ہو۔
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام میں نہ جلب ہے نہ جنب اور نہ ہی شغار ہے ۔
It was narrated from Imran bin Husain that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no bringing, no avoidance and no Shighar in Islam.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3591
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم ﷺ سے (اونٹنی کی) دوڑ کا مقابلہ کیا تو وہ آگے نکل گیا، اس سے رسول ﷺ کے صحابہ ؓ کو ملال ہوا اور آپ سے ان کے اس چیز (رنج و ملال) کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو بھی اپنے آپ کو دنیا میں بہت بڑا سمجھنے لگے اللہ کا حق اور اس کی ایک طرح کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے نیچا کر دے تاکہ اس کا غرور ٹوٹ جائے ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) raced with a Bedouin and (the latter) won. It was as if the Companions of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) were upset by this, so he said: It is a right upon Allah that there is nothing that raises itself in this world except that He lowers it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3592
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ (فتح) خیبر کے سال زبیر بن العوام ؓ کے لیے رسول اللہ ﷺ نے (مال غنیمت میں) چار حصے لگائے۔ ایک حصہ ان کا اپنا اور ایک حصہ قرابت داری کا لحاظ کر کے کیونکہ صفیہ بنت عبدالمطلب ؓ زبیر بن عوام ؓ کی ماں تھیں اور دو حصے گھوڑے کے۔
It was narrated from Yahya bin Abbad bin Abdullah bin Az-Zubair, from his grandfather, that he used to say: "In the year of Khaibar, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) allocated four shares to Az-Zubair bin Al-Awwam: A share of Az-Zubair, a share for the relatives of Safiyyah bint Abdul-Muttalib, the mother of Az-Zubair, and two shares for the horse.
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3593