گھوڑوں سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 28 · 33 hadiths · Page 1 of 2

3591Sunan An Nasai

گھوڑ دوڑ اور تیر اندازی سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ صَبِيحٍ الْمُرِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلٍ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَذَالَ النَّاسُ الْخَيْلَ، وَوَضَعُوا السِّلَاحَ، وَقَالُوا: لَا جِهَادَ قَدْ وَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ، وَقَالَ: كَذَبُوا الْآنَ الْآنَ جَاءَ الْقِتَالُ، وَلَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ، وَيُزِيغُ اللَّهُ لَهُمْ قُلُوبَ أَقْوَامٍ، وَيَرْزُقُهُمْ مِنْهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، وَحَتَّى يَأْتِيَ وَعْدُ اللَّهِ، وَالْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَهُوَ يُوحَى إِلَيَّ أَنِّي مَقْبُوضٌ غَيْرَ مُلَبَّثٍ، وَأَنْتُمْ تَتَّبِعُونِي أَفْنَادًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، وَعُقْرُ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ الشَّامُ.

سلمہ بن نفیل کندی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! لوگوں نے گھوڑوں کی اہمیت اور قدر و قیمت ہی گھٹا دی، ہتھیار اتار کر رکھ دیے اور کہتے ہیں: اب کوئی جہاد نہیں رہا، لڑائی موقوف ہوچکی ہے۔ یہ سنتے ہی رسول اللہ ﷺ نے اپنا رخ اس کی طرف کیا اور (پورے طور پر متوجہ ہو کر) فرمایا: غلط اور جھوٹ کہتے ہیں، (صحیح معنوں میں) لڑائی کا وقت تو اب آیا ہے ١ ؎، میری امت میں سے تو ایک امت (ایک جماعت) حق کی خاطر ہمیشہ برسرپیکار رہے گی اور اللہ تعالیٰ کچھ قوموں کے دلوں کو ان کی خاطر کجی میں مبتلا رکھے گا ٢ ؎ اور انہیں (اہل حق کو) ان ہی (گمراہ لوگوں) کے ذریعہ روزی ملے گی ٣ ؎، یہ سلسلہ قیامت ہونے تک چلتا رہے گا، جب تک اللہ کا وعدہ (متقیوں کے لیے جنت اور مشرکوں و کافروں کے لیے جہنم) پورا نہ ہوجائے گا، قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی (خیر) بندھی ہوئی ہے ٤ ؎ اور مجھے بذریعہ وحی یہ بات بتادی گئی ہے کہ جلد ہی میرا انتقال ہوجائے گا اور تم لوگ مختلف گروہوں میں بٹ کر میری اتباع (کا دعویٰ ) کرو گے اور حال یہ ہوگا کہ سب (اپنے متعلق حق پر ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود) ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہوں گے اور مسلمانوں کے گھر کا آنگن (جہاں وہ پڑاؤ کرسکیں، ٹھہر سکیں، کشادگی سے رہ سکیں) شام ہوگا ٥ ؎۔

It was narrated that Salamah bin Nufail Al-Kindi said: "I was sitting with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when a man said: O Messenger of Allah! The people have lost interest in horses and put down their weapons, and they say there is no Jihad, and that war has ended. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) turned to face him and said: They are lying, now the fighting is to come. There will always be a group among my Ummah who will fight for the truth, for whom Allah will cause some people to deviate, and grant them provision from them, until the Hour begins and until the promise of Allah comes. Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection. It has been revealed to me that I am going to die and will not stay long, and you will follow me group after group, striking one anothers necks. And the place of safety for the believers is Ash-Sham.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3561
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب سے لڑائی کی مشروعیت تو ابھی ہوئی ہے اتنی جلد یہ بند کیسے ہوجائے گی۔ ٢ ؎: یعنی وہ گمراہ و بدراہ ہوں گے اور انہیں راہ راست پر لانے کے لیے یہ حق پرست دعوت و تبلیغ اور قتال و جہاد کا سلسلہ جاری و قائم رکھیں گے۔ ٣ ؎: یعنی لوگ انہیں جہاد کے لیے اموال اور اسباب و ذرائع مہیا کریں گے اور وہ ان سے اپنی روزی ( بصورت مال غنیمت ) حاصل کریں گے ۔ ٤ ؎: مفہوم یہ ہے کہ گھوڑوں میں ان کے مالکوں کے لیے بھلائی اور خیر رکھ دی گئی ہے، اس لیے گھوڑوں کو جنگ و قتال کے لیے ہر وقت تیار رکھو۔ ٥ ؎: یعنی ایسے خلفشار کے وقت شام میں امن و سکون ہوگا جہاں اہل حق رہ سکیں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٤٥٦٣)، مسند احمد (٤/١٠٤) (صحیح )
3592Sunan An Nasai

گھوڑ دوڑ اور تیر اندازی سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنْسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَهِيَ لِرَجُلٍ سَتْرٌ، وَهِيَ عَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَالَّذِي يَحْتَبِسُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيَتَّخِذُهَا لَهُ وَلَا تُغَيِّبُ فِي بُطُونِهَا شَيْئًا إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ، وَلَوْ عَرَضَتْ لَهُ مَرْجٌ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر رکھ دیا ہے ۔ گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں: بعض ایسے گھوڑے ہیں جن کے باعث آدمی (یعنی گھوڑے والے) کو اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے، اور کچھ گھوڑے وہ ہوتے ہیں جو آدمی کی عزت و وقار کے لیے پردہ پوشی کا باعث (اور آدمی کا بھرم باقی رکھنے کا سبب بنتے) ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو آدمی کے لیے بوجھ (اور وبال) ہوتے ہیں۔ اب رہے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے اجر و ثواب کا باعث بنتے ہیں تو یہ ایسے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے رکھے جائیں اور جہاد کے لیے تیار کیے جائیں، وہ جو چیز بھی کھالیں گے ان کے اپنے پیٹ میں ڈالی ہوئی ہر چیز کے عوض ان کے مالک کو اجر و ثواب ملے گا اگرچہ وہ چراگاہ میں چرنے کے لیے چھوڑ دئیے گئے ہوں۔ پھر پوری حدیث بیان کی۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There is goodness tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection. And horses are of three types: Those that bring reward to man, those that are a means of protection for a man, and those that are a burden (of sin) for a man. As for those that bring reward, they are kept for the cause of Allah and for Jihad. No fodder enters their stomach but for everything that enters their stomachs, reward is written for him, even if he puts them out to pasture." And he quoted the Hadith.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3562
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٢٧٩٠) (صحیح )
3593Sunan An Nasai

گھوڑ دوڑ اور تیر اندازی سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْخَيْلُ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سَتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ: فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ فِي الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَ لَهُ حَسَنَاتٌ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا ذَلِكَ، فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ آثَارُهَا، وَفِي حَدِيثِ الْحَارِثِ: وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ تُسْقَى كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ، فَهِيَ لَهُ أَجْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا، وَتَعَفُّفًا، وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي رِقَابِهَا، وَلَا ظُهُورِهَا فَهِيَ لِذَلِكَ سَتْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَنِوَاءً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٌ، وَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَمِيرِ، فَقَالَ: لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ: فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ 7 وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ 8 سورة الزلزلة آية 7-8.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کچھ گھوڑے ایسے ہیں جو آدمی کے لیے اجر و ثواب کا باعث ہیں، اور بعض گھوڑے ایسے ہیں جو آدمی کے لیے ستر و حجاب کا ذریعہ ہیں، اور بعض گھوڑے وہ ہیں جو آدمی پر بوجھ ہوتے ہیں، اب رہا وہ آدمی جس کے لیے گھوڑے اجر و ثواب کا باعث ہوتے ہیں تو وہ ایسا آدمی ہے جس نے گھوڑوں کو اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے باندھ کر پالا اور باغ و چراگاہ میں چرنے کے لیے ان کی رسی لمبی کی، تو وہ اس رسی کی درازی کے سبب چراگاہ اور باغ میں جتنی دور بھی چریں گے اس کے لیے (اسی اعتبار سے) نیکیاں لکھی جائیں گی اور اگر وہ اپنی رسی توڑ کر آگے پیچھے دوڑنے لگیں اور (بقدر) ایک دو منزل بلندیوں پر چڑھ جائیں تو بھی ان کے ہر قدم (اور حارث کی روایت کے مطابق) حتیٰ کہ ان کی لید (گوبر) پر بھی اسے اجر و ثواب ملے گا اور اگر وہ کسی نہر پر پہنچ جائیں اور اس نہر سے وہ پانی پی لیں اور مالک کا انہیں پانی پلانے کا پہلے سے کوئی ارادہ بھی نہ رہا ہو تو بھی یہ اس کی نیکیوں میں شمار ہوں گی اور اسے اس کا بھی اجر ملے گا۔ اور (اب رہا دوسرا) وہ شخص جو گھوڑے پالے شکر کی نعمت اور دوسرے لوگوں سے مانگنے کی محتاجی سے بےنیازی کے اظہار کے لیے اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے ان کی گردنوں اور ان کے پٹھوں کے ذریعہ (یعنی ان کی زکاۃ دے، اور جب اللہ کی راہ میں ان پر سواری کی ضرورت پیش آئے تو انہیں سواری کے لیے پیش کرے) تو ایسے شخص کے لیے یہ گھوڑے اس کے لیے (جہنم کے عذاب اور مار سے بچنے کے لیے) ڈھال بن جائیں گے۔ اور (اب رہا تیسرا) وہ شخص جو فخر، ریا و نمود اور اہل اسلام سے دشمنی کی خاطر گھوڑے باندھے تو یہ گھوڑے اس کے لیے بوجھ (عذاب و مصیبت) ہیں ۔ اور نبی اکرم ﷺ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس سلسلے میں ان کے متعلق مجھ پر کچھ نہیں اترا ہے سوائے اس منفرد جامع آیت کے فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره جو شخص ذرہ برابر بھی نیکی یا بھلائی کرے گا وہ اسے قیامت کے دن دیکھے گا اور جو شخص ذرہ برابر شر (برائی) کرے گا وہ اسے دیکھے گا (الزلزال: ٧ ، ٨) ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Horses may bring reward to a man, or they may be a means of protection, or they may be a burden (of sin). As for that which brings reward, it is a man who keeps it for the cause of Allah and ties it with a long rope in a pasture or a garden; whatever it eats or drinks in that pasture or garden will count as good deeds for him. If it breaks its rope and jumps over one or two hills, its footsteps" -and according to the Hadith of Al-Harith, "its dung will count as good deeds for him. If it passes by a river and drinks from it, even though (its owner) did not intend to give it water from that river, that will also bring him reward. If a man keeps a horse in order to earn an independent living and avoid asking others for help, and he does not forget his duty toward Allah with regard to their (the horses) necks and backs, then they will be a means of protection for him. If a man keeps horses out of pride, to show off before others and to fight the Muslims, then that will be a burden (of sin) for him." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked about donkeys and he said: "Nothing has been revealed to me concerning them except this Verse which is comprehensive in meaning: So whosoever does good equal to the weight of an atom (or a small ant) shall see it. And whosoever does evil equal to the weight of an atom (or a small ant) shall see it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3563
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرب والمساقاة ١٢ (٢٣٧١)، الجہاد ٤٨ (٢٨٦٠)، والمناقب ٢٨ (٣٦٤٦)، تفسیر سورة الزلزلة ١ (٤٩٦٢)، ٢ (٤٩٦٣)، والاعتصام ٢٤ (٧٣٥٦)، صحیح مسلم/الزکاة ٦ (٩٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٣١٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٠ (١٦٣٦)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٤ (٢٧٨٨)، مسند احمد (٢/٢٦٢، ٢٨٣) (صحیح )
3594Sunan An Nasai

گھوڑوں سے محبت رکھنا

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ النِّسَاءِ مِنَ الْخَيْلِ.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو عورت کے بعد گھوڑوں سے زیادہ کوئی چیز محبوب اور پسندیدہ نہ تھی۔

It was narrated that Anas said: "There was nothing dearer to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) after women than horses.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3564
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٢٢١) (ضعیف) (سند میں قتادہ بن دعامہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے )
3595Sunan An Nasai

کون سے رنگ کا گھوڑا عمدہ ہوتا ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْبَزَّازُ هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالَقَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَارْتَبِطُوا الْخَيْلَ، وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَكْفَالِهَا، وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ، وَعَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ.

صحابی رسول ابو وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم (اپنے بچوں کے) نام انبیاء کے ناموں پر رکھو، اور اللہ کے نزدیک سب ناموں میں زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہے ١ ؎، گھوڑے باندھو، ان کی پیشانی سہلاؤ اور ان کے پٹھوں کی مالش کرو، ان کے گلے میں قلادے لٹکاؤ، لیکن تانت کے نہیں، کمیتی (سرخ سیاہ رنگ والے) گھوڑے رکھو جن کی پیشانی اور ٹانگیں سفید ہوں یا اشقر (سرخ زرد رنگ والے) گھوڑے رکھو جن کی پیشانیاں اور ٹانگیں سفید ہوں یا ادھم (کالے رنگ کے) گھوڑے رکھو جن کی پیشانی اور ٹانگوں پر سفیدی ہو (یہ گھوڑے اچھے اور خیر و برکت والے ہوتے ہیں) ۔

It was narrated that Abu Wahb, who was a Companion of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Call (your children) by the names of the Prophets (علیہم السلام). And the most beloved names to Allah, the Mighty and Sublime, are Abdullah and Abdur-Rahman. Keep horses; wipe their forelocks and posteriors, and prepare them for Jihad, but do not prepare them to seek vengeance for people killed during the Jahiliyyah. You should seek out Kumait, horses with a white mark on the face and white feet, or red with a white mark on the face and white feet, or black with a white mark on the face and white feet.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3565
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ یہ اور انہیں دونوں جیسے ایسے نام رکھو جن میں عبودیت کا اعتراف اور اظہار ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٤٤ (٢٥٤٤)، ٥٠ (٢٥٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٥١٩، ١٥٥٢٠، ١٥٥٢١)، مسند احمد ش (٤/٣٤٥) (حسن) (اس کے راوی عقیل بن شبیب مجہول ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، دیکھئے صحیح ابوداود ٢٣٠١، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ١٠٤٠، ٩٠٤، تراجع الالبانی ٤٦، ٤٨٧) لیکن (تسموا بأسماء الأنبيائ) کا فقرہ شاہد نہ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے) ۔
3596Sunan An Nasai

اس قسم کے گھوڑوں کے بارے میں کہ جس کے تین پاؤں سفید اور ایک پاؤں دوسرے رنگ کا ہو

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ، وَاللَّفْظُ لِإِسْمَاعِيلَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ شکال گھوڑا ناپسند فرماتے تھے۔ اس حدیث کے الفاظ اسماعیل راوی کی روایت کے ہیں۔

It was narrated that Abu Hurairah said: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to dislike the Shikal among horses. And the wording is that of Ismail.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3566
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ راوی نے شکال کی تفسیر کی ہے، اہل لغت کے نزدیک گھوڑوں میں شکال یہ ہے کہ اس کے تین پاؤں سفید ہوں، اور ایک باقی بدن کے ہم رنگ ہو یا اس کے برعکس ہو، یعنی ایک پاؤں سفید اور باقی تین پاؤں باقی بدن کے ہم رنگ ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٧ (١٨٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٩٤)، مسند احمد (٢/٤٥٧، ٤٦٠) (صحیح )
3597Sunan An Nasai

اس قسم کے گھوڑوں کے بارے میں کہ جس کے تین پاؤں سفید اور ایک پاؤں دوسرے رنگ کا ہو

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَرِهَ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الشِّكَالُ مِنَ الْخَيْلِ: أَنْ تَكُونَ ثَلَاثُ قَوَائِمَ مُحَجَّلَةً، وَوَاحِدَةٌ مُطْلَقَةً، أَوْ تَكُونَ الثَّلَاثَةُ مُطْلَقَةً، وَرِجْلٌ مُحَجَّلَةً، وَلَيْسَ يَكُونُ الشِّكَالُ إِلَّا فِي رِجْلٍ وَلَا يَكُونُ فِي الْيَدِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے شکال گھوڑا ناپسند فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: گھوڑے کا شکال یہ ہے کہ اس کے تین پیر سفید ہوں اور ایک کسی اور رنگ کا ہو یا تین پیر کسی اور رنگ کے ہوں اور ایک سفید ہو، شکال ہمیشہ پیروں میں ہوتا ہے ہاتھ میں نہیں۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to dislike the Shikal among horses.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3567
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٧ (١٨٧٥)، سنن ابی داود/الجہاد ٤٦ (٢٥٤٧)، سنن الترمذی/الجہاد ٢١ (١٦٩٨)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٤ (٢٧٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٩٠)، مسند احمد (٢/٢٥٠، ٤٣٦، ٤٧٦) (صحیح )
3598Sunan An Nasai

گھوڑوں میں نحوست سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ: الْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ، وَالدَّارِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نحوست تین چیزوں میں ہے، عورت، گھوڑے اور گھر میں ١ ؎۔

It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Omens are only in three things: a woman, a horse or a house.

شاذ والمحفوظ بلفظ إن کان الشؤم في شيء ففي ...صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3568
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر نحوست بات عملاً مان لی جائے یا یہ کہ لوگ معاشرہ میں ایسا ہی سمجھتے اور سوچتے ہیں تو عورت کی نحوست یہ ہے کہ عورت زبان دراز یا بدخلق ہو اور گھوڑے کی نحوست یہ ہے کہ لات مارے، دانت کاٹے اور گھر کی نحوست یہ ہے کہ پڑوسی اچھے نہ ہوں یا گرمی و سردی کے لحاظ سے آرام دہ نہ ہو، اس طرح سے ان چیزوں سے آدمی متوحش ہوتا ہے، اور اپنے جذبات کی تعبیر نحوست کے لفظ سے کرتا ہے، لیکن اس کا معنی یہی ہوتا ہے جو ہم نے ذکر کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٢٥)، سنن الترمذی/الأدب ٥٨ (٢٨٢٤)، (تحفة الأشراف: ٦٨٢٦)، مسند احمد (٢/٨، ٣٦، ١١٥، ١٢٦) (صحیح) (اس حدیث میں ” الشؤم “ کا لفظ آیا ہے اور بعض روایتوں میں إنما الشؤم ہے جو (شاذ) ہے اور محفوظ ”إن کان الشؤم “ کا لفظ ہے جیسا کہ صحیحین وغیرہ میں ابن عمر سے ”إن کان الشؤم “ لفظ ثابت ہے، جس کے شواہد جابر (صحیح مسلم/٢٢٢٧ و نسائی ٣٦٠٠) سعد بن أبی وقاص (سنن ابی داود: ٣٩٢١ ومسند أحمد ١/١٨٠، ١٨٦)، اور سہل بن سعد (صحیح البخاری/٥٠٩٥)، کی احادیث میں ہیں، اس لئے بعض اہل علم نے پہلے لفظ کو شاذ قرار دیا ہے، (ملاحظہ ہو: الفتح ٦/٦٠-٦٣) وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٧٩٩، ٧٨٩، ١٨٥٧) ۔ اب جب کہ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کی یہی روایت صحیح مسلم میں کئی سندوں سے اس طرح ہے: ” اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو ان تین چیزوں میں ہوتی “ اور یہی مطلب اس عام روایت کا بھی ہے، اس کی وضاحت سعد بن مالک کی روایت میں ہے، اور وہ جو سنن ابی داود (٣٩٢٤) میں انس بن مالک رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم ایک گھر میں تھے تو اس میں ہمارے لو گوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی زیادہ رہتا تھا پھر ہم ایک دوسرے گھر میں آگئے تو اس میں ہماری تعداد بھی کم ہوگئی اور ہمارا مال بھی گھٹ گیا، اس پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے چھوڑ دو، مذموم حالت میں “ تو اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس لئے دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا عقیدہ خراب ہوجائے، اور وہ گھر ہی کو مؤثر سمجھنے لگ جائیں اور شرک میں پڑجائیں، اور یہ حکم ایسے ہی ہے جیسے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے احتیاطا کوڑھی سے دور بھاگنے کا حکم دیا، حالانکہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے: ” چھوت کی کوئی حقیقت نہیں ہے “۔
3599Sunan An Nasai

گھوڑوں میں نحوست سے متعلق

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ ابني عبد الله بن عمر، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نحوست گھر میں، عورت میں اور گھوڑے میں ہے ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Omens are in houses, women and horses.

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3569
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١٨ (٥٠٩٣)، الطب ٥٤ (٥٧٧٢)، صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٢٥)، سنن ابی داود/الطب ٢٤ (٣٩٢٢)، سنن الترمذی/الأدب ٥٨ (٢٨٢٤)، (تحفة الأشراف: ٦٦٩٩)، موطا امام مالک/الاستئذان ٨ (٢٢)، مسند احمد (٢/٢٦، ١١٥، ١٢٦، ١٣٦) (صحیح) (جیسا کہ اوپر گزرا الشؤم اور إنماالشؤم کا لفظ شاذ ہے، اور خود صحیحین میں إن کان الشؤم کی روایت موجود ہے تو شواہد کی بنا پر یہی لفظ محفوظ ہوگا اور علماء نے یہ بات لکھی ہے کہ امام بخاری طرق حدیث کے ذکر میں راجح روایت کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس کے لیے یہ مثال کافی ہے، نیز ملاحظہ ہو اس کے بعد کی حدیث حاشیہ )
3600Sunan An Nasai

گھوڑوں میں نحوست سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنْ يَكُ فِي شَيْءٍ فَفِي الرَّبْعَةِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ.

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر نحوست کسی چیز میں ہوسکتی ہے تو گھر، عورت اور گھوڑے میں ہوسکتی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If there are (omens) in anything, they are in houses, women and horses.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3570
Notes · وضاحت
١ ؎: لگتا ہے کہ امام نسائی کے یہاں بھی راجح یہی لفظ ہے کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہوسکتی تو ان چیزوں میں ہوتی اس لیے کہ پہلی دونوں حدیثوں میں الشؤم مطلقاً کی تخریج کی اور آخر میں جابر کی حدیث دے کر اپنا فیصلہ سنا دیا، اس طرح سے یہ مثال امام نسائی کے طریقہ ترجیح میں ایک عمدہ مثال مانی جانی چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ٢٨٢٤) مسند احمد (٣/٣٣٣) (صحیح )
3601Sunan An Nasai

گھوڑوں کی برکت سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا. ح وَأَنْبَأَنَامُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ.

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت (رکھ دی گئی) ہے ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Blessing is in the forelocks of horses.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3571
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٤٣ (٢٨٥١)، والمناقب ٢٨ (٣٦٤٥)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٦ (١٨٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٥)، مسند احمد (٣/١١٤، ١٢٧، ١٧١) (صحیح )
3602Sunan An Nasai

گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں کو (ہاتھوں سے) بٹنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتِلُ نَاصِيَةَ فَرَسٍ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ، وَيَقُولُ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ، وَالْغَنِيمَةُ.

جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک گھوڑے کی پیشانی کے بال اپنی انگلیوں کے درمیان لے کر گوندھتے ہوئے دیکھا ہے اور آپ فرما رہے تھے: گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر رکھ دیا گیا ہے۔ خیر سے مراد ثواب اور مال غنیمت ہے ١ ؎۔

It was narrated that Jarir said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) twisting the forelock of a horse with his two fingers, and saying: Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: Reward and spoils of war.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3572
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قیامت تک جہاد کا سلسلہ جاری رہے گا اور لوگ اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے گھوڑے پالیں اور باندھیں گے جس کے نتیجہ میں ثواب بھی پائیں گے اور جہاد کے زریعہ مال غنیمت بھی حاصل ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٦ (١٨٧٢)، (تحفة الأشراف: ٣٢٣٨)، مسند احمد (٤/٣٦١) (صحیح )
3603Sunan An Nasai

گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں کو (ہاتھوں سے) بٹنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَر، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر ہے ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is goodness in the forelocks of horses until the Day of Resurrection.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3573
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٦ (١٨٧١)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٤ (٢٧٨٧)، (تحفة الأشراف: ٨٢٨٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٤٣ (٢٨٤٩)، والمناقب ٢٨ (٣٦٤٤)، مسند احمد (٢/٤٩، ٥٧، ١٠١، ١١٢) (صحیح )
3604Sunan An Nasai

گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں کو (ہاتھوں سے) بٹنے سے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر رکھ دی گئی ہے ۔

It was narrated that Urwah Al-Bariqi said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3574
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٤٣ (٢٨٥٠)، ٤٤ (٢٨٥٢)، الخمس ٨ (٣١١٩)، المناقب ٢٨ (٣٦٤٣)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٦ (١٨٧٣)، سنن الترمذی/الجہاد ١٩ (١٦٩٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٩ (٢٣٠٥)، الجہاد ١٤ (٢٧٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٧)، مسند احمد (٤/٣٧٥، ٣٧٦)، سنن الدارمی/الجہاد ٣٤ (٢٤٧٠، ٢٤٧١) (صحیح )
3605Sunan An Nasai

گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں کو (ہاتھوں سے) بٹنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ.

ابوالجعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر کی گرہ لگا دی گئی (جس کے سبب) اجر بھی ملے گا اور غنیمت بھی ۔

It was narrated from Urwah bin Abi Al-Jad that he heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: Reward and spoils of war.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3575
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٠٤ (صحیح )
3606Sunan An Nasai

گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں کو (ہاتھوں سے) بٹنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْعُرْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ، وَالْمَغْنَمُ.

عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: گھوڑے کی پیشانی سے قیامت تک کے لیے خیر وابستہ کردیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اجر بھی ملے گا اور مال غنیمت بھی ۔

It was narrated that Urwah said that he heard the Messenger of Allah say: "Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: Reward and spoils of war.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3576
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٠٤ (صحیح )
3607Sunan An Nasai

گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں کو (ہاتھوں سے) بٹنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ.

عروہ بن ابی الجعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر باندھ دیا گیا ہے (اور خیر سے مراد کیا ہے؟ ) ثواب اور مال غنیمت ۔

It was narrated from Urwah bin Abi Al-Jad that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: Reward and spoils of war.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3577
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٠٤ (صحیح )
3608Sunan An Nasai

گھوڑے کو تربیت دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: كَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَمُرُّ بِي، فَيَقُولُ: يَا خَالِدُ، اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا خَالِدُ، تَعَالَ أُخْبِرْكَ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ، يَحْتَسِبُ فِي صُنْعِهِ الْخَيْرَ وَالرَّامِيَ بِهِ وَمُنَبِّلَهُ، وَارْمُوا وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا. (حديث مرفوع) (حديث موقوف)وَلَيْسَ اللَّهْوُ إِلَّا فِي ثَلَاثَةٍ: تَأْدِيبِ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتِهِ امْرَأَتَهُ، وَرَمْيِهِ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَ مَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ، فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ كَفَرَهَا أَوْ قَالَ كَفَرَ بِهَا.

خالد بن یزید جہنی کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر ؓ ہمارے قریب سے گزرا کرتے تھے، کہتے تھے: اے خالد! ہمارے ساتھ آؤ، چل کر تیر اندازی کرتے ہیں، پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میں سستی سے ان کے ساتھ نکلنے میں دیر کردی تو انہوں نے آواز لگائی: خالد! میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی فرمائی ہوئی ایک بات بتاتا ہوں، چناچہ میں ان کے پاس گیا۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا: (ایک) بھلائی حاصل کرنے کے ارادہ سے تیر بنانے والا، (دوسرا) تیر چلانے والا، (تیسرا) تیر پکڑنے والا، اٹھا اٹھا کردینے والا، (آپ ﷺ نے فرمایا:) تیر اندازی کرو، گھوڑ سواری کرو اور تمہاری تیر اندازی مجھے تمہاری گھوڑ سواری سے زیادہ محبوب ہے۔ (مباح و مندوب) لہو و لذت یابی، تفریح و مزہ تو صرف تین چیزوں میں ہے: (ایک) اپنے گھوڑے کو میدان میں کار آمد بنانے کے لیے سدھانے میں، (دوسرے) اپنی بیوی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، کھیل کود میں اور (تیسرے) اپنی کمان و تیر سے تیر اندازی کرنے میں اور جو شخص تیر اندازی جاننے (و سیکھنے) کے بعد اس سے نفرت و بیزاری کے باعث اسے چھوڑ دے تو اس نے ایک نعمت کی (جو اسے حاصل تھی) ناشکری (و ناقدری) کی۔ راوی کو شبہ ہوگیا ہے کہ آپ نے اس موقع پر کفرہا کہا یا کفر بہا کہا۔

It was narrated that Khalid bin Yazid Al-Juhani said: "Uqbah bin Amir used to pass by me and say: O Khalid, let us go out and shoot arrows. One day I came late and he said: O Khalid, come and I will tell you what the Messenger of Allah said. So I went to him and he said: The Messenger of Allah said: Allah will admit three people to Paradise because of one arrow: The one who makes it seeking good thereby, the one who shoots it and the one who hands it to him. So shoot and ride, and if you shoot that is dearer to me than if you ride. And play is only in three things: A man training his horse, and playing with his wife, and shooting with his bow and arrow. Whoever gives up shooting after learning it because he is no longer interested in it, that is a blessing for which he is ungrateful -or that he has rejected.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3578
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١٤٨ (ضعیف) (لکن فقرة ” اللہوة “ ثابت فی حدیث آخر بنحوہ )
3609Sunan An Nasai

گھوڑے کی دعا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْسُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ فَرَسٍ عَرَبِيٍّ إِلَّا يُؤْذَنُ لَهُ عِنْدَ كُلِّ سَحَرٍ بِدَعْوَتَيْنِ: اللَّهُمَّ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ، وَجَعَلْتَنِي لَهُ، فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ أَهْلِهِ، وَمَالِهِ إِلَيْهِ أَوْ مِنْ أَحَبِّ مَالِهِ وَأَهْلِهِ إِلَيْهِ.

ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر عربی گھوڑے کو (یہاں مخاطب عرب تھے) (اس لیے آپ نے عربی گھوڑا کہا، لیکن مقصود راہ جہاد میں کام آنے والے گھوڑے ہیں، اس لیے ہر اس عمدہ گھوڑے کو خواہ کسی بھی ملک کا ہو جو جہاد کی نیت سے رکھا جائے اس دعا کی اجازت ہونی چاہیئے) ہر صبح دو دعائیں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے (وہ کہتا ہے) اے اللہ! اولاد آدم میں سے جس کی بھی سپردگی میں مجھے دے اور جس کو بھی مجھے عطا کرے مجھے اس کے گھر والوں اور اس کے مالوں میں سب سے زیادہ محبوب و عزیز بنا دے یا مجھے اس کے محبوب گھر والوں اور پسندیدہ مالوں میں سے کر دے ۔

It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There is no Arabian horse but it is allowed to offer two supplications every Sahar (end of the night): O Allah, You have caused me to be owned by whoever You wanted among the sons of Adam, and you have made me belong to him. Make me the dearest of his family and wealth to him, or among the dearest of his family and wealth to him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3579
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١٩٧٩)، مسند احمد (٥/١٦٢، ١٧٠) (صحیح )
3610Sunan An Nasai

گھوڑیوں کو خچر پیدا کرانے کے لئے گدھوں سے جفتی کرانے کے کی سخت مذمت کے بارے میں۔

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ ابْنِ زُرَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُهْدِيَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ، فَرَكِبَهَا فَقَالَ: عَلِيٌّ لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ لَكَانَتْ لَنَا مِثْلُ هَذِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ.

علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ہدیہ میں خچر دیا گیا جس پر آپ ﷺ نے سواری کی۔ علی ؓ نے کہا: اگر ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر چڑھا (کر جفتی کرا) دیں تو ہمارے پاس اس جیسے (بہت سے خچر) ہوجائیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو نادان و ناسمجھ ہوتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Ali bin Abi Talib (RA) said: "A mule was given as a gift to the Messenger of Allah and he rode it." Ali said: "If we mate a donkey with a horse, we will have one like this." The Messenger of Allah said: "That is only done by those who do not know.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3580
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ گھوڑوں میں جو بات ہے وہ خچروں میں نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٥٩ (٢٥٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٤)، مسند احمد (١/٩٨، ١٠٠، ١٥٨) (صحیح )