عبداللہ بن خبیب ؓ کہتے ہیں کہ اندھیرے کے ساتھ بارش ہوئی تو ہم نے رسول اللہ ﷺ کا نماز پڑھانے کے لیے انتظار کیا، پھر کچھ کہا جس کا مفہوم یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھانے کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: کچھ کہو ، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: قل هو اللہ أحد اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورة الناس) صبح و شام تین بار پڑھ لیا کرو، یہ (سورتیں) تمہارے لیے ہر تکلیف و مصیبت میں کافی ہوں گی۔
It was narrated from Muadh bin Abdullah that his father said: "It was raining and dark, and we were waiting for the Messenger of Allah to lead us in prayer. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came out to lead us in prayer and he said: Say. I said: What should I say? He said: Say: He is Allah, (the) One and Al-Muawwadhatain in the evening and in the morning, three times, and that will suffice you against everything.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5428
عبداللہ بن خبیب ؓ کہتے ہیں کہ میں مکہ کے راستے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ کو اکیلا پا کر جب میں آپ سے قریب ہوا تو آپ نے فرمایا: کچھ کہو ، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: کچھ کہو ، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: قل أعوذ برب الفلق یہاں تک کہ آپ نے پوری سورت پڑھی، پھر فرمایا: قل أعوذ برب الناس یہاں تک کہ اسے بھی پوری پڑھی پھر فرمایا: ان دونوں سے بہتر لوگوں نے کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ نہیں مانگی۔
It was narrated from Muadh bin Abdullah bin Khubaib that his father said: "I was with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the road to Makkah when I found myself alone with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). I drew close to him and he said: Say. I said: What should I say? He said: Say. I said: What should I say? He said: Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak… until he finished (the Surah), then he said: Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind… until he finished it. Then he said: The people cannot seek refuge with Allah by means of anything better than these two.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5429
عقبہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب ایک غزوہ میں، میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑے آگے آگے چل رہا تھا تو اس وقت آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو ، میں آپ کی طرف متوجہ ہوا، پھر آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو ، میں پھر متوجہ ہوا۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا تو میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: قل هو اللہ أحد پھر پوری سورت پڑھی، اس کے بعد قل أعوذ برب الفلق پوری پڑھی، میں نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی، پھر آپ نے قل أعوذ برب الناس پوری پڑھی اور میں نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی، اور فرمایا: ان جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ کسی نے پناہ نہیں مانگی ١ ؎۔
It was narrated that Uqbah bin Amir Al-Juhani said: "While I was leading the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on his mount on a military campaign, he said: O Uqbah, say! I listened, then he said: O Uqbah, say! I listened, then he said it a third time. I said: What should I say? He said: Say: He is Allah, (the) One... and he recited the Surah to the end. Then he recited: Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak... and I recited it with him until the end. Then he recited: Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind... and I recited it with him until the end. Then he said: No one ever sought refuge (with Allah) by means of anything like them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5430
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: پناہ طلب کرنے کے لیے ان دو سورتوں سے بڑھ کر کوئی اور ذکر یا دعا نہیں ہے۔
عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: پڑھو ، میں نے کہا: کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: پڑھو قل هو اللہ أحد، قل أعوذ برب الفلق، قل أعوذ برب الناس پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں پڑھا اور فرمایا: لوگوں نے ان جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ نہیں مانگی ، یا فرمایا: لوگ نہیں مانگتے ان جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ ۔
It was narrated that Uqbah bin Amir Al-Juhani said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: Say. I said: What should I say? He said: Say: He is Allah (the) One, Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak, Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) recited them, then he said: The people have never recited anything like them, or the people have never sought refuge (with Allah) by means of anything like them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5431
ابن عابس جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ابن عابس! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں؟ یا کہا: کیا میں تمہیں خبر نہ دوں سب سے بہتر پناہ کی جس کے ذریعہ پناہ مانگنے والے پناہ مانگیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس یہ دونوں سورتیں (پناہ مانگنے کے لیے سب سے بہتر ہیں) ۔
Abu Abdullah narrated that Ibn Abis Al-Juhani told him that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: "O Ibn Abis, shall I not tell you of the best thing with which those who seek refuge with Allah may do so?" He said: "Yes, O Messenger of Allah." He said: "Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak.", "Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind." - these two Surahs.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5432
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک سفید اونٹنی تحفے میں آئی۔ آپ اس پر سوار ہوئے اور میں نے اس کی نکیل پکڑ کر چلنا شروع کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے عقبہ سے فرمایا: پڑھو ، وہ بولے: اللہ کے رسول! کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: پڑھو قل أعوذ برب الفلق * من شر ما خلق آپ نے اسے دہرایا یہاں تک کہ میں نے بھی اسے پڑھا، پھر آپ نے جان لیا کہ میں اس سے کچھ زیادہ خوش نہیں ہوا۔ (چنانچہ) آپ نے فرمایا: شاید تم نے اسے بہت ہلکا سمجھا۔ لیکن مجھے (پناہ مانگنے کے لیے) اس جیسی سورة نہیں ملی۔
It was narrated that Uqbah bin Amir said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was given a gray mule which he rode, and Uqbah led it. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to Uqbah: Recite. He said: What should I recite, O Messenger of Allah? He said: Recite: Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak, from the evil of what He has created. And he repeated it until I had learned it.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5433
عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے معوذتین کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے فجر میں یہی دونوں سورتیں ہمیں پڑھائیں ١ ؎۔
It was narrated from Uqbah bin Amir that : He asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about Al-Muawwidhatain. Uqbah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) recited them when he led us in Salah Al-Ghadah (As-Subh).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5434
Notes · وضاحت
١ ؎: اس وقت خاص طور پر ان دونوں سورتوں کی اہمیت بتانے کے لیے آپ نے نماز انہیں دونوں سورتوں سے پڑھائی، فجر کی نماز میں جہاں آپ بڑی بڑی سورتیں پڑھا کرتے تھے وہیں کبھی متوسط اور کبھی چھوٹی چھوٹی سورتیں حتیٰ کہ معوذتین بھی پڑھا کرتے تھے، یہ سب حالات، نشاط، اور کبھی بیان جواز کے لیے کرتے تھے۔
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کی سواری کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ بتاؤں جو مجھے پڑھائی گئی ہیں؟ پھر آپ نے مجھے قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس سکھائی، لیکن آپ نے مجھے ان دونوں پر خوش ہوتے نہیں دیکھا، پھر جب آپ فجر کے لیے مسجد آتے تو انہیں دونوں سورتوں سے لوگوں کو فجر پڑھائی، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: عقبہ! تم نے (ان کو) کیسا پایا ۔
It was narrated that Uqbah bin Amir said: "I was leading the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) (on his mount) on a journey, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: O Uqbah, shall I not teach you the best two Surahs that can be recited? And he taught me: Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak. And Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind... He thought that I did not seem too overjoyed with them, so when he stopped to pray Subh, he recited them when he led the people in the Subh prayer. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) finished praying, he turned to me and said: O Uqbah, what do you think?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5436
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ کی سواری (اونٹنی) کی نکیل ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں پکڑے آگے آگے چل رہا تھا تو اس وقت آپ نے فرمایا: عقبہ! کیا تم سوار نہیں ہو گے؟ میں نے آپ کی بزرگی کا خیال کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی سواری پر ہوجاؤں، پھر آپ نے فرمایا: کیا تم سوار نہیں ہو گے عقبہ؟ تو مجھے ڈر لگا کہ کہیں نافرمانی نہ ہوجائے، پھر آپ اترے اور میں تھوڑی دیر کے لیے سوار ہوا پھر میں اتر گیا اور رسول اللہ ﷺ سوار ہوئے اور فرمایا: لوگ جو سورتیں پڑھتے ہیں، ان میں سے میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ بتاؤں؟ چناچہ آپ نے مجھے پڑھ کر سنائی قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس، پھر نماز قائم کی گئی، تو آپ آگے بڑھے اور ان دونوں سورتوں کو پڑھا، پھر آپ میرے پاس سے گزرے، اور فرمایا: عقبہ! یہ کیسی لگیں؟ جب جب سوؤ اور جب جب جاگو انہیں پڑھا کرو ۔
It was narrated that Uqbah bin Amir said: "While I was leading the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) (on his mount) in one of these mountain passes, he said: Why dont you ride, O Uqbah? I had too much respect for the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) to ride the mount of the Messenger of Allah. Then he said: Why dont you ride, O Uqbah? I was worried that I might be disobeying him, so he got off, and I rode for a little while, then I got off and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) rode. Then he said: Shall I not teach you two of the best Surahs that the people recite? And he taught me: Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak, and Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind." Then the Iqamah was said and he went forward and recited them. Then he passed by me and said: What do you think, O Uqbah bin Amir? Recite them every time you go to sleep and get up.
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5437
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو ، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر فرمایا: عقبہ! کہو ، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، میں نے کہا: اللہ کرے آپ اسے پھر دہرائیں، آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: قل أعوذ برب الفلق میں نے اسے پڑھا یہاں تک کہ اسے مکمل کیا، پھر آپ نے فرمایا: کہو ، میں نے عرض کیا: کیا کہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: قل أعوذ برب الفلق ، پھر میں نے اسے بھی مکمل پڑھا، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مانگنے والے نے اس جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ نہیں مانگا اور نہ کسی پناہ مانگنے والے نے اس جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ مانگی ۔
It was narrated that Uqbah bin Amir said: "I was walking with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: "O Uqbah, say! I said: What should I say, O Messenger of Allah? He did not answer me, then h esaid: O Uqbah, say! I said: What should I say, O Messenger of Allah? But he did not answer me. I said: O Allah, make him answer me. He said: O Uqbah, say! I said: What should I say, O Messenger of Allah? He said: Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak... So I recited it until I came to the end. Then he said: Say, and I said: What should I say, O Messenger of Allah? He said: Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind..., so I recited it until I came to the end. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: No one who asks has ever asked by means of anything like them, and no one who seeks refuge has ever sought refuge with anything like them.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5438
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے پاؤں پر رکھا، میں نے عرض کیا: مجھے سورة ہود پڑھایئے، مجھے سورة یوسف پڑھایئے، آپ نے فرمایا: تم اللہ کے نزدیک قل أعوذ برب الفلق سے زیادہ بہتر کوئی اور سورة نہیں پڑھو گے۔
It was narrated that Uqbah bin Amir said: "I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) while he was riding, and I put my hand on his foot and said: Teach me Surah Hud, teach me Surah Yusuf. He said: You will never recite anything more precious before Allah, the Mighty and Sublime, than: Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5439
عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھ پر کچھ ایسی آیات نازل ہوئی ہیں کہ ان جیسی آیات پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں، قل أعوذ برب الفلق پوری سورت اور قل أعوذ برب الناس پوری سورۃ۔
It was narrated from Uqbah bin Amir that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There have been revealed to me Verses the like of which has never been seen: Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak… to the end of the Surah, and Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind… to the end of the Surah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5440
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جابر! پڑھو ، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں کیا پڑھوں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: پڑھو قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس میں نے یہ دونوں سورتیں پڑھیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:: انہیں پڑھا کرو، تم ان جیسی سورتیں ہرگز نہ پڑھو گے ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: Recite, O Jabir! I said: What should I recite, may my father and mother be ransomed for you, O Messenger of Allah? He said: Recite: Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak..., and: Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind... So I recited them, and he said: Recite them, for you will never recite anything like them.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5441
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ چار باتوں سے پناہ مانگتے تھے: ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو، ایسے دل سے جس میں اللہ کا ڈر نہ ہو، ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو اور ایسے نفس سے جو آسودہ نہ ہو ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to seek refuge (with Allah) from four things: From knowledge that is of no benefit, from a heart that does not feel humble, from a supplication that is not heard, and a soul that is never satisfied.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5442
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک امتی ان چاروں چیزوں سے اس طرح پناہ مانگے اللٰھم إنی أعوذبک من علم لاینفع ومن قلب لایخشع ومن دعا لایسمع ومن نفس لاتشبع اسی طرح آگے جہاں بھی یہ آیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ان چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے وہاں واحد متکلم کا صیغہ بنا لے، جیسے اگلی حدیث میں أعوذ من الجبن۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٨٤٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ٦٨ (٣٤٨٢)، مسند احمد (٢/١٦٧٦٧، ١٩٨) (صحیح )
عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ بزدلی، کنجوسی، سینے (دل) کے فتنے اور قبر کے عذاب سے (اللہ تعالیٰ کی) پناہ مانگتے تھے۔
It was narrated from Umar that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to seek refuge with Allah from cowardice, miserliness, the tribulation of the heart and the torment of the grave.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٣٩)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٧)، مسند احمد (١/٢٢، ٥٤)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٥٤٨٢-٥٤٨٥، ٥٤٩٩)، وفي الیوم واللیلة ٥٣ (١٣٠٤) (صحیح )
شکل بن حمید ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھے کوئی ایسا تعوذ (شر و فساد سے بھاگ کر اللہ کی پناہ میں آنے کی دعا) بتائیے، جس کے ذریعہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگوں۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کہو: أعوذ بک من شر سمعي وشر بصري وشر لساني وشر قلبي وشر منيي اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی سے، اپنی آنکھ کی برائی سے، اپنی زبان کی برائی سے، اپنے دل کی برائی سے، اپنی منی کی برائی سے ، شکل کہتے ہیں: یہاں تک کہ میں نے اسے یاد کرلیا۔ سعد کہتے ہیں: منی سے مراد نطفہ (پانی) ہے۔
It was narrated that Shakal bin Humaid said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Prophet of Allah, teach me words by means of which I may seek refuge with Allah. He took me by the hand and said: Say: Audhu bika min sharri samI, wa sharri basari, wa sharri lisani, wa sharri qalbi, wa sharri mani (I seek refuge with You from the evil of my hearing, the evil of my seeing, the evil of my tongue, the evil of my heart, and the evil of my sperm).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5444
مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ سعد ؓ ہمیں پانچ باتیں سکھاتے تھے، کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ ان الفاظ کے ساتھ دعا مانگتے تھے، آپ فرماتے تھے: اللہم إني أعوذ بک من البخل وأعوذ بک من الجبن وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بک من فتنة الدنيا وأعوذ بک من عذاب القبر اے اللہ! میں کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، مجبوری و لاچاری والی عمر تک پہنچنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
It was narrated that Abudl-Malik bin Umair said: "I heard Musab bin Sad (narrate) about his father: He used to tech us five things, which he said that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite in his supplication: Allahumma inni audhu bika minal-bukhli, wa audhu bika minal-jubni, wa audhu bika an uradda ila ardhalil-umuri, wa audhu bika min fitnatid-dunya, wa audhu bika min adhabil-qabr (O Allah, I seek refuge in You from miserliness, and I seek refuge in You from cowardice, and I seek refuge in You from reaching the age of senility, and I seek refuge in You from the trials of this world, and I seek refuge in You from the torment of the grave).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5445
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٢٥ (٢٨٢٢)، الدعوات ٣٧ (٦٣٦٥)، ٤١ (٦٣٧٠)، ٤٤ (٦٣٧٤)، ٥٦ (٦٣٩٠)، سنن الترمذی/الدعوات ١١٤ (٣٥٦٧)، (تحفة الأشراف: ٣٩٣٢)، مسند احمد (١/١٨٣، ١٨٦)، والمؤلف برقم: ٥٤٨٠، ٥٤٩٨ و في عمل الیوم وللیلة ٥٣ (١٣٢) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پانچ باتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے: بخیلی سے، بزدلی سے، مجبوری و لاچاری والی عمر سے، سینے (دل) کے فتنے سے اور قبر کے عذاب سے ۔
It was narrated that Ibn Masud said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to seek refuge (with Allah) from five things: From miserliness, cowardice, reaching the age of second childhood, the tribulation of the heart and the torment of the grave.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5446
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٤٩٠)، و في عمل الیوم واللیلة ٥٣ (١٣٣) (صحیح )
عمرو بن میمون اودی کہتے ہیں کہ سعد ؓ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے جیسے معلم لڑکوں کو سکھاتا ہے اور کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد ان کلمات کے ذریعے پناہ مانگتے تھے۔ اللہم إني أعوذ بک من البخل وأعوذ بک من الجبن وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بک من فتنة الدنيا وأعوذ بک من عذاب القبر اے اللہ! میں کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں لاچاری اور مجبوری کی عمر کو پہنچوں، میں دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ پھر میں نے اسے مصعب سے بیان کیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔
It was narrated that Amr bin Maimun Al-Awdi said: "Sad used to teach his children these words as a teacher teaches his students, and he said that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to seek refuge by means of them at the end of every prayer: Allahumma inni audhu bika minal-bukhli, wa audhu bika minal-jubni, wa audhu bika an uradda ila ardhalil-umuri, wa audhu bika min fitnatid-dunya, wa audhu bika min adhabil-qabr (O Allah, I seek refuge with You from miserliness, and I seek refuge in You from cowardice, and I seek refuge in You from reaching the age of senility, and I seek refuge in You from the trials of this world, and I seek refuge in You from the torment of the grave.) So I narrated that to Musab and he said that he told the truth.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5447